MY COLUMN

عمران خان مرکزی حکومت کے گلے کی ہڈی

 عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

     


    سابق وزیر اعظم پاکستان و پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمے میں عبوری ضمانت یکم/ ستمبر تک کیلئے منظور کرلی گئی ہے۔ جمعرات 25/ اگست کو عمران خان قبل ازوقت ضمانت گرفتاری کیلئے اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے۔بتایا جاتا ہے کہ عمران خان کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس نے کی۔ سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے اپنے دلائل میں تقریر کا ٹرانسکرپٹ پڑھ کر سنایا۔ بابر اعوان کا کہنا تھا ’عمران خان نے تقریر میں کہا ہے شرم کرو۔’شرم کرو‘ تو کوئی توہین نہیں ہے۔ یہ معمول کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر اس لفظ پر دہشت گردی کا مقدمہ ہوتا ہے تو کئی وزراء پر بھی مقدمہ بنے گا۔‘بابر اعوان نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ یہ تو عام طور پر کہا جاتا ہے کہ شرم کرو، زیادتی نہ کرو۔وکیل کے مطابق عمران خان نے اپنی تقریر میں افسران کے خلاف کارروائی کرنے کا کہا تھا، جان سے مارنے کی دھمکی نہیں دی تھی۔عمران خان نے اپنے وکلا بابر اعوان اور علی بخاری کے ذریعہ درخواست قبل از وقت ضمانت انسداد دہشتگردی کی عدالت میں دائر کی تھی۔درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ پولیس نے انتقامی کارروائی کے تحت انسداد دہشتگردی کا مقدمہ بنایا ہے، عدالت ضمانت کی درخواست منظور کرے۔ 22/ اگست کو عمران خان نے حفاظتی ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس سے قبل عمران خان کو 25/ اگست تک حفاظتی ضمانت دے رکھی تھی۔دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کی آرزو، آرزو ہی رہ گئی،انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’حکومت کی کوشش ہوگی کہ عمران خان کی ضمانت مسترد ہو جائے۔‘وفاقی وزیر کے مطابق ’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ عمران خان کو عدالت سے ہی گرفتار کیا جائے۔‘لیکن وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی آرزو عمران خان کو گرفتار کرنے کی آرزو ہی رہ گئی۔واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف اس سے قبل 2013 کے دھرنے کے دوران پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملے کرنے کے الزام میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔گذشتہ ہفتے 20/ اگست کو سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف اسلام آباد کے علاقے صدر کے مجسٹریٹ علی جاوید کی مدعیت میں تھانہ مارگلہ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ 20 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گِل کی گرفتاری کے خلاف عمران خان کی قیادت میں ریلی نکالی گئی۔بتایاجاتا ہیکہ ریلی سے خطاب میں عمران خان نے اسلام آباد پولیس کے آئی جی اور ڈی آئی جی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم تمہیں چھوڑیں گے نہیں اور تمہارے خلاف کیس کریں گے۔‘عمران خان نے ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کرینگے۔بتایا جاتا ہے کہ خاتون جج نے وفاقی پولیس کی درخواست پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر شہباز گِل کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ عمران خان کی اس تقریر کا مقصد پولیس کے اعلٰی افسران اور عدلیہ کو خوفزدہ کرنا تھا تاکہ وہ اپنے فرائض کی ادائیگی نہ کریں اور ضرورت پڑنے پر تحریک انصاف کے کسی رہنما کے خلاف کارروائی کرنے سے بھی گریز کریں۔ایف آئی آر میں مزید کہا گیا تھا کہ عمران خان کی اس انداز میں کی گئی تقریر سے پولیس حکام، عدلیہ اور عوام الناس میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور عوام الناس میں بے چینی، بدامنی اور دہشت پھیلی اور ملک کا امن تباہ ہوا ہے۔ایف آئی آر میں استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی کرکے ان کو سزا دی جائے۔ عمران خان کے خلاف دہشت گردی کے تحت مقدمہ درج کرنے کے بعد عالمی سطح پر آوازیں اٹھنے لگیں۔پاکستان ذرائع ابلاع کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوارک کاکہنا ہیکہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کی پاکستان کے حالات پر نظر ہے۔ 23/ اگست کو اقوام متحدہ میں ڈیلی پریس بریفنگ کے دوران ایک خاتون صحافی نے سوال کیا ”کیا آپ پاکستان کی صورتحال پر کوئی تبصرہ کرنا چاہینگے، بالخصوص عمران خان کے خلاف جو چارجز لگائے گئے ہیں، اس پر کیا کہنا چاہیں نگے“؟ سکریٹری جنرل کے ترجمان نے کہا کہ سیکریٹری جنرل سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف لگائے گئے الزامات سے آگاہ ہیں، انہوں نے اس بات پر زور دیا ہیکہ غیر جانبدار اور آزادانہ قانونی راستہ اختیار کیا جائے۔ سیکریٹری جنرلنے اس بات پر بھی زور دیا ہیکہ امن کو یقینی بنایا جائے۔ ترجمان کے مطابق سیکریٹری جنرل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں قانون کی حکمران، انسانی حقوق کی فراہمی اور بنیادی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔ واضح رہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے عمران خان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کئے جانے کے بعد عالمی میڈیا میں حکومت کو کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

        25/ اگست کو اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران عمران خان نے کہا کہ ساری دنیا میں اس وقت پاکستان کا مذاق اڑایا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ شہباز گِل پر جنسی تشدد ہوتا ہے میں کہوں کہ لیگل ایکشن لونگا تو دہشت گردی کا کیس لگ جاتا ہے، مجسٹریٹ نے تشدد ہوتے ہوئے شہباز گل کو واپس پولیس کے پاس بھیج دیا، اس پر اگر میں لیگل ایکشن لینے کا کہتا ہوں تو مجھ پر دہشت گردی لگ جاتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ اصل میں تحریک انصاف کی طاقت سے حکومت خوفزدہ ہے، ہم ضمنی انتخابات جیتے جارہے ہیں، تاریخ میں اتنے بڑے جلسے نہیں ہوئے، خوف کی وجہ سے ٹیکنیکل ناک آؤٹ کرنے اور اپنی ذات کو بچانے کیلئے یہ پاکستان کا مذاق اڑرہا ہے۔

        عمرا خان نے چہارشنبہ  کو صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ہری پور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت نے میرے خلاف دہشت گردی کا کیس کر دیا ہے جس سے ساری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی۔‘ انہوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں وقت دے رہا ہوں اس امپورٹڈ حکومت کو کہ آپ انتخابات کا اعلان کر دیں ورنہ میں اپنے عوام میں نکلا ہوا ہوں۔ میری آخری کال سے پہلے بہتر ہے شفاف الیکشنز ہو جائیں۔‘’جب میری کال آئے گی تو چاروں طرف سے لوگ اسلام آباد کی طرف نکلیں گے۔ جب عوام کا سمندر چاروں طرف سے اسلام آباد کی طرف آئے گا تو نہ شہباز شریف اسے روک سکیں گے اور نہ ہی زرداری روک سکے گا۔‘واضح رہے کہ ہری پور میں عمران خان کے خطاب کے دوران زور دار بارش ہوئی اس دوران عوام جن میں کثیر تعداد میں خواتین شریک تھیں، نظم و ضبط کا بہترین مظاہرہ دیکھنے میں آیا تقریر میں کسی قسم کے خلل کے بغیر عوام عمران خان کو سماعت کرتے رہے۔ خود عمران خان بھی بارش کی وجہ سے بھیگ چکے تھے۔

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف قطر کے دورے پر

        وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی دعوت پر دوروزہ دورہ پر قطر پہنچے۔ چہارشنبہ کو وزیر اعظم اور امیر قطر شیخ تمیم بن حماد الثانی کی ملاقات ہوئی۔ امیری دیوان کے اعلامیہ کے مطابق امیر قطر نے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ اور تزویراتی تعلقات کی اہمیت اور قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کے ذریعہ سرمایہ کاری میں اضافے اور تجارت کے فروغ کے ذریعہ معاشی شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا۔ اور قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی پاکستان میں تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔اسی طرح امیری دیوان سے جاری اعلامیے کے مطابق ”قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی پاکستان کے متعدد کمرشل اور دوسرے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کے ارادے کا اعلان کیا ہے۔اس سے قبل شہباز شریف نے منگل کو قطر کے 450ارب ڈالر مالیت کے خودمختار ویلتھ فنڈ قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کو پاکستان کے توانائی اور ہوابازی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی تھی۔واضح رہے کہ اس وقت پاکستانی معیشت بحران کا شکار ہے۔ بتایاجاتا ہیکہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوکر 7.8ارب ڈالر رہ گئے ہیں جوکہ بمشکل ایک ماہ سے زائد کی درآمدات کے لئے کافی ہے۔پاکستان کو بڑھتے ہوئے جاری کھاتوں کے خسارے اور ڈالر کے مقابلے میں روپیے کی قدر میں کمی کے بحران کا بھی سامنا ہے۔ 

روس کے ساتھ کاروبار پر ترک کمپنیوں کو امریکہ کی دھمکی

        کسی بھی ملک کو اپنی معیشت کے استحکام اور خوشحالی کیلئے بہتر سے بہتر ذرائع آمدنی اور خوشگوار تعلقات اختیار کرنے کی اجازت دیتے ہیں لیکن امریکہ نہیں چاہتا کہ اس کی مرضی کے خلاف کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک سے اپنی تجارتی سرگرمیاں قائم رکھے۔ امریکہ نے روس کی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کرنے پر ترکی کو پابندیوں سے خبردار کیا ہے۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ترکی کی ایک بڑی بزنس ایسوسی ایشن نے تصدیق کی ہے کہ اْن کو امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے ایک خط موصول ہوا جس میں روس کے ساتھ کاروبار جاری رکھنے پر پابندیوں سے خبردار کیا گیا ہے۔واشنگٹن میں اس حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں کہ روس کی حکومت اور کاروباری ادارے مغربی ملکوں کی جانب سے عائد پابندیوں سے بچنے کیلئے ترکی کا راستہ استعمال کر رہے ہیں۔چھ ماہ قبل یوکرین پر حملے کے بعد امریکہ اور یورپی ممالک نے روسی حکومت اور اس کے کاروباری اداروں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔رواں ماہ کے آغاز پر ترک صدر رجب طیب اردغان اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن نے بحیرہ اسود کے تفریحی مقام سوچی میں ایک کانفرنس کے دوران معاشی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔سرکاری طور پر جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال مئی اور جولائی کے درمیان ترکی سے روس کو برآمدات میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 50 فیصد اضافہ ہوا۔ ترکی نے روس سے درآمد ہونے والے تیل کی مقدار کو بڑھا دیا ہے اور دونوں ملکوں نے کریملن سے جڑی قدرتی گیس کی بڑی کمپنی گیزپروم کو روسی کرنسی میں ادائیگی پر بھی اتفاق کیا۔امریکی وزارت خزانہ کی ڈپٹی سیکریٹری والے اڈیمو نے جون میں ترکی کے ایک غیرمعمولی دورے میں انقرہ کو روس کے ساتھ کاروبار پر واشنگٹن کے خدشات سے آگاہ کیا تھا۔نیٹو کے رکن ملک ترکی نے روس اور یوکرین کی جنگ میں غیرجانبدار رہنے کا فیصلہ کیا تھا اور ماسکو کے خلاف عالمی پابندیوں کا حصہ بننے سے انکار کیا۔والے اڈیمو کے دورے کے بعد اب امریکی وزارت خزانہ کے خط میں ترک امریکہ بزنس ایسوسی ایشن اور ترکی میں امریکی چیمبر آف کامرس کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ خود پر پابندیوں کا خطرہ نہ مولیں۔ترک بزنس ایسوسی ایشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خط ترک وزارت خارجہ اور وزارت خزانہ کو بھیج دیا گیا ہے۔خط میں لکھا گیا ہے کہ ’کوئی بھی شخص یا کمپنی جو امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل افراد کو مدد فراہم کرتے ہیں وہ خود انہی پابندیوں کی زد میں آنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔‘اس طرح امریکہ ترک کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے سیدھے سیدھے ترکی حکومت کو خبردار کررہا ہے کہ اگر ترک کمپنیاں امریکہ کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو انکے خلاف بھی کاررائی ہوسکتی ہے۔ اب دیکھنا ہیکہ ترک صدر رجب طیب اردغان اس سلسلہ میں امریکہ کو کیا جواب دیتے ہیں ۰۰۰

سعودی عرب میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے اہم اقدامات

  

 
    وزیر سیاحت احمد الخطیب نے کہا ہے کہ ’سعودی کابینہ نے سیاحت کے جس نئے قانون کی منظوری دی ہے وہ ملکی قیادت کے اس جذبے کے عین مطابق ہے کہ سیاحتی شعبہ عالمی معیار کا ہو اور بین الاقوامی سیاحتی اداروں سے مسابقت کرے‘۔ سعودی وزارت سیاحت کا کہنا ہے کہ ’نئے قانون سیاحت میں سیاحتی شعبے کو قومی شناخت دینے والے اہداف کا طریقہ کار مقرر کیا گیا ہے‘۔ سبق اور عاجل ویب سائٹ کے مطابق نئے قانون میں سیاحوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ نئے قانون سیاحت کے ضوابط کی خلاف ورزی پر سزائیں دی جائیں گی جو شخص نئے قانون سیاحت کے احکام یا لائحہ عمل کی خلاف ورزی کرے گا اسے کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔ نئے قانون کے مطابق ’خلاف ورزی پر نوٹس دیا جائے گا۔ سیاحتی ادارے کو مکمل یا جزوی سیل کیا جا سکتا ہے۔ سیاحتی ادارے کا درجہ کم کیا جائے گا‘۔سیاحتی ادارے کا زیادہ سے زیادہ ایک سال کیلئے پرمٹ معطل یا اسے منسوخ کیا جاسکتا ہے۔ دس لاکھ ریال تک جرمانہ ہوگا۔نئے قانون سیاحت میں سرمایہ کاروں کو سیاحتی ادارے کے پرمٹ کے اجرا میں سہولت دی گئی ہے۔وزارت سیاحت کے مطابق ’نئے قانون کے تحت سیاحت اوراس کے اداروں کا ڈیٹا تیار کیا جائے گا تاکہ سرمایہ کار پراجیکٹ شروع کرنے سے قبل مطلوبہ معلومات حاصل کر سکیں‘۔’سیاحت کے شعبے کی سعودائزیشن کے لئے افرادی قوت کے واضح لائحہ عمل کا بھی خیال رکھا گیا ہے‘۔نئے قانون میں اس بات کا بھی خیال رکھا گیا ہے کہ سیاحت کا شعبہ پوری دنیا میں نت نئی تبدیلیاں اپنے اندر پیدا کررہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جارہا ہے۔ سعودی عرب کا سیاحتی شعبہ ان تمام امور کو مدنظر رکھ کر کام کرے۔ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ سعودی عرب آنے والے سیاح مملکت کے سیاحتی اداروں اور سہولتوں کے معیار سے مطمئن ہوں اور اچھا تاثر لے کرجائیں۔ نئے قانون سیاحت میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ سیاحوں کو خطرات سے بچانے کیلئے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ اگر انہیں کوئی نقصان پہنچے تو اس کا معاوضہ دیا جائے۔ اس طرح سعودی عرب سیاحوں کو مملکت میں کسی قسم کی پریشانی یا دشواری ہونے سے محفوظ رکھنے کیلئے حتی المقدور کوشش کررہی ہے۔ 


ٌٌٌٌ*****

No comments:

Post a Comment