MY COLUMN

الحاج احمد الدین اویسی


 

الحاج احمد الدین اویسی
ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید 

جوائنٹ ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی، حیدرآباد

 الحاج احمد الدین اویسی کوشہرِ تاجدارِ حرمِ رسول ﷺ میں 4 دہائیوں سے قیام کی سعادت


    خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں دربارِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی حاضری بار بار نصیب ہوتی ہے، جنہیں حرم نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے قریب شہرِ مدینہ منورہ میں رہنے کا موقع ملتا ہے۔ ان ہی خوش نصیبوں میں ایک نام جناب احمد الدین اویسی کا ہے جنہیں پیارے حبیب رحمۃ للعالمین تاجدار مدینہ، سرورکونین، ختم المرسلین صلی اللہ علیہ و سلم کے اُس سرسبز و شاداب، پُر نور شہر مدینہ میں رہنے کا برسوں سے موقع نصیب ہوا۔ جناب احمد الدین اویسی،جناب عبدالواحد اویسی مرحوم ممتازایڈوکیٹ، عالمِ دین جامعہ نظامیہ، قائد احیاء مجلس اتحاد المسلمین کے فرزند ہیں۔ جناب احمد الدین اویسی 9/ مئی 1946ء کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ دینی تعلیم گھر پر استاذ کے پاس ہوئی اور پرائمری تا بارہویں جماعت تک کی تعلیم مدرسہ عالیہ، حیدرآباد میں ہوئی۔ 1965ء میں بارہویں جماعت کامیاب کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج آف فائن آرٹس ارکیٹکچرملحقہ جواہر لعل نہرو ٹکنیکل یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور 1971ء میں پانچ سالہ آرکٹکچرر کورس کی تکمیل کی۔ اسی سال1971ء میں امریکہ روانہ ہوئے اور وہاں پرشکاگو کالج آف ٹکنالوجی سے دو سالہ کورس آرکیٹکچرانجینئرنگ کی تکمیل کی۔ مِڈ امریکی کمپنی میں ڈیڑھ سال تک خدمات انجام دینے کے بعد 1974ء میں حج کی سعادت سے سرفراز ہوئے۔ 1975ء میں والد محترم جناب عبدالواحد اویسی ؒ کے انتقال کے بعد حیدرآباد آئے، پھر دوبارہ 1975ء میں عمرہ کی سعادت حاصل کی اور چند ماہ جدہ کی ایک کمپنی میں خدمات انجام دیں۔ اس موقع پر مدینہ منورہ میں رہنے کی نیت کی۔ جدہ کی ایک کمپنی الحرمین کنسٹرکشن کی جانب سے مستقل بنیاد پر خدمات انجام دینے لئے ویزا دیا گیا یہاں سے امریکہ روانہ ہوئے اور پھر واپس جدہ منتقل ہوگئے۔ جدہ میں الخالدیہ سعودی سٹی کے ہاؤزنگ پراجکٹ میں ایک سال خدمت انجام دینے کے بعد مدینہ منورہ منتقل ہوئے۔وہ 1976ء سے وزارتِ مواصلات کے ڈپارٹمنٹ عمارت شوارع میں 19سال تک یعنی 1993ء تک خدمات انجام دیتے رہے۔ سعودی شہریوں کو روزگار سے مربوط کرنے کے حوالے سے انہیں وزارتِ مواصلات میں خدمات سے سبکدوش کیا گیا۔مدینہ منورہ کے میئر انجینئر عبدالعزیز الحصین نے جو ان ہی کے ساتھ وزارتِ مواصلات میں خدمات انجام دیتے تھے انہیں جب اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے احمد الدین اویسی صاحب سے اما نۃ المدینہ المنورۃ (بلدیہ) میں خدمات انجام دینے کی خواہش ظاہر کی جسے قبول کرتے ہوئے 1993میں بلدیہ میں خدمات انجام دینے لگے اور تاحال وہیں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
خاندان
    جناب احمدالدین اویسی کے دادا جناب محمد اسماعیلؒ اور نانا حضرت محمد قاسم نقشبندی ابوالعلائی ؒ ہیں۔آپ کے پانچ بھائی اور 6بہنیں ہیں۔ بڑے بھائی سالارِ ملت الحاج سلطان صلاح الدین اویسی ؒ ہیں جن کی بے باکی اور حق گوئی نے آج آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کو ہندو بیرون ہند ممتاز مقام عطا فرمایا۔اُس وقت جب حیدرآبادی مسلمانوں میں حکومتِ وقت اور پولیس کا خوف و ہراس پایا جاتا تھا آپ کے والد جناب عبدالواحد اویسی نے اپنی بے باک اور ہمت افزاء تقاریر کے ذریعہ مسلمانوں کو منظم کرنے کی سعی کی۔ جناب احمد الدین اویسی نے بتایا کہ جب سالار ملت محترم جناب سلطان صلاح الدین اویسی نے والد صاحب سے سوال کیا کہ وکلاء تو جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ سے بدل دیتے ہیں اس بات پر جناب عبدالواحد اویسی نے کہاکہ میں مکمل تحقیق کے بعد مظلوم لوگوں کے مقدمات کی پیروی کرتا ہوں اور جھوٹے لوگوں کو کسی نہ کسی طرح معذرت کرکے واپس بھیج دیتا ہوں۔ وکیل صاحب کی ایک اور خصوصیت بتاتے ہوئے احمد الدین اویسی نے کہا کہ والد محترم بہترین جرح کرتے تھے انکی جرح کے وقت کئی دوسرے وکلاء سننے آجاتے تھے یہی نہیں بلکہ بعض وکلاء اپنے کیسس میں جرح کیلئے ان سے خواہش کرتے تھے۔ دارالسلام کے حصول کیلئے بھی انہوں نے 12سال تک جدوجہد کرتے ہوئے مقدمہ لڑا اور اس میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے بتایا کہ دارالسلام کا حصول اور مسلمانوں میں اتحاد والد صاحب کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ ان کی قیادت اور کاوشوں کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے سالارِ ملت سلطان صلاح الدین اویسی ؒنے اپنی دلیرانہ قیادت کا جھنڈا بلندیوں تک پہنچانے کیلئے، اپنی نجی زندگی کی مصروفیات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے،مسلمانوں میں ہمت و حوصلہ پیدا کیا اور آج ان ہی کے جواں سال فرزندان بیرسٹر اسد الدین اویسی صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمنٹ اور جناب اکبر الدین اویسی سابق رکن اسمبلی و قائد مقننہ تلنگانہ اسمبلی کی بے باکانہ اور مضبوط قیادت نے ملک کے بیشتر علاقوں خصوصاً حیدرآبادی مسلمانوں کو پھر سے ایک نئے عزم و حوصلہ کی جلا بخشی ہے۔ جناب احمد الدین اویسی نے کہاکہ آج مجلسی قیادت نے ملک کی ترقی و سلامتی کیلئے جس طرح شہر حیدرآباد میں تعلیم کو عام کرنے اور صحت و تندرستی کیلئے تعلیمی اداروں اور ہاسپتلوں کا قیام عمل میں لایا یہ قابلِ تحسین اقدام ہیں۔جناب احمد الدین اویسی کے دوسرے بھائی جناب یوسف الدین اویسی ہیں جو میکانیکل انجینئر ریٹائرڈ، شکاگو میں مقیم ہیں۔ تیسرے بھائی جناب اظہر الدین اویسی کمیکل انجینئر، شکاگو میں مقیم تھے گذشتہ چند سال قبل اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ چوتھے بھائی جناب معین الدین اویسی شکاگو میں طالب علمی کے زمانے میں بعمر 26سال انتقال کرگئے۔سب سے چھوٹے جناب احمد الدین اویسی ہیں۔
شادی بیاہ
    جناب احمد الدین اویسی کی شادی 5/ مارچ1978ء میں جناب محمد الطاف اللہ صاحب مرحوم کی صاحبزادی سے ناگپور میں ہوئی۔ انہیں پانچ فرزند ہیں۔ بڑے فرزند ممتاز عالم دین مولانا فخر الدین اویسی ہیں۔ مولانا فخر الدین اویسی کی ابتدائی تعلیم 9سال تک مدینہ منورہ میں ہوئی انہیں 8سال تک مسلسل امتیازی کامیابی حاصل کرنے پر ”تعلیم متوفق“ ایوارڈ سے نوازا گیااور آٹھ سال تک مدرسہ کے نوٹس بورڈ پر دس طلبہ کے ناموں کے ساتھ آپ کا نام بھی لکھا جاتا رہا۔مکہ معظمہ کے مشہور عالمِ دین مرحوم سید محمد علوی مالکی کے تلمیذ ہونے کا بھی انہیں شرف حاصل ہے۔فخر الدین اویسی مدرینہ منورہ میں 9سال تک عربی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسلامک کالج آف ساؤتھ آفریقہ، کیپ ٹاؤن میں باقاعدہ اسکالر شپ کے ساتھ 4سالہ دینی کورس ذریعہ تعلیم انگلش تھا، تین سال میں مکمل کیا اوریہاں پر بھی امتیازی کامیابی حاصل کرتے ہوئے بہترین صلاحیتوں کے حامل طالب علم کی حیثیت حاصل کی۔ اس کے بعد کیپ ٹاؤن یونیورسٹی سے تین سال اسلامک اسٹڈیز میں اسکالر شپ کے ساتھ بی اے کی تکمیل کی۔ اسلامک اسٹڈیز میں ہی ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ جشن عید میلاد النبی ﷺ پر آپ نے مکمل دلائل کے ساتھ مقالہ پیش کیا جس پر آفریقہ یونیورسٹی نے انہیں ڈگری عطا کی۔ قصیدہ بردہ شریف کی سند شیخ محمد الیعقوبی شام کے معروف عالم دین، اردن میں مقیم سے حاصل کی۔ کیپ ٹاؤن کی مسجد قدس میں تقریباً پانچ گھنٹے تک قصیدہ بردہ شریف کا اجمالی تعارف انگریزی میں پیش کیا۔ اٹلانٹا میں مدینہ انسٹی ٹیوٹ میں گذشتہ چند سال سے د و تین ہفتہ مقیم رہ کر خصوصی دروس کیلئے مدعو کئے جارہے ہیں۔ ساؤتھ آفریقہ یونیورسٹی میں ہی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ غرض کہ مولانا فخر الدین اویسی مغربی و یوروپی اور جنوبی ایشیائی ممالک کا اکثر سفر کرتے رہے ہیں جہاں انہیں تقاریر و درس کے لئے مدعو کیا جاتا ہے۔ دوسرے فرزند ڈاکٹر امین الدین اویسی ورائچی ہاسپٹل میں کنسلٹنٹ کارڈیالوجی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کی ابتدائی تعلیم مدینہ منورہ میں ہوئی، ہائی اسکول انڈین اسکول جدہ سے کیا، انٹرمیڈیٹ حیدرآباد سے کرنے کے بعد دکن میڈیکل سے ایم بی بی ایس، ایم ڈی اور پھر کارڈیالوجی میں ڈی ایم کرچکے ہیں۔ تیسرے فرزند جناب فرید الدین اویسی ہیں انکی بھی ابتدائی تعلیم مدینہ منورہ میں ہوئی، انڈین اسکول جدہ سے میٹرک پاس کئے، انٹرمیڈیٹ اور پھر ہوٹل مینجمنٹ کورس حیدرآباد میں کرنے کے بعد خانگی کاروبار سے منسلک ہیں۔ چوتھے فرزند جناب نظام الدین اویسی ہیں ان کی ابتدائی تعلیم بھی مدینہ منورہ میں ہوئی اور میٹرک حیدرآباد میں کیا وہ اپنی زوجہ کے ساتھ شکاگو میں مقیم ہیں انکی اہلیہ صاحبہ ڈاکٹر ہیں۔ پانچویں فرزند جناب قطب الدین اویسی ہیں جن کی ابتدائی تعلیم بھی مدینہ منورہ میں ہوئی اور آپ حافظ قرآن بھی ہیں۔ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ حیدرآباد میں کامیاب کئے۔ ان دنوں ایل ایل بی کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ کنسٹرکشن پیشہ سے وابستہ ہیں۔
بزم اتحاد کا قیام
    احمد الدین اویسی صاحب نے بتایاکہ 1987ء میں جناب الحاج سلطان صلاح الدین اویسی عمرہ کیلئے تشریف لائے ہوئے تھے ان ہی کی نگرانی میں بزم اتحاد کا قیام عمل میں لایا گیا۔ بانی صدربزم اتحاد جناب احمد الدین اویسی، جدہ کے نائب صدر ڈاکٹر سید علی محمود اور ریاض میں آرکیٹکٹ عبدالرحمن سلیم بنائے گئے۔ بزم اتحاد کے موجودہ نائب صدر جناب عبید الرحمن ہیں جبکہ جنرل سکریٹری جناب یوسف الدین امجد ہیں۔بزم اتحاد کے ذریعہ چھ عالمی مشاعرے جدہ میں ہوچکے ہیں، ساتواں عالمی مشاعرہ آئندہ سال فبروری میں منعقد ہوگا۔ ان مشاعروں میں بین الاقوامی شعراء کرام یعنی ہندو پاک اور دیگر خلیجی ممالک میں مقیم شعراء کو مدعو کیا جاتا ہے۔ بزم اتحاد کی جانب سے چار سو سالہ جشن حیدرآباد عظیم الشان پیمانے پر جدہ اور ریاض میں منایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ عمرہ و حج کو آنے والے زائرین علمائے کرام اور مجلسی قائدین کی تہنیتی تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔بزم کے دیگر اغراض و مقاصد اور کارہائے نمایاں میں قابلِ ذکر یہ ہے کہ تلاشِ روزگار کے سلسلہ میں ہندوستان سے جدہ آنے والے نوجوانوں کو کمپیوٹر کلاسس کا اہتمام کیا جاتا تھا، نادر غریب طلبہ کی امداد، غریب لڑکیوں کی شاہ بیاہ، رمضان المبارک میں غریب لوگوں کی امداد کی جاتی ہے۔ یہ امداد حیدرآباد و جدہ میں مقیم غرباء کیلئے کی جاتی ہے۔ جناب احمد الدین اویسی نے بتایا کہ ان دنوں تلنگانہ انتخابات کے پیشِ نظر بزم اتحاد کی آئی ٹی ٹیم مسلمانوں کو اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کرنے کی ترغیب دے رہی ہے۔ اس ٹیم میں جناب عظمت عمرانی، جناب نصیر احمد، اشفاق محی الدین وغیرہ شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں علماء کرام کو مدعو کیا گیا اور مجلس کی کامیابی کیلئے اجتماعی دعاکا اہتمام کیا گیا۔ جناب احمد الدین اویسی نے بتایا کہ بزم اتحاد کا دفتر حیدرآباد میں قائم کیا جانے والا ہے جہاں پر اپنے وطن واپس ہونے والے این آر آئیز کا مکمل ڈاٹا جمع کیا جائے گا تاکہ مستحق غریب این آر آئیز کیلئے حکومت سے نمائندگی کرکے انہیں رہائش فراہم کرنے کی سعی کی جائے گی۔ جناب احمد الدین اویسی بزم اتحاد کے صدر کے ساتھ ساتھ تلنگانہ گلف این آر آئیز فیڈریشن کے صدر بھی ہیں۔ اسی لئے وہ اور فیڈریشن کے دیگر عہدیدار این آر آئیز کے مسائل کو حل کرنے کے لئے حکومت وقت سے نمائندگی کرینگے جو وقت کا اہم تقاضا بھی ہے۔ اگر بزم اتحاد اور تلنگانہ گلف این آر آئیز فیڈریشن اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ این آر آئیز کیلئے خوش آئند اقدام ہوگا کیونکہ ہزاروں این آر آئیز پریشان کن صورتحال سے دوچار ہیں اور انکے مسائل سننے اور حل کرنے والا شاید کوئی نہیں۔احمدالدین اویسی صاحب اپنی نوکری کے ساتھ ساتھ بزم اتحاد اور تلنگانہ گلف این آر آئیز فیڈریشن کے بینر تلے سعودی عرب کے مختلف شہروں کا دورہ کرتے ہیں اور وہاں کے مسائل سے واقفیت حاصل کرکے مجلسی قیادت کو بھی واقف کرواتے ہیں۔ ان کی اس کوشش کو دیکھتے ہوئے قطر اور کویت میں مقیم تارکین وطن ہند وہاں پر بھی بزم اتحاد کی شاخیں قائم کرنا چاہ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جناب احمد الدین اویسی اور انکے رفقاء کی کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور اس میں مزید وسعت عطا فرمائے۔ آمین
    جناب احمد الدین اویسی سے ملاقات کیلئے حیدرآبادی، مسجد نبوی ﷺ چلے جاتے ہیں، جہاں بعد نماز عشاء احمد صاحب مزار شریف کے قدم مبارک کی طرف مل جاتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment