![]() |
| جناب حامد محمد خان امیر جماعت اسلامی ہند حلقہ تلنگانہ و اوڈیشہ |
ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید
جوائنٹ ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی، حیدرآباد
علحدہ تلنگانہ تحریک کے روح رواں اور جماعت اسلامی ہند حلقہ تلنگانہ و اوڈیشہ کے حرکیاتی امیر جناب حامد محمد خان
سے کون واقف نہیں۔ جناب حامد محمد خان کا نام تلنگانہ تحریک کے ان قائدین میں لیا جاسکتا ہے جنہوں نے سخت محنت اور جدوجہد کے ذریعہ دیگر ابنائے ریاست تلن
گانہ کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملاکر ریاست تلنگانہ کے عوام کے خواب کو حقیقت میں بدلا۔اردو، تلگو اور انگریزی زبانوں پر عبور رکھنے والے جناب حامد محمد خان جنہوں نے کانگریس کی مرکزی ہائی کمان اور علحدہ تلنگانہ تحریک جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے قائدین کے درمیان رابطہ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے،جوذرائع ابلاغ کی سرخیوں میں رہ چکے ہیں۔ ریاستِ تلنگانہ کے قیام میں حامد محمد خان کی خدمات قابلِ ستائش اور مسلمہ رہی ہیں۔ جناب حامد محمد خان، جناب امیر محمد خان صاحب مرحوم کے سب سے بڑے فرزند ہیں۔ وہ 10/ نومبر1957ء کو ضلع کریم نگر کے تعلقہ حضور آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی و دینی تعلیم اپنے نانا مولانا محمد شرف الدین صاحب ہیڈ ماسٹرحضور آباداسکول جو کسی سلسلہ سے بھی تعلق رکھتے تھے کے پاس ہوئی۔ کاغذ نگر ہائی اسکول سے 1975ء میں ایس ایس سی کی تکمیل کی اور جونیئر کالج میں داخلہ لیا تھا کہ خانگی اور گھریلو حالات کی وجہ سے تمام افراد خاندان کے ساتھ ورنگل منتقل ہوگئے۔ کاغذ نگر میں قیام کے دوران یعنی چٹھی جماعت میں تعلیم حاصل کررہے تھے اس دوران ان کی ملاقات جناب محمد فضل اللہ قریشی (مرحوم) رکن جماعت اسلامی ہندکاغذنگر سے ہوئی ان سے متاثر ہوئے اور جماعت اسلامی ہند کی جانب سے منعقدہ بچوں کے پروگراموں میں شرکت کا آغاز کیا۔ 12سال سے کم عمر بچوں کیلئے جماعت اسلامی ہند کی جانب سے ”نوری محفل“ منعقد ہوا کرتی تھی۔ یہی نوری محفل مختلف ناموں جیسے ”شاہین فورس“، ”بزم شاہین“ اور بعد میں 2016میں Children's islamic organizaton(سی آئی او) کے نام سے موسوم ہوئی۔ 1975ء میں ورنگل منتقل ہونے سے قبل جناب محمد فضل اللہ قریشی صاحب (مرحوم)نے انہیں مولانا محمد عبدالغفور اور جناب رحمت اللہ شریف سے ملاقات کرنے کیلئے ایک لیٹر حوالے کیا کیونکہ حامد محمد خان کیلئے ورنگل ایک نیا مقام تھا۔ جب حامد محمد خان نے ورنگل پہنچ کر مولانا محمد عبدالغفور صاحب سے ملاقات کی اور انہیں جناب محمد فضل اللہ قریشی صاحب کا ان کے لئے لکھا گیا لیٹرحوالے کیا تو مولانا عبدالغفور نے طلباء تنظیم ”جمعیت ا لطلباء اسلامی“ سے انکا تعارف کروایا،جس کے نتیجہ میں انہوں نے اس طلباء تنظیم سے اپنی وابستگی قائم کی اور وہی وابستگی آج تک قائم ہے۔ جناب حامد محمد خان نے بتایا کہ اسی دوران ایمرجنسی نافذ ہوئی جس میں جماعت اسلامی ہند کے بیشتر ارکان اور ذمہ داروں کو 21ماہ تک جیل میں رہنا پڑا۔ ایمر جنسی کے دوران وہ قید تو نہیں کئے گئے لیکن اپنے رفقاء اور بڑوں کی جیل میں حراست کی وجہ سے جو حالات پیدا ہوگئے تھے اس دوران انہوں نے اسلامی لٹریچر کا تفصیل کے ساتھ مطالعہ کیا، خاص طور پر مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کی کتابوں بشمول تفہیم القران، الجہاد الاسلام، موجودہ سیاسی کشمکش اور مسلمان، تنقیحات اور تفہیمات کے مطالعہ نے حامد محمد خان کی زندگی پر کافی اثر مرتب کیا۔ اسی دوران مولانا مودودی کی ایک اور کتاب ”خطبہ تقسیم اسناد“ کاانہوں نے مطالعہ کیا جس سے متاثر ہوکرانہوں نے اپناانٹر میڈیٹ کاتعلیمی سلسلہ منقطع کردیا یعنی دو سال تک تعلیمی سلسلہ منقطع رہا۔ اس دوران قرآن مجید کا حفظ اور دینی کتابوں کا مطالعہ کرنے لگے اور ساتھ ہی درس بھی دینا شروع کیا۔ تعلیمی سلسلہ منقطع کرنے کی بات جب طلبا تنظیم کے ساتھیوں کو معلوم ہوئی تو طلبا تنظیم کے دو دوست جناب علی احمد صاحب اور جناب منصور احمد (یہ دونوں جو بعد میں آئی آئی ٹی کی تعلیم حاصل کرکے نامور انجینئرس بنے)نے انکی کونسلنگ کی اور سمجھایا کہ آپ نہیں پڑھینگے تو پیچھے رہ جائیں گے۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے یہ بات کسی الگ تناظر میں کہی ہے۔ ان دونوں کی کونسلنگ کی وجہ سے 1977ء میں دوبارہ انٹر میڈیٹ میں داخلہ لیا اور 1979ء میں انٹر میڈیٹ کی تکمیل کی۔معاشی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے انٹر میڈیٹ کے دوران صبح کے اوقات میں بچوں کو پڑھاتے اور دوپہر میں کالج جاتے۔ کالج سے واپسی کے بعد اسلامی تحریک میں مصروف ہوجاتے تھے۔ معاشی تنگدستی کی وجہ سے انٹر میڈیٹ کے بعد پڑھنے کی استطاعت نہیں تھی۔ انٹر میڈیٹ کا نتیجہ آنے سے قبل ہی جناب محمد خواجہ عارف الدین کی سرمایہ کاری اور انکی محنت سے تجارت کا آغاز کیا۔ یہ تجارت کاسلسلہ دو تین ماہ جاری رہا تھا کہ اچانک مختلف اضلاع میں مختلف ناموں سے جماعت اسلامی کے تحت جو طلباء تنظیمیں کام کررہی تھیں ان تمام تنظیموں کو ملاکر ایک ریاستی سطح کی تنظیم قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور 9/ جولائی 1979ء کو آفیسرز میس، ملک پیٹ، حیدرآباد میں اسلام پسند طلبا اور نوجوانوں کی مقامی سطح کی تنظیموں کا ایک کنونشن منعقد ہوا اور اس کنونشن میں ایک تنظیم ”اسٹوڈنٹس اسلامک یونین“آندھراپردیش(SIU) کا قیام عمل میں لایاگیا اور اس کے دستور کو منظوری دی گئی۔ اسی کنونشن میں دستور کے مطابق سرپرست تنظیم مولانا عبدالعزیز ؒ کی نگرانی میں انتخابات عمل میں آئے۔ ان انتخابات میں سید عبدالباسط انور صاحب کو صدر، ڈاکٹر خواجہ احمد شمشیر کو نائب صدر اور حامد محمد خان کو معتمد عمومی کی حیثیت سے منتخب کیا گیااسی ذمہ داری کے نتیجہ میں جناب حامد محمد خان کوورنگل سے حیدرآباد منتقل ہونا پڑا اور جب حیدرآباد منتقل ہوئے تو انہیں اپنی تجارتی مصروفیات بھی ترک کرنی پڑی۔ حیدرآباد منتقل ہونے کے بعد ذمہ داران جامعہ دارالھدیٰ مہدی پٹنم نے انہیں جامعہ میں مدعو کیا اور اس موقع پر استاذ کی حیثیت سے انکا تقرر عمل میں آیا۔
جناب حامد محمد خان جامعہ دارالھدیٰ مہدی پٹنم میں صبح 9بجے سے 3بجے تک پڑھاتے اور4بجے ایس آئی یو کے ریاستی دفتر،پرانی حویلی پہنچ کر تنظیمی کاموں کو بحیثیت معتمد عمومی انجام دیتے۔ اس اثناء یعنی1979ء میں ”وویک وردھنی ایوننگ کالج، جام باغ میں بی اے (اکنامکس، پولیٹکل سائنس اور پبلک اڈمنسٹریشن)میں داخلہ لیا۔ گرائجویشن کے دوران رات میں تعلیم کے بعد سائیکل پرگھر پہنچ کر جو گڈی ملکاپور، مہدی پٹنم میں واقع تھا، قرآن مجید کی تلاوت مع تفسیر پڑھتے اور صبح بعد نمازِ فجر”مسجد محمودیہ“ گڈی ملکاپور میں درس دیا کرتے۔ درس و تدریس اور درس قرآن کی مصروفیات کے علاوہ تعطیلات کے دنوں میں ریاست ِ آندھراپردیش کے مختلف اضلاع کے دورے کرتے۔ 1979سے 1981ء تک یعنی گرائجویشن کے دوران ریاست کے مختلف اضلاع کے تقریباً 80مقامات پر ایس آئی یو کی شاخیں قائم کیں۔ گرائجویشن کی تکمیل کے بعد ایم اے اکنامکس سے ناگپور یونیورسٹی میں داخلہ لیا، داخلہ لینے کے چند دن بعدیونیورسٹی میں ایک تقریری مقابلہ بعنوان ”بھارت کی تعمیر نوع اور مذہب کا رول“منعقد ہوا جس میں انہوں نے پہلا انعام حاصل کیا۔ اس تقریر کے بعد جناب حامد محمد خان کی شدید مخالفت ہوئی اسی اثناء میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بعض اسکالرس جن میں ڈاکٹر میر ممتاز علی (جو اس وقت ملیشیایونیورسٹی میں پروفیسر ہیں)اور ڈاکٹر معراج نے انہیں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لینے پر مجبور کیا۔ چونکہ علیگڑھ یونیورسٹی میں تعلیمی سیشن تاخیر سے چل رہا تھا اس وجہ سے انہیں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے ڈپارٹمنٹ آف اکنامکس میں ایم اے اکنامکس اعداد و شمار اور اقتصادیاں (MA in Statistics and Econometrics)مضامین میں داخلہ ملا۔ 1983ء میں ایم اے سے فراغت کے بعد حیدرآباد کے اِندراپریہ درشنی گورنمنٹ ڈگری کالج میں تدریس سے وابستہ ہوئے،چند ماہ یہاں پڑھانے کے بعد انوارالعلوم کالج جوائن کئے جہاں پر انہیں 'Grant in Aid"کا پوسٹ حاصل ہوا اور بحیثیت لکچرار معاشیات تقرر ہوا۔ چونکہ آپ انٹر کے دوران ہی جماعت اسلامی ہند کے رکن بن چکے تھے کالج کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ اپنی تحریکی سرگرمیوں کو بھی جاری رکھا ہوا تھا۔ 1981ء میں جماعت اسلامی ہند کا چھٹا کل ہند اجتماع وادی ھدیٰ حیدرآباد میں منعقد ہوا۔ اس اجتماع کی تیاریوں کے ضمن میں 1980ء میں جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس حیدرآباد میں منعقد ہوا تب ان کے ساتھی طلبا جو ایس آئی یو سے وابستہ تھے، انہو ں نے جماعت کی قیادت سے درخواست کی کہ جن جن ریاستوں میں جماعت اسلامی ہند کے تحت طلباء تنظیمیں کام کررہی ہیں جیسے بہار میں ”حلقہ طلبا اسلامی“ ٹاملناڈو میں ”اسٹوڈنٹس اسلامک سرکل“ شولاپور میں ”اسلامی تنظیم طلبا“ کرناٹک میں ”تنظیم اسلامی کرناٹک“ نے تحریری درخواست کی کہ ہم سب کا ایک وفاق (فیڈریشن) بنائیں یا کل ہند تنظیم تشکیل دیں اس درخواست پر جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ نے ایک کمیٹی تشکیل دی تاکہ اس وقت موجود کل ہند تنظیم ایس آئی ایم سے اور پھر وہ طلبا تنظیمیں جو جماعت کی سرپرستی میں کام کرنا چاہتی ہیں ان سے گفتگو کی جائے۔ اس سلسلہ میں ایس آئی ایم سے علحدہ لکھنو میں بات کی گئی جس کے کنونیئر مولانا محمد سراج الحسن صاحب سابق امیر جماعت اور مولانا شفیع مونس صاحب رکن، ٹی کے عبداللہ صاحب رکن تھے۔ پھر بنگلور میں ان طلبا تنظیموں سے بھی کمیٹی نے گفتگو کی جو جماعت کے میر سرپرستی کام کرنا چاہتی تھیں۔ جناب حامد صاحب نے بتایا کہ الحمد للہ ان تنظیموں کے اراکین میں سے وہ خود بھی ایک تھے، کالی کٹ میں ایس آئی ایم کے اور جماعت کے زیر سرپرستی کام کرنے والی مختلف ریاستوں کی تنظیموں کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا اور اس میں ایک تنظیم پر اتفاق ہوا، اس موقع پر ایک دستور ساز کمیٹی برائے کل ہند طلبا تشکیل دی گئی جس میں مختلف تنظیموں کے ذمہ داروں کو شامل کیا گیا اس دستور ساز کمیٹی میں 18ارکان تھے جس میں ایک نام جناب حامد محمد خان کا بھی تھا۔دستور ساز کمیٹی کے نگراں مولانا محمد شفیع مونس صاحب تھے۔ اس کے کئی اجلاس دہلی میں منعقد ہوئے۔دستور کے مطابق باضابطہ اس کے انتخابات عمل میں لائے گئے اس طرح اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن(SIO) قائم ہوئی جس کے بانیوں میں سے ایک جناب حامد محمد خان بھی ہیں۔ وہ 19/ اکٹوبر 1982ء سے جنوری 1993ء تک ایس آئی او کی ریاستی مشاورتی کونسل اور مرکزی مشاورتی کونسل کے رکن رہے۔ 1989ء سے 1991ء تک صدر حلقہ ایس آئی او کے فرائض انجام دیئے۔1991ء سے 1993ء تک ایس آئی او کے مرکزی سکریٹری رہے۔
نومبر1981ء میں ایس آئی یو کی ریاستی کانفرنس جو ورنگل میں منعقد ہوئی تھی اس کے فینانس کی ذمہ داری، 1986ء میں ایس آئی او کی پہلی آل انڈیا کانفرنس پولوپیالس گراؤنڈ بنگلور میں ”اسلام برائے امن، ترقی و نجات“ کے فینانس کی ذمہ داری اور 1992ء میں ایس آئی او آندھراپردیش کی ریاستی کانفرنس ”لا سبیل الا الاسلام“ کے عنوان سے الحسنات گراؤنڈ ٹولی چوکی، حیدرآباد میں منعقد ہونے والی کانفرنس کے فینانس کی ذمہ داری بھی ان ہی کے کاندھوں پر تھی۔1993ء سے 1995ء تک جماعت اسلامی ہند، شمالی تلنگانہ کے معاون ناظم علاقہ کی ذمہ داری انجام دیں اور 1995ء میں جماعت اسلامی ہند کے ”مرکزی مجلس نمائندگان“ کے رکن کی حیثیت سے اور ریاستی مجلس شوریٰ کے رکن کی حیثیت سے انتخاب عمل میں آیا۔1995ء سے 1999ء تک جماعت اسلامی ہند جنوبی تلنگانہ کے ناظم علاقہ کی ذمہ داری انجام دیئے۔ 1999ء سے 2003ء تک سکریٹری حلقہ برائے اسلامی معاشرہ کی ار 2003سے 2007تک معاون امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند حلقہ آندھراپردیش و اڑیسہ کی ذمہ داری ادا کئے۔ 2009ء میں مومنٹ فار پیس (MPJ)کے صدر رہے۔ 6/اپریل 2015ء سے جماعت اسلامی ہند حلقہ تلنگانہ و اوڈیشہ کے امیر کی حیثیت سے ذمہ داری انجام دے رہے ہیں۔گذشتہ 18سال سے مسجد قطب شاہی سنتوش نگر کالونی، مہدی پٹنم میں جمعہ کا خطبہ پابندی سے دے رہے ہیں۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ علحدہ تلنگانہ تحریک کے دوران جس وقت دہلی میں مرکزی قائدین سے ملاقات اور احتجاج کیلئے قیام کرتے اس وقت بھی بذریعہ طیارہ اپنے ذاتی خرچہ سے حیدرآباد آکر جمعہ کا خطبہ دیتے رہے ہیں کیونکہ آپ کا خطبہ سننے کیلئے دور دراز سے لوگ کثیر تعداد میں پابندی سے شریک ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند حلقہ تلنگانہ و اوڈیشہ جناب حامد محمد خان جمعہ کے خطبہ کیلئے کہیں بھی رہے پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس کے علاوہ ایودھیا نگر کالونی، مہدی پٹنم میں بعد نماز مغرب بروز جمعرات 16سال سے درس دے رہے ہیں لیکن کبھی کبھار مصروفیات کی وجہ سے یہ سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔ جناب حامد محمد خان 9/ ڈسمبر 1984ء میں جناب محمد عبدالرحمن صاحب کی صاحبزادی سے نکاح کیا لیکن مارچ 2001میں آپ کی زوجہ صاحبہ انتقال کرگئیں۔ 9/ اگسٹ 2001ء میں انہوں نے دوسرا نکاح جناب شیخ داؤد صاحب کی دختر سے کیا۔
تلنگانہ تحریک کے روحِ رواں حامد محمد خان
9/ ڈسمبر 2009کو پہلی مرتبہ تلنگانہ تحریک کی تائید میں چارمینار کے دامن میں ایم پی جے نے دھرنا منظم کیا۔ جنوری 2010ء میں جب تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دی گئی تو اس کی اسٹائنڈنگ کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے اور ایم پی جے کے بینر تلے تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں تلنگانہ تحریک میں فعال اور سرگرم حصہ لیا۔ اور تلنگانہ تحریک کو علاقہ پرستی کی تحریک کے جبائے حصولِ انصاف کی تحریک میں تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل کی کیونکہ اسلام علاقہ پرستی، زبان پرستی، اور قوم پرستی کا مخالف ہے۔ اسی لئے یہ نعرہ دیا گیا ”انصاف برائے تلنگانہ، تلنگانہ برائے انصاف“۔7/ فبروری 2010ء کو نظام کالج گروائڈنس پر تلنگانہ گرجنا کے نام سے جماعت اسلامی ہند کے بینر تلے ایک عظیم الشان ”تلنگانہ گرجنا“ منعقد ہوئی۔ اسکے بعد تقریباً تمام اضلاع کے مستقر وں میں ایم پی جے کے بینر تلے جلسے منعقد کئے گئے اور جلوس نکالے گئے۔ حامد محمد خان کئی مرتبہ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ دہلی پہنچ کر صدر جمہوریہ ہند اور وزیر اعظم ہند سے علحدہ تلنگانہ کیلئے نمائندگیاں کرنے والوں میں شامل ہیں۔ جس وقت سری کرشنا کمیٹی تشکیل دی گئی تو دہلی پہنچ کر نمائندگی کی گئی اور اسکے بعد جب سری کرشنا کمیٹی حیدرآباد آئی تو اس موقع پر پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعہ کمیٹی کے سامنے علحدہ تلنگانہ کے ضرورت کے مطالبہ کو واضح طور پر پیش کیا گیا۔ اس وقت کے مرکزی قائدین مسٹرڈگ وجئے سنگھ اور مسٹر جے رام رمیش جب حیدرآباد آئے تو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے جناب حامد محمد خان نے تلنگانہ مسئلے پر ان سے گفتگو کی۔ تلنگانہ تحریک کے موقع پر احتجاج کے طور پر سڑکوں پر پکوان، سڑک بند، ملین مارچ، ساگرا ہارم اور متعدد پروگراموں میں موجودہ چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ، ریاستی وزیر داخلہ مسٹر این نرسمہا ریڈی، مسٹر پدما راؤ، مسٹر سوامی گوڑ، مسٹر کے ٹی آر، مسٹر ہریش راؤ، پروفیسر کوڈنڈا رام، مسٹر ایم لکشمیا، مسٹر وٹھل، مسٹر پی رویندر، مسٹر کے رویندر ریڈی اور دیگر سرکردہ قائدین کے ساتھ تلنگانہ جدوجہد میں حصہ لیا۔ کئی مقدمات بشمول حالیہ عرصہ تک چلتے رہے۔ ریلوئے کے مقدمہ سے گذشتہ 8ماہ قبل برأت ہوئی۔ تلنگانہ تحریک کے اس روحِ رواں کی خدمات کو حکومت تلنگانہ فراموش نہیں کرسکتی اور مستقبل میں بھی ان کی کاوشوں کو علحدہ تلنگانہ کی تاریخ میں رقم کرنے کیلئے ریاستی چندرشیکھر راؤ کی حکومت اہم اقدام کریں تاکہ مستقبل میں علحدہ تلنگانہ کیلئے مسلمانوں کی قربانیوں کو فراموش نہ کیا جاسکے۔
جناب حامد محمد خان امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند تلنگانہ و اوڈیشہ کی حیثیت سے مسلمانوں کے کئی اجتماعات بشمول جماعت اسلامی کے ذیلی تنظیموں سے خطاب کرتے رہے ہیں خصوصی طور پر موجودہ حالات میں اصلاح معاشرہ کے جلسوں کو مخاطب کرکے معاشرہ میں شعور بیدار کرنے کی سعی کرتے ہیں۔مسلمانوں اور دیگر ابنائے وطن کے درمیان اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کیلئے بھی ان کی کوششیں جاری ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملت اسلامیہ کی خدمت کیلئے انہیں صحت و عافیت کے ساتھ درازی عمر عطا فرمائے اور دین و دنیا کی بہترین نعمتوں سے سرفراز فرمائے۔
جناب حامد محمد خان کے درس قرآن اور مختلف موضوعات پر کی گئیں تقاریر کو یوٹیوب پر حامد محمد خان،گوگل پر www.jihtelangana.comکے ذریعہ یا دیگر سوشل میڈیا کے ذریعہ دیکھا جاسکتا ہے۔
حامد محمد خان، امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند حلقہ تلنگانہ و اوڈیشہ، حیدرآباد۔موبائل:9848217787

No comments:
Post a Comment