MY COLUMN

اسرائیل کو آسٹریلیا کا زبردست جھٹکا۔یروشلم کو دارالحکومت ماننے سے انکار

 عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

 اسرائیل کو آسٹریلیا کا زبردست جھٹکا۔یروشلم کو دارالحکومت ماننے سے انکار

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

 

           فلسطین پر قابض اسرائیلی حکومت کو آسٹریلیا نے      ایک جھٹکا دیتے ہوئے کہاہیکہ مغربی یروشلم کو آسٹریلیا، اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہیں کرتا۔ آسٹریلیاکی وزیر خارجہ پینی وونگ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہیکہ ”یروشلم کی حتمی حیثیت کا تعین اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کے نتیجے میں ہونا چاہئیے“۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ 2018ء میں اسکاٹ موریسن کی قیادت میں قدامت پسند آسٹریلوی حکومت نے مغربی یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے میں اُس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کی پیروی کی تھی۔موریسن کے اس اقدام کی وجہ سے آسٹریلوی شہریوں میں سخت ردعمل کا باعث بنا تھا اور پڑوسی ملک انڈونیشیا کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پیدا ہوگیا تھا جس کے بعد دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے مسلم اکثریتی ملک کے ساتھ عارضی طور پر آزاد تجارتی معاہدے کو تعطل کا شکار کر دیا۔

             اسطرح موریسن کی سابق کنزرویٹو حکومت کا یہ فیصلہ متنازعہ ہوچکا تھا۔اس سلسلہ میں وزیر خارجہ پینی وونگ نے سابق  موریسن حکومت پر الزام لگایا کہ ”وہ ساحل سمندر کے کنارے سڈنی کے مضافاتی علاقے میں ایک بڑی یہودی برادری کے علاقے سے ضمنی انتخاب جیتنے کے لئے یہ سب کر رہے تھے۔’آپ جانتے ہیں کہ یہ کیا تھا؟ یہ ایک گھٹیا ڈرامہ تھا، وینٹ ورتھ کی سیٹ اور ضمنی انتخاب جیتنے کے لیے۔“پینی وونگ کا کہناہیکہ ”ہم ایسے نقطہ نظر کی حمایت نہیں کرینگے جس سے دوریاستی حل کو نقصان پہنچے“۔انہو ں نے مزید کہا کہ آسٹریلیا کا سفارت خانہ ہمیشہ تل ابیب میں رہا ہے اور وہیں رہے گا۔ اس طرح آسٹریلیا نے مغربی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم انکار کرتے ہوئے سابق متنازعہ فیصلہ سے دستبرداری اختیار کی ہے۔ واضح رہے کہ آسٹریلیامیں مرکزی بائیں بازو کی لیبر پارٹی جس میں انتھونی البانی وزیر اعظم اور وونگ پینی وونگ وزیر خارجہ ہیں مئی 2022میں اقتدار میں آئی۔ وونگ نے کہا ہیکہ اس فیصلے سے اسرائیل سے کسی دشمنی کا اشارہ نہیں ملتا۔انہوں نے کہا کہ ’آسٹریلیا ہمیشہ اسرائیل کا ثابت قدم دوست رہے گا۔ ہم اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والے پہلے ممالک میں شامل تھے۔ انہو ں نے کہا کہ ’ہم اسرائیل اور آسٹریلیا میں یہودی برادری کی اپنی حمایت میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم فلسطینی عوام کی حمایت میں یکساں طور پر غیر متزلزل ہیں، بشمول انسانی امداد کے۔‘اسرائیل نے سنہ 1967 کی چھ روزہ جنگ میں مشرقی یروشلم پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں اس کا الحاق کرتے ہوئے پورے شہر کو اپنا ’ابدی اور ناقابل تقسیم دارالحکومت‘ قرار دیا تھا۔اب دیکھنا ہے کہ آسٹریلیا کے اس فیصلہ کے بعد امریکہ اور اسرائیل کس قسم کے ردّعمل کا اظہار کرتے ہیں اور سب سے بڑا آبادی والا پڑوسی مسلم ملک انڈونیشیا آسٹریلیا سے تعلقات بحال کرنے کیلئے کس طرح آگے آتا ہے۔سعودی عرب نے آسٹریلیا کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے کہا ہیکہ ”عالمی برادری کو چاہیے کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق فلسطینی عوام کی خواہش کے مطابق خود مختار ریاست بنانے میں مدد کرے جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو“۔

عمران خان ضمنی انتخابات میں کامیاب لیکن توشہ خانہ معاملہ میں نااہل قرار


            عمران خان ضمنی انتخابات میں بازی لے گئے لیکنتوشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن نے انہیں 5سال کیلئے نااہل قرار دے دیا ہے۔ جمعہ کو توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن نے کہاکہ عمران خان’کرپٹ پریکٹس کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ان کی قومی اسمبلی کی نشست خالی قرار دی جاتی ہے۔‘چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے پانچ رکنی کمیشن بینچ متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو آرٹیکل 63کے تحت نااہل قرار دیا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان آئین کے آرٹیکل 63ون پی کے تحت نااہلی پارلیمنٹ کی موجودہ مدت تک محدود ہوتی ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کرپٹ پریکٹسز کے مرتکب ہوئے ہیں جس کی وجہ سے انکے خلاف ٹرائل کورٹ میں مقدمہ بھی چلایا جائے گا۔عمران خان کے خلاف فیصلہ سنائے جانے کے بعد تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ناقابل قبول ہے۔ یہ عمران خان پر نہیں پاکستان کے آئین اور اداروں پر حملہ ہے۔جبکہ ذائع ابلاغ کے مطابق الیکشن کمیشن کے توشہ خانہ ریفرنس کے فیصلے کے بعد عمران خان کی زیر صدارت پارٹی رہنماؤں کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اس فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ میں رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور قانونی ٹیم کو پٹیشن تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔پارٹی رہنماؤں سے گفتگو کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ جانبدار الیکشن کمیشن سے اسی طرح کے فیصلے کی توقع تھی، چیف الیکشن کمشنر پی ڈی ایم کا اتحادی ہے، موجودہ الیکشن کمیشن اور اس کے فیصلوں کی کوئی ساکھ نہیں ہے۔اس فیصلہ کے بعد بتایا جاتا ہیکہ پاکستان کے مختلف شہروں اور مقامات پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔اب نہیں معلوم عوام حکومت اور عمران خان کے درمیان عدلیہ کے فیصلہ کے تئیں کیا کرتے ہیں اور اگر عوام عمران خان کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں تو پھر پاکستان کن راہوں پر کھڑا ہوتا ہے یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۰۰۰

            توشہ خانہ فیصلہ سے قبل سابق وزیر اعظم و چیئرمین پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) نے ضمنی انتخابات کے تحت قومی اسمبلی کیلئے آٹھ نشستوں پر ہونے والے الیکشن میں چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے حکومت کو سوچنے پر مجبور کردیا تھا، یہاں یہ بات واضح رہے کہ عمران خان نے آٹھ میں سے سات نشستوں پر خود انتخاب لڑا تھاجس میں سے انہیں کراچی کی ایک نشست پر ناکامی ہوئی ہے جبکہ ایک نشست کیلئے پی ٹی آئی کی امیدوارسابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی مہر بانو قریشی تھیں جنہیں پاکستانی پیپلز پارٹی کے امیدوار علی مونس گیلانی سے مقابلہ درپیش تھا جس انہیں ناکامی ہوئی ہے۔ ضمنی انتخابات میں عمران خان کا خود تمام سات نشستوں پر مقابلے میں حصہ لینا اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹ جانے کا ارادہ نہیں رکھتی اور ملک میں جلد از جلد عام انتخابات کروانے کے اس کے مطالبہ کو مزید تقویت حاصل ہو کیونکہ ضمنی انتخابات کے نتائج سے یہ ثابت ہوچکا ہیکہ عوام کی اکثریت عمران خان کو اقتدار پر واپس لانا چاہتی ہے اور اسی لئے عوام عمران خان کے حق میں ہی اپنے ووٹوں کا استعمال کرتے ہوئے انہیں کامیاب کئے ہیں۔عمران خان نے ضمنی انتخابات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ یہ الیکشن نہیں بلکہ ریفرنڈم تھا، ریفرنڈم اس لئے کیونکہ عوام کو پتا تھا کہ ہم نے اسمبلی میں نہیں بیٹھنا ہے، قوم اس وقت الیکشن چاہ رہی ہے۔ ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کو آٹھ میں چھ نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے یہ عوام کا مثبت ردّعمل بتایا جارہا ہے لیکن 2018کے انتخابات میں ان دو نشستوں پر بھی پی ٹی آئی نے ہی کامیابی حاصل کی تھی اس لحاظ سے پی ٹی آئی کو دو نشستوں پر ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ضمنی انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کرنے کے بعد عمران خان نے کہا ہیکہ ”میں نے اسٹبلشمنٹ کو پیغام پہنچایا کہ سازش کامیاب ہوئی تو معیشت نہیں سنبھل سکے گی، مارچ کی تیاری ہے، چند دنوں میں کسی بھی وقت مارچ کا اعلان کرونگا“۔ انکا کہنا تھا کہ وہ حکومت کو مزید وقت دے رہے ہیں کہ حکومت کے پاس چند دن ہیں، اس کے بعد وہ مارچ کا اعلان کرینگے۔یعنی اکٹوبر کے ختم ہونے سے قبل ہی مارچ ہوگا اور مارچ کے ذریعہ پتہ چل جائے گا کہ عوام کہاں کھڑے ہیں، انہوں نے حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر الیکشن کا اعلان نہ کیا گیا تو مارچ کیا جائے گا۔ اور کوئی بھی گیارنٹی نہیں دے سکتا کہ بڑی تعداد میں عوام کے نکلنے کا نتیجہ کیا آئے گا۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ وفاقی وزیر اطلاعام مریم اورنگزیب نے عام انتخابات کے سلسلہ میں کہا ہے کہ وہ وقت مقررہ پر ہونگے اور جب حکومت چاہے گی تب ہی ہونگے۔مریم اورنگزیب کا کہنا ہیکہ ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام آباد پر چڑھائی کردی جائے۔ انکا مزید کہنا ہیکہ اگر ضمنی انتخابات ریفرنڈم ہے تو پھر دو نشستیں یعنی ملتان اور کراچی کی سیٹوں پر کیا کہیں گے۔ اب دیکھنا ہیکہ حکومت کے مطابق،عام انتخابات وقت مقررہ پر ہی کرنے کے فیصلہ پر اٹل رہی تو عمران خان جو اسلام آباد پر چڑھائی (مارچ) کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں انہیں اجازت دیتی ہے جبکہ توشہ خانہ کیس میں انہیں نااہل قرار دینے کے بعد حالات سنگین ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔اگر مارچ کا اعلان کردیا جاتا ہے تو پھر مارچ کو روکنے کے لئے حکومت کس قسم کے اقدامات کرتی ہے یہ وقت آنے پر دیکھا جاسکتا ہے۰۰۰

امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان پھر دوریاں ۰۰۰

            امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات پھر ایک مرتبہ بگڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ تیل کی پیداوار کے سلسلہ میں کمی کرنے کے اوپیک پلس کو فیصلہ جوبائیڈن حکومت کو اسے روس کے حق میں قرار دیتی ہے۔ اوپیک پلس تنظیم سعودی عرب کی سربراہی میں ہے جس کی وجہ سے امریکہ سعودی عرب سے سخت ناراض دکھائی دیتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی ولیعہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان کے چچا زاد بھائی سعود الشعلان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جسمیں وہ مغربی ممالک کے خلاف دھمکی آمیز رویہ اپناتے ہوئے بیان دے رہے ہیں۔ سعودی عرب کے رویہ کو دیکھتے ہوئے اسکے ردّ عمل میں سعود الشعلان نے مغرب کو دھمکی دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں ”کسی نے اس ملک (سعودی سلطنت) کے وجود کو چیلنج کیا تو ہم سبھی شہادت اور جہاد کے لئے تیارہیں۔ مشرقِ وسطیٰ سے سعودی عرب کے انسانی حقوق کے وکیل عبداللہ العودہ نے کہا کہ سعود الشعلان قبائلی رہنما ہیں اور وہ سعودی عربکے بانی عبدالعزیز کے پوتے ہیں۔واضح رہے کہ 15/ نومبر سے انڈونیشیا میں G20ممالک کا اجلاس ہونے والاہے۔ جس میں دنیا کی بڑی معیشتوں والے ممالک شامل ہیں۔ اس اجلاس میں امریکی صدر جوبائیڈن اور سعودی ولعہد محمد بن سلمان بھی شرکت کرینگے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بتایا گیا ہے کہ اتوار کو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے واضح کردیا گیا کہ G20اجلاس کے دوران امریکی صدر بائیڈن کا ولیعہد محمد بن سلمان سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اوپیک پلس کے فیصلہ سے امریکہ اس لئے ناراض ہے کیونکہ تیل میں کمی ہوگی تو قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ دیکھنا ہے کہ سعود الشعلان کے اس ردّعمل پر امریکہ اور خود سعودی شاہی حکومت کیاکہتی ہے۰۰۰


کویتی عوام ارکان پارلیمان کی کارکردگی پر نظر رکھیں اور انکااحتساب کریں۔ولیعہد شیخ مشعل الاحمد

            کویت کے ولیعہد شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح منگل18/ اکٹوبر کو 17ویں قومی اسمبلی میں اللہ رب العزت کی حمد و ثناء کے بعد افتتاحیخطاب کرتے ہوئے عوام پر زور دیاکہ وہ پارلیمنٹیرینز کی کارکردگی پر نظر رکھیں اور ان کا احتساب کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وہ پارلیمنٹ کے سامنے اسٹریٹجک پلان پر عمل پیرا ہونگے اور اراکین پارلیمنٹ کو بھی چاہیے کہ وہ عوام سے کئے گئے وعدے پورے کریں۔ولیعہد شیخ مشعل الاحمد نے سیاستدانوں کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ امیر کویت کے آئینی اختیارات کا احترام کریں۔انہوں نے ملک میں قومی اتحاد اور یکجہتی کو توڑنے والی اور تقسیم کرنے والی آوازوں پر کان نہ دھریں۔کویت میں قومی یکجہتی کے خطرے کے پیشِ نظر اگست میں پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کے بعد نئے انتخابات کرائے گئے تھے۔29/ ستمبر کو ہونے والے قانون ساز اسمبلی انتخابات کے بعد 9پارلیمنٹ کااجلاس بلایا گیا تھا۔ کویت کی قانون سازی کے مطابق قومی اسمبلی کے 50منتخب ارکان چار سال کی مدت کیلئے منتخب کئے جاتے ہیں۔کویت میں تقریباً ساتھ لاکھ 96ہزار کویتی شہری ملکی پارلیمان کے ارکان کے انتخاب کیلئے حق رائے دہی رکھتے ہیں۔  

ٌٌٌٌ****


روس اور یوکرین بحران

 عالم ِ اسلام راؤنڈ اَپ

 روس اور یوکرین بحران ختم کرانے کیلئے شیخ محمد بن زاید النہیان کا دورہ ماسکو

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید


         روس اور یوکرین کی  جنگ عالمی سطح پر دنیا کو معاشی بحران کی جانب ڈھکیل رہی ہے۔ پہلے ہی کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اگر روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی نہ ہوئی تو مستقبل قریب میں اسکے سنگین نتائج برآمد ہونگے۔ اسی لئے کئی اہم ترین ممالک کے حکمراں روس اور یوکرین کے درمیان مصالحت کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے بھی 11/ اکٹوبر منگل کو سینٹ پیٹرزبرگ کے دورے پر روانہ ہوئے جہاں انہو ں نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی۔شیخ محمد زاید النہیان کی کوششیں کتنی ثمر آور ہوتی ہے یہ الگ بات ہے لیکن انہو ں نے جو پیشِ قدمی کی ہے وہ قابلِ ستائش ہے۔ کیونکہ دنیا کو اس وقت امن و سلامتی اور معاشی استحکام کی ضرورت ہے۔

         ذرائع ابلاغ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے صدر نے یوکرین بحران کے تمام فریقوں کے درمیان بات چیت کی ضرورت پرزور دیا۔بتایا جاتا ہیکہ ملاقات کے دوران امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے کہا کہ ’امارات دنیا میں امن واستحکام کی بنیادوں کے استحکام میں کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔کشیدگی کم کرنے اور بحرانوں کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لئے کام کررہا ہے۔ یوکرینی بحران حل کرانے کیلئے سفارتی کوششوں کی بھرپور حمایت ضروری ہے‘۔الامارات الیوم کے مطابق بتایا جاتا ہیکہ شیخ محمد بن زاید نے منگل کو ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ باہمی دلچسپی کے متعدد مسائل اور حالات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ خصوصا یوکرین بحران کی تازہ صورتحال پر غور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ’روس کے ساتھ تجارتی لین دین کا حجم دگنا کرکے پانچ ارب ڈالر تک پہنچا دیا ہے‘۔’امارات نے سفارتکاری، بات چیت اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کے احترام پر زور دیا ہے‘۔روس کے صدر کا کہنا تھا کہ’امارات نے خطے میں اہم کردار کیا ہے۔ ماسکو چاہتا ہے کہ توانائی کی منڈیاں رسد اور طلب کے درمیان توازن میں رہیں۔ اقدامات کا مقصد توانائی سیکڑ میں استحکام پیدا کرنا ہے‘۔



        ***سعودی فرمانرواشاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صدارت میں جدہ کے قصر السلام میں سعودی کابینہ کا اجلاس منگل 11/ اکٹوبر کو منعقد ہوا۔ کابینہ نے ایئرپورٹس کی عالمی کونسل (اے سی آئی) کا ریجنل آفس دارالحکومت ریاض میں قائم کرنے کے فیصلے کی ستائش کی اور کہا کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ سعودی عرب ہوابازی کے شعبے میں عالمی سطح پر آگے بڑھ رہا ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ عالمی تیل منڈی میں توازن اور استحکام کے حوالے سے اوپیک پلس کا کلیدی کردار ہے۔کابینہ نے قطر میں عالمی فٹبال ورلڈ کپ دیکھنے جانے والے شائقین کیلئے جاری ”ھیا کارڈ“ کی ای سروس فیس سرکاری خزانے سے ادا کرنے کی منظوری دی ہے۔انکے علاوہ مزید فیصلوں کی منظوری دی گئی ہے۔


ایران میں بے حجابی کیلئے پرتشدداحتجاج میں اضافہ۔ سپریم لیڈر کو ہٹانے کا مطالبہ

 


        بے شک اسلام میں لڑکیوں اور خواتین کیلئے حجاب ضروری ہے اور اس سے انکی عصمتوں کی حفاظت ہوتی ہے اور معاشرے میں پردہ نشین خواتین کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ برائیوں اور بے حیائیوں کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔ جمہوریہ اسلامی ایران میں لڑکیوں اور خواتین کو مکمل حجاب میں رہنے پر زور دیاجاتا ہے، خواتین کے سر پر اوڑھنی لازمی ہے، سر کے بال دکھائی دینے کی صورت میں گرفتاری عمل میں لائی جاتی ہے۔ اسلامی قوانین کی عمل آوری کیلئے مذہبی پولیس گردیش کرتی رہتی ہے۔ 13/ ستمبر کو ایسا ہی ایک معاملہ پیش آیا یعنی ایک 22سالہ خاتون مہسا امینی کو درست طور پر حجاب نہ اوڑھنے کی وجہ سے گرفتار کرلیا گیا جس کی تین دن بعد پولیس حراست میں ہی موت واقع ہوگئی۔ مہسا امینی کے افراد خاندان کاکہنا ہے کہ پولیس نے انکی بیٹی کو گرفتار کرکے شدید زدوکوب کیا جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوگئی۔مہسا امینی کی ہلاک کے بعد 17/ ستمبر سے ایران کے تقریباً تمام شہروں میں شدید احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا۔ حکومتِ ایران نے ان مظاہرین سے سختی سے نمٹنے کیلئے سیکیوریٹی فورسز کو ہدایت دی جس کی وجہ سے احتجاج میں شدت پیدا ہوگئی اور کئی بچے،نوجوان مرد و خواتین ہلاک یا زخمی ہوگئے اور سینکڑوں احتجاجی مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔  ان پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے سلسلہ میں انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہیکہ اب تک کم از کم دو سو افراد بشمول 19بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ ایران میں سکیورٹی فورسز نے اسکول میں گھس کر طلبہ کو گرفتار کیا ہے۔ احتجاج کی یہ لہر حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج ثابت ہورہی ہے جس میں ایران کے مذہبی رہنما و سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو ہٹانے کے مطالبات بھی ہورہے ہیں۔ ہفتہ 9/ اکٹوبر کو تہران کی الزہرا یونیورسٹی میں اس وقت صورتحال مزید خراب ہوگئی تھی جب ایرانی صدر  ابراہیم ریئسی وہاں ایک تقریب میں شرکت کیلئے پہنچے تھے۔ انکے خطاب کے دوران ہی طالبات نے احتجاج شروع کردیا اور انہیں وہاں سے ”چلے جاؤ“ کے نعرے لگائے۰۰۰حکومت جس طرح احتجاجیوں نمٹ رہی ہے،اسے وہ حق بجانب گردانتی ہے کیونکہ پردہ خواتین کیلئے ضروری ہے۔جبکہ بعض احتجاجی خواتین و نوجوان لڑکیاں جس طرح بے پردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف آواز اٹھارہی ہیں اس سے حالات مزید بگڑتے دکھائی دے رہے ہیں اور ایسی خواتین کو سیکیوریٹی فورسز نشانہ بنانے کی خبریں ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق 12/ اکٹوبر کو ایران کے سکیورٹی حکام نے کردستان کے علاقے سنندج میں ٹینک اور جنگی جہاز پہنچا دیے ہیں، جہاں تقریباً چار ہفتے سے مسلسل احتجاج جاری ہے جبکہ خصوصی فوجی دستوں کی بسیں بھی روانہ کر دی گئی ہیں۔ عرب نیوز کے مطابق حجاب درست طور پر نہ اوڑھنے پر گرفتاری کے  بعد پولیس حراست میں ہلاک ہونے والی مہسا امینی کا تعلق اسی صوبے سے تھا۔فی الحال احتجاج کی سب سے زیادہ شدت سنندج میں بتائی جارہی ہے۔سینٹر فار ہیومن رائٹس کے مطابق ایسی ہی صورتحال سیستان بلوچستان میں بھی ہے وہاں 30/ ستمبر سے اب تک 90سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ڈائرکٹر ہادی غائمی کے مطابق’’کردستان میں فوجی دستوں کے ہاتھوں سفاکانہ ہلاکتیں اور سیستان بلوچستان میں قتل عام سے عیاں ہے کہ ریاستی تشدد میں مزید اضافہ ہو گا۔“انسانی حقوق کے ادرے ایمنسٹی انٹرنینشل نے بتایا ہے کہ اسے سخت تشویش ہے کیونکہ فوجی دستے مظاہرین کے خلاف آتشیں اسلحہ اور آنسو گیس استعمال کر رہے ہیں جبکہ لوگوں کو ان کے گھروں میں بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عرب نیوز نے میٹرو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ 16 سالہ یوٹیوبر سارینہ اسماعیل زادہ کو پچھلے ماہ کراج میں احتجاج کے دوران سکیورٹی اہلکاروں نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس سے وہ دم توڑ گئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق گھر والے کئی روز تک سارینہ کو ڈھونڈتے رہے اور 10ویں روز حکام نے لاش ان کے حوالے کی۔ سارینہ کی مسخ شدہ لاش دیکھنے کے بعد اس کی والدہ شدید صدمے سے دوچار ہوگئی اور پھرگھر پہنچ کر پھانسی لے کر خودکشی کرلی۔اس سے قبل بھی ایک اورنوجوان لڑکی نیکاشاکرمی کی مظاہروں کے دوران ہلاکت ہو گئی تھی۔ ایسی اور کتنی خواتین و لڑکیاں ہونگی جو پرتشدد مظاہروں کے دوران ہلاک ہوچکی ہیں ۰۰۰حکومتِ ایران خواتین و لڑکیوں کو اسلامی تعلیمات کے ذریعہ پردہ کے احکامات سے واقف کروائیں اور انہیں سختی سے نہیں بلکہ نرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پردہ سے متعلق بتائیں کہ یہ انکے تشخص کا ضامن ہے۔اور اسی کے ذریعہ انہیں عزت و وقار حاصل ہوتا ہے۔کاش بے پردہ خواتین اسلامی احکامات کو سمجھ پاتیں۔

اردنی خاتون انجینئر ملک کی پہلی”کوسٹر“ ڈرائیور 


            تعلیم ’انسان کو معاشرہ میں مہذب، قابل فہمِ و فراست شخصیت کاحامل بناتی ہے اور ان ہی تعلیم یافتہ افراد کو انکی قابلیت اوراعلیٰ صلاحیتوں اور محنت کی بنیاد پربہتر سے بہتر روزگار فراہم ہوتاہے۔چاہے وہ سرکاری سطح پر ہو یاخانگی یا خودکا اپنا کاروبار۰۰۰یہ ضروری نہیں کہ تعلیم کا حصول سرکاری نوکری ہی ہو۰۰۰تعلیم یافتہ، محنتی اور ذمہ داری کا احساس رکھنے والے افراد کسی بھی پیشہ سے وابستہ ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسی ہی ایک اردنی اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون رشان النابلسی ہیں جنہوں نے فوڈ انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی ہے تاہم انہیں ملازمت نہ ملنے کی صورت میں پبلک ٹرانسپورٹ”کوسٹر“چلانے پر مجبور ہونا پڑا اس طرح وہ ملک (اُردن) کی تاریخ کی پہلی خاتون ڈرائیور بن گئیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق رشان النابلسی شمالی اُردن کے شہر اربد میں کوسٹر ڈرائیور کے طور پر کام کر رہی ہیں۔اسکائی نیوز کے مطابق رشان النابلسی نے بتایا کہ ’کوسٹر کے مسافر مجھے ڈرائیور کی سیٹ پر بیٹھا دیکھ کر حیرت کا اظہار کرتے ہیں۔ پہلی اردنی خاتون ہوں جو پبلک ٹرانسپورٹ کی ڈرائیور بنی ہوں۔‘

اردنی خاتون کا کہنا ہے کہ ’فوڈ انجینیئرنگ میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد سرتوڑ کوششوں کے باوجود ملازمت نہیں ملی تو پبلک بس ڈرائیور کے طور پر کام کرنے کے سوا کوئی اور آپشن نہیں تھا۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’ڈرائیورکی ڈیوٹی مشکل ہے۔ روزانہ صبح  5 بجے شروع ہوتی ہے اور سورج غروب ہونے تک جاری رہتی ہے۔ یہ محنت مشقت کا کام ہے۔‘ رشان النابلسی کا کہنا ہے کہ ’معاشرے کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خاص طور پردوسرے ڈرائیور اور مسافر اس پر فقرے کستے رہتے ہیں۔‘ سوشل میڈیا پربھی تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ بیشتر صارفین نے رشان النابلسی کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’رزق حلال نعمت ہے۔ ڈرائیونگ کوئی بری بات نہیں۔‘ بعض افراد کا اعتراض ہے کہ ’پبلک ٹرانسپورٹ ڈرائیور کا کام مردوں کا ہے، عورتوں کا نہیں۔ اس کیلئے جسمانی مشقت درکار ہوتی ہے۔‘ان سب کے باوجود رشان النابلسی فی الحال کوسٹر ڈرائیور کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں، ہوسکتا ہیکہ بہت جلد انہیں انکی تعلیم کے اعتبار سے بہتر سے بہتر نوکری مل جائے۔