ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید
جوائنٹ ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی ملت ِ اسلامیہ کے ہونہار فرزندان و دختران کی تعلیم و تربیت، انکے ادب و اخلاق اور بہترین کردار کے ساتھ ایک اچھا شہری اور بہترین امتی بنانے کی جو شخصیت گذشتہ چالیس سال سے سعیِ مسلسل میں شبانہ روزمصروف ِ عمل ہیں وہ ہیں، جناب کے ایم عارف الدین سکریٹری مدینہ ایجوکیشن سوسائٹی جو ممتاز ماہر تعلیم، اڈمنسٹریٹر اورماہر قانون ہیں۔ جناب کے ایم عارف الدین نے اوقافی جائیداوں کا صحیح استعمال کرتے ہوئے جس طرح ہندوستان میں مثال قائم کی اس کا صلہ انشاء اللہ تعالیٰ انہیں آخرت میں توملے گا ہی دنیا میں بھی انہوں نے ان اداروں کے قیام اور اسکے ذریعہ ملتِ اسلامیہ کی تعلیم وتربیت اور سربلندی کا جو خواب دیکھا تھا الحمد للہ وہ اپنی زندگی میں شرمندہ تعبیر ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ آج مدینہ ایجوکیشن اینڈ ویلفیر سوسائٹی کے قائم کئے ہوئے ادارے مدینہ گروپ آف انسٹی ٹیوشنس اینڈ گلوبل پروفیشنل کالجس کے تحت مدینہ پبلک اسکول حمایت نگر، مدینہ ڈگری کالج فار وویمن حمایت نگر، مدینہ ایجوکیشن سنٹر، پی جی روڈ، مدینہ ہاسٹل فار گرلز، حیدرگوڑہ، مدینہ آئی اے ایس ہاسٹل نامپلی، ایم ایم ہیلت کیئر سنٹر حیدرگوڑہ، مدینہ گرلزاسکول پی جی روڈ نامپلی، گلوبل ایجوکیشن سنٹر (ایم بی اے) معین آباد، رنگاریڈی ڈسٹرکٹ، گلوبل کالج آف فارمیسی معین آباد، گلوبل انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی معین آباد قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ تین خاندانی ٹرسٹ”ملت فاؤنڈیشن چیاریٹیبل ٹرسٹ“، حمایت نگر، ”احمد النساء شمیم آمنہ چیارٹیبل ٹرسٹ“ اور”خواجہ یوسف الدین خواجہ قمر الدین چیارٹیبل ٹرسٹ“ ہیں۔جن کے ذریعہ غریب مستحق، نادار طلبا و طالبات، بیواؤں، یتیموں اور بے کس و بے سہارا افراداور مریضوں کی امداد کی جاتی ہے۔
جناب کے ایم عارف الدین جناب کے ایم قمر الدین صاحب مرحوم کے فرزند ہیں۔ آپ 20/ اگسٹ 1944ء کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ حیدرآباد کے مختلف اسکولوں میں تعلیم و تربیت پائی۔دینی تعلیم مسجد ٹیک اور قطب شاہی مسجد وغیرہ میں حاصل کی۔ کاچیگوڑہ گورنمنٹ ہائی اسکول سے 1961ء میں ایس ایس سی کامیاب کیا۔اسی سال آپ کے والد صاحب کا انتقال ہوا۔ انٹرمیڈیٹ کی تکمیل اندور، مدھیہ پردیش سے کرنے کے بعد نیو سائنس کالج، نارائن گوڑہ سے بی اے کی تکمیل کی۔ نیو سائنس کالج میں اسٹوڈنٹس یونین کے صدر رہ چکے، جناب کے ایم عارف الدین وہ واحد مسلم قائد ہیں جو نیو سائنس کالج یونین کے صدر رہے ہیں۔ انہوں نے 1972ء میں لاکالج عثمانیہ یونیورسٹی سے ایل ایل بی اور پھر 1974ء میں ایل ایل ایم کیا۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں ایل ایل ایم کے دوران اسٹوڈنٹس یونین کے وائس پریسڈنٹ بھی رہے۔ ایل ایل بی کے بعدسٹی سولِ کورٹ، حیدرآبادمیں پریکٹس کرنے لگے۔ چند سال پریکٹس کے بعد جنوری 1969ء میں تلنگانہ تحریک کے بانیوں میں شامل رہے اور اسی دوران ایکشن کمیٹی قائم کی گئی جس کے وہ بانی اور ملکارجن ترجمان تھے۔ اس تحریک کی پہلی میٹنگ نظام کالج میں ہوئی۔ جناب کے ایم عارف الدین نے بتایا کہ علحدہ تلنگانہ تحریک کی وجہ تلنگانہ عوام کے ساتھ حکومت کی ناانصافیاں تھیں۔ پہلی میٹنگ کے بعد احتجاجی پروگرام کا اعلان کیا گیا جس میں سری دھرریڈی، پی جے سوری، نرسمہاریڈی، جنگم راؤ، وینکشور راؤ، ایم ایم ہاشم وغیرہ شامل تھے۔ اس کے بعد ریڈی ہاسٹل عابڈس میں پہلا کنونشن ہوا جس میں طے کیا گیا کہ کوئی بڑا قائد ہی اس تحریک کو آگے لے جاسکتا ہے۔ اسی کے پیشِ نظر چناریڈی سابق چیف منسٹر آندھراپردیش کو جنہیں کانگریس میں چھ سال کے لئے نااہل قرار دیا گیا تھا چیئرمین بنایاگیا۔ برہمنندا ریڈی کی حکومت نے علحدہ تلنگانہ تحریک کے قائدین اور اراکین کو راجمندری جیل میں قید کردیا اور تین ماہ تک 35افراد قید رہے جن میں دو مسلم جناب کے ایم عارف الدین اور ایم ایم ہاشم مرحوم شامل تھے۔ جناب عاف الدین نے بتایا کہ ان دنوں تحریک زور وں پر چل رہی تھی دو مرتبہ ہائیکورٹ میں ان 35افراد کو پیش کیا گیا اور پھر آخرکار ہائیکورٹ نے انہیں رہائی دی۔ جیل سے آنے کے بعد مسٹر چناریڈی کو کانگریس کی جانب سے دہلی طلب کیا گیا اورپتہ نہیں ان کے ساتھ کس قسم کی بات چیت ہوئی۔ چناریڈی نے دہلی سے واپسی کے بعد علحدہ تلنگانہ تحریک کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تلنگانہ پر جا سمیتی کو کانگریس میں ضم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ 1969ء میں ”تلنگانہ پرجا سمیتی“ نے پارلیمنٹ کے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور 14ارکان پارلیمنٹ میں سے 11ارکان پارلیمنٹ نے کامیابی حاصل کی۔ چناریڈی کی جانب سے پرجا سمیتی کو کانگریس میں ضم کرنے کے اعلان کے بعد بڑی تعداد میں انکی مخالفت کی گئی لیکن بڑے قائدین کے فیصلے نے اس تحریک کو کمزور کردیااور یہ تحریک دم توڑ گئی۔
مدینہ تعلیمی اداروں کا قیام
جناب کے ایم عارف الدین نے بتایا کہ علحدہ تلنگانہ تحریک دو حصوں میں بٹ چکی تھی ایک گروپ چناریڈی کا تھا جو کانگریس میں ضم ہوگیا اور دوسرا گروپ کمزور پڑچکا تھا۔ تلنگانہ عوام کے ساتھ ناانصافی کے علاوہ مسلم ملازمین سرکار جو اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے ریٹائرڈ ہورہے تھے اور تعلیم یافتہ مسلم ذہین بچے امریکہ، کینڈا اور دوسرے ممالک بسلسلہ روزگار جانے لگے جبکہ دینی مدارس اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے تھے۔ بہرحال حالات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے ملتِ اسلامیہ کے نونہالوں اور نوجوانوں کے بہتر مستقبل کیلئے تعلیمی و ٹکنیکل اداروں کے قیام کا فیصلہ کیا اور سب سے پہلے 1980ء میں مجلس شوریٰ نامپلی کی جائیداد(پرانی عمارت میں) جو 1932ء سے ”مجلس شوریٰ دستی پارچہ بافی حرمین شریفین“ کی ملکیت تھی اس میں ٹکنیکل ادارہ قائم کیا۔ مجلس شوریٰ دستی پارچہ بافی حرمین شریفین کے پہلے صدر سیف نواز جنگ اور سکریٹری ڈاکٹر خواجہ معین الدین تھے۔ان دونوں کی یادگار کے طور پر اسکول اور کالج کی عمارت میں ان کے نام سے ہالس تعمیر کئے گئے ہیں۔
مجلس شوریٰ دستی پارچہ بافی حرمین شریفین کے 1977ء میں ڈاکٹر قاری کلیم اللہ حسینی صدر اور جناب کے ایم عارف الدین سکریٹری بنائے گئے۔ جناب عارف صاحب نے بتایا کہ مجلس شوریٰ کی ملکیت میں تین جائیدادیں جو نامپلی، حیدرگوڑہ اور حمایت نگر میں تھیں اس کااستعمال غیر سماجی افراد کررہے تھے یہاں پر فحاشی کے اڈے قائم تھے کرایہ دار ملکیت کے دعوے کررہے تھے جسے برخواست کرنے کا بیڑہ اٹھایا گیا اور پھر 1980ء میں مدینہ ایجوکیشن ویلفیر سوسائٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے بانی و سکریٹری جناب کے ایم عارف الدین ہیں۔ 1982ء میں حیدرگوڑہ میں ایل کے جی تا پرائمری تعلیم تک اسکول کا قیام عمل میں لایا گیا۔ 1983ء میں جونیئر کالج فار گرلز حیدرگوڑہ، 1994ء مدینہ ایجوکیشن اینڈ ویلفر سوسائٹی کی جانب سے حیدر گوڑہ میں زمین خرید کر نئی عمارت تعمیر کی گئی تھی اس میں لڑکیوں کیلئے ”ڈگری کالج فار گرلز“ کا قیام عمل میں لایا۔ حیدرگوڑہ،حمایت نگر میں نرسری تا دسویں جماعت (ایس ایس سی اور سی بی ایس سی) تک کی تعلیم کا نظم ہے یہ عمارت سات منزلہ ہے جس میں سوا سو (125)کلاس رومس اور دو لفٹس ہیں۔ اسی طرح گرلز ڈگری کالج میں گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن تک کی تعلیم کا نظم ہے اور یہ عمارت 8منزلہ ہے اور اس میں بھی دو لفٹ ہیں۔ لڑکوں کیلئے قائم عمارت میں جناب ولی قادری آرکیٹکٹ مرحوم کے نام سے ”مسجد ولی قادری“ اور گرلز کالج میں لڑکیوں کیلئے ”نمازگاہ کلیمیہ“ جو قاری کلیم اللہ سابق صدر سوسائٹی کے نام سے موسوم ہے۔
مدینہ ایجوکیشن اینڈ ویلفیر سوسائٹی نیمعین آباد میں تعلیمی اداروں کے قیام کیلئے 2000ء میں 32ایکڑ پر مشتمل زمین خریدی اور یہاں نئی عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ شروع کیااس طرح مسلم بچوں کوعصری علوم سے آراستہ کرنے کیلئے مزید تعلیمی اداروں کے قیام کی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے 2006میں معین آباد، رنگاریڈی میں انجینئرنگ کالج کاقیام عمل میں لایا اسکے بعد معین آباد میں ہی2007ء میں فارمیسی کالج اور 2009میں ایم بی اے کالج کا قیام عمل میں لایا۔ مدینہ گروپ آف تعلیمی اداروں کی جانب سے حیدرگوڑہ اور نامپلی میں خواتین اور لڑکیوں کیلئے گرلز ہاسٹلس قائم کئے گئے جبکہ حیدرگوڑہ میں گرلز ہاسٹل کی عمارت کی نچلی منزل میں پری پرائمری اسکول قائم کیا گیا۔ 2018ء میں نامپلی کی عمارت میں گرلز اسکول کا قیام عمل میں لایا۔ جناب عارف الدین نے لڑکیوں کی تعلیم پر زیادہ توجہ مرکوز کئے جانے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ ایک اچھی ماں بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت کرسکتی ہیں، ماں کسی بھی صورت میں بچوں کی ضروریات پوری کرتے ہوئے اسے پڑھا لکھا کر روزگار سے مربوط کرنے کے قابل بناتی ہیں جبکہ والد روزگار کے سلسلہ میں اتنا مصروف ہوتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کی بہترتعلیم و تربیت پر توجہ دینے سے قاصر رہتا ہے۔ الحمد للہ مدینہ ایجوکیشن اینڈ ویلفیر سوسائٹی کے 12اداروں میں کم و بیش 8ہزار طلباو طالبات زیور تعلیم سے آراستہ ہوکر ملتِ اسلامیہ کیلئے ہی نہیں بلکہ ملک کیلئے بھی بہترین اثاثہ ثابت ہورہے ہیں۔
مدینہ گولڈ میڈلس
مدینہ ایجوکیشن سوسائٹی کی جانب سے ریاست تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے ذہین اور امتیازی کامیابی حاصل کرنے والے (ٹاپر)طلبا وطالبات کو جو مختلف تعلیمی اداروں سے وابستہ اور مختلف زمروں سے تعلق رکھتے ہیں انہیں گولڈ میڈلس دینے کا سلسلہ 30/ جولائی 1989ء سے کیا۔ سب سے پہلا گولڈ میڈل لینے والے حیدرآباد کے فرزند ڈاکٹر اوصاف سعید آئی ایف ایس ہیں جنہیں جناب سید حامد وائس چانسلر علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے ہاتھوں دیا گیا۔ مدینہ ایجوکیشن سوسائٹی کی جانب سے ہر سال 100 سے زائد طلباو طالبات کو گولڈ میڈلس عطا کئے جاتے ہیں تاکہ ان طلباو طالبات کی پذیرائی ہوسکے اور انہیں دیکھ کر دوسرے طلباو طالبات بھی مسابقتی دور میں دیگر ابنائے وطن کے ساتھ تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے آگے آئیں۔ مدینہ ایجوکیشن سوسائٹی کی جانب سے دیئے جانے والا طلائی تمغہ جس پر مہرِ نبوت ﷺ کنندہ ہوتا ہے اسی خصوصیت کی وجہ سے اس کی اہمیت بھی ہے۔2018ء میں 29واں گولڈ میڈلس سال تھا جس کے مہمان خصوصی ڈاکٹر احمد کمال وائس چانسلر ہمدرد یونیورسٹی تھے۔
جناب عارف الدین نے بتایا کہ سولِ سرویسز کے ہاسٹل، نامپلی سے استفادہ کرنے والوں میں بودھن کے جناب فہیم الدین جو ان دنوں چیف کمشنر جی ایس ٹی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں انکے علاوہ محبوب نگر سے تعلق رکھنے والے مسٹر سرینواس ڈی آئی جی نرمل اور دیگر طلبہ ہیں یہ ہاسٹل تقریباً سات سال تک قائم رہا اس دوران 10تا 12طلبہ نے سولِ سرویسز میں کامیابی حاصل کی۔
شادی بیاہ اور اولاد
جناب عارف الدین کی پہلی شادی جناب عبدالقادر صاحب (مرحوم) کی دختر سے 31/ مئی 1970ء میں ہوئی جن سے دو لڑکے جناب کے ایم رضی الدین آئی آر ایس (مرحوم) اور جناب کے ایم منہاج الدین بی سی اے، ایم بی اے ڈائرکٹر پروفیشنل کالجس معین آباد ہیں۔ انکی پہلی شریک حیات صاحبہ کا انتقال جون 1983ء میں ہوا۔ بڑے فرزند جناب کے ایم رضی الدین آئی آر ایس کا انتقال 25/ جنوری 2011ء میں مدراس میں ہوا۔
جناب عارف الدین صاحب نے پہلی زوجہ کے انتقال کے بعد 28/ جنوری 1985ء میں جناب احمد حسین (مرحوم)ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹرکی صاحبزادی سے نکاح کیا اور ان سے ایک لڑکا جناب کے ایم فصیح الدین ایم ٹیک، ڈپٹی ڈائرکٹر پروفیشنل کالجس معین آباد اور ایک لڑکی ہیں۔ جناب کے ایم عارف الدین نے اپنے چالیس سالہ تعلیم و تربیت کی خدمات کے حوالے سے بتایا کہ الحمد للہ مدینہ ایجوکیشن سوسائٹی کا ابتداء ہی سے ہے بنیادی مقصد تھا کہ ملت کے ہونہار طلبہ تعلیمی میدان میں معیاری تعلیم کے ساتھ آگے بڑھیں اور مسابقتی امتحانات میں اعلیٰ نشانات حاصل کرتے ہوئے ملک و بیرون ملک میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوں۔ اس خواب کو ہمارے طلبہ نے سرپرستوں کے تعاون اور قابل اساتذہ کی کاوشوں سے مکمل کیا اور آج ان اداروں کے فارغ التحصیل طلبا وطالبات اندرون و بیرون ملک میں ڈاکٹرس، انجینئرس، پروفیسرس، اڈمنسٹریٹرس، جرنلسٹس، آئی آئی ٹی اور آئی ٹی ایم میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوکر نہ صرف اداروں، سرپرستوں بلکہ ملت کا نام روشن کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مدینہ ایجوکیشن سوسائٹی کے جی سے پی جی تک یعنی مدینہ پبلک اسکول، جونیئر کالج، ڈگری کالج، ایم بی اے، گلوبل انجینئرنگ کالج اور فارمیسی جیسے معیاری کالجس کا قیام عمل میں لایا جس میں طلبہ پر انفرادی توجہ دے کر انہیں قابل بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سوسائٹی کی جانب سے ملت کی تعلیمی ترقی اس کی فلاح و بہبود کیلئے جاری کوششوں کو مخالفین ناکام بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دو سوسائٹیز کے درمیان معاہدہ ہے اور یہاں کوئی غیر قانونی کام نہیں ہورہا ہے، وقف بورڈ ایک خودمختار ادارہ ہے اور اسے کوئی اختیار نہیں کہ وہ مسائل کھڑے کرتے ہوئے دخل دیتا ہے۔ عارف صاحب نے کہاکہ ہائیکورٹ، سٹی سول کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے انکے حق میں ہونے کے باوجود وقف بورڈ کچھ نہ کچھ مسائل پیدا کرتا ہے جبکہ پورے ہندوستان میں یہ واحد مثال ہے وقف بورڈ کی امداد کے بغیر کرائے دار نے عمارتیں بنائی ہیں۔ اور وقف بورڈ آج سے تیس سال قبل گورنمنٹ گزٹ میں تفصیل شائع کیا ہے اسکے باوجود جو بھی وقف بورڈ کو 1980سے وقف فنڈ ادا کیا جارہا ہے اور پانچ چھ سال قبل انہو ں نے مجلس شوریٰ دستی پارچہ بافی حرمین شریفین سے استعفیٰ دیدیا۔ اس کے بعد وقف بورڈ کوکسی بھی مسئلہ میں موجودہ سکریٹری سے سوال جواب کرنا چاہیے۔عارف الدین صاحب نے بتایاکہ 1977ء سے 1980تک وقف بورڈ کے خلاف تحریک چلائی گئی تھی اس دوران ایک صیانت اوقاف کمیٹی بنائی گئی تھی۔جناب جلیل احمد کو صدر اور انہیں سکریٹری و کنوینر بنایا گیا تھا کمیٹی میں سالارِ ملت جناب سلطان صلاح الدین اویسی صاحب مرحوم، جسٹس شاہ محمد قادری، جناب شمس الدین علی خان شامل تھے۔ مسٹر وینگل راؤ کے زمانے میں وقف بورڈ کو تحلیل کردیا گیا تھا کیونکہ وقف جائیدادوں کو بیچا جارہا تھا ۔
مدینہ تعلیمی اداروں میں دینی ماحول
جناب کے ایم عارف الدین صاحب نے بتایاکہ مدینہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی کردار سازی کی جاتی ہے انہیں دینی معلومات بتائے جاتے ہیں اور پرائمری اسکول کے بچوں کو تجوید کے ساتھ ناظرہ قرآن مجید پڑھایا جاتا ہے اور طلباو طالبات کیلئے علحدہ علحدہ نماز گاہیں موجود جس میں پابندی سے ڈسپلن کے ساتھ نماز ادا کروائی جاتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ مدینہ تعلیمی اداروں کے قیام کے بعد مسلمانوں میں تعلیمی شعور بیدار ہوا اور کئی کالجس وجود میں آئے۔ ابتداء میں داخلوں کیلئے بڑے جھگڑے ہوا کرتے تھے اب یہ سلسلہ تھم چکا ہے کیونکہ گلی گلی میں اسکولس اور دیگر تعلیمی ادارے قائم ہوچکے ہیں بہت ساری مسلمان ذاتی اسکولوں کا قیام اور معیاری تعلیم دے رہے ہیں اس طرح مسلمان تعلیم میں آگے آرہے ہیں بالخصوص لڑکیاں تعلیمی میدان میں سبقت لے جارہے ہیں۔ جناب عارف الدین نے بتایا کہ عصری اور اعلیٰ تعلیم کے باوجود دیکھنے میں آرہا ہے کہ بچے اور بچیاں بگڑرہے ہیں، ادب و اخلاق نہیں کے برابر ہوگیا ہے اسکی وجہ اسمارٹ فون، سوشل میڈیا بتائی۔ انہوں نے کہا کہ اس پر کنٹرول کرنے کی اشد ضرورت ہے یہ کام مساجد کے پلیٹ فارم سے کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر مساجد کے ائمہ کرام اور دیگر انتظامی امور کے نگرانوں کو توجہ دلائی کہ وہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے دیئے جانے والے اسکیمات سے عوام خصوصاً مسلمانوں کو واقف کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے قیام سے مسلمانوں کو کئی طرح کے فائدے حاصل ہورہے ہیں سب سے بڑا کام چیف منسٹر نے اقامتی اسکولس قائم کرکے کیا ہے۔ اب ان اسکولوں میں داخلے کیلئے مساجد بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوسکتے ہیں۔
ذرا غور کیجئے
جناب کے ایم عارف الدین صاحب ”ذرا غورکیجئے“ کالم 1986سے لکھ رہے ہیں جو روزنامہ منصف، روزنامہ رہنمائے دکن اور ہفتہ روزہ گواہ میں شائع ہوتا ہے۔ اس کالم کے ذریعہ ملت میں موجود انتشاری کیفیت کو دورکرنا، ملت کی تعلیمی و معاشی ترقی کے لئے فکر دلانے کے علاوہ مختلف موضوعات پر مسلمانوں کی توجہ مرکوز کرانا ہوتا ہے۔
محسنوں کی یاد
مدینہ ایجوکیشن اینڈ ویلفیر سوسائٹی کی جانب سے ہر سال ماہِ ربیع الاول میں جلسہ میلاد النبی ﷺ منایا جاتا ہے اور سوسائٹی کو قائم کرنے والے اپنے محسنوں کی یاد منائی جاتی ہے۔اس موقع پر قرآن خوانی رکھی جاتی ہے اس کے بعد طعام کا انتظام رہتا ہے۔ اسی طرح ماہِ صیام رمضان المبارک میں بھی اسکول اور کالج میں قرآن خوانی کی جاتی ہے۔
جناب کے ایم عارف الدین صاحب کی روزانہ مصروفیات:
صبح گیارہ بجے سے دو بجے تک نامپلی ایجوکیشن سوسائٹی اور دو بجے سے چھ بجے تک حیدرگوڑہ کالج میں رہتے ہیں۔ پھر ساڑھے سات بجے سے رات 9تا ساڑھے نو بجے تک نامپلی میں گزارتے ہیں۔ اس دوران وہ تمام تعلیمی اداروں کا جائزہ لیتے ہیں اور طلبا و طالبات اور سرپرستوں سے بھی ملاقات کرتے ہیں۔ ان تمام مصروفیات کے ساتھ ساتھ انکی دس تا بارہ کتابیں مختلف موضوعات پر انگریزی میں شائع ہوچکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ انکے مقاصد کی تکمیل فرماتے ہوئے انکی سعی کاملہ کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور دین و دنیا کی بہترین نعمتوں سے سرفراز فرماتے ہوئے صحت و عافیت کے ساتھ درازی عمر عطا فرمائے۔ آمین