MY COLUMN

عمران خان مرکزی حکومت کے گلے کی ہڈی

 عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

     


    سابق وزیر اعظم پاکستان و پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمے میں عبوری ضمانت یکم/ ستمبر تک کیلئے منظور کرلی گئی ہے۔ جمعرات 25/ اگست کو عمران خان قبل ازوقت ضمانت گرفتاری کیلئے اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے۔بتایا جاتا ہے کہ عمران خان کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس نے کی۔ سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے اپنے دلائل میں تقریر کا ٹرانسکرپٹ پڑھ کر سنایا۔ بابر اعوان کا کہنا تھا ’عمران خان نے تقریر میں کہا ہے شرم کرو۔’شرم کرو‘ تو کوئی توہین نہیں ہے۔ یہ معمول کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر اس لفظ پر دہشت گردی کا مقدمہ ہوتا ہے تو کئی وزراء پر بھی مقدمہ بنے گا۔‘بابر اعوان نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ یہ تو عام طور پر کہا جاتا ہے کہ شرم کرو، زیادتی نہ کرو۔وکیل کے مطابق عمران خان نے اپنی تقریر میں افسران کے خلاف کارروائی کرنے کا کہا تھا، جان سے مارنے کی دھمکی نہیں دی تھی۔عمران خان نے اپنے وکلا بابر اعوان اور علی بخاری کے ذریعہ درخواست قبل از وقت ضمانت انسداد دہشتگردی کی عدالت میں دائر کی تھی۔درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ پولیس نے انتقامی کارروائی کے تحت انسداد دہشتگردی کا مقدمہ بنایا ہے، عدالت ضمانت کی درخواست منظور کرے۔ 22/ اگست کو عمران خان نے حفاظتی ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس سے قبل عمران خان کو 25/ اگست تک حفاظتی ضمانت دے رکھی تھی۔دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کی آرزو، آرزو ہی رہ گئی،انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’حکومت کی کوشش ہوگی کہ عمران خان کی ضمانت مسترد ہو جائے۔‘وفاقی وزیر کے مطابق ’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ عمران خان کو عدالت سے ہی گرفتار کیا جائے۔‘لیکن وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی آرزو عمران خان کو گرفتار کرنے کی آرزو ہی رہ گئی۔واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف اس سے قبل 2013 کے دھرنے کے دوران پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملے کرنے کے الزام میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔گذشتہ ہفتے 20/ اگست کو سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف اسلام آباد کے علاقے صدر کے مجسٹریٹ علی جاوید کی مدعیت میں تھانہ مارگلہ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ 20 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گِل کی گرفتاری کے خلاف عمران خان کی قیادت میں ریلی نکالی گئی۔بتایاجاتا ہیکہ ریلی سے خطاب میں عمران خان نے اسلام آباد پولیس کے آئی جی اور ڈی آئی جی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم تمہیں چھوڑیں گے نہیں اور تمہارے خلاف کیس کریں گے۔‘عمران خان نے ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کرینگے۔بتایا جاتا ہے کہ خاتون جج نے وفاقی پولیس کی درخواست پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر شہباز گِل کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ عمران خان کی اس تقریر کا مقصد پولیس کے اعلٰی افسران اور عدلیہ کو خوفزدہ کرنا تھا تاکہ وہ اپنے فرائض کی ادائیگی نہ کریں اور ضرورت پڑنے پر تحریک انصاف کے کسی رہنما کے خلاف کارروائی کرنے سے بھی گریز کریں۔ایف آئی آر میں مزید کہا گیا تھا کہ عمران خان کی اس انداز میں کی گئی تقریر سے پولیس حکام، عدلیہ اور عوام الناس میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور عوام الناس میں بے چینی، بدامنی اور دہشت پھیلی اور ملک کا امن تباہ ہوا ہے۔ایف آئی آر میں استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی کرکے ان کو سزا دی جائے۔ عمران خان کے خلاف دہشت گردی کے تحت مقدمہ درج کرنے کے بعد عالمی سطح پر آوازیں اٹھنے لگیں۔پاکستان ذرائع ابلاع کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوارک کاکہنا ہیکہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کی پاکستان کے حالات پر نظر ہے۔ 23/ اگست کو اقوام متحدہ میں ڈیلی پریس بریفنگ کے دوران ایک خاتون صحافی نے سوال کیا ”کیا آپ پاکستان کی صورتحال پر کوئی تبصرہ کرنا چاہینگے، بالخصوص عمران خان کے خلاف جو چارجز لگائے گئے ہیں، اس پر کیا کہنا چاہیں نگے“؟ سکریٹری جنرل کے ترجمان نے کہا کہ سیکریٹری جنرل سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف لگائے گئے الزامات سے آگاہ ہیں، انہوں نے اس بات پر زور دیا ہیکہ غیر جانبدار اور آزادانہ قانونی راستہ اختیار کیا جائے۔ سیکریٹری جنرلنے اس بات پر بھی زور دیا ہیکہ امن کو یقینی بنایا جائے۔ ترجمان کے مطابق سیکریٹری جنرل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں قانون کی حکمران، انسانی حقوق کی فراہمی اور بنیادی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔ واضح رہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے عمران خان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کئے جانے کے بعد عالمی میڈیا میں حکومت کو کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

        25/ اگست کو اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران عمران خان نے کہا کہ ساری دنیا میں اس وقت پاکستان کا مذاق اڑایا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ شہباز گِل پر جنسی تشدد ہوتا ہے میں کہوں کہ لیگل ایکشن لونگا تو دہشت گردی کا کیس لگ جاتا ہے، مجسٹریٹ نے تشدد ہوتے ہوئے شہباز گل کو واپس پولیس کے پاس بھیج دیا، اس پر اگر میں لیگل ایکشن لینے کا کہتا ہوں تو مجھ پر دہشت گردی لگ جاتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ اصل میں تحریک انصاف کی طاقت سے حکومت خوفزدہ ہے، ہم ضمنی انتخابات جیتے جارہے ہیں، تاریخ میں اتنے بڑے جلسے نہیں ہوئے، خوف کی وجہ سے ٹیکنیکل ناک آؤٹ کرنے اور اپنی ذات کو بچانے کیلئے یہ پاکستان کا مذاق اڑرہا ہے۔

        عمرا خان نے چہارشنبہ  کو صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ہری پور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت نے میرے خلاف دہشت گردی کا کیس کر دیا ہے جس سے ساری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی۔‘ انہوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں وقت دے رہا ہوں اس امپورٹڈ حکومت کو کہ آپ انتخابات کا اعلان کر دیں ورنہ میں اپنے عوام میں نکلا ہوا ہوں۔ میری آخری کال سے پہلے بہتر ہے شفاف الیکشنز ہو جائیں۔‘’جب میری کال آئے گی تو چاروں طرف سے لوگ اسلام آباد کی طرف نکلیں گے۔ جب عوام کا سمندر چاروں طرف سے اسلام آباد کی طرف آئے گا تو نہ شہباز شریف اسے روک سکیں گے اور نہ ہی زرداری روک سکے گا۔‘واضح رہے کہ ہری پور میں عمران خان کے خطاب کے دوران زور دار بارش ہوئی اس دوران عوام جن میں کثیر تعداد میں خواتین شریک تھیں، نظم و ضبط کا بہترین مظاہرہ دیکھنے میں آیا تقریر میں کسی قسم کے خلل کے بغیر عوام عمران خان کو سماعت کرتے رہے۔ خود عمران خان بھی بارش کی وجہ سے بھیگ چکے تھے۔

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف قطر کے دورے پر

        وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی دعوت پر دوروزہ دورہ پر قطر پہنچے۔ چہارشنبہ کو وزیر اعظم اور امیر قطر شیخ تمیم بن حماد الثانی کی ملاقات ہوئی۔ امیری دیوان کے اعلامیہ کے مطابق امیر قطر نے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ اور تزویراتی تعلقات کی اہمیت اور قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کے ذریعہ سرمایہ کاری میں اضافے اور تجارت کے فروغ کے ذریعہ معاشی شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا۔ اور قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی پاکستان میں تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔اسی طرح امیری دیوان سے جاری اعلامیے کے مطابق ”قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی پاکستان کے متعدد کمرشل اور دوسرے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کے ارادے کا اعلان کیا ہے۔اس سے قبل شہباز شریف نے منگل کو قطر کے 450ارب ڈالر مالیت کے خودمختار ویلتھ فنڈ قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کو پاکستان کے توانائی اور ہوابازی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی تھی۔واضح رہے کہ اس وقت پاکستانی معیشت بحران کا شکار ہے۔ بتایاجاتا ہیکہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوکر 7.8ارب ڈالر رہ گئے ہیں جوکہ بمشکل ایک ماہ سے زائد کی درآمدات کے لئے کافی ہے۔پاکستان کو بڑھتے ہوئے جاری کھاتوں کے خسارے اور ڈالر کے مقابلے میں روپیے کی قدر میں کمی کے بحران کا بھی سامنا ہے۔ 

روس کے ساتھ کاروبار پر ترک کمپنیوں کو امریکہ کی دھمکی

        کسی بھی ملک کو اپنی معیشت کے استحکام اور خوشحالی کیلئے بہتر سے بہتر ذرائع آمدنی اور خوشگوار تعلقات اختیار کرنے کی اجازت دیتے ہیں لیکن امریکہ نہیں چاہتا کہ اس کی مرضی کے خلاف کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک سے اپنی تجارتی سرگرمیاں قائم رکھے۔ امریکہ نے روس کی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کرنے پر ترکی کو پابندیوں سے خبردار کیا ہے۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ترکی کی ایک بڑی بزنس ایسوسی ایشن نے تصدیق کی ہے کہ اْن کو امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے ایک خط موصول ہوا جس میں روس کے ساتھ کاروبار جاری رکھنے پر پابندیوں سے خبردار کیا گیا ہے۔واشنگٹن میں اس حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں کہ روس کی حکومت اور کاروباری ادارے مغربی ملکوں کی جانب سے عائد پابندیوں سے بچنے کیلئے ترکی کا راستہ استعمال کر رہے ہیں۔چھ ماہ قبل یوکرین پر حملے کے بعد امریکہ اور یورپی ممالک نے روسی حکومت اور اس کے کاروباری اداروں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔رواں ماہ کے آغاز پر ترک صدر رجب طیب اردغان اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن نے بحیرہ اسود کے تفریحی مقام سوچی میں ایک کانفرنس کے دوران معاشی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔سرکاری طور پر جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال مئی اور جولائی کے درمیان ترکی سے روس کو برآمدات میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 50 فیصد اضافہ ہوا۔ ترکی نے روس سے درآمد ہونے والے تیل کی مقدار کو بڑھا دیا ہے اور دونوں ملکوں نے کریملن سے جڑی قدرتی گیس کی بڑی کمپنی گیزپروم کو روسی کرنسی میں ادائیگی پر بھی اتفاق کیا۔امریکی وزارت خزانہ کی ڈپٹی سیکریٹری والے اڈیمو نے جون میں ترکی کے ایک غیرمعمولی دورے میں انقرہ کو روس کے ساتھ کاروبار پر واشنگٹن کے خدشات سے آگاہ کیا تھا۔نیٹو کے رکن ملک ترکی نے روس اور یوکرین کی جنگ میں غیرجانبدار رہنے کا فیصلہ کیا تھا اور ماسکو کے خلاف عالمی پابندیوں کا حصہ بننے سے انکار کیا۔والے اڈیمو کے دورے کے بعد اب امریکی وزارت خزانہ کے خط میں ترک امریکہ بزنس ایسوسی ایشن اور ترکی میں امریکی چیمبر آف کامرس کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ خود پر پابندیوں کا خطرہ نہ مولیں۔ترک بزنس ایسوسی ایشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خط ترک وزارت خارجہ اور وزارت خزانہ کو بھیج دیا گیا ہے۔خط میں لکھا گیا ہے کہ ’کوئی بھی شخص یا کمپنی جو امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل افراد کو مدد فراہم کرتے ہیں وہ خود انہی پابندیوں کی زد میں آنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔‘اس طرح امریکہ ترک کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے سیدھے سیدھے ترکی حکومت کو خبردار کررہا ہے کہ اگر ترک کمپنیاں امریکہ کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو انکے خلاف بھی کاررائی ہوسکتی ہے۔ اب دیکھنا ہیکہ ترک صدر رجب طیب اردغان اس سلسلہ میں امریکہ کو کیا جواب دیتے ہیں ۰۰۰

سعودی عرب میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے اہم اقدامات

  

 
    وزیر سیاحت احمد الخطیب نے کہا ہے کہ ’سعودی کابینہ نے سیاحت کے جس نئے قانون کی منظوری دی ہے وہ ملکی قیادت کے اس جذبے کے عین مطابق ہے کہ سیاحتی شعبہ عالمی معیار کا ہو اور بین الاقوامی سیاحتی اداروں سے مسابقت کرے‘۔ سعودی وزارت سیاحت کا کہنا ہے کہ ’نئے قانون سیاحت میں سیاحتی شعبے کو قومی شناخت دینے والے اہداف کا طریقہ کار مقرر کیا گیا ہے‘۔ سبق اور عاجل ویب سائٹ کے مطابق نئے قانون میں سیاحوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ نئے قانون سیاحت کے ضوابط کی خلاف ورزی پر سزائیں دی جائیں گی جو شخص نئے قانون سیاحت کے احکام یا لائحہ عمل کی خلاف ورزی کرے گا اسے کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔ نئے قانون کے مطابق ’خلاف ورزی پر نوٹس دیا جائے گا۔ سیاحتی ادارے کو مکمل یا جزوی سیل کیا جا سکتا ہے۔ سیاحتی ادارے کا درجہ کم کیا جائے گا‘۔سیاحتی ادارے کا زیادہ سے زیادہ ایک سال کیلئے پرمٹ معطل یا اسے منسوخ کیا جاسکتا ہے۔ دس لاکھ ریال تک جرمانہ ہوگا۔نئے قانون سیاحت میں سرمایہ کاروں کو سیاحتی ادارے کے پرمٹ کے اجرا میں سہولت دی گئی ہے۔وزارت سیاحت کے مطابق ’نئے قانون کے تحت سیاحت اوراس کے اداروں کا ڈیٹا تیار کیا جائے گا تاکہ سرمایہ کار پراجیکٹ شروع کرنے سے قبل مطلوبہ معلومات حاصل کر سکیں‘۔’سیاحت کے شعبے کی سعودائزیشن کے لئے افرادی قوت کے واضح لائحہ عمل کا بھی خیال رکھا گیا ہے‘۔نئے قانون میں اس بات کا بھی خیال رکھا گیا ہے کہ سیاحت کا شعبہ پوری دنیا میں نت نئی تبدیلیاں اپنے اندر پیدا کررہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جارہا ہے۔ سعودی عرب کا سیاحتی شعبہ ان تمام امور کو مدنظر رکھ کر کام کرے۔ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ سعودی عرب آنے والے سیاح مملکت کے سیاحتی اداروں اور سہولتوں کے معیار سے مطمئن ہوں اور اچھا تاثر لے کرجائیں۔ نئے قانون سیاحت میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ سیاحوں کو خطرات سے بچانے کیلئے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ اگر انہیں کوئی نقصان پہنچے تو اس کا معاوضہ دیا جائے۔ اس طرح سعودی عرب سیاحوں کو مملکت میں کسی قسم کی پریشانی یا دشواری ہونے سے محفوظ رکھنے کیلئے حتی المقدور کوشش کررہی ہے۔ 


ٌٌٌٌ*****

معصوم فلسطینیوں پر اچانک اسرائیلی ظلم و بربریت اور پھر جنگ بندی

 عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

      


 غاصب اسرائیلی کسی نہ کسی بہانے معصوم اور بے قصور نہتے فلسطینیوں کو نشانہ بناکر 1967سے جانی اور مالی نقصان پہنچاتے رہے ہیں۔ یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے ۰۰۰ واضح رہے کہ اسرائیل نے ہفتہ 6/ اگست کی صبح غزہ پر فضائی حملے کیے ہیں جس کے جواب میں ایک فلسطینی عسکریت پسندتنظیم اسلامک جہاد نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر راکٹ داغے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے ممکنہ خطرے کے پیش نظر اسلامی جہاد کے خلاف آپریشن کیا جو اسرائیل پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔تین روزہ جنگ کے بعد مصر کی جانب سے ثالثی کے تحت غزہ میں جاری اسرائیل اور اسلامی جہاد کے عسکریت پسندوں کے درمیان جنگ بندی ہوئی ہے۔ دونوں فریقوں نے جنگ بندی پر اتفاق تو کر لیا ہے لیکن ساتھ ہی ایک دوسرے کو خبردار بھی کیا ہے کہ کسی بھی تشدد کا جواب طاقت سے دیا جائے گا۔امریکی صدر جو بائیڈن نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کا شکریہ ادا کیا کہ اس ثالثی میں ان کے ملک نے کردار ادا کیا ہے۔جو بائیڈن نے شہریوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا، جسے انہوں نے ’المیہ‘ قرار دیا۔انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ پچھلے 72 گھنٹوں کے دوران امریکہ نے اسرائیل، فلسطینی اتھارٹی، مصر، قطر، اردن، اور دیگر کے ساتھ پورے خطے میں تنازعات کے فوری حل کی حوصلہ افزائی کے لیے کام کیا ہے۔فلسطینی وزارت صحت کے مطابق  غزہ میں تین دنوں سے جاری لڑائی کے دوران کم از کم 46 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں 16 بچے اور چار خواتین شامل ہیں اس کے علاوہ 311 زخمی ہوئے ہیں۔شہید ہونے والوں میں سے بارہ عسکریت پسند تھے، ایک کا تعلق چھوٹے مسلح گروپ سے تھا اور دو حماس سے وابستہ پولیس اہلکار تھے جو مسلح دھڑوں کے مطابق لڑائی میں حصہ نہیں لے رہے تھے۔اسرائیل کے اندازے کے مطابق کل 47 فلسطینی مارے گئے جن میں سے 14 راکٹوں سے مارے گئے۔ اسرائیلی فضائی حملوں میں 20 عسکریت پسند اور سات شہری مارے گئے ہیں۔غاصب اسرائیلی فلسطینی علاقوں اپنی ملکیت سمجھتے ہیں اور مظلوم فلسطینی اپنی املاک کے حصول کیلئے صیہونی طاقتوں سے نبردآزما ہیں۔ اسرائیل کی ظلم و بربریت کے خلاف عالمی طاقتیں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں کیونکہ دشمنانِ اسلام مسلمانوں کا قتل عام ہی تو چاہتے ہیں ۰۰۰ اسلامی ممالک بھی ان عالمی طاقتوں اور اسرائیل کے سامنے بے بس، مجبور و لاچار دکھائی دیتے ہیں ۰۰۰ کیونکہ انکے ہتھیار جو انہو ں کروڑوں ڈالرز کے عوض دشمنانِاسلام سے خرید رکھے ہیں ۰۰۰خیر اسرائیل پھر کسی بہانے کے ذریعہ فلسطینیوں پر حملہ کرسکتاہے اور اس سلسلہ میں اقوام متحدہ کے مشرق وسطیٰ کے امن مندوب ٹور وینس لینڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’صورتحال اب بھی بہت نازک ہے، اور میں تمام فریقین سے جنگ بندی کی پابندی کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔‘اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے حالیہ تنازع پر پیر کو ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ چین جس کے پاس اس ماہ کونسل کی صدارت ہے، نے متحدہ عرب امارات کی درخواست کے جواب میں سیشن طے کیا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم یائر لاپڈ کے دفتر نے اتوار کی رات دیر گئے جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے ’مصر کی کوششوں‘ کا شکریہ ادا کیا لیکن یہ کہا کہ ’اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو اسرائیل سخت جواب دینے کا حق برقرار رکھتا ہے۔‘اسلامی جہاد کے رکن محمد الہندی نے پہلے ہی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ عسکریت پسندوں نے جنگ بندی قبول کر لی ہے، لیکن گروپ نے ایک بیان میں مزید کہا کہ وہ بھی کسی بھی جارحیت کا ’جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘اسرائیلی طیاروں نے جمعہ5/ اگست سے غزہ میں اہداف کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا، جبکہ ایران کے حمایت یافتہ فلسطینی جہادی گروپ نے جواب میں اسرائیل پر سینکڑوں راکٹ فائر کیے۔سرحد پر ہونے والی لڑائی کے مکمل جنگ میں تبدیل ہونے کا خطرہ اس وقت تک موجود رہا جب تک جنگ بندی نہ ہوئی۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے کچھ غلط فائر کیے گئے راکٹوں سے مارے گئے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان نیا معاہدہ ۰۰ فیصلہ کن موڑ پر

      


   ایران اور امریکہ کے درمیان مستقبل قریب میں کس قسم کی پالیسی اختیار کی جاتی ہے اسکا فیصلہ عنقریب ہونے والا ہے۔ بتایا جاتا ہیکہ ایران کے ساتھ مجوزہ نئے جوہری معاہدے کا حتمی متن واشنگٹن اور تہران کو بھیج دیا گیا ہے جس کے بعد معاہدہ بحال ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔عرب نیوز کے مطابق یورپی یونین نے منگل کو کہا ہے کہ اسے دونوں دارالحکومتوں سے فوری جواب کی توقع ہے۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے ترجمان پیٹر سٹانو کا کہنا ہیکہ ’مزید مذاکرات کی گنجائش نہیں ہے۔ ہمارے پاس حتمی متن موجود ہے۔ یہ فیصلہ کرنے کا لمحہ ہے، ہاں یا نہیں میں ۰۰۰ یورپی یونین نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام شرکاء فیصلہ جلد کرینگے۔واضح رہے کہ پیر8/ اگست کو ویانا میں مذاکرات کا اختتام ہوا جن کا مقصد سنہ 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنا ہے۔ یہ معاہدہ عالمی طاقتوں نے ایران کو جوہری پروگرام سے روکنے کیلئے کیا تھا جس کے بدلے اس پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی کرنا تھا۔ لیکن یہ معاہدہ سنہ 2018 میں اس وقت ختم ہو گیا تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی گئیں تھیں۔برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، ایران اور روس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے بالواسطہ طور پر کئی مہینوں کے طویل وقفے کے بعد گزشتہ ہفتے اس معاملے پر دوبارہ بات چیت کا آغاز کیا ہے۔رواں برس مارچ میں جوہری مذاکرات میں تعطل آنے سے قبل یورپی یونین کے مربوط مذاکرات اپریل 2021 میں شروع ہوئے تھے۔یورپی یونین کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کے اعلیٰ عہدیدار جوزف بوریل نے کہا ہے کہ ’جس پر بات چیت ہو سکتی ہے اس پر بات ہو چکی ہے، اور اب یہ حتمی متن میں موجود ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’ہر ٹکنیکی مسئلے اور ہر پیراگراف کے پیچھے ایک سیاسی فیصلہ چھپا ہوا ہے جسے دارالحکومتوں (واشنگٹن اور تہران) میں لینے کی ضرورت ہے۔‘تاہم بتایا جاتا ہے کہ بحال ہونے والے معاہدے کیلئے اہم چیلنجز باقی ہیں۔یورپی حکام نے ایران پر زور دیا کہ وہ اپنے ’غیر حقیقت پسندانہ مطالبات‘ جو اصل معاہدے کے دائرہ کار میں نہیں آتے انہیں ترک کر دے، بالخصوص جو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی ایران میں پائے جانے والے غیر اعلانیہ جوہری مواد کی تحقیقات سے متعلق ہیں۔ایران کے چیف مذاکرات کار علی بغیری کانی سیاسی مشاورت کیلئے واپس تہران پہنچ گئے ہیں تاہم حتمی فیصلہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کریں گے۔دوسری جانب امریکہ نے کہا کہ نیا مسودہ ہی واحد اور بہترین ذریعہ ہے جس کی بنیاد پر معاہدہ ہو سکتا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ ’ہمارا موقف واضح ہے۔ ہم یورپی یونین کی تجاویز کی بنیاد پر فوری طور پر معاہدہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔‘اب دیکھنا ہے کہ 
ایران کے روحانی پیشوا و سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کیا فیصلہ کرتے ہیں اگر انکی جانب سے پس و پیش کیا جاتا ہے تو حالات کشیدہ ہوسکتے ہیں ۰۰۰

اماراتی شہری کا حیران کن اقدام لگژری کار دوسرے ہی دن جلادی


    

    جب انسان کو اپنی دولت کا احساس نہیں رہتا اور وہ اپنی بے پناہ دولت کے سامنے ہر چیز کو حقیر سمجھنے لگتا ہے تو اس کی عقلِ سلیم بھی سلب کرلی جاتی ہے اور وہ ایسے ایسے کام انجام دینے لگتا ہے جسے سن کر دوسرے لوگ اسکا مذاق اڑاتے ہیں یا اسے دیوانہ یا پاگل قرار دیتے ہیں۔ایسا ہی ایک واقعہ 7/ اگسٹ اتوار کو امارات کے صحرائی علاقے میں پیش آیا۔ بتایا جاتا ہیکہ ایک اماراتی شہری نے اپنی نئی لگژری کار میں آگ لگادی۔اور اسکے بعد اس شخص نے ویڈیو شیئر کی ہے جس میں اس نے آگ لگانے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ ”کل ایک شخص سے میری ملاقات ہوئی، اس نے میری گاڑی دیکھ کر کہا:اتنی مہینگی کار پر ابوظہبی کیسے جارہے ہیں“۔ اماراتی شہری کا خیال ہے کہ مذکورہ شخص کا یہ کہنا دراصل حسد کی وجہ سے ہے، اس کی نظر لگ گئی ہے، شہری کا خیال ہیکہ اب یہ گاڑی چلانے کے قابل نہیں رہی کیونکہ نظر بد کا شکار ہوگئی ہے۔ اس واقعہ نے لوگوں کو حیران کردیا اور اس پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کسی نے لکھا کہ ”اماراتی شہری کو نعمت کی قدر نہیں اور ان کا یہ عمل حماقت پر مبنی ہے‘۔ ایک شخص نے لکھا کہ ”کسی کا خیال ہے کہ محض اس لئے گاڑی میں آگ لگادینا کہ کسی نے اس پر تبصرہ کیا ہے ناقابلِ فہم وجہ ہے‘۔ جبکہ بعض لوگوں اماراتی شہری کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے کہاکہ آگ لگانے کے بجائے فروخت کردینا زیادہ مناسب تھا۔اب دیکھنا ہیکہ عرب امارات کی عدلیہ اس شہری کے خلاف کیا کارروائی کرتی ہے کیونکہ اتنی مہنگی گاڑی کو خریدنے کے دوسرے ہی دن آگ لگاکر اسے تباہ کردینا اپنا ہی نقصان نہیں بلکہ ملک کی معیشت کو نقصان پہنچانا ہے اوراسلام بھی ایسی اجازت نہیں دیتا۰۰۰

 اماراتی شہری کا عمانی پہاڑ پر حیران کن یا پا گل پن مظاہرہ

    

    انسان میں  جب کسی کام کے کرنے کا جوش و جذبہ انتہاء کو پہنچ جاتا ہے تو یہ جنونی کیفیت اختیار کرلیتیہے اور اس وقت اسکے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت  ماند پڑجاتی ہے،وہ ایسا کام کرگزرتا ہے جس سے اسکی جان بھی چلی جاسکتی ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ 8/ اگست، پیر کو متحدہ عرب امارات کے شہری بوذیاب نے سلطنت عمان کے سمحان پہاڑ کی چوٹی پر دل دہلادینے والی حرکت کرکے لوگوں کے ہوش اڑادیئے۔ ذرائع ابلاع کے مطابق بتایا جاتا ہیکہ بوذیاب نے عمانی پہاڑ کی چوٹی پر جو کچھ کیا اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس میں یہ شخص  چوٹی کے کنارے گاڑی پر کھڑا ہو گیا ہے۔ ایک شخص بوذیاب کی اس حرکت کی منظرکشی کر رہا ہے اور ساتھ میں وہ اسے خبردار بھی کر رہا ہے کہ ہم لوگ پھنس گئے ہیں یہ نہ بھولو کہ یہ پہاڑ کئی کلومیٹر اونچا ہے۔ایک اور ویڈیو میں اماراتی یو ٹیوبر اپنی گاڑی کو ریورس کر رہا ہے جبکہ اس کا دوست اسے سمجھا رہا ہے کہ بس کرو گاڑی چوٹی کے کنارے پہنچ چکی ہے۔یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سلطنت عمان کی پولیس اسے گرفتار کرلیا اور پولیس نے ٹوئٹر کے اپنے اکاؤنٹ پر اس کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ ظفار پولیس نے ایک سیاح کو گرفتار کیا ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی تھی۔ اس نے پہاڑ کی چوٹی پر گاڑی چڑھا کر انتہائی خطرناک حرکت کی تھی جس سے اس کی جان کو خطرہ لاحق تھا۔ پولیس اس حوالے سے قانونی کارروائی کررہی ہے۔

سعودی عرب کا یوکرینی پناہ گزینوں کیلئے مستحسن اقدام

        ایک طرف عالمی طاقتیں اپنے کمزور ممالک کو نشانے بناتے ہوئے انکی جان ومال کو شدید نقصان پہنچا کرانہیں تباہ و برباد کردیتے ہیں تو دوسری جانب  ان تباہ حال مظلوموں کی دادرسی کیلئے معاشی اعتبار سے مستحکم  ممالک کھڑے ہوتے ہیں۔ گذشتہ تقریباً چھ ماہ سے روس یوکرین پر خطرناک فضائی اور زمینی حملے کرکے شدید جانی و مالی نقصان پہنچا رہا ہے۔ یوکرین بھی اپنے بچاؤ کیلئے اقدامات کررہا ہے اور اسے یورپین ممالک خصوصاً امریکہ کا تعاون حاصل ہے جس کی وجہ سے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ طویل ہوتی جارہی ہے۔روس یوکرین کے کئی شہروں پر حملے کرکے انکی اہم تنصیبات کونشانہ بناچکا ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔یوکرین اور عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق روس کو بھی اس جنگ میں کافی جانی ومالی نقصان پہنچ رہا ہے۔ لاکھوں یوکرینی شہری نقل مکان کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں اور پڑوسی و دیگر ممالک کا رخ کرکے پناہ حاصل کررہے ہیں۔ ان پناہ گزینوں کی امداد کا بہت بڑا مسئلہ ہوتا ہے کیونکہ جس ملک میں پناہ لی گئی ہے وہاں کی معیشت بھی مضبوط و مستحکم ہونا ضروری ہے، ورنہ اقوام متحدہ اور دیگر ممالک کی جانب سے انہیں مدد کرنا ضروری ہے۔ اسی کے تحت سعودی شاہی حکومت کی جانب سے ان لاکھوں پناہ گزینوں کیلئے امدادی کام کا آغاز ہوچکا ہے۔یوکرین کے پناہ گزینوں کیلئے شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی خدمات کے نگرانِ اعلی ڈاکٹرعبداللہ الربیعہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب یوکرین سے پولینڈ سمیت پڑوسی ممالک میں پناہ لینے والوں کی مدد کررہا ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب دنیا کے مختلف علاقوں میں پناہ گزینوں اور قدرتی آفات نیز خانہ جنگی جیسے مسائل سے دوچار افراد کا ساتھ دینے اور ان کے مسائل کا بوجھ کم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ یوکرین کے پناہ گزینوں کی مدد اسی پالیسی کا حصہ ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈاکٹر الربیعہ نے منگل کو پولینڈ میں سعودی سفارتخانے میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی خدمات نے عالمی ادارہ صحت اور پناہ گزینوں کے امور سے متعلق اقوام متحدہ کی ہائی کمشنری کے توسط سے یوکرین کے پناہ گزینوں کیلئے 10 ملین ڈالر کی امداد دی ہے۔ 10 لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں کے مسائل حل کرنے کا پروگرام ہے۔ الربیعہ نے کہا کہ سعودی عرب دنیا میں ہر جگہ ضرورت مندوں اور پناہ گزینوں کی انسانی بنیادوں پر مدد کے حوالے سے پرعزم ہے۔ڈاکٹر الربیعہ نے بتایا کہ سعودی عرب شاہ سلمان مرکز برائے امداد کے سائبان تلے 2000 سے زیادہ امدادی منصوبے 85 ممالک میں نافذ کرچکا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ سعودی عرب فوڈ سیکیورٹی، صحت، تعلیم، پانی اور ماحولیاتی صحت جیسے شعبوں میں مدد کررہا ہے۔اس طرح سعودی عرب کی خدمات عالمی سطح پر جاری ہے۔


*******


ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی مکمل بحالی

عالمِ اسلام راؤنڈاَپ
ڈاکٹر محمد عبدالرشیدجنید

ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی مکمل بحالی۰۰۰ فلسطینیوں کیلئے فائدہ مندترکیہ!

      

 
ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان گذشتہ کئی سال سے جاری کشیدہ تعلقات کے بعد دونوں ممالک نے اپنے سفارتی تعلقات مکمل طور پر بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم یائر لاپڈ نے اس سفارتی پیشرفت کو ’علاقائی استحکام کیلئے ایک اہم اثاثہ اور اسرائیل کے شہریوں کیلئے انتہائی اہم اقتصادی خبر‘ قرار دیا ہے۔بتایا جاتا ہیکہ یائر لاپڈ کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہیکہ سفارتی پیشرفت کے نتیجے میں دونوں ممالک میں ایک بار پھر سفیر اور قونصل جنرلز تعینات کیے جائیں گے۔یہ اعلان اعلیٰ حکام کے باہمی دوروں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے کئی مہینوں کی دو طرفہ کوششوں کے بعد کیا گیا ہے۔ترک وزیر خارجہ مولود جاؤش اوغلو نے کہا کہ سفیروں کی واپسی 'دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے اہم ہے لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات کو انقرہ کے ’فلسطینی کاز سے دستبردار ہونے‘ سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔رواں سال مئی میں جاؤش اوغلو 15 برسوں میں اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے ترک وزیر خارجہ بن گئے، اس دورے کے دوران انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی قیادت سے بھی ملاقات کی۔واضح رہیکہ دو ماہ قبل اسرائیلی صدر آئزیک ہرزوگ نے انقرہ کے تاریخی دورے کے دوران صدر ترک رجب طیب اردغان سے ملاقات کی تھی اس سلسلہ میں وزیر خارجہ اوغلو کا کہنا ہیکہ دونوں کی ملاقات ”ہمارے تعلقات میں ایک اہم موڑ“ ہے۔
        دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں 2008 میں غزہ میں اسرائیلی فوجی آپریشن کے بعد تناؤ شروع ہوا تھا۔بعدازاں 2010 میں غزہ میں امداد لے کر ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کرنے والے ترکیہ کے بحری جہاز پر اسرائیلی حملے میں 10 شہریوں کی ہلاکت کے بعد تعلقات منجمد ہو گئے۔سال 2016 سے 2018 تک ایک مختصر مفاہمت جاری رہی، جب فلسطینیوں کے قتل پر ایک بار پھر سفیروں کو واپس بلا لیا گیا۔سال 2018 سے 2019 تک غزہ کے 200 سے زائد شہریوں کو اسرائیلی فورسز نے سرحدی احتجاج کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔بتایا جاتا ہیکہ دونوں ممالک کے درمیان جولائی 2021 میں آئزیک ہرزوگ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے عوامی سطح پر مفاہمت شروع ہوئی۔اسرائیلی صدر نے کہا کہ تعلقات کی مکمل تجدید سے ’عظیم تر اقتصادی تعلقات، باہمی سیاحت اور اسرائیلی اور ترک عوام کے درمیان دوستی کو فروغ ملے گا‘۔تاہم دونوں کے مابین حالیہ برسوں میں سفارتی اختلافات کے باوجود تجارت جاری تھی اور ترکیہ اسرائیلی سیاحوں کیلئے ایک مقبول مقام بنا ہوا رہا۔ ترکیہ اس بات پر زور دے رہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات معمول پر آنے سے فلسطینیوں کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ جاؤش اوغلو نے کہا کہ جیسا کہ ہم نے ہمیشہ کہا ہے، ہم فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع جاری رکھیں گے۔مغربی کنارے میں مقیم فلسطینی قیادت کے ساتھ اپنے تعلقات کے ساتھ ساتھ، ترکیہ نے غزہ پر حکومت کرنے والے اسلامی گروپ حماس کے ساتھ بھی تعلقات برقرار رکھے ہیں۔ یروشلم انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹیجی اینڈ سیکیورٹی کے صدر ایفرائیم انبار نے کہا کہ مبصرین کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ دو طرفہ تعلقات اتنے ہی اچھے ہونگے جتنے وہ نوے کی دہائی میں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک رجب طیب اردغان اقتدار میں ہیں ان کے اسلامی روابط کی وجہ سے ترکیہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف ایک خاص حد تک دشمنی رہے گی، مثال کے طور پر وہ حماس کی حمایت جاری رکھیں گے۔ یاد رہے کہ اسرائیل نے 2007 سے غزہ کے 23 لاکھ باشندوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔اس طرح اب دیکھنا ہیکہ ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں مکمل بحالی سے فلسطینی عوام کوواقعی فائدہ ہوگا یا نہیں ۰۰۰

فلسطینی صدر کے ریمارکس پر جرمن اور اسرائیل چراغ پا

        اصلیت کا چہرہ دکھانے پر جرمن چانسلر اولاف شیولز فلسطینی صدر محمود عباس سے ناراض ہوگئے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق جرمن چانسلر اولاف شیولز نے چہارشنبہ 17/ اگست کو فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے ہولوکاسٹ کے بارے میں دیئے گئے ریمارکس پر ناگواری اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ ہولوکاسٹ کی اہمیت کم ہو گئی ہے جب کہ اسرائیل نے فلسطینی صدر محمود عباس پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے غلط بات کی ہے۔جرمن چانسلر نے چہارشنبہ کو ٹویٹ کیا کہ خاص طور پر ہم جرمنوں کیلئے ہولوکاسٹ پر بیان ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہے اور میں فلسطینی صدرمحمود عباس کے انتہائی سخت ریمارکس کو ناپسند کرتا ہوں۔برلن کے دورے کے موقع پر محمود عباس نے فلسطینی عسکریت پسندوں کی طرف سے 1972 کے میونخ اولمپکس میں اسرائیلی ٹیم پر حملے کی 50ویں برسی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں اسرائیل پر '50 ہولوکاسٹ' کا ارتکاب کرنے کا الزام لگایا۔دوسری جانب اسرائیل کے وزیراعظم یائر لیپڈ نے بھی ان تبصروں کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’بے عزتی‘ قرار دیا ہے۔واضح رہے کہ نازی جرمنی کے ہولوکاسٹ میں ساٹھ لاکھ یہودی مارے گئے تھے۔ہولو کاسٹ ایک منظم، سرکاری سرپرستی میں ہونے والا ظلم اور قتلِ عام تھا جسمیں نازی جرمن حکومت اور اس کے اتحادیوں اور حلیفوں کی جانب سے چھ ملین (60لاکھ) یورپی یہودیوں کو ہلاک کیا گیا۔ ہولوکاسٹ ایک ارتقائی عمل تھا جو 1933اور1945ء کے دوران پورے یورپ میں واقع ہوا تھا۔ ہولوکاسٹ کی بنیادی وجہ یہود دشمنی تھی یعنی یہودیوں کے خلاف نفرت یا تعصب، نازی نظریہ کا بنیادی اصلو تھا۔ یہ تعصب بھی پورے یورپ میں پھیل چکا تھا۔ اسی کے حوالے سے فلسطینی صدر محمود عباس نے جرمن چانسلر کے ساتھ کھڑے ہو کر تاریخی واقعات کی ایک سیریز کا حوالہ دیا جن میں 1948 کی جنگ میں فلسطینیوں کو اسرائیلیوں کے ہاتھوں قتل کیا گیا تھا۔فلسطینی صدر نے کہا کہ1947 سے لے کر آج تک اسرائیل نے فلسطینی دیہات اور شہروں دیر یاسین، طنطورہ، کفر قاسم اور بہت سے دیگر علاقوں میں 50 قتل عام،50 ہولوکاسٹ کیے ہیں۔جرمن اور اسرائیل کی جانب سے ناراضگی کے اظہار کے بعد فلسطینی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ قابض قوت روزانہ اور مسلسل بنیادوں پر ان جرائم کے ارتکاب سے مطمئن نہیں لیکن وہ ایسی کسی بھی بات یا بیان کو بھی برداشت نہیں کرتی اور اسے مسترد کرتی ہے جو اسرائیلیوں اورعالمی برادری کو ان کے جرائم کی یاد دلاتا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ محمود عباس کا یہ تبصرہ اسرائیل کی جانب سے رواں ماہ غزہ کے علاقے میں فضائی حملوں کے دوران 49 فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا ہے۔

پاکستانی فوجی سربراہ قمر جاوید باجوہ کو یو اے ای کا دوسرا اعلیٰ ترین اعزاز

         متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستانی فوجی سربراہجنرل قمر جاوید باجوہ کومتحدہ عرب امارات کا دوسرا اعلیٰ ترین اعزاز "آرڈر آف دی یونین " سے نوازا گیا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ جو متحدہ عرب امارات کے سرکاری دورے پر پہنچے جہاں انکا استقبال یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے کیا،ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر یو اے ای اور پاکستانی فوجی سربراہ کے درمیان ملاقات کے دوران باہمی مفادات کیلئے دفاع کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون اور مشترکہ کارروائی پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ دونوں ممالک کے مابین دیرینہ تعلقات کو مختلف سطحوں پر مستحکم کرنے کے بارے میں باہمی دلچسپی کا اعادہ کیا گیا۔ اس موقع پر قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ یہ اعزاز دونوں ممالک کے مابین دوستانہ تعلقات کی مضبوطی کا عکاس ہے۔

کابل کی مسجد میں دھماکہ ۰۰۰ افغان میں دوبارہ خوف و ہراس کا ماحول


        افغانستان میں پھر سے خوف و ہراس کا ماحول گرم ہونے لگا ہے۔ ملک کے دارالحکومت کابل میں چہارشنبہ کی رات مسجد میں نماز کے دوران ہونے والے دھماکے میں کم از کم 21افراد ہلاک اور 27زخمی بتائے جارہے ہیں۔ زخمیوں میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ ہلاکتوں کی زیادہ بھی ہوسکتی ہے جبکہ طالبان کے ایک انٹیلی جنس اہلکار نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ہلاکتیں 35کے قریب ہوسکتی ہیں۔ فوری طور پر کسی نے بھی دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔واضح رہے کہ یہ دھماکہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے ایک سال مکمل ہونے کے بعد ہوا ہے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ٹوئٹر بیان میں کہاکہ ”امارت اسلامی افغانستان کابل کی مسجد میں بم دھماکے کی مذمت کرتی ہے“۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس طرح کے جرائم میں ملوث اور عام افراد کے قتل کے مجرموں کو جلد گرفتار کرکے سزا دی جائے گا۔ اس حملے سے ایک ہفتہ قبل افغان طالبان کی قریبی مذہبی شخصیت شیخ رحیم اللہ حقانی کو کابل میں ایک حملہ کے ذریعہ ہلاک کردیا گیا تھا۔ جس کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش کی خراسان شاخ نے قبول کی تھی۔اس طرح دو ہفتوں کے دوران کابل میں کئے گئے دھماکوں کی وجہ سے عوام میں پھر سے ایک مرتبہ دہشت کا ماحول بننے لگا ہے۔ اب دیکھنا ہیکہ طالبان حکومت کس طرح شدت پسند تنظیم داعش اور دیگر دہشت گردوں سے نمٹتی ہے۔

لبنان میں اسقاط حمل سے انکار پر بیوی جلادی گئی


        لبنان میں ظالم شوہر نے اپنی پانچ ماہ کی حاملہ بیوی 21سالہ حنا کو زندہ جلاکر شہید کردیا۔ بتایا جاتا ہیکہ حنا کے شوہر نے انہیں اسقاط حمل کروانے پر زور د ے رہا تھا، دوران بحث شوہر نے حنا پر تشدد کرکے آگ لگادی، جنہیں شدید زخمی حالت میں 6/ اگست کو ہاسپتل منتقل کیا گیا تھا جو چہارشنبہ کو علاج کے دوران انتقال کرگئی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق حنا محمد کے شوہر نے ان کو گھر کے گیس سلینڈر سے آگ لگائی تھی جس کے بعد ان کا پورا جسم جل گیا تھا۔واضح رہیکہ لبنان میں شدید معاشی بحران ہے اور اسی کا نتیجہ بتایا جارہا ہے کہ حنا کے شوہر نے جو بچے کی پیدائش کے حق میں نہیں تھااپنی زوجہ کو شدید زخمی کرکے آگ لگادی۔حنا محمد السلام ہاسپتل میں شریک تھی اس وقت ڈاکٹر نے کہا تھا کہ ’حنا محمد اس وقت آئی سی یو میں زندگی اور موت کی کشمکش سے گزر رہی ہیں۔ جب واقعہ ہوا تو وہ پانچ ماہ کی حاملہ تھی۔ ان کا بچہ مر چکا ہے اور ہم ان کا آپریشن کر رہے ہیں۔ ان کے بچنے کے چانسز بہت کم ہیں‘۔ آخر کار 17/ اگست کو موت و زیست کی حالت میں رہنے والی حنا محمد اپنے خالق حقیقی سے جاملی۰۰۰

غسل کعبہ کی رسم میں سعودی ولیعہد محمد بن سلمان اور اسلامی ممالک کے سفارکاروں کی شرکت

        مسجد الحرام مکہ مکرمہ میں غسل کعبہ کی سالانہ رسم پیر کے روز ادا کی گئی جس میں اسلامی ممالک کے سفارتکاروں نے شرکت کی۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ا سپیشل ایمرجنسی فورس غسل کعبہ کی رسم کے موقع پر تعینات کی گئی تھی۔ حرمین شریفین انتظامیہ کے سربراہ اعلی ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس، علما، شاہی خاندان کے افراد اور منتخب شخصیات نے غسل کعبہ کی سعادت حاصل کی۔ غسل کعبہ عرق گلاب اور اعلی درجے کے عود سے معطر آب زمزم سے دیا گیا۔ کعبہ کی اندرونی دیواروں کو کپڑے سے صاف کیا گیا۔واضح رہے کہ غسل کعبہ کی رسم میں 45 لٹر آب زمزم استعمال کیا جاتا ہے جبکہ طائف کے گلاب کا عرق 50 تولہ اور اعلی درجے کا عود آب زمزم میں ملاکر استعمال کیا جاتا ہے۔مسجد الحرام میں صفائی کے ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق غسل کعبہ میں استعمال ہونے والی تمام اشیا پر چاندی کی پرت چڑھی ہوتی ہے۔ اس کام کیلئے چاندی کے داندانوں والی 4 جھاڑو استعمال ہوتی ہیں۔ غسل کعبہ سے قبل جھاڑو سے خانہ کعبہ کی گرد صاف کی جاتی ہے۔غسل کعبہ کی تقریب میں ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی شرکت کی اور خانہ کعبہ کو غسل دیا ہے۔عرب نیوز کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے غسل کعبہ کی سالانہ رسم سے قبل طواف کیا اور دعا کی۔ان کے ساتھ سعودی وزیرا سپورٹس شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی الفیصل بھی تھے۔ان کا استقبال حرمین شریفین انتظامیہ کے سربراہ اعلٰی ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس نے کیا۔

ایمن الظواہری کی موت کے بعد ۰۰۰؟

 عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

  ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید جوائنٹ ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی  

    
  افغانستان میں طالبان کے دورِ اقتدار میں امریکہ نے امریکی ڈرون حملے کے ذریعہ القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کو ”ہیل فائر، نامی ڈرون حملہ کے ذریعہ کابل شہر کے مرکز میں نشانہ بناکر ہلاک کردیا، اس حملہ کی تصدیق امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے ایک بیان کے ذریعہ دی ہے انہوں نے کہا کہ”القاعدہ لیڈر کی موجودگی سے متعلق واضح اور قابلِ یقین شواہد ملنے پر حملے کی اجازت دی گئی تھی جس میں وہ انجام تک پہنچا“۔ واضح رہیکہ امریکی میڈیا کے مطابق سی آئی اے نے ایمن الظواہری کو اتوار31/جولائی 2022کو کابل میں ڈرون حملے کے ذریعہ نشانہ بنایا اور کہا گیا ہے کہ اس کارروائی میں کسی اور شہری کی ہلاکت نہیں ہوئی ہے، ایمن الظواہری نے القاعدہ کے بانی قائد اسامہ بن لددین کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کی کمان سنبھالی تھی۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ جیو نیوز کے مطابق جوبائیڈن نے بتایا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے رواں سال اپریل میں 9/11 حملے کی منصوبہ بندی میں شامل ایمن الظواہری کا پتہ چلا لیا تھا، انہوں نے کہا کہ وہ ہر قیمت پر امریکہ کا دفاع کرینگے اور اپنے دشمنوں کا ہر جگہ تعاقب کرینگے،امریکی صدر کا کہنا تھا ایمن الظواہری نے حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور اتحادیوں پرحملے کیلئے ویڈیوز جاری کئے تھے، صدر کا کہنا ہے کہ الظواہری کی ہلاکت سے امریکیوں کو انصاف ملا ہے اور یہ دہشت گرد رہنما اب نہیں رہا‘۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ اس میں کتنا وقت لگے، چاہے آپ کہیں بھی چھپ جائیں لیکن اگر آپ ہمارے لوگوں کیلئے خطرہ ہیں تو امریکہ آپ کو ڈھونڈ نکالے گا اور مارڈالے گا‘۔ دوسری جانب طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے،واضح رہے کہ ایمن الظواہری کے بارے میں معلومات دینے والے کیلئے امریکہ نے ڈھائی کروڑ ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا،افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد یہ پہلی کارروائی ہے جو انخلا کا ایک سال پورا ہونے کے موقع پر کی گئی۔جیساکہ اوپر بتایا گیا ہے کہ ایمن الظواہری نے القاعدہ کی کمان اسامہ بن لادن کے مارے جانے کے بعد سنبھالی تھی، اسامہ بن لادن کو امریکہ نے ایبٹ آباد،پاکستان میں 2/ مئی 2011کو نشانہ بنایا تھا اس وقت امریکی صدر بارک اوباما اور پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی تھے۔القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کی مبینہ طور پر امریکی خفیہ ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈرون حملے میں ہلاکت پر سعودی عرب نے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایمن الظواہری ان دہشت گردوں میں سے تھے جنہوں نے امریکہ اور سعودی عرب میں دہشت گرد حملوں کی قیادت کی، ایمن الظواہری نے سعودی شہریوں سمیت ہزاروں بے گناہ لوگوں کو مارا ہے۔ 

     واضح رہے کہ اسامہ بن لادین کو القاعدہ کا چہرہ اور ایمن الظواہری کو اس کا دماغ سمجھا جاتا تھا، جنہوں نے القاعدہ کیلئے اسٹریٹجک منصوبہ بندی کی تھی۔ بتایا جاتا ہیکہ رواں سال امریکی حکام معلومات حاصل کیں کہ ایمن الظواہری کا خاندان، انکی اہلیہ، بیٹی اور بچے کابل میں ایک محفوظ گھر میں منتقل ہوگئے تھے اور بعد میں حکام کو اسی مقام پر ایمن الظواہری کی موجودگی کا علم ہوا۔ ایک عہدیدار کے مطابق جس وقت ایمن الظواہری کابل سیف ہاؤس پہنچے تو ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کبھی سیف ہاؤس سے باہر نکلے یا نہیں البتہ بالکونی میں انکی کئی بار شناخت ہوئی، جہاں وہ بالآخر مارے گئے۔ کئی ماہ کی خفیہ معلومات کے بعد حکام نے یقین کرلیا کہ انہو ں نے ایمن الظواہری کی درست شناخت کی ہے، بعد ازاں اپریل میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے صدر جوبائیڈن کو اس حوالے سے بریفنگ دی تھی۔ بتایا جاتا ہیکہ حکام نے سیف ہاؤس کی طرز تعمیر اور نوعیت کی چھان بین کی اور اسکے مکینوں کی جانچ پڑتال کی تاکہ اس بات کویقینی بنایا جاسکے کہ امریکہ اس عمارت کی ساخت کو نقصان پہنچائے بغیر اور شہریوں اور ایمن الظواہری کے خاندان کو کم سے کم خطرے میں ڈالتے ہوئے اعتماد کے ساتھ آپریشن کرسکے۔ بتایا جاتا ہیکہ حالیہ ہفتوں میں صدر جوبائیڈن نے اہم مشیروں اور کابینہ کے ارکان کے ساتھ میٹنگز کیں تاکہ انٹلیجنس کی جانچ پڑتال کی جاسکے اور کارروائی کے بہترین طریقہ کار کا جائزہ لیا جاسکے۔اور پھر یکم / جولائی کو سی آئی اے کے ڈائرکٹر ولیم برنزسمیت ان کی کابینہ کے اراکین نے وائٹ ہاؤس میں ایک مجوزہ آپریشن کے بارے میں آگاہ کیا اور اس کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ ایک عہدیدار کے مطابق امریکی صدر نے انکی معلومات کے ذرائع اور ان کے مستحکم ہونے، سیف ہاؤس، موسم، حالات، افغان طالبان سے تعلقات پر ہونے والے اثرات اور آپریشن کی کامیابی کے امکانات کے حوالے سے تفصیلی سوالات کئے۔ اسی طرح سینئر انٹرایجنسی وکلا کی ٹیم نے انٹیلی جنس معلومات کی سخت اسکروٹنی کی اور اس بات کی تصدیق کی کہ القاعدہ کی مسلسل قیادت کی بنیاد پر ایمن الظواہری ایک جائز ہدف ہیں۔ 25/ جولائی کو امریکی صدر نے اپنی کابینہ کے اہم ارکان اور مشیروں کو حتمی بریفنگ کے لئے بلایا اور اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ ایمن الظواہری کی ہلاکت سے دیگر مسائل کے علاوہ طالبان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کس طرح متاثر ہونگے۔امریکی عہدیدار کے مطابق تمام افراد سے آرا طلب کرنے کے بعد جوبائیڈن نے اس شرط پر ایک محتاط اور عین موزوں فضائی حملے کی اجازت دی کہ اس سے شہری ہلاکتوں کا خطرہ کم سے کم ہو۔ اور پھر امریکی صدر سے منظوری حاصل کرنے کے بعدالقاعدہ سربراہ ایمن الظواہری کو ہلاک کردیا گیا۔اس طرح 21سال کی شدید تلاش کے بعد امریکہ نے القاعدہ کے دوسرے بڑے رہنما ایمن الظواہری کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہوا۔ اب دیکھنا ہیکہ افغان طالبان حکمراں اور امریکہ کے درمیان ایمن الظواہری کی ہلاکت کے بعد تعلقات کیا نوعیت اختیارکرتے ہیں ہوسکتا ہیکہ امریکی جوبائیڈن حکومت افغان طالبان حکومت کو ایمن الظواہری کی ہلاکت پر خاموشی اختیارکرنے کی صورت میں اپنی پالیسی میں نرمی پیدا کرتے ہوئے اسکے منجمد کئے ہوئے اثاثوں کو بحال کرے۰۰۰ یہاں یہ بات واضح رہے کہ 21سال قبل امریکہ نے اسامہ بن لادین کی گرفتاری اور انہیں ہلاک کرنے کیلئے افغانستان پر حملہ کیا تھا اور اُس وقت کے افغان طالبان حکمراں ملامحمد عمر نے اپنے مہمان یعنی اسامہ بن لادین کو کسی صورت امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کردیا تھا، جس کی قیمت انہیں اپنا اقتدار کھوکر اداکرنی پڑی لیکن امریکہ اس حملہ کے بعد اسامہ بن لادین کو پکڑنے میں ناکام رہا البتہ دس سال بعد پاکستان میں انہیں ہلاک کیا گیا جبکہ ملامحمد عمر کو امریکہ تلاش کرنے میں ناکام رہاآخر ملامحمد عمر عام زندگی گزار کر خالقِ حقیقی سے جاملے۔ ادھر  بیس سالہ طویل ناکام جنگ کے بعدگذشتہ سال اگسٹ میں  امریکہ نے اپنے فوجیوں کا انخلا راتوں رات عمل میں لایا اور دیگر نیٹو افواج بھی امریکہ سے چلے گئی۔ امریکی فوج کے انخلاء کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے بھی ملک سے جلاوطنی اختیار کی اور پھر طالبان نے بغیر خون خرابے کے افغان دارالحکومت کابل کو حاصل کرتے ہوئے افغانستان میں اپنی حکومت کا اعلان کردیا۔ لیکن افغان طالبان حکومت کے ساتھ فی الحال عالمی سطح پر کسی ملک نے بھی سفارتی تعلقات بحال نہیں کئے۔ خیر القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت کے بعد اب دیکھنا ہیکہ کون انکی جگہ لے پائینگے اور القاعدہ مستقبل میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گی یا پھر آہستہ آہستہ ختم ہوجائیں گے۰۰۰ 


لبنان معاشی بحران کا شکار، روٹی کیلئے قطار میں طویل انتظار

     لبنان کسی وقت ”مشرقِ وسطیٰ کا سوئٹزرلینڈ“ کہلایا جاتا تھا، لیکن 2019کے بعد معاشی بحران کا شکار ہوگیا۔ گذشتہ دنوں آئی ایک رپورٹ کے مطابق معاشی بحران کا شکار لبنان میں شہری ایک وقت کی روٹی خریدنے کیلئے قطاروں میں کھڑے ہو کر طویل انتظار کی اذیت سے گزر رہے ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق سنہ 2020 میں قومی قرضے کے باعث دیوالیہ ہو جانے والے لبنان کی کرنسی کی قدر 90 فیصد تک گر چکی ہے۔ورلڈ بینک نے لبنان کے معاشی بحران کو 19 ویں صدی کے بعد سے آنے والا بدترین بحران قرار دیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق پانچ میں سے چار لبنانی شہری خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔بین الاقوامی قرض دہندگان کی جانب سے نئی امداد کے اجرا سے قبل معاشی اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا جس کی وجہ سے مشکلات کی شکار حکومت زیادہ تر ضروری اشیا پر سبسڈی ختم کرنے پر مجبور ہو گئی ہے تاہم گندم ابھی تک شہریوں کو کم نرخ پر فراہم کی جا رہی ہے۔کم قیمت بریڈ اور روٹی کے نرخ بھی بڑھ گئے ہیں اور اگر ان پر سے سبسڈی ختم کی گئی تو مزید مہنگائی کا خدشہ ہے۔ بیکریوں کی جانب سے گندم کی ذخیرہ اندوزی شروع کیے جانے کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔بتایا جاتا ہیکہ بریڈ کے ایک پیکٹ کی قیمت سرکاری طور پر 13 ہزار لبنانی پاؤنڈ مقرر ہے جبکہ یہ بلیک مارکیٹ میں 30 ہزار لبنانی پاؤنڈ کی مل رہی ہے۔ایک شہری خلیل منصور کا کہنا ہیکہ ہم بریڈ کیلئے گھنٹوں قطار میں کھڑے رہنے کی اذیت سہتے ہیں اور کسی دن وہ بھی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھ پائینگے۔انکا کہنا ہے کہ’گذشتہ ہفتے ہم نے تین دن بریڈ نہیں خریدی کیونکہ 30 ہزار پاؤنڈ میں اس کو خریدنے کی استطاعت نہیں تھی۔‘یا پھر بعض اوقات بیکریوں میں روٹی ختم ہوجاتی ہے۔سعودی عرب کی شاہی حکومت نے ایک مستحسن اقدام کیا ہے۔ سعودی عرب میں شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی خدمات کے تحت شمالی لبنان میں الامل فلاحی بیکری منصوبہ جاری ہے۔ اس کے تحت ضرورت مند خاندانوں کو روزانہ کی بنیاد پر مفت روٹی تقسیم کی جارہی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق شاہ سلمان مرکز نے لبنان کی عکار کمشنری اور المنیہ ڈسٹرکٹ میں الامل فلاحی بیکری کھولی ہوئی ہے۔شمالی لبنان میں سکونت پذیر شامی، لبنانی اور فلسطینی باشندوں کو روزانہ فی خاندان روٹیوں کے دو پیکٹ فراہم کیے جارہے ہیں۔ یومیہ دس ہزار خاندانوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔شاہ سلمان مرکز نے یہ پروگرام نادار خاندانوں کے معاشی حالات بہتر بنانے کی غرض سے شروع کیا ہے۔ کھانے پینے کی بنیادی اشیاء نادارخاندانوں کو مستقل بنیادوں پر فراہم کی جارہی ہیں۔ اسکے باوجود لبنان سخت ترین معاشی بحران کا شکار ہے، نہیں معلوم حالات عالمی سطح پر کس ملک کو کہاں پہنچائینگے، سری لنکا اس دور سے گزر رہا ہے اور عالمی سطح پر کئی ممالک معاشی بحران کی طرف رواں دواں ہیں ۰۰۰۰


 امریکی پیٹریاٹ میزائل کی سعودی عرب کو فروختگی

     امریکہ اپنیمعیشت کو بہتر اور مضبوط بنانے کیلئے عالمی سطح پر اپنے کروڑوں ڈالرس کے ہتھیاردوسرے ممالک کو فروخت کرکے عالمی سطح پر انتشار پیدا کرتا رہاہے۔ سعودی عرب سے ان دنوں تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہے اور اس میں پیشرفت بھی دکھائی دینے لگی ہے جس کا سلسلہ امریکہ نے پیٹریاٹ میزائل اور اس سے متعلقہ آلات کی سعودی عرب کو فروخت کی منظوری سے کیا ہے۔عرب نیوز کے مطابق منگل کو امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے بتایا کہ محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کے ساتھ تین ارب ڈالر مالیت کے معاہدے کی منظوری دی ہے جس کے تحت پیٹریاٹ میزائل اور دیگر متعلقہ آلات فراہم کیے جائیں گے۔پینٹاگون کے مطابق متحدہ عرب امارات کو دفاعی سامان فراہم کرنے کے دو ارب 25 کروڑ ڈالر کے معاہدے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ اس میں امریکی دفاعی نظام ’تھاڈ‘ میزائل (ٹرمینل ہائی ایلٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس) اور تھاڈ ٹرمینل فائر کنٹرول اور کمیونیکیشن اسٹیشن شامل ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ نے ایک نوٹس میں کانگریس کو میزائل کی فروخت کے حوالے سے بتایا کہ ’مجوزہ فروخت سعودی عرب کے پیٹریاٹ جم ٹی میزائلوں کے گھٹتے ہوئے ذخیرے کو مستحکم کر کے موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کیلئے مملکت کی صلاحیت کو بہتر بنائے گی۔‘محکمہ خارجہ کے مطابق ’یہ میزائل سعودی عرب پر سرحد پار سے حوثیوں کے بغیر پائلٹ ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کے دفاع کیلئے استعمال کیے جاتے ہیں۔‘جیسا کہ حوثی ڈرون اور بیلسٹک میزائل فضائی نظام اور سعودی عرب میں شہری مقامات اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتے ہیں۔متحدہ عرب امارات کو دفاعی سامان کی فروخت کے حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ ’ایک اہم علاقائی پارٹنر کی سلامتی کو بہتر بنانے میں مدد دے کر اس کی قومی سلامتی کو مستحکم کرے گا۔ متحدہ عرب امارات مشرق وسطیٰ میں سیاسی استحکام اور اقتصادی پیشرفت کے لیے امریکہ کا اہم شراکت دار ہے۔‘ واضح رہیکہ گذشتہ ماہ امریکی صدر جوبائیڈن نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا اور مشترکہ اعلامیہ میں اس بات کا اعادہ کیا گیا تھا کہ ’کئی دہائیوں سے امریکہ اور سعودی عرب کی شراکت داری خطے کی سلامتی کیلئے مرکزی کردار ادا کرتی رہی ہے۔ دونوں ممالک ایک مزید محفوظ، مستحکم اور خوشحال خطہ چاہتے ہیں جو دنیا کے ساتھ منسلک ہو۔‘سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت ایران کو جوہری ہتھیار وں کی تیاری یا اسے حاصل کرنے سے روکنا ہے۔کیونکہ دونوں فریقوں نے دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں ایران کی مداخلت، اس کی مسلح پراکسیوں کے ذریعے دہشت گردی کی حمایت اور خطے کی سلامتی اور استحکام کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کو روکنے کی مزید ضرورت پر زور دیا تھا۔


جناب کے ایم عارف الدین سکریٹری مدینہ ایجوکیشن اینڈ ویلفیر سوسائٹی


ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید جوائنٹ ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی 

        ملت ِ اسلامیہ کے ہونہار فرزندان و دختران کی تعلیم و تربیت، انکے ادب و اخلاق اور بہترین کردار کے ساتھ ایک اچھا شہری اور بہترین امتی بنانے کی جو شخصیت گذشتہ چالیس سال سے سعیِ مسلسل میں شبانہ روزمصروف ِ عمل ہیں وہ ہیں، جناب کے ایم عارف الدین سکریٹری مدینہ ایجوکیشن سوسائٹی جو ممتاز ماہر تعلیم، اڈمنسٹریٹر اورماہر قانون ہیں۔ جناب کے ایم عارف الدین نے اوقافی جائیداوں کا صحیح استعمال کرتے ہوئے جس طرح ہندوستان میں مثال قائم کی اس کا صلہ انشاء اللہ تعالیٰ انہیں آخرت میں توملے گا ہی دنیا میں بھی انہوں نے ان اداروں کے قیام اور اسکے ذریعہ ملتِ اسلامیہ کی تعلیم وتربیت اور سربلندی کا جو خواب دیکھا تھا الحمد للہ وہ اپنی زندگی میں شرمندہ تعبیر ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ آج مدینہ ایجوکیشن اینڈ ویلفیر سوسائٹی کے قائم کئے ہوئے ادارے مدینہ گروپ آف انسٹی ٹیوشنس اینڈ گلوبل پروفیشنل کالجس کے تحت مدینہ پبلک اسکول حمایت نگر، مدینہ ڈگری کالج فار وویمن حمایت نگر، مدینہ ایجوکیشن سنٹر، پی جی روڈ، مدینہ ہاسٹل فار گرلز، حیدرگوڑہ، مدینہ آئی اے ایس ہاسٹل نامپلی، ایم ایم ہیلت کیئر سنٹر حیدرگوڑہ، مدینہ گرلزاسکول پی جی روڈ نامپلی، گلوبل ایجوکیشن سنٹر (ایم بی اے) معین آباد، رنگاریڈی ڈسٹرکٹ، گلوبل کالج آف فارمیسی معین آباد، گلوبل انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی معین آباد قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ تین خاندانی ٹرسٹ”ملت فاؤنڈیشن چیاریٹیبل ٹرسٹ“، حمایت نگر، ”احمد النساء شمیم آمنہ چیارٹیبل ٹرسٹ“ اور”خواجہ یوسف الدین خواجہ قمر الدین چیارٹیبل ٹرسٹ“ ہیں۔جن کے ذریعہ غریب مستحق، نادار طلبا و طالبات، بیواؤں، یتیموں اور بے کس و بے سہارا افراداور مریضوں کی امداد کی جاتی ہے۔ 


        جناب کے ایم عارف الدین جناب کے ایم قمر الدین صاحب مرحوم کے فرزند ہیں۔ آپ 20/ اگسٹ 1944ء کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ حیدرآباد کے مختلف اسکولوں میں تعلیم و تربیت پائی۔دینی تعلیم مسجد ٹیک اور قطب شاہی مسجد وغیرہ میں حاصل کی۔ کاچیگوڑہ گورنمنٹ ہائی اسکول سے 1961ء میں ایس ایس سی کامیاب کیا۔اسی سال آپ کے والد صاحب کا انتقال ہوا۔ انٹرمیڈیٹ کی تکمیل اندور، مدھیہ پردیش سے کرنے کے بعد نیو سائنس کالج، نارائن گوڑہ سے بی اے کی تکمیل کی۔ نیو سائنس کالج میں اسٹوڈنٹس یونین کے صدر رہ چکے، جناب کے ایم عارف الدین وہ واحد مسلم قائد ہیں جو نیو سائنس کالج یونین کے صدر رہے ہیں۔ انہوں نے 1972ء میں لاکالج عثمانیہ یونیورسٹی سے ایل ایل بی اور پھر 1974ء میں ایل ایل ایم کیا۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں ایل ایل ایم کے دوران اسٹوڈنٹس یونین کے وائس پریسڈنٹ بھی رہے۔ ایل ایل بی کے بعدسٹی سولِ کورٹ، حیدرآبادمیں پریکٹس کرنے لگے۔ چند سال پریکٹس کے بعد جنوری 1969ء میں تلنگانہ تحریک کے بانیوں میں شامل رہے اور اسی دوران ایکشن کمیٹی قائم کی گئی جس کے وہ بانی اور ملکارجن ترجمان تھے۔ اس تحریک کی پہلی میٹنگ نظام کالج میں ہوئی۔ جناب کے ایم عارف الدین نے بتایا کہ علحدہ تلنگانہ تحریک کی وجہ تلنگانہ عوام کے ساتھ حکومت کی ناانصافیاں تھیں۔ پہلی میٹنگ کے بعد احتجاجی پروگرام کا اعلان کیا گیا جس میں سری دھرریڈی، پی جے سوری، نرسمہاریڈی، جنگم راؤ، وینکشور راؤ، ایم ایم ہاشم وغیرہ شامل تھے۔ اس کے بعد ریڈی ہاسٹل عابڈس میں پہلا کنونشن ہوا جس میں طے کیا گیا کہ کوئی بڑا قائد ہی اس تحریک کو آگے لے جاسکتا ہے۔ اسی کے پیشِ نظر چناریڈی سابق چیف منسٹر آندھراپردیش کو جنہیں کانگریس میں چھ سال کے لئے نااہل قرار دیا گیا تھا چیئرمین بنایاگیا۔ برہمنندا ریڈی کی حکومت نے علحدہ تلنگانہ تحریک کے قائدین اور اراکین کو راجمندری جیل میں قید کردیا اور تین ماہ تک 35افراد قید رہے جن میں دو مسلم جناب کے ایم عارف الدین اور ایم ایم ہاشم مرحوم شامل تھے۔ جناب عاف الدین نے بتایا کہ ان دنوں تحریک زور وں پر چل رہی تھی دو مرتبہ ہائیکورٹ میں ان 35افراد کو پیش کیا گیا اور پھر آخرکار ہائیکورٹ نے انہیں رہائی دی۔ جیل سے آنے کے بعد مسٹر چناریڈی کو کانگریس کی جانب سے دہلی طلب کیا گیا اورپتہ نہیں ان کے ساتھ کس قسم کی بات چیت ہوئی۔ چناریڈی نے دہلی سے واپسی کے بعد علحدہ تلنگانہ تحریک کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تلنگانہ پر جا سمیتی کو کانگریس میں ضم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ 1969ء میں ”تلنگانہ پرجا سمیتی“ نے پارلیمنٹ کے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور 14ارکان پارلیمنٹ میں سے 11ارکان پارلیمنٹ نے کامیابی حاصل کی۔ چناریڈی کی جانب سے پرجا سمیتی کو کانگریس میں ضم کرنے کے اعلان کے بعد بڑی تعداد میں انکی مخالفت کی گئی لیکن بڑے قائدین کے فیصلے نے اس تحریک کو کمزور کردیااور یہ تحریک دم توڑ گئی۔ 


مدینہ تعلیمی اداروں کا قیام 

        جناب کے ایم عارف الدین نے بتایا کہ علحدہ تلنگانہ تحریک دو حصوں میں بٹ چکی تھی ایک گروپ چناریڈی کا تھا جو کانگریس میں ضم ہوگیا اور دوسرا گروپ کمزور پڑچکا تھا۔ تلنگانہ عوام کے ساتھ ناانصافی کے علاوہ مسلم ملازمین سرکار جو اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے ریٹائرڈ ہورہے تھے اور تعلیم یافتہ مسلم ذہین بچے امریکہ، کینڈا اور دوسرے ممالک بسلسلہ روزگار جانے لگے جبکہ دینی مدارس اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے تھے۔ بہرحال حالات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے ملتِ اسلامیہ کے نونہالوں اور نوجوانوں کے بہتر مستقبل کیلئے تعلیمی و ٹکنیکل اداروں کے قیام کا فیصلہ کیا اور سب سے پہلے 1980ء میں مجلس شوریٰ نامپلی کی جائیداد(پرانی عمارت میں) جو 1932ء سے ”مجلس شوریٰ دستی پارچہ بافی حرمین شریفین“ کی ملکیت تھی اس میں ٹکنیکل ادارہ قائم کیا۔ مجلس شوریٰ دستی پارچہ بافی حرمین شریفین کے پہلے صدر سیف نواز جنگ اور سکریٹری ڈاکٹر خواجہ معین الدین تھے۔ان دونوں کی یادگار کے طور پر اسکول اور کالج کی عمارت میں ان کے نام سے ہالس تعمیر کئے گئے ہیں۔

        مجلس شوریٰ دستی پارچہ بافی حرمین شریفین کے 1977ء میں ڈاکٹر قاری کلیم اللہ حسینی صدر اور جناب کے ایم عارف الدین سکریٹری بنائے گئے۔ جناب عارف صاحب نے بتایا کہ مجلس شوریٰ کی ملکیت میں تین جائیدادیں جو نامپلی، حیدرگوڑہ اور حمایت نگر میں تھیں اس کااستعمال غیر سماجی افراد کررہے تھے یہاں پر فحاشی کے اڈے قائم تھے کرایہ دار ملکیت کے دعوے کررہے تھے جسے برخواست کرنے کا بیڑہ اٹھایا گیا اور پھر 1980ء میں مدینہ ایجوکیشن ویلفیر سوسائٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے بانی و سکریٹری جناب کے ایم عارف الدین ہیں۔ 1982ء میں حیدرگوڑہ میں ایل کے جی تا پرائمری تعلیم تک اسکول کا قیام عمل میں لایا گیا۔ 1983ء میں جونیئر کالج فار گرلز حیدرگوڑہ، 1994ء مدینہ ایجوکیشن اینڈ ویلفر سوسائٹی کی جانب سے حیدر گوڑہ میں زمین خرید کر نئی عمارت تعمیر کی گئی تھی اس میں لڑکیوں کیلئے ”ڈگری کالج فار گرلز“ کا قیام عمل میں لایا۔ حیدرگوڑہ،حمایت نگر میں نرسری تا دسویں جماعت (ایس ایس سی اور سی بی ایس سی) تک کی تعلیم کا نظم ہے یہ عمارت سات منزلہ ہے جس میں سوا سو (125)کلاس رومس اور دو لفٹس ہیں۔ اسی طرح گرلز ڈگری کالج میں گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن تک کی تعلیم کا نظم ہے اور یہ عمارت 8منزلہ ہے اور اس میں بھی دو لفٹ ہیں۔ لڑکوں کیلئے قائم عمارت میں جناب ولی قادری آرکیٹکٹ مرحوم کے نام سے ”مسجد ولی قادری“ اور گرلز کالج میں لڑکیوں کیلئے ”نمازگاہ کلیمیہ“ جو قاری کلیم اللہ سابق صدر سوسائٹی کے نام سے موسوم ہے۔

        مدینہ ایجوکیشن اینڈ ویلفیر سوسائٹی نیمعین آباد میں تعلیمی اداروں کے قیام کیلئے 2000ء میں 32ایکڑ پر مشتمل زمین خریدی اور یہاں نئی عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ شروع کیااس طرح مسلم بچوں کوعصری علوم سے آراستہ کرنے کیلئے مزید تعلیمی اداروں کے قیام کی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے 2006میں معین آباد، رنگاریڈی میں انجینئرنگ کالج کاقیام عمل میں لایا اسکے بعد معین آباد میں ہی2007ء میں فارمیسی کالج اور 2009میں ایم بی اے کالج کا قیام عمل میں لایا۔ مدینہ گروپ آف تعلیمی اداروں کی جانب سے حیدرگوڑہ اور نامپلی میں خواتین اور لڑکیوں کیلئے گرلز ہاسٹلس قائم کئے گئے جبکہ حیدرگوڑہ میں گرلز ہاسٹل کی عمارت کی نچلی منزل میں پری پرائمری اسکول قائم کیا گیا۔ 2018ء میں نامپلی کی عمارت میں گرلز اسکول کا قیام عمل میں لایا۔ جناب عارف الدین نے لڑکیوں کی تعلیم پر زیادہ توجہ مرکوز کئے جانے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ ایک اچھی ماں بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت کرسکتی ہیں، ماں کسی بھی صورت میں بچوں کی ضروریات پوری کرتے ہوئے اسے پڑھا لکھا کر روزگار سے مربوط کرنے کے قابل بناتی ہیں جبکہ والد روزگار کے سلسلہ میں اتنا مصروف ہوتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کی بہترتعلیم و تربیت پر توجہ دینے سے قاصر رہتا ہے۔ الحمد للہ مدینہ ایجوکیشن اینڈ ویلفیر سوسائٹی کے 12اداروں میں کم و بیش 8ہزار طلباو طالبات زیور تعلیم سے آراستہ ہوکر ملتِ اسلامیہ کیلئے ہی نہیں بلکہ ملک کیلئے بھی بہترین اثاثہ ثابت ہورہے ہیں۔


مدینہ گولڈ میڈلس 

        مدینہ ایجوکیشن سوسائٹی کی جانب سے ریاست تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے ذہین اور امتیازی کامیابی حاصل کرنے والے (ٹاپر)طلبا وطالبات کو جو مختلف تعلیمی اداروں سے وابستہ اور مختلف زمروں سے تعلق رکھتے ہیں انہیں گولڈ میڈلس دینے کا سلسلہ 30/ جولائی 1989ء سے کیا۔ سب سے پہلا گولڈ میڈل لینے والے حیدرآباد کے فرزند ڈاکٹر اوصاف سعید آئی ایف ایس ہیں جنہیں جناب سید حامد وائس چانسلر علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے ہاتھوں دیا گیا۔ مدینہ ایجوکیشن سوسائٹی کی جانب سے ہر سال 100 سے زائد طلباو طالبات کو گولڈ میڈلس عطا کئے جاتے ہیں تاکہ ان طلباو طالبات کی پذیرائی ہوسکے اور انہیں دیکھ کر دوسرے طلباو طالبات بھی مسابقتی دور میں دیگر ابنائے وطن کے ساتھ تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے آگے آئیں۔ مدینہ ایجوکیشن سوسائٹی کی جانب سے دیئے جانے والا طلائی تمغہ جس پر مہرِ نبوت ﷺ کنندہ ہوتا ہے اسی خصوصیت کی وجہ سے اس کی اہمیت بھی ہے۔2018ء میں 29واں گولڈ میڈلس سال تھا جس کے مہمان خصوصی ڈاکٹر احمد کمال وائس چانسلر ہمدرد یونیورسٹی تھے۔ 

        جناب عارف الدین نے بتایا کہ سولِ سرویسز کے ہاسٹل، نامپلی سے استفادہ کرنے والوں میں بودھن کے جناب فہیم الدین جو ان دنوں چیف کمشنر جی ایس ٹی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں انکے علاوہ محبوب نگر سے تعلق رکھنے والے مسٹر سرینواس ڈی آئی جی نرمل اور دیگر طلبہ ہیں یہ ہاسٹل تقریباً سات سال تک قائم رہا اس دوران 10تا 12طلبہ نے سولِ سرویسز میں کامیابی حاصل کی۔ 


شادی بیاہ اور اولاد

        جناب عارف الدین کی پہلی شادی جناب عبدالقادر صاحب (مرحوم) کی دختر سے 31/ مئی 1970ء میں ہوئی جن سے دو لڑکے جناب کے ایم رضی الدین آئی آر ایس (مرحوم) اور جناب کے ایم منہاج الدین بی سی اے، ایم بی اے ڈائرکٹر پروفیشنل کالجس معین آباد ہیں۔ انکی پہلی شریک حیات صاحبہ کا انتقال جون 1983ء میں ہوا۔ بڑے فرزند جناب کے ایم رضی الدین آئی آر ایس کا انتقال 25/ جنوری 2011ء میں مدراس میں ہوا۔

        جناب عارف الدین صاحب نے پہلی زوجہ کے انتقال کے بعد 28/ جنوری 1985ء میں جناب احمد حسین (مرحوم)ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹرکی صاحبزادی سے نکاح کیا اور ان سے ایک لڑکا جناب کے ایم فصیح الدین ایم ٹیک، ڈپٹی ڈائرکٹر پروفیشنل کالجس معین آباد اور ایک لڑکی ہیں۔ جناب کے ایم عارف الدین نے اپنے چالیس سالہ تعلیم و تربیت کی خدمات کے حوالے سے بتایا کہ الحمد للہ مدینہ ایجوکیشن سوسائٹی کا ابتداء ہی سے ہے بنیادی مقصد تھا کہ ملت کے ہونہار طلبہ تعلیمی میدان میں معیاری تعلیم کے ساتھ آگے بڑھیں اور مسابقتی امتحانات میں اعلیٰ نشانات حاصل کرتے ہوئے ملک و بیرون ملک میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوں۔ اس خواب کو ہمارے طلبہ نے سرپرستوں کے تعاون اور قابل اساتذہ کی کاوشوں سے مکمل کیا اور آج ان اداروں کے فارغ التحصیل طلبا وطالبات اندرون و بیرون ملک میں ڈاکٹرس، انجینئرس، پروفیسرس، اڈمنسٹریٹرس، جرنلسٹس، آئی آئی ٹی اور آئی ٹی ایم میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوکر نہ صرف اداروں، سرپرستوں بلکہ ملت کا نام روشن کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مدینہ ایجوکیشن سوسائٹی کے جی سے پی جی تک یعنی مدینہ پبلک اسکول، جونیئر کالج، ڈگری کالج، ایم بی اے، گلوبل انجینئرنگ کالج اور فارمیسی جیسے معیاری کالجس کا قیام عمل میں لایا جس میں طلبہ پر انفرادی توجہ دے کر انہیں قابل بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سوسائٹی کی جانب سے ملت کی تعلیمی ترقی اس کی فلاح و بہبود کیلئے جاری کوششوں کو مخالفین ناکام بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دو سوسائٹیز کے درمیان معاہدہ ہے اور یہاں کوئی غیر قانونی کام نہیں ہورہا ہے، وقف بورڈ ایک خودمختار ادارہ ہے اور اسے کوئی اختیار نہیں کہ وہ مسائل کھڑے کرتے ہوئے دخل دیتا ہے۔ عارف صاحب نے کہاکہ ہائیکورٹ، سٹی سول کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے انکے حق میں ہونے کے باوجود وقف بورڈ کچھ نہ کچھ مسائل پیدا کرتا ہے جبکہ پورے ہندوستان میں یہ واحد مثال ہے وقف بورڈ کی امداد کے بغیر کرائے دار نے عمارتیں بنائی ہیں۔ اور وقف بورڈ آج سے تیس سال قبل گورنمنٹ گزٹ میں تفصیل شائع کیا ہے اسکے باوجود جو بھی وقف بورڈ کو 1980سے وقف فنڈ ادا کیا جارہا ہے اور پانچ چھ سال قبل انہو ں نے مجلس شوریٰ دستی پارچہ بافی حرمین شریفین سے استعفیٰ دیدیا۔ اس کے بعد وقف بورڈ کوکسی بھی مسئلہ میں موجودہ سکریٹری سے سوال جواب کرنا چاہیے۔عارف الدین صاحب نے بتایاکہ 1977ء سے 1980تک وقف بورڈ کے خلاف تحریک چلائی گئی تھی اس دوران ایک صیانت اوقاف کمیٹی بنائی گئی تھی۔جناب جلیل احمد کو صدر اور انہیں سکریٹری و کنوینر بنایا گیا تھا کمیٹی میں سالارِ ملت جناب سلطان صلاح الدین اویسی صاحب مرحوم، جسٹس شاہ محمد قادری، جناب شمس الدین علی خان شامل تھے۔ مسٹر وینگل راؤ کے زمانے میں وقف بورڈ کو تحلیل کردیا گیا تھا کیونکہ وقف جائیدادوں کو بیچا جارہا تھا ۔


مدینہ تعلیمی اداروں میں دینی ماحول

        جناب کے ایم عارف الدین صاحب نے بتایاکہ مدینہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی کردار سازی کی جاتی ہے انہیں دینی معلومات بتائے جاتے ہیں اور پرائمری اسکول کے بچوں کو تجوید کے ساتھ ناظرہ قرآن مجید پڑھایا جاتا ہے اور طلباو طالبات کیلئے علحدہ علحدہ نماز گاہیں موجود جس میں پابندی سے ڈسپلن کے ساتھ نماز ادا کروائی جاتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ مدینہ تعلیمی اداروں کے قیام کے بعد مسلمانوں میں تعلیمی شعور بیدار ہوا اور کئی کالجس وجود میں آئے۔ ابتداء میں داخلوں کیلئے بڑے جھگڑے ہوا کرتے تھے اب یہ سلسلہ تھم چکا ہے کیونکہ گلی گلی میں اسکولس اور دیگر تعلیمی ادارے قائم ہوچکے ہیں بہت ساری مسلمان ذاتی اسکولوں کا قیام اور معیاری تعلیم دے رہے ہیں اس طرح مسلمان تعلیم میں آگے آرہے ہیں بالخصوص لڑکیاں تعلیمی میدان میں سبقت لے جارہے ہیں۔ جناب عارف الدین نے بتایا کہ عصری اور اعلیٰ تعلیم کے باوجود دیکھنے میں آرہا ہے کہ بچے اور بچیاں بگڑرہے ہیں، ادب و اخلاق نہیں کے برابر ہوگیا ہے اسکی وجہ اسمارٹ فون، سوشل میڈیا بتائی۔ انہوں نے کہا کہ اس پر کنٹرول کرنے کی اشد ضرورت ہے یہ کام مساجد کے پلیٹ فارم سے کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر مساجد کے ائمہ کرام اور دیگر انتظامی امور کے نگرانوں کو توجہ دلائی کہ وہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے دیئے جانے والے اسکیمات سے عوام خصوصاً مسلمانوں کو واقف کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے قیام سے مسلمانوں کو کئی طرح کے فائدے حاصل ہورہے ہیں سب سے بڑا کام چیف منسٹر نے اقامتی اسکولس قائم کرکے کیا ہے۔ اب ان اسکولوں میں داخلے کیلئے مساجد بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوسکتے ہیں۔ 


ذرا غور کیجئے

        جناب کے ایم عارف الدین صاحب ”ذرا غورکیجئے“ کالم 1986سے لکھ رہے ہیں جو روزنامہ منصف، روزنامہ رہنمائے دکن اور ہفتہ روزہ گواہ میں شائع ہوتا ہے۔ اس کالم کے ذریعہ ملت میں موجود انتشاری کیفیت کو دورکرنا، ملت کی تعلیمی و معاشی ترقی کے لئے فکر دلانے کے علاوہ مختلف موضوعات پر مسلمانوں کی توجہ مرکوز کرانا ہوتا ہے۔ 


محسنوں کی یاد

        مدینہ ایجوکیشن اینڈ ویلفیر سوسائٹی کی جانب سے ہر سال ماہِ ربیع الاول میں جلسہ میلاد النبی ﷺ منایا جاتا ہے اور سوسائٹی کو قائم کرنے والے اپنے محسنوں کی یاد منائی جاتی ہے۔اس موقع پر قرآن خوانی رکھی جاتی ہے اس کے بعد طعام کا انتظام رہتا ہے۔ اسی طرح ماہِ صیام رمضان المبارک میں بھی اسکول اور کالج میں قرآن خوانی کی جاتی ہے۔ 


جناب کے ایم عارف الدین صاحب کی روزانہ مصروفیات:

        صبح گیارہ بجے سے دو بجے تک نامپلی ایجوکیشن سوسائٹی اور دو بجے سے چھ بجے تک حیدرگوڑہ کالج میں رہتے ہیں۔ پھر ساڑھے سات بجے سے رات 9تا ساڑھے نو بجے تک نامپلی میں گزارتے ہیں۔ اس دوران وہ تمام تعلیمی اداروں کا جائزہ لیتے ہیں اور طلبا و طالبات اور سرپرستوں سے بھی ملاقات کرتے ہیں۔ ان تمام مصروفیات کے ساتھ ساتھ انکی دس تا بارہ کتابیں مختلف موضوعات پر انگریزی میں شائع ہوچکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ انکے مقاصد کی تکمیل فرماتے ہوئے انکی سعی کاملہ کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور دین و دنیا کی بہترین نعمتوں سے سرفراز فرماتے ہوئے صحت و عافیت کے ساتھ درازی عمر عطا فرمائے۔ آمین