MY COLUMN

مولانا میر قطب الدین علی چشتی بانی ومہتمم جامعہ انوار الہدیٰ

 


ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

جوائنٹ ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی 

        مولانا میر قطب الدین علی چشتی بانی ومہتمم جامعہ انوار الہدیٰ حیدرآباد دینی و علمی حلقوں میں محتاجِ تعارف نہیں ہیں۔ مولانا میر قطب الدین علی چشتی، جناب میر ابراہیم علی صاحب کے فرزند اور جناب سید میر علی ناظم تعمیرات (چیف انجینئر) کے نبیرہ ہیں جن کی نگرانی میں عثمانیہ ہاسپٹل تعمیر ہوا۔ آپ کی ولادت 22/ مارچ 1936ء کو حیدرآباد میں ہوئی۔ آپ کی ابتدائی و تحتانوی تعلیم مغل پورہ اسکول میں ہوئی اور سٹی کالج میں ہائی اسکول و انٹر میڈیٹ کرنے کے بعد عثمانیہ یونیورسٹی سے 1956ء میں بی ایس سی کی تکمیل کی۔ دارالعلوم دیوبند سے فاضل دینیات ہیں۔ آپ نواب محمد محی الدین جاگیردار کنڈا پور کے نواسے ہوتے ہیں۔ مولانا میر قطب الدین علی چشتی سلسلہ چشتیہ میں اپنے حقیقی چچا حضرت درویش میر شبیر علی چشتی ؒ جو حضرت مچھلی والے شاہؒ کے سلسلہ سے ہوتے ہیں کے ہاتھ پر بیعت کی اور خلافت و جانشینی سے نوازے گئے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے1958ء میں بھینسہ ہائی اسکول میں فرسٹ اسسٹنٹ کی حیثیت سے خدمات کا آغاز کیا یہاں سے کاغذنگر، سرپور تبادلہ ہوا۔ بھینسہ اور کاغذنگر میں اسکول میں خدمات انجام دیتے ہوئے دینی تعلیم کی اشاعت کا آغاز کیا۔مولانا میر قطب الدین علی چشتی کا دینی رجحان اور پیرو مرشد کی تربیت نے انہیں اشاعت دین کی ترغیب دی اس طرح آپ بھینسہ میں دارالعلوم بھینسہ اور کاغذنگر میں بیت العلوم کے نام سے دینی مدرسہ کی بنیاد رکھی اورالحمد للہ ان دومقامات پر آج بھی آپ کے قائم کئے ہوئے مدرسے مقامی کمیٹی کے تحت کام کررہے ہیں۔


        مولانا میر قطب الدین علی چشتی نے ۳۲/ شعبان المعظم۴۹۳۱ ھ مطابق 7/ ستمبر1974ء میں دارالعلوم انوار الہدیٰ کا آغازکیا۔ دارالعلوم کا آغازانوار الہدیٰ ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت مسجد ےٰسین، محلہ سید علی چبوترہ، حیدرآباد کے صحن کے شمالی جانب ایک ہال میں حضرت علامہ حکیم محمد حسینؒ شیخ الحدیث وامیرجامعہ نظامیہ، حضرت مولانا رضوان القاسمیؒبانی دارالعلوم سبیل السلام اور حضرت قاری عبدالعلیم صاحب کے ہاتھوں مدرسہ کا افتتاح عمل میں لایا۔ ابتداء میں شعبہ ناظرۃ اور شعبہ حفظ قائم کیا گیا۔ 1976ء میں ندی موسیٰ گوڑہ، کشن باغ، بہادر پورہ، حیدرآباد میں پانچ ہزار گز پر مشتمل زمین خریدکر مدرسہ کو منتقل کیا گیا، اراضی کی خریدی کے بعد ابتداء میں ایک عارضی ہال تعمیر کیا گیا جس میں تعلیم کاآغا ہوا، رفتہ رفتہ تعمیرات کا دور شروع ہوااور الحمد للہ آج جامعہ انوار الہدیٰ تین تین منزلوں پر مشتمل دو عمارتوں اور ایک مسجد وسیع الرقبہ پر مشتمل ہے۔ جامعہ کی ایک لائبریری ”ابوہریرہ لائبریری“ کے نام سے موسوم ہے جس میں دینی کتب کا کافی بڑا ذخیرہ ہے۔ ابتداء میں نورانی قاعدہ، ناظرہ اور حفظ القرآن مجید کی جماعتیں قائم کی گئیں اور پھر حسبِ ضرورت ان جماعتوں میں اضافہ کیا گیا یعنی پرائمری کی ابتدائی جماعتیں قائم کی گئیں اور رفتہ رفتہ درسِ نظامی کی جماعتوں کا آغاز بھی ہوا۔ مولانامیر قطب الدین علی چشتی کے قائم کئے ہوئے اس ادارے میں اب الحمد للہ لڑکے اور لڑکیوں کیلئے شعبہئ عربی اول تا دورہئ حدیث اور افتاء تک کی جماعتیں قائم ہیں۔ طلبا کیلئے دینی تعلیم کے ساتھ کمپیوٹر اور طالبات کیلئے دینی تعلیم کے ساتھ ٹیلرنگ اور کمپیوٹر کا کورس بھی رکھا گیا ہے۔ مولانا میرقطب الدین علی چشتی کی خصوصی دلچسپی رہی ہے کہ جامعہ انوار الہدیٰ میں طالبات کو دینی تعلیم سے آراستہ کریں کیونکہ ماں کی گودبچے کیلئے پہلی درسگاہ ہوتی ہے یہیں سے نسلیں بن سنور کر نکلتی ہیں۔جامعہ میں تقریباً لڑکے اور لڑکیوں کی کل تعداد 700کے قریب ہے جن میں لڑکیوں کی تعداد 500کے لگ بھگ ہے، کم و بیش دوسو لڑکوں میں 100لڑکوں کو اقامت کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جامعہ میں تعلیم حاصل کرنے والے تمام طالبات کو ناشتہ اور دوپہر کا کھانا مفت دیا جاتا ہے اس کے علاوہ شعبہ عا لمیت کے تمام طالبات کو کتابیں، کپڑے اور ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے۔ لڑکیوں کیلئے فری ٹرانسپورٹ کی سہولت ہے جس سے تقریباً سو لڑکیاں استفادہ حاصل کرتی ہیں۔ جامعہ انوار الہدیٰ کے تحت مزید مدارس دینی خدمات انجام دے رہے ہیں ان تمام مدارس میں پڑھنے والے طلبا و طالبات کی تعداد تقریباً1500ہے۔ 


        جامعہ کے تحت مزید دو مدرسے، لڑکیوں کے لئے ”گلشن فاطمہ للبنات“، شاہین نگر اورلڑکے و لڑکیوں کیلئے”گلشن مدینہ“، محمد آباد، 9نمبر پر قائم ہیں ان دونوں مدارس میں شعبہ ناظرہ، حفظ قرآن مجید و شعبہ عالمیت قائم ہے۔ اس کے علاوہ ملحقہ مدارس میں لڑکے اور لڑکیوں کیلئے ”افضل العلوم“ شاہین نگر، لڑکیوں کا اقامتی مدرسہ”ہدایت اللبنات، شاہین نگر، حیدرآباد، اقامتی مدرسہ ”گلشنِ فاطمہ للبنات“ سرپور، کاغذ نگر،لڑکے اور لڑکیوں کا اقامتی مدرسہ”دارالعلوم محمدیہ“ کاغذنگر قائم ہیں۔ جامعہ سے ملحقہ ان تمام مدارس کوجامعہ کی سوسائٹی کی جانب سے ماہانہ امداد دی جاتی ہے۔ مولانا میر قطب الدین علی چشتی جو خود عثمانیہ یونیورسٹی کے گرائجویٹ ہیں آپ ایک بہترین ممتازماہر تعلیم بھی ہیں۔ مولانادینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کی تعلیم حاصل کرنے والے طلباو طالبات کیلئے بھی ادارے قائم کئے ہیں اس سے بھی ہزاروں طلبا و طالبات استفادہ کررہے ہیں۔آپ نے شاہین نگر، حیدرآباد میں انگلیش میڈیم کا معیاری اسکول Shine Model Schoolقائم کیا جس میں تقریباً 1500طلباو طالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ الحمد للہ اس سال بھی اسکول کے ایس ایس سی کا نتیجہ صدر فی صد رہا اور 80فیصد سے زائد طلبہ درجہ اول میں کامیابی حاصل کئے ہیں۔ اسی طرح Twinkal Star Public Schoolبھی تین سال قبل قائم کیا گیا۔انگریزی مدارس میں فیس لی جاتی ہے جبکہ دینی مدارس میں کوئی فیس نہیں لی جاتی اور یہ اہل خیر حضرات کے تعاون سے کامیابی کی طرف رواں دواں ہیں۔ جامعہ انوار الہدیٰ کا سالانہ بجٹ ایک کروڑ ہے جو صرف اور صرف اہل خیر حضرات کے تعاون سے تکمیل پاتا ہے۔ مولانا میر قطب الدین علی چشتی 1958ء میں رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے اور الحمد للہ انہیں چار فرزند اور تین صاحبزادیاں ہیں۔ تمام لڑکے و لڑکیاں دینی ماحول میں تعلیم حاصل کرچکے ہیں اور اب جامعہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بڑے صاحبزادے مولانا حافظ سید نصیر الدین علی چشتی جامعہ کے معتمد اور داعیئ اسلام ہیں جو گرایجویٹ ہیں جنہیں سسنکرت اور ہندی زبان میں بہترین عبور حاصل ہے آپ دین کی تبلیغ و اشاعت میں شب روز لگے ہوئے ہیں۔ دوسرے صاحبزادے مولانا سید نظام الدین علی چشتی ہیں جو جامعہ کے فاضل ہیں اورجامعہ میں آپ ناظم مطبخ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تیسرے فرزند مولانا سید نور الدین علی چشتی فاضل جامعہ ہیں اورحیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی سے ایم اے اردوکرچکے ہیں آپ جامعہ کے صدر مدرس اور عصری مدارس کے انچارج ہیں۔ چوتھے فرزند مولانا مفتی حافظ سید معراج الدین علی ابرارجودارالعلوم سبیل السلام حیدرآباداور جامعہ انوار الہدیٰ کے فارغ ہیں۔تین صاحبزادیوں میں دو صاحبزادیاں جامعہ کے شعبہ نسواں میں ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔ جبکہ ایک لڑکی شکاگو، امریکہ میں مقیم ہیں وہ بھی وہاں پردینی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ مولانا میر قطب الدین علی چشتی نے اپنے افرادِ خاندان کو جس طرح تبلیغ اشاعت دین کی خدمات کیلئے وقف کیا ہے یہ قابلِ تحسین اور قابلِ تقلید ہے۔ بانی و مہتتم جامعہ مولانامیر قطب الدین علی چشتی تقریباً 30سال تک مسجد ابراہیم خلیل اللہ،بہادر پورہ، حیدرآباد میں جمعہ کے روز خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ آپ کا جامعہ میں لڑکوں کیلئے ہر روز بعد نماز ظہر پندرہ منٹ کا خصوصی ہدایات پر مشتمل درس ہوتا ہے اسکے علاوہ ہر جمعہ لڑکیوں کیلئے1بجے تا 2بجے دوپہر درس تصوف کی تعلیم ہوتی ہے۔ آپ مختلف عنوانات کے تحت کتابیں شائع کئے ہیں جن میں انوار چہل حدیث، انوار نماز، انوار روزہ و زکوٰۃ اور انوار حج و عمر شامل ہیں۔ آپ اپنے پیرو مرشد کی تصوف پر مشتمل کتابیں ”علم الٰہیات“کی دوبارہ طباعت عمل میں لائی۔مولانا نائب صدر دینی مدارس تلنگانہ و آندھراپردیش، نائب صدر یونائٹیڈ مسلم فورم اور دیگر تنظیموں کے ذمہ دار بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی ملت اسلامیہ کیلئے خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرماتے ہوئے مزید خدمات کیلئے صحت و تندرستی کے ساتھ درازی عمر عطا فرمائے۔ آمین۔


مفتی حافظ سید معراج الدین علی ابرار 

        مولانا مفتی حافظ سید معراج الدین علی ابرار جو ناظم تعلیمات جامعہ و استاذ الحدیث ہیں۔مفتی ابرار 18/ ستمبر1971ء کو یعنی شب معراج پیدا ہوئے۔ شبِ معراج کی مناسبت سے آپ کا نام معراج الدین رکھا گیا۔ آپ 12سال کی عمرمیں حفظ قران مجید کی تکمیل کی اور تکمیل حفظ کی سند حاصل کرنے کے بعد والد محترم کو سند پیش کی جس پر مولانا میر قطب الدین علی چشتی نے اپنے اس ہونہار فرزند حافظِ قرآن سے کہا کہ مجھے آپ مکمل حفظِ قرآن مجید سنائیے تاکہ مجھے آپ کے حافظِ قرآن ہونے کا یقین ہوجائے۔والد ماجد کے کہنے پر یہ معصوم سا لڑکا مکمل قرآن مجید سنانے کی سعادت حاصل کرکے والد بزرگوار سے دعائیں لیں۔ حفظ قرآن کی تکمیل کے بعدحافظ سید معراج الدین علی ابرار کی دینی تعلیم کا آغاز ہوا۔ ابتداء تا فضیلت تک کی تعلیم جامعہ انوار الہدیٰ اور دارالعلوم سبیل السلام حیدرآباد میں ہوئی۔ 1997ء میں انوار الہدیٰ سے فضیلت کی تکمیل اور 1998ء میں سبیل السلام میں دور حدیث کی تکمیل کی۔ مولانا سید معراج الدین علی ابرارکو جامعہ انوار الہدیٰ کے شعبہ فضیلت کے پہلے بیاچ اور شعبہ افتاء کے آغاز کے پہلے سال یعنی 1999ء میں مفتی کورس کرنے کا موقع ملا، اس طرح وہ جامعہ انوارالہدیٰ کے پہلے بیاچ کے فاضل اور مفتی ہیں۔ انہوں نے فارن لینگویجس میں اڈوانس ڈپلوما کے علاوہ بی اے کی تکمیل کی۔ 2000ء میں عثمانیہ یونیورسٹی سے اسلامک اسٹڈیز سے ایم اے میں امتیازی کامیابی کی اس کے علاوہ ایم اے عربی اور ایم اے اردو میں بھی عثمانیہ یونیورسٹی میں امتیازی کامیابی حاصل کئے۔ مولانا مفتی ابرار اپنے ذوق وشوق اور محنت و جستجو سے دینی و عصری تعلیم حاصل کرتے ہوئے ملتِ اسلامیہ کیلئے بہترین سرمایہ افتخار بن گئے۔امارت شرعیہ ہند دہلی سے قضاعت (قاضی شریعت) کی تکمیل کرکے سند حاصل کئے۔ تعلیم سے فراغت کے پہلے سال والد صاحب کے خواہش اورانکی دعاؤں کے نتیجے میں مشکوٰۃ شریف پڑھانے کی سعادت حاصل کی اسی طرح دوسرے سال مسلم شریف پڑھانے کاانہیں اعزاز حاصل ہوا۔جب وہ ابتداء میں درسِ حدیث دینے لگے تومولانا قطب الدین صاحب خود انکے درسِ حدیث میں شریک ہوتے۔ مولانا مفتی سید معراج الدین ابرار بتاتے ہیں کہ اس طرح والد صاحب کی دعاؤ ں کا اثر ہیکہ گذشتہ پندرہ برس سے پابندی کے ساتھ صحاح ستہ کی تینوں کتابیں ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ زیر درس ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں ناظمِ تعلیمات ہونے کی وجہ سے درس نظامی کی کئی کتابیں پڑھانے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ مولانا مفتی معراج الدین علی ابرار گذشتہ 25سال سے مسجد قطب شاہی برکت پورہ میں نمازجمعہ سے قبل خطابت کے فرائض بحسن خوبی انجام دے رہے ہیں آپ کی تقریر سننے کیلئے شہر کے دور دراز علاقوں سے لوگ تشریف لاتے ہیں۔ اسی طرح وہ گذشتہ تین سال سے اتوار کی صبح7/ بجے تا 8/ بجے، گنبدانِ قطب شاہی کی مسجد میں درس قرآن دیتے ہیں اور الحمد للہ یہ سلسلہ گذشتہ 477ہفتوں سے جاری ہے۔ درس قرآن کا آغاز مولانامیر قطب الدین علی چشتی صاحب کی جانب سے ہوا، لوگ چہل قدمی کی غرض سے صبح سویرے گنبدان قطب شاہی آتے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مولانا میر قطب الدین علی چشتی نے چہل قدمی کو آنے والے مرد و خواتین کو مختلف عنوانات کے تحت ابتداء میں گنبد کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر درس دیتے تھے اور الحمد للہ آپ کے والد صاحب کی جانب سے شروع کیا گیا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے البتہ اب یہ سلسلہ گنبدانِ قطب شاہی کی سیڑھیوں کے بجائے مسجد قطب شاہی میں جاری ہے، درسِ قرآن میں شریک مردو خواتین کو سوالات کا موقع بھی دیا جاتا ہے اور انہیں اسکے تشفی بخش جوابات دیئے جاتے ہیں۔ مولانا مفتی حافظ سیدمعراج الدین علی ابرار جامعہ کی اہم ذمہ داری نبھانے کے ساتھ ساتھ معاشرہ کی اصلاح کیلئے حیدرآباد کے علاوہ ملک وبیرون ملک دینی جلسوں سے خطاب فرماتے ہیں۔ وہ آفریقہ، یورپ، ایشیاء اور امریکہ یعنی چار براعظموں کے ممالک کا دعوتی اسفیار (سفر) کرچکے ہیں اور آپ کا دعوت و تبلیغ کا یہ سلسلہ بھی جاری ہے۔ الحمد للہ مولانا معراج الدین صاحب تین مرتبہ حج کی سعادت حاصل کرچکے ہیں اس کے علاوہ آپ کئی مرتبہ عمرہ اور زیارتِ روضہئ رسول ﷺ کی حاضری کیلئے حرمین شریفین کا سفر کئے ہیں۔ وہ پرسنل لا بورڈ کی ”دین دستور بچاؤ تحریک“ کے سرگرم رکن ہیں جس کے تحت تحفظ شریعت و اصلاح معاشرہ کے کئی جلسوں سے خطاب فرماچکے ہیں۔ جمعیت العلماء گریٹر حیدرآبادکے نائب صدر، دینی مدارس بورڈ تلنگانہ و آندھراپردیش کے رکن، مجلس علمیہ تلنگانہ و آندھرا پردیش کے رکن شوریٰ ہیں۔ مفتی معراج الدین ابرار کی اعتدال پسندی کی وجہ، انہیں شہر کے ہر طبقہ کے لوگ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انہیں تقاریر کیلئے مدعو کرتے ہیں۔ جامعہ انوار الہدیٰ کا علمی، اصلاحی و دعوتی ترجمان بھی شائع ہوتا ہے۔ مولانا مفتی ابرار مجلہ انوار الہدیٰ کے مدیر ہیں جن کے مضامین اور اداریوں کی تحریر سے انکے قلم کی چاشنی بھی نمایاں ہوتی ہے۔ مفتی سید معراج الدین ابرار 1992ء میں رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے آپ کی دو صاحبزادیاں اور تین صاحبزادے ہیں۔ دونوں صاحبزادیوں کی شادی ہوچکی ہیں بڑی صاحبزادی ایم بی بی ایس، میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔ آپ کی اہلیہ صاحبہ خود جامعہ کی فاضلہ ہیں اور الحمد للہ وہ بھی شعبہ عا لمیت میں درس و تدریس سے منسلک ہیں۔ آپ کے تین فرزندوں میں ایک فرزند سید مصباح الدین حافظ قرآن ہیں اور انٹر میڈیٹ کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اس طرح مولانا میر قطب الدین علی چشتی کا خاندان علمِ دین کی اشاعت و تبلیغ دین میں لگا ہوا ہے۔ جامعہ میں دینی خدمات کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر مولانا قطب الدین صاحب کے تمام فرزند تجارتی پیشہ سے وابستہ ہیں۔مولانامفتی حافظ سیدمعراج الدین علی ابرار جامعہ میں ناظمِ تعلیمات کے ساتھ ساتھ استاذ الحدیث بھی ہیں،آپ انفرادی طور پر غیر مسلموں میں دعوتِ تبلیغ کا کام بھی بحسن خوبی انجام دے رہے ہیں۔ الحمد للہ آپ کے ہاتھ پر کئی غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہوچکے ہیں۔ آپ دینی خدمات کے ساتھ ساتھ ذریعہ معاش کے لئے رئیل اسٹیٹ میں معیاری پیشہ تجارت سے وابستہ ہیں۔ جامعہ کی آمدنی اور اخراجات کے سلسلہ میں مفتی ابرار نے بتایاکہ جامعہ انوار الہدیٰ کا کوئی سفیر یا محصل نہیں ہے، اہل خیر حضرات خود اپنے اپنے طور پر معاشی اعانت کرتے ہیں اور ان ہی کے تعاون سے جامعہ ترقی کررہا ہے۔ الحمد للہ جامعہ سے فراغت پانے والے طلبا و طالبات ملک و بیرون ملک دینی و ملی خدمات انجام دے رہے ہیں۔


No comments:

Post a Comment