MY COLUMN

سعودی شاہ کا اہم فرمان ۰۰۰

 عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

سعودی شاہ کا اہم فرمان ۰۰۰ ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان وزیر اعظم مقرر

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

 



       سعودی عرب کی تاریخ میں ایک اہم ردِوبدل کرتے ہوئے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 27/ ستمبر 2022 کو شاہی فرمان جاری کرکے ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کوسعودی عرب کا وزیراعظم مقرر کیا ہے۔اس سے قبل وزیر اعظم کا عہدہ بادشاہ کے پاس ہوا کرتا تھا۔ شہزادہ محمد بن سلمان  اب سعودی کابینہ کے سربراہ  ہونگے۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اسی روز متعدد شاہی فرامین جاری کرتے ہوئے کابینہ میں ردوبدل کیا  ہے۔ نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کو وزیر دفاع مقرر کیا گیا ہے جبکہ طلال بن عبداللہ بن ترکی العتیبی معاون وزیر دفاع ہونگے۔شاہی فرمان کے مطابق ’شہزادہ محمد بن سلمان ولیعہد اور وزرا کونسل کے سربراہ ہونگے۔‘ ایک فرمان میں وضاحت کی گئی ہے کہ وزرا کونسل کے جن اجلاسوں میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز خود شریک ہونگے ان کی صدارت وہ خود کرینگے۔خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی نئی وزرا کونسل کی تشکیل کے مطابق وزیرتعلیم ڈاکٹرحمد بن محمد آل الشیخ کی جگہ یوسف بن عبداللہ بن محمد البنیان کو نیا وزیر تعلیم مقرر کیا گیا ہے۔ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف بن عبدالعزیز وزیر داخلہ،شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ وزیر خارجہ، شہزادہ عبداللہ بن بندر بن عبدالعزیز وزیر نیشنل گارڈز،  ڈاکٹر توفیق بن فوزان الربیعہ وزیر حج و عمرہ کے علاوہ دیگر وزارتوں پر وزراء کو مقرر کیا گیا ہے۔شہزادہ محمد بن سلمان کے وزیر اعظم سعودی عرب کی حیثیت سے مقرر کئے جانے پر عالمی سطح پر انہیں مبارکبادی کے پیامات موصول ہورہے ہیں اور انہیں تہنیت پیش کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا جارہا ہے کہ وہ سعودی عرب کو مزید بلندیوں پر لے جائیں گے۔ 

        متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے وزیراعظم مقرر کرنے پر ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے شاہی فرمان کو سراہا اور اسے حکمتِ عملی پر مبنی فیصلہ قرار دیا۔امارات کے نائب صدر و دبئی حکمراں شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے بھی شہزادہ محمد بن سلمان کو مبارکباد پیش کی۔بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے ولیعہد کو تہنیتی پیغام روانہ کیا اور اپنے مکتوب میں شاہ بحرین نے اس یقین کا اظہار کیا کہ شہزادہ محمد بن سلمان شاہی اعتماد پر پورا اتریں گے نیز سعودی عرب کو ترقی کی نئی بلندیوں پر لے جائیں گے۔ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور فوجی سربراہ باجواہ نے بھی محمد بن سلمان کو وزیر اعظم مقرر کئے جانے پر مبارکبادپیش کی۔

افغانستان میں لڑکیوں او رخواتین کی تعلیم کیلئے نائب وزیر خارجہ کی درخواست

افغانستان کے حالات انتہائی خراب ہوچکے ہیں معاشی اعتبار سے اس وقت افغان طالبان کی حکومت پریشان کن صورتحال سے دوچار ہے۔ گذشتہ سال اگست میں امریکی اور نیٹو افواج کا تخلیہ اور اسکے بعد صدر اشرف غنی کا ملک سے فرار ہونا عالمی سطح پر حیرت ناک خبریں تھیں۔ بیس سال کے بعد افغانستان نے طالبان نے دوبارہ اقتدار حاصل کیا۔ طالبان کی حکومت آنے کے بعد افغانستان میں امریکہ نے افغانستان کے اثاثہ جات اور امدادی فنڈس کو معطل کردیا جس کی وجہ سے افغانستان معاشی طور پر نازک دوہرائے پر کھڑا ہے۔ افغان عوام انتہائی کسم پرسی کی زندگی گزار نے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ حالات کی سنگینی کا عالمی سطح پر اقوام متحدہ، امریکہ اور دیگر عالمی ممالک کو اندازہ ہے۔ افغانستان کے ساتھ ابھی تک کسی ملک نے سفارتی تعلقات مکمل طور پر قائم نہیں کئے ہیں۔ ان حالات میں افغانستان مستقبل قریب میں مزید سنگین حالات سے دوچار ہوسکتا ہے۔ طالبان حکومت میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم کا مسئلہ عالمی سطح پر اہم موضوع ہے، کیونکہ طالبان حکومت نے صرف پرائمری سطح تک لڑکیوں کی تعلیم کو جائز قرار دیا ہے جبکہ اعلیٰ و عصری تعلیم کے حصول کیلئے خواتین و لڑکیوں کو اجازت نہیں دی گئی ہے۔ اسی اثناء طالبان کے ایک سینئر اہلکار نائب وزیر خارجہ شیر محمد عباس ستانگزئی نے کابل میں طالبان کے ایک اعلیٰ اجتماع کے دوران درخواست کی ہیکہ وہ لڑکیوں کیلئے تمام سیکنڈری اسکولوں کو مزید تاخیر کے بغیر دوبارہ کھول دے۔ ان کا کہنا تھاکہ اسلام میں خواتین کی تعلیم پر کوئی پابندی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر اسکول نہ کھولے گئے تو ان لڑکیوں کیلئے تعلیم کے حصول کا کوئی اور راستہ نہیں ہے کیونکہ بیشتر کا تعلق ایسے خاندانوں سے ہے جہاں کوئی بھی تعلیم یافتہ نہیں ہے۔اسکول نہیں کھولے گئے تو وہ کہاں اور کس جگہ پڑھ سکتی ہیں کیونکہ ان کے والد، بھائی، شوہرناخواہ ہیں۔جیسا کہ اوپر بتایا جاچکا ہے کہ گذشتہ سال طالبان حکومت کے اقتدار حاصل کرنے کے بعد،طالبان نے چھٹی جماعت سے آگے کی تمام کلاسز کی لڑکیوں کو اسکول واپس آنے سے روک دیا تھا، اور اس اقدام کیلئے مذہبی اصولوں کو جواز کے طور پر پیش کیا تھا۔ نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ تعلیم بغیر کسی امتیاز کے مرد اور عورت دونوں پر فرض ہے۔ یہاں موجود عالم دین میں سے کوئی بھی اس فرض سے انکار نہیں کرسکتا۔ انکا مزید کہنا تھاکہ کوئی بھی شریعت کی بنیاد پر خواتین کے تعلیم کے حق کی مخالفت کا جواز پیش نہیں کرسکتا۔ واضح رہے کہ طالبان نے گذشتہ ماہ اگست میں ہمت اخوندزادہ کو قائم مقام وزیر ِ تعلیم مقرر کیا تھا۔نئے وزر تعلیم کا کہنا ہیکہ وہ شرعی قوانین کی حدود میں رہتے ہوئے لڑکیوں کی تعلیم کیلئے پُر عزم ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے طالبان حکومت پر زور دیاجارہا ہے کہ وہ لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم کیلئے اسکول دوبارہ کھولیں۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران دس(10)لاکھ سے زائد لڑکیوں کو مڈل اسکول اور ہائی اسکول جانے سے روک دیا گیا ہے۔اب دیکھنا ہے کہ نائب وزیر خارجہ کی جانب سے کیگئی درخواست کو طالبان حکومت کس زاویہ سے دیکھتی ہے اور کیا فیصلہ کرتی ہے۰۰۰

افغان حکومت اور روس کے درمیان بہتر تعلقات کیلئے اقدام

افغانستان میں طالبان حکومت ملک کی سنگین معاشی حالت کو بہتر بنانے کیلئے پُر عزم دکھائی دیتی ہے اور اس سلسلہ میں عالمی سطح پر پیشرفت کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق گذشتہ دنوں طالبان حکومت نے روس کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کی ہے۔ تاکہ اپنے عوام کی خوراک اور ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے روس سے گندم اور تیل خرید سکے۔ رعایتی نرخوں پر گندم کے اس معاہدے سے طالبان حکومت کو اپنے عوام کیلئے خوراک کے مسائل کم کرنے کا موقع ملے گا، نیز علاقائی تجارت کو بھی فروغ ملے گا۔وزیر تجارت و صنعت عبدالسلام جواد اخوندزادہ نے اس سلسلہ میں بتایا کہ ’اس معاہدےکے تحت گیس، ڈیزل، روس سے آسکے گا جو کم قیمت کی بنیاد پرمل سکیں گے۔‘ کسی ملک کے ساتھ طالبان حکومت کا یہ اب تک کا سب سے بڑا باضابطہ تجارتی معاہدہ ہے جوانکی حکومت قائم ہونے کے ایک سال بعد ہوا ہے۔وزیر تجارت و صنعت نے کہا 'تیاری جاری ہے تاکہ گندم اور دیگر اشیا کی ترسیل ممکن ہو سکے۔ یہ سب سے بڑی ڈیل ہے۔ ان میں سے تیل اور ڈیزل ایک ملین ٹن کی مقدار میں شامل ہونگے۔ جبکہ پانچ لاکھ ٹن پترولیم گیس کی درآمد ہو گی۔’انہوں نے گندم کے بارے میں بتایا یہ دو ملین ٹن ہو گی اور ہر سال آتی رہے گی۔ گندم کا یہ معاہدہ غیر معینہ مدت کیلئے بتایا جارہا ہے۔ اخوند زادہ نے مزید کہا کہ روسی حکومت کے ساتھ طویل مدت کے مزید کئی معاہدات ہونگے۔ واضح رہے اس معاہدے سے پہلے طالبان کے وزیرتجارت ایک ماہ قبل روسی دورے پر گئے تھے۔طالبان حکومت نے ماہ جون میں ایران کے ساتھ 350000 ٹن کی پٹرولیم مصنوعات کا معاہدہ کیا تھا۔اب دیکھنا ہیکہ روس اور ایران کے ساتھ طالبان حکومت نے جو معاہدے کئے ہیں اس سے امریکہ پر کیا اثر پڑتا ہے اور وہ اپنی طالبان اقتدار کے خلاف پالیسی میں کس قسم کا بدلاؤ لاتا ہے۔

ایران میں مہسا امینی کی ہلاکت کے خلاف احتجاج میں شدت

            ایران میں 22سالہ مہسا امینی کو گذشتہ دو ہفتہ قبل تہران میں درست طور پر حجاب نہ پہننے پر اخلاقی پولیس نے حراست میں لیا تھا۔مہسا امینی کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ اخلافی پولیس نے ان پر بدترین تشدد کیا اور سر پر چوٹ لگنے کے باعث وہ دم توڑ گئیں۔ حراست کے دوران مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور اب  ایران کے 31صوبوں تک پھیل گیا ہے۔ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے ملک سے 31 صوبوں تک پھیل گئے مظاہروں سے ’فیصلہ کْن انداز میں نمٹنے‘ کا عزم کیا ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق بہت سے ایرانی شہری صدر رئیسی کا تعلق 1980 کی دہائی میں بڑے پیمانے پر ہونے والے سیاسی قتل عام کے ساتھ جوڑرہے ہیں۔ بتایا جاتا ہیکہ صدر ابراہیم رئیسی اس وقت ان چار ججوں میں شامل تھے جو خفیہ عدالتوں کا حصہ تھے اور ان عدالتوں نے بہت سے ایرانی شہریوں کو مختلف مقدمات میں موت کی سزائیں سْنائی تھیں۔جمعرات 29/ ستمبر کو ایران کے اسابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی کی بیٹی فائزہ ہاسشمی کو مظاہرین کو ”ہنگاموں پر اُکسانے‘ کے الزام میں گرفتار کیا گیاہے۔ گرفتاری سے قبل فائزہ ہاشمی نے بتایا تھاکہ ایرانی حکومت احتجاج کرنے والوں کو دبانے کیلئے انہیں ’فسادی‘ اور ’باغی‘ قرار دے رہی ہے اور اسی بنیاد پر ان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ فائزہ ہاشمی کے بیان کی آڈیو ریکارڈنگ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہیکہ ”فائزہ ہاشمی کہہ رہی ہیں کہ: حکام کیا ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ یہ احتجاج نہیں ہے بلکہ فساد ہے، لیکن حقیقت یہی ہیکہ یہ لوگ احتجاج کررہے ہیں“۔  ان کا مزید کہنا تھاکہ ’جنہوں نے احتجاج دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ اگر کسی نوجوان نے کچرے کو آگ لگائی تو اس کی وجہ آنسو گیس کا اثر کم کرنا تھا‘۔ ’اگر پولیس اہلکاروں کو ماررہے تھے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان پر حملہ کیا گیا اور دفاع میں وہ ایسا کررہے تھے‘۔ تعلیم کے شعبے سے وابستہ سینکڑوں افراد نے خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کے نام کھلا خط جاری کیا ہے جس میں انہو ں نے زور دیا ہیکہ وہ ایران میں خواتین اور کمزور طبقات کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے انکا ساتھ دیں۔ بتایاجاتا ہیکہ تعلیم کے شعبے سے وابستہ افراد کا تعلق یورپ، امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا ی یونیورسٹیوں سے ہے۔اس خط کے مطابق بتایا جارہا ہے کہ ’یہ ملک گیر احتجاج نہ صرف مہسا امینی کے قتل کے خلاف ہے بلکہ حکومت کے سخت گیر اقدامات کے خلاف بھی ہے‘۔ اس خط میں ایران حکومت کے خلاف جاری ملک گیر احتجاج کا ساتھ دینے کے لئے عوام سے اپیل کی جارہی ہے اس سے واضح ہوتاہیکہ ایران کے حالات اگلے چند دنوں میں مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ ایک طرف ابراہیم ریئسی کی حکومت احتجاجیوں سے سختی دکھائی دے رہی ہے تو دوسری جانب احتجاج میں بھی شدت پیدا ہوتے دکھائی دے رہی ہے۔ 

سعودی عرب میں پہلی وومن سائیکلنگ ریس

مملکت سعودی عرب نے پہلی وومن سائیکلنگ ریس کا اعلان کیا ہے جو رواں برس 14/ اکٹوبر کو ہوگی۔ سعودی آرگنائزیشن کے ماتحت لیڈیز کمیٹی کی چیئرپرسن شہزادی مشاعل بنت فیصل نے کہا ہیکہ‘یہ اعلان کہ مملکت میں خواتین کے درمیان سائیکلنگ کی پہلی ریس منعقد ہونے جارہی ہے ایسا تاریخی لمحہ ہے جسے برسوں یاد رکھا جائے گا‘۔ ذرائع کے مطابق یہ سائکلنگ کے مقابلے سات مراحل میں ہونگے۔ مقابلے کا کل فاصلہ 625کلو میٹر ہوگا۔ یہ مملکت کے سات مختلف علاقوں میں منعقد ہونگے۔شہزادی مشاعل نے اسپورٹس وزیر اور سعودی اولمپک کمیٹی کے سربراہ شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی الفیصل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انکی لامحدود مدد ہمیں حاصل ہے۔ سائیکلنگ کی سعودی آرگنائزیشن کے چیئرمین عبداللہ الوثلان کا بھی انہو ں نے شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ انکی بدولت یہ کامیابی ملی اور وہ ہمارے اس مشن میں برابر حصہ لیتے رہے ہیں۔ سائیکلنگ ریس بھی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کا ویژن 2030کے تحت خواتین کو ہر شعبہ ہائے حیات میں حصہ دار بنانا ہے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ ویژن 2030کے تحت خواتین و لڑکیاں سعودی عرب کی ترقی میں اہم رول اداکررہی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ کئی مقامات پر شرعیت مطہرہ کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور سائیکلنگ ریس میں بھی خواتین ایسا لباس زیب تن کررہی ہیں جس سے انکی عریانیت ظاہر ہورہی ہے۔ اب دیکھنا ہے سعودی معاشرہ مملکت میں اسے کتنا سراہاتا ہے۔ ویسے شاہی حکومت کے خلاف آواز اٹھانا مشکل ہوچکا ہے اورڈرو خوف کی وجہ سے ویژن 2030کے تحت ہونے والے فواحش پر مبنی اقدامات کے خلاف سعودی عوام میں سرد جنگ جاری ہے۔

امریکی قید سے طالبانی کی رہائی ۰۰۰ قندھار ڈرامہ کا ری پلے

 عالمِ اسلام راؤنڈاَپ

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

  


    طالبان نے ایک امریکی انجینئر کی رہائی عمل میں لائی۔ جسے انہوں نے 2020 سے یرغمال بنائے رکھا تھا جبکہ اس رہائی کے بدلے میں امریکہ نے سنہ 2005 سے اپنی حراست میں رکھے گئے ایک افغان قبائلی رہنما یا مجرم کو رہا کیا ہے۔طالبان کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کے سابق افسر مارک فریرچ کو 19/ ستمبرپیر کے روز کابل ہوائی اڈے پر امریکہ کے حوالے کیا گیا۔بدلے میں طالبان کے اتحادی بشیر نورزئی کو طالبان کے حوالے کیا گیا۔ بتایا جاتا ہیکہ بشیر نورزئی منشیات کی اسمگلنگ کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکی انجینئر کی رہائی کے بدلے میں ’مشکل فیصلے کرنے‘ پڑے ہیں۔60 سالہ فریرچ کو طالبان نے افغانستان پر اگست 2021 میں دوبارہ قبضے سے ایک سال قبل یعنی 2020 میں اغوا کیا تھا۔مارک فریرچ گذشتہ دس سال سے سول انجینئر کے طور پر کابل میں رہ رہے تھے اور وہیں کام کرتے تھے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی انجینئر کے بدلے رہائی پانے والے بشیر نورزئی جب رہائی کے بعد افغان دارالحکومت واپس پہنچے تو ان کا ہیرو کی طرح استقبال کیا گیا، اور طالبان جنگجوؤں نے انکی کثرت سے گلپوشی کی۔بشیر نورزئی نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’ایک امریکی کے بدلے میری رہائی سے دونوں ممالک کے درمیان امن قائم ہو جائے گا۔‘بتایا جاتا ہے کہ نورزئی طالبان کے بانی ملامحمد عمر کے قریبی ساتھی اور دوست تھے اور انھوں نے 1990 کی دہائی میں طالبان کی پہلی حکومت کی مالی مدد کی تھی۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ وہ کوئی سرکاری عہدہ نہیں رکھتے تھے لیکن ’اسلحے سمیت مالی مدد فراہم کرتے تھے۔‘واضح رہے کہ بشیر نورزئی ہیروئن کی اسمگلنگ کے الزام میں 17 سال تک امریکی حراست میں رہ چکے ہیں۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ملک کے جنوب میں طالبان کے روایتی گڑھ صوبہ قندھار میں افیون کی کاشت کا ایک وسیع آپریشن چلایا۔سنہ 2005 میں ان کی گرفتاری کے وقت انھیں دنیا کے سب سے بڑے منشیات فروشوں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا، جو افغانستان کی نصف سے زیادہ منشیات کی برآمدات کو کنٹرول کرتے تھے۔سنہ 2008 میں انھیں نیویارک کی ایک عدالت نے 50 ملین ڈالر سے زیادہ کی ہیروئن امریکہ سمگل کرنے کی سازش کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

 


       ذرائع ابلاغ کے مطابق سنہ 2009 میں ایف بی آئی کی جانب سے ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا تھا کہ مقدمے کی سماعت کے دوران پیش کیے گئے شواہد کے مطابق، افغانستان کے سب سے بڑے اور بااثر قبائل میں سے ایک قبیلے کے رہنما بشیر نورزئی، افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار میں افیون کے کھیتوں کے مالک تھے، اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں لیبارٹریوں میں افیون تیار کرتے تھے۔ان لیبارٹریوں سے ہیروئن کو بعد میں سوٹ کیسوں اور بحری جہازوں میں چھپا کر امریکہ میں درآمد کیا جاتا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ 1990 کے اوائل میں بشیر نورزئی کے پاس نیویارک شہر میں منشیات فروخت کرنے والوں کا ایک پورا نیٹ ورک تھا۔افغانستان پر روسی قبضے کے دوران بشیر نورزئی نے مجاہدین اور جنگجوؤں کی اپنی فوج تیار کی، اور منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی سے اسے مسلح کیا۔ روسی فوج کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد نورزئی نے مغربی قندھار پر حکومت کی اور اس دوران اپنی پولیس، سرحدی محافظ اور عدالتوں کا نظام قائم کیا جسے وہ خود کنٹرول کرتے تھے۔1980 کی دہائی میں نورزئی کی افغان طالبان رہنما ملامحمد عمر سے ملاقات ہوئی تھی، اس وقت دونوں ایک ہی مجاہدین کے دھڑے میں لڑ رہے تھے۔ جیسا کہ اوپر بتایا جاچکا ہے کہ 1990 کی دہائی کے وسط میں جب طالبان افغانستان میں اقتدار پر قابض ہوئے تب بشیر نورزئی نے قندھار میں اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے طالبان کے سربراہ قائد کا عہدہ حاصل کرنے میں ملا عمر کی مدد کی۔ذرائع ابلاغ کے مطابق اس کے بعدبشیر نورزئی نے طالبان کو اسلحہ فراہم کیا، جس میں اے کے۔47 رائفلیں، راکٹ سے چلنے والے گرینیڈ لانچرز، اور ٹینک شکن ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ گاڑیاں اور منشیات کی اسمگلنگ کی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ بھی شامل تھا۔ 2001 میں، جب امریکہ نے افغانستان میں فوجی آپریشن شروع کیا تو ملا عمر کی درخواست پر نورزئی نے طالبان کو مزار شریف میں افغانستان کے شمالی اتحاد کے خلاف جنگ لڑنے کیلئے اپنے 400 جنگجو فراہم کیے۔ایف بی آئی کے مطابق بشیرنورزئی کی جانب سے مالی اور دیگر مدد کے بدلے، طالبان نے انھیں اپنی منشیات کی اسمگلنگ والی سرگرمیوں کو بلا روک ٹوک جاری رکھنے کی اجازت دی۔ایف بی آئی کی پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ نورزئی اور اْن کے ساتھیوں نے طالبان کی جانب سے سنہ2000 میں افیون پر پابندی کے بارے میں پیشگی معلومات سے فائدہ اٹھایا، وہ اس معلومات کو استعمال کرتے ہوئے افیون کو بڑے پیمانے پر ذخیرہ کر چکے تھے اور پابندی کے بعد جب افیون کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو انھوں نے بعد میں زبردست منافع پر افیون فروخت کی۔دورانِ سماعت نورزئی کو اْن کے خلاف دونوں الزامات (ہیروئن اسمگل کرنے اور یہ جانتے ہوئے کہ یہ امریکہ میں درآمد کی جائے گی ہیروئن کو تقسیم کرنے کی سازش) کا قصوروار ٹھہرایا گیا۔اس وقت قائم مقام امریکی اٹارنی لیو ایل ڈیسن کا کہنا تھا کہ بشیر نورزئی کے دنیا بھر میں منشیات کے نیٹ ورک نے طالبان کی حکومت کی حمایت کی جس نے افغانستان کو بین الاقوامی دہشت گردی کی پناہ گاہ بنا دیا، یہ ایک ایسا ورثہ ہے جو خطے کو عدم استحکام کا شکار کر رہا ہے۔ اور انھیں دی جانے والی سزا نورزئی کے طویل مجرمانہ کیریئر کو یقینی طور پر ختم کر دے گی۔‘

        ادھر امریکی شہری انجینئر مارک فریرچ کی رہائی سے متعلق ان کی بہن شارلین کاکورا کا کہنا ہے کہ انکا خاندان مارک فریرچ کی واپسی کی امید نہیں چھوڑی تھی۔شارلین نے اپنے ایک بیان میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں بہت خوش ہوں کہ میرا بھائی محفوظ ہے اور وہ ہمارے پاس گھر واپس آرہا ہے۔انکا کہنا تھاکہ ہمارے خاندان نے ان کی واپسی کیلئے 31ماہ سے بھی زائد عرصہ سے ہر دن دعا کی ہے۔انکا کہنا تھاکہ ’بعض لوگ اس معاہدے کے خلاف بحث کر رہے تھے، لیکن صدرجو بائیڈن نے وہی کیا جو درست تھا۔ انھوں نے ایک بے گناہ امریکی کی جان بچائی ہے۔‘فریرچ کے والد آرٹ فریرچ نے بھی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم یقینی طور پر بہت خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ بہت وقت گزر گیا ہے۔‘واضح رہے کہ بحریہ کے اس سابق افسر کا طالبان کے ہاتھوں اغوا امریکہ اور طالبان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے میں ایک بڑی رکاوٹ بنا رہا ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ  طالبان حکومت کو ابھی تک دنیا کے کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا ہے۔صدرجو بائیڈن نے جنوری میں کہا تھا: ’اگر طالبان چاہتے ہیں کہ اْن کی حکومت کو تسلیم کرنے پر غور کیا جائے تو انھیں مارک کو فوری طور پر رہا کرنا چاہیے۔ اس کے بغیر کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔‘طالبان کے ہاتھوں بنائے گئے امریکی شہری کی رہائی کے بعد افغانستان میں موجود مزید امریکی شہریوں کو جو گرفتار کئے گئے یا یرغمال بنائے گئے انکی رہائی کے آثار بھی کھلتے دکھائی دے رہے ہیں اس سلسلہ میں قومی سلامتی کے ایک سابق اہلکار ایرک لیبسن، جنھوں نے فریرچ کے خاندان کی مدد کے لیے رضاکار کے طور پر کام کیا،ان کا کہنا ہے کہ صدرجو بائیڈن نے فریرچ کی رہائی کیلئے جو کچھ کیا ہے وہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ یرغمال بنائے گئے یا گرفتار کیے گئے دیگر امریکیوں کے لئے بھی ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرینگے۔‘لیبسن نے کہا کہ ’ان افراد کو امریکی ہونے کی بنا پر گرفتار کیا جا رہا ہے اور انھیں گھر واپس آنے کیلئے امریکی حکومت کی مدد کی ضرورت ہے۔‘امریکہ کے پاس اپنے ایک شہری کی اتنی اہمیت ہے تو اس کا مزید فائدہ اٹھانے کی افغان حکمراں طالبان کوشش کرینگے کیونکہ افغان عوام جن دنوں جن حالات سے دوچار ہے اسے دنیا جانتی ہے۔ معاشی بدحالی نے مستقبل قریب میں لاکھوں افغان شہریو ں کو ہلاکت کے دوہرائے پر لاکھڑا کردے گا جس کا اندازہ عالمی سطح پر سب کوہے اسی لئے اقوام متحدہ کئی بار امریکہ اور دیگر ممالک کو افغانستان کے مسئلہ پر توجہ دلائی ہے اورخطرہ کی گھنٹی کی طرف اشارہ کیا ہے اب دیکھنا ہیکہ مستقبل قریب میں ایسے اور کوئی گرفتار یا یرغمال بنائے شخصیتوں کے عوض مزید کسی قسم کا  فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بشیر نورزئی کی رہائی کے بدلے جس طرح امریکہ انجینئر کی رہائی عمل میں آئی ہے اس کے بعد امریکہ اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بہتری پیدا ہوگی یا پھر مزید اس میں بگاڑ پیدا ہوگا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کیونکہ امریکہ نے ایک ایسے شخص کی رہائی عمل میں لائی ہے جسے امریکی عدلیہ نے اسے مجرم قرار دیا تھا اور وہ جرم کی پاداش میں گذشتہ 17سال سے قید تھا ویسے بھیبشیر نورزئی کی حراست کے بعد جو مقدمہ دائر کیا گیا ہے اسمیں کتنی سچائی ہے اور حقیقت کیا ہے یہ طالبان اور امریکی محکمہ سراغساں ہی بہتر جاتے ہیں ۰۰۰ شاہد یہی وجہ ہیکہ دونوں جانب سے ایک اہم معاہدہ کی شکل میں دو زندگیوں کی الگ الگ رہائی انکے افراد خاندان اورچاہنے والوں کیلئے خوشی و طمانیت ہی نہیں بلکہ دیگر یرغمال و گرفتار مجرموں یا ملزموں کیلئے حوصلے پیدا کردیئے ہیں کہ مستقبل قریب میں انکی حکومتیں ایسے افراد کی رہائی کیلئے عملی اقدامات کرسکتی ہے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہیکہ اگر کوئی واقعی خطرناک مجرم ہے اور جس کی وجہ سے عام معصوم و قصور شہریوں کو کسی بھی قسم کا نقصان ہوا ہے یا ہوتا ہے، اورایسے مجرموں کی رہائی ادل بدل  معاہدوں کے تحت کی جاتی ہے تو اسکا اثر دنیا کے سامنے کس طرح پڑے گا۰۰۰

 درست حجاب نہ پہننے پر خاتون کی گرفتاری اور حراست میں موت۰۰ ایرانی صدر کے خلاف امریکہ میں مقدمہ درج کرانے کا اعلان

  


 
    ایران کسی نہ کسی وجہ سے ہمیشہ سرخیوں میں دکھائی دیتا ہے۔ گذشتہ ہفتے شمال مشرقی صوبے کردستان سے تعلق رکھنے والی 22سالہ مہساامینی اپنے افراد خاندان کے ساتھ تہران آئی تھی جہاں انہیں ایرانی پولیس نے درست طور پر حجاب نہ اوڑھنے پر گرفتار کیا تھا۔گرفتاری کے بعد مختلف شہروں میں احتجاج بھی ہوئے اور گذشتہ ہفتے کے دوران منظرعام پر آنے والی ویڈیوز پتہ چلتا ہیکہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ تہران یونیورسٹی کے باہر جمع ہیں اور خواتین کی زندگی اور آزادی کے حوالے سے نعرے لگا رہے ہیں۔مہسا امینی حراست کے دوران کومہ میں چلی گئی تھیں اور پھر انکے انتقال کی خبر نے ایران میں غم و غصے کی لہر پیدا کردی۔ مہساامینی کی موت کے بعد ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی کی آڑ میں خواتین کے خلاف کاروائیوں کو روکنے کے مطالبات ایک بار پھر منظرعام پر آنے لگے ہیں۔امینی کی موت کے بعد گریٹر تہران پولیس کے کمانڈر حسین امینی کا کہنا ہیکہ ایرانی پولیس کے خلاف بزدلانہ الزامات لگائے گئے ہیں۔ ہم یوم حساب تک اس پر انتظار کرینگے،لیکن ہم سیکیورٹی کے معاملات کی انجام دہی نہیں روک سکتے۔بتایاجاتا ہیکہ مہسا امینی کی ہلاکت کے خلاف ایران میں مظاہرے جاری ہیں اور فارسی زبان کے ٹوئٹر پر مہسا امینی ٹاپ ٹرینڈ رہا۔کردستان میں امینی کے جنازے اور تدفین کو ایران کے تقریباً تمام ہی اخبارات نے پہلے صفحات پر جگہ دی ہے۔ایران سے تعلق رکھنے والے اشاعتی ادارے اعتماد کا کہنا ہے کہ ایران کے لوگ صدمے میں ہیں اور اس بات پر سخت غصے میں ہیں کہ مہسا امینی کے ساتھ آخر کیا ہوا ہے؟بعض مقامات پر لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے حکومتی دفاتر پر پتھراؤ کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔صحافتی برادری پولیس کے خلاف اور امینی کی موت پر مختلف سرخیاں لگائی ہیں جن میں سے ایشیا نامی اخبار نے لکھا ’ڈیئر مہسا، آپ کا نام ایک علامت کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گا۔اسی طرح ایک اور اخبار نے پہلے صفحے پر لکھا کہ ’قوم مہسا کی موت پر دکھ کا اظہار کر رہی ہے۔اب دیکھنا ہے کہ ایرانی حکومت ان پولیس اہلکاروں کے خلاف کس قسم کی کارروائی کرتی ہے جس کے وہ ذمہ دار ہیں۔ امریکہ میں انسانی حقوق کے کارکن شاہین میلانی نے ایرانی صدر ابراہیم ریئسی کے خلاف مقدمہ دائر کرانے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ ایرانی صدر ابراہیم ریئسی ان دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے امریکہ میں موجود ہیں۔



ہند۔سعودی عرب کے درمیان تجارتی تعلقات

 عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

ہند۔سعودی عرب کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے اقدامات

ڈاکٹرمحمد عبدالرشید جنید

 



      ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان تجارتی اور ثقافتی تعلقات زمانہ قدیم سے چلے آرہے ہیں۔ شاہ سعودبن عبدالعزیز 1955ء میں جب ہندوستان کے دورے پر آئے تو حیدرآباد میں انکا استقبال نظام حیدرآباد میر عثمان علی خان نے کیا۔ہندوستانی وزرائے اعظم جواہر لعل نہرو، اندراگاندھی نے اپنے اپنے دورِ اقتدار میں سعودی عرب کا دورہ کیا انکے دورِ حکمرانی میں دونوں ممالک نے سفارتی اور تجارتی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی سعی کی۔ اسی طرح 25/جنوری 2006کو شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کو ہندوستانی حکومت نے یوم جمہوریہ ہند کے موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعو کیا تھا۔ اس موقع پرشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کا ہندوستانی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے حکومت کی جانب سے پرتپاک خیر مقدم کیا تھا۔ڈاکٹر منموہن سنگھ نے بھی وزیر اعطم ہند کی حیثیت سے سعودی شاہی حکومت کی دعوت پرریاض،سعودی عرب کا دورہ کیا،جہاں دونوں ممالک کے حکمرانوں نے ہند۔سعودی تعلقات کو مزید مستحکم اور خوشگوار بنانے کے لئے کئی اہم معاہدات کئے تھے۔ ہند۔سعودی تعلقات کو دوستانہ ماحول میں مزید تقویت دینے کے لئے اپریل 2016میں ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پرسعودی عرب کا دورہ کیا،وزیر اعظم ہند کا رائل کورٹ، ریاض سعودی عرب میں خیر مقدم کیاگیا تھا۔دورے کے موقع پر وزیر اعظم ہند نریندر مودی کوشاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے باوقار سعودی سویلین ایوارڈ”آرڈر آف کنگ عبدالعزیز“سے نوازاگیا۔سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے فبروری 2019میں ایشیائی ممالک کے سفر کے دوران ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔اس دورے کے موقع پر وزیر اعظم ہند کے علاوہ دیگر اعلیٰ ہندوستانی حکام سے سعودی ولیعہد نے ملاقات کی۔ اس دورے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کو مزید بہتر بنانا تھا۔ فریقین نے اس موقع پر تجارتی تعلقات کو بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔ ہندوستان کی آزادی کے فوراً بعد 1947ء میں ہند۔سعودی عرب کے درمیان رسمی سفارتی تعلقات میں قائم ہوئے۔ علاقائی امور اور تجارت میں تعاون کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کافی مضبوط رہے ہیں اور موجودہ نریندرمودی اور شاہ سلمان حکومت کے دورِ میں اسے مزید مضبوط بنانے کی سعی جاری ہے۔ اسی سلسلہ میں گذشتہ دنوں ہندوستانی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے سعودی عرب کا سرکاری دورہ کیا۔ اس موقع پر ہندوستانی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کہا کہ انڈیا اور سعودی عرب کے تعلقات میں عالمی تناظر کو سامنے رکھتے ہوئے پیشرفت ہو رہی ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ہندوستانی وزیر خارجہ عرب نیوز کو دیئے گئے اپنے خصوصی انٹرویومیں کہا کہ ’ایک ایسی دنیا میں جس نے کورونا وبا کا سامنا کیا اور جسے یوکرین جیسے تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز درپیش ہیں، وہاں ہمارے تعلقات استحکام کی جانب اہم پیشرفت ہے۔انہوں نے کہا کہ ’یہ(تعلقات) ہمارے لئے، اس خطے اور دنیا بھر کیلئے بہتر ہونگے۔‘ایس جے شنکر نے مزید کہا کہ ’دونوں ممالک کا مقصد ایسی راہوں کی تلاش ہے جو ہمیں جلد از جلد اپنے باہمی تعاون کو بڑھانے میں مدد دیں۔ اسی کیلئے مشترکہ اقدامات اور سرمایہ کاری سمیت مربوط پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے۔‘اپنے دورے کے موقع ڈاکٹر ایس جے شنکر نے انڈیا اورسعودی عرب کے مضبوط تعلقات کا کریڈٹ ’ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان‘ کے ویژن کو دیا۔واضح رہے کہ پیر 12/ ستمبر 2022کوہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات ہوئی تھی جس میں انہوں نے ولیعہد کو وزیراعظم نریندر مودی کا خط بھی پہنچایا تھا۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ  سعودی عرب اور ہندوستان کے درمیان تاریخی طور پر مستحکم تعلقات قائم ہیں اور ہندوستانی شہریوں کی بہت بڑی تعداد سعودی عرب میں کام کرتی ہے جو ہمارے ہند کیلئے  زرمبادلہ کا بہت بڑا ذریعہ بھی ہے۔ کورونا وبا سے قبل 2019 میں ہندوستان سے لگ بھگ 2 لاکھ افراد نے فریضہئ حج ادا کیا تھا۔ علاوہ ازیں سعودی عرب کا شمار ہندوستان کو ایندھن فراہم کرنے والے تین بڑے ممالک میں ہوتا ہے اور یہ دونوں ممالک جی20کے بین الحکومتی فورم کے ساتھ ساتھ غیر وابستہ ممالک کی تنظیم کے بھی رکن ہیں۔حالیہ برسوں کے دوران سعودی عرب اور ہندوستان کے درمیان دیگرکئی شعبوں میں بھی تعلقات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان شعبوں میں سکیورٹی، تجارت، سرمایہ کاری، صحت، فوڈ سکیورٹی، ثقافت اور دفاع شامل ہیں۔ ان دونوں ممالک کے درمیان کورونا وبا کے دوران قریبی روابط قائم رہے ہیں۔ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے مطابق’انڈیا ایک بہت بڑی معیشت ہے اور ہماری توجہ اس کی معاشی ترقی اور وہاں کی ایک ارب 30 کروڑ سے زائد آبادی کی بہبود ہے۔ یہ سعودی عرب کے لیے عظیم موقع ہے کہ وہ انڈیا میں سرمایہ کاری کرے جس سے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’عالمی معیشت کی صورت گری میں سعودی عرب اور انڈیا کا شمار اہم ممالک میں ہوتا ہے۔ یہ دونوں ممالک مستحکم معاشی شراکت دار ہیں اور ان کے درمیان اپریل 2021 سے مارچ 2022 تک تجارت کا حجم لگ بھگ 42.86 ملین ڈالر رہا ہے۔‘ ’توانائی کا شعبہ ہمارے عشروں سے قائم تعلقات میں ایک ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم نہ صرف اس شعبے میں مزید آگے بڑھیں گے بلکہ گرین ہائیڈروجن سمیت توانائی کے قابلِ تجدید ذرائع کے حوالے سے بھی مشترکہ کاوشوں میں تیزی لائیں گے۔‘ہندوستانی حکومت معاشی ترقی و خوشحالی کیلئے سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ مزید بہتر تعلقات کیلئے کوشاں دکھائی دیتی ہے۔ اس سے قبل وزیر خارجہ ہند ڈاکٹر ایس جے شنکر جو یو اے ای اور ہندوستان کی مشترکہ کمیٹی کے 14ویں اجلاس میں شرکت کیلئے متحدہ عرب امارات میں تھے اس موقع پرانہوں نے صدرمتحدہ عرب امارات شیخ محمد بن زائد آلنہیان سے قصر الشاطی میں ملاقات کرکے وزیر اعظم ہند نریندر مودی کا مکتوب حوالے کیا۔بتایا جاتا ہیکہ اس موقع پردونوں جانب سے مختلف باہمی دلچسپی کے امورپراوربین الاقوامی اورخطے کے حالات پربھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ سعودی آئیزیشن کے تحت سعودی عرب سے ہزاروں ہندوستانی گذشتہ چند برسوں کے دوران روزگار سے محروم ہوکر اپنے وطن واپس ہوچکے ہیں یہی نہیں بلکہ کئی خاندان جو سعودی عرب میں مقیم تھے،بچوں کی تعلیم اور دیگر اخرجات میں بے تحاشہ اضافہ کے باعث سعودی عرب چھوڑکر اپنے ملک کا رخ کیا ہے۔ ہزاروں ہندوستانی تارکین وطن جن میں بڑا طبقہ  اوسط درجہ اور لیبرہے روزگار سے محروم ہوکر واپس ہوچکا ہے۔ہزاروں افراد بے روزگار ہونے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب میں معاشی مسائل سے دوچار ہوچکے تھے جو کسمپرسی کی حالت میں اپنے ملک واپس ہوچکے ہیں۔ ہندوستانی حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے افراد کی جنکے ساتھ سعودی کمپنیوں اور کفیلوں نے معاوضے کی عدم ادائیگی کے ساتھ ساتھ انہیں بے یارومددگار چھوڑاانکی وکالت کرتے ہوئے انکا حق دلائیں تاکہ وہ اپنے ملک واپسی کے بعد پریشان کن صورتحال سے دوچار ہونے سے بچ سکیں۔

*********


ہند۔بنگلہ دیش کے درمیان معاشی ترقی کیلئے اہم اقدامات

 ہند۔بنگلہ دیش کے درمیان معاشی ترقی کیلئے اہم اقدامات۰۰۰ شیخ حسینہ واجد کا دورہ ہند 

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

      


 کسی بھی پڑوسی ملک کے ساتھ بہتر اور دوستانہ تعلقات ہی دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود، تعلیم و تربیت،صحت و تندرستی اور خوشحالی کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کی  ضامن ہوتی ہے۔ ہند۔بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات مضبوط رہے ہیں اور ہندوستان نے جس طرح بنگلہ دیش کی آزادی میں اہم رول ادا کیا ہے اس کی بنگلہ دیشی قیادت ہمیشہ شکرگزار رہی ہے۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریند مودی اور بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے جس طرح گذشتہ چندبرسوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینے اور معاشی ترقی کی رفتار کو مزید بڑھانے کیلئے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اسے دونوں ممالک میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ واضح رہیکہ سال 2021میں بنگلہ دیش نے اپنی آزادی کی پچاس ویں سالگرہ منائی اور ہند۔بنگلہ دیش کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو 50برس ہوچکے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق 2015کے بعد سے اب تک دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان 12ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ نریندرمودی اور شیخ حسینہ واجد کی قیادت میں دونوں ممالک نے زمینی اور بحری حدود تعین کرنے کے معاملے پر اہم پیشرفت کی ہے۔ بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی میں ہندوستان کو اولین ترجیح دی جاتی ہے اور اسے ایک دوست ہمسایہ ملک کا درجہ حاصل ہے۔  بنگلہ دیش ہندوستان کا چھٹا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے جس کے ساتھ دو طرفہ تجارت 2009 میں $2.4 بلین سے بڑھ کر-21 2020  میں $10.8 بلین ہوگئی ہے۔

        ہند۔بنگلہ دیش تعلقات کو مزید مستحکم اور خوشحال اور دوستانہ بنائے رکھنے  کیلئے بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے ہندوستان کے  چار روزہ دورے پر ہیں انکا یہ دورہ  اہمیت کا حامل سمجھا جارہا ہے۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریندرمودی اپنی بنگلہ دیشی ہم منصب شیخ حسینہ سے حیدرآباد ہاؤس،نئی دہلی میں 6/ ستمبر 2022کو ملاقات کی۔اس موقع پردونوں رہنماؤں نے مشترکہ بیان جاری کیا اور سات معاہدوں پر دستخط کئے۔ ہند۔بنگلہ دیش نے ایک جامع تجارتی معاہدے پر بات چیت شروع کرنے اور دہشت گردی اور بنیاد پرستی کے خلاف تعاون کو مضبوط بنانے کا بھی فیصلہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں 1971ء کی جنگ کے جذبے کو بھی اجاگر کیا۔ وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے کہا کہ کشیارا (ندی) کا معاہدہ جنوبی آسام اور بنگلہ دیش کے عوام کو فائدہ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک سیلاب سے متعلق ڈیٹا شیئر کرینگے، وزیر اعظم ہند نے کہا کہ دونوں فریق تجارتی معاہدے پر بات چیت کرینگے جس میں اس بات کی نشاندہی کی جائے گی کہ کووڈ۔19وبائی بیماری اور حالیہ جغرافیائی سیاسی چیلنجوں نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرنا شامل ہے۔ بیان کے مطابق کیا گیا ہیکہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے کی توسیع اور سرحد پر تجارتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ساتھ دونوں معیشتیں ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ جڑ سکیں گی اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرسکیں گی۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہماری دو طرفہ تجارت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ آج ہندوستان،بنگلہ دیش کی برآمدات کیلئے ایشیاء کی سب سے بڑی منڈی ہے۔ اس ترقی کو مزید تیز کرنے کیلئے ہم جلد ہی دو طرفہ جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے پر بات چیت کرینگے۔نریند رمودی نے کہا کہ ’ہم دہشت گردی اور بنیاد پرستی کے خلاف تعاون پر بھی زور دیا‘۔ انہوں نے کہا کہ 1971ء کے جذبے کو زندہ رکھنے کیلئے یہ بھی بہت ضروری ہے کہ ہم مل کر ایسی طاقتوں کا مقابلہ کریں جو ہمارے باہمی اعتماد پر حملہ کرنا چاہتی ہیں۔ بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے منگل کو ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد اس امید اور یقین کااظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم ہند نریندر مودی کاشکریہ ادا کیا اورکہا کہ ”ہم نے کشیارا (دریا) کا مسئلہ حل کیا۔ لہذا میں جانتی ہوں کہ جب تک وزیر اعظم مودی یہاں ہیں، بنگلہ دیش اور ہندوستان ان تمام مسائل کو حل کرینگے“۔ شیخ حسینہ نے اس یقین کا اظہار کیاکہ دوستی کسی بھی مسئلے کو حل کرسکتی ہے۔ واضح رہیکہ دونوں ممالک نے دریائے کشیارا کیلئے پانی کی تقسیم کے ایک عبوری معاہدے پر  دستخط کئے، جو 25سال سے زائد عرصے میں ان کے درمیان پہلا معاہدہ ہے، ذرائع ابلاغ کے مطابق 1996ء میں گنگا پانی کے معاہدے پر دستخط کئے گئے تھے، کشیارا پانی کی تقسیم کے معاہدے کے علاوہ دونوں فریقوں نے ریلوئے، خلائی، آئی ٹی اور میڈیا کے معاہدوں پر دستخط کئے۔ وزیر اعظم حسینہ واجد نے اس موقع پر کہا کہ ”ہم 1971میں بنگلہ دیش کی آزادی کی عظیم جنگ میں حکومت اور ہندوستانی عوام کی جانب سے دی گئی انمول حمایت کیلئے شکر گزار ہیں جو ہمارے دو طرفہ تعلقات میں ایک اہم لمحہ تھا۔ تب سے،بنگلہ دیش۔ہندوستان کے تعلقات مشترکہ تاریخ اور ثقافت، باہمی اعتماد اور احترام، دیرینہ دوستی اور مسلسل تعاون سے جڑے ہوئے ہیں“۔ انہوں نے نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ ”میں مودی جی کی دور اندیش قیادت کی تعریف کرتی ہوں جو ہمارے دو طرفہ تعلقات کو مزید رفتار فراہم کررہی ہے“۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ ہندوستان،بنگلہ دیش کیلئے سب سے اہم اور قریبی پڑوسی ہے اور بنگلہ دیش۔ہندوستان دوطرفہ تعلقات پڑوسی سفارت کاری کیلئے رول ماڈل کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ شیخ حسینہ نے 1971ء کی بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ میں ہلاک یا شدید زخمی ہونے والے ہندوستانی فوجیوں کی اولاد کیلئے مجیب اسکالر شپ کا اعلان کیا ہے۔ بنگلہ دیشی وزیر اعظم نے کہاکہ دسویں جماعت کے 100طلبہ اور 12ویں جماعت کے 100طلبہ کو بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمن اسٹوڈنٹ اسکالر شپ دینا ہندوستانی ہیروز کو خراج عقیدت ہے جنہوں نے ہمارے مقصد کیلئے عظیم قربانیاں دیں۔واضح رہیکہ بنگلہ دیش کی آزادی 1971ء میں عمل میں آئی،بنگلہ دیش کی آزادی میں ہندوستان کااہم رول رہا ہے۔ اس سے قبل 1947ء میں یہ پاکستان کے ساتھ ملحق تھا اور مشرقی پاکستان کہلایاجاتا تھا۔

        واضح رہے کہ ہندوستانی ریلوے بنگلہ دیش ریلوے کو تربیت، آئی ٹی حل فراہم کرے گی۔منگل 6/ ستمبر کو دونوں ممالک کے درمیان دستخط کیے گئے دو مفاہمت ناموں کے مطابق، ہندوستانی ریلوے بنگلہ دیش ریلوے کے ملازمین کو تربیت فراہم کرے گا اور ساتھ ہی اس کے مسافروں کی ٹکٹنگ اورمال برداری کے کاموں کے کمپیوٹرائزیشن کیلئے آئی ٹی حل پیش کرے گا۔وزارت ریلوے (ریلوے بورڈ)، حکومت ہند اور وزارت ریلوے، بنگلہ دیش حکومت کے درمیان ہندوستان میں بنگلہ دیش ریلوے کے اہلکاروں کو تربیت دینے کے سلسلے میں ایک مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کئے گئے ہیں جس میں تعاون کے ایک فریم ورک کا تصور کیا گیا ہے اور اداروں میں تربیت کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔واضح رہے کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تین ایکسپریس ٹرینیں اور بین الاقوامی بس خدمات جاری ہیں۔

صدرجمہوریہ ہند دروپدی مرمو سے ملاقات 


        صدر جمہوریہ ہند دروپدی مرمو نے کہا کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات تعاون اور باہمی اعتماد کے جذبے سے چلتے ہیں۔ وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد صدر جمہوریہ ہند سے منگل کے روز ملاقات کی۔ذرائع ابلاغ کے مطابق راشٹرپتی بھون میں بنگلہ دیشی قائد کا خیرمقدم کرتے ہوئے صدر دروپدی مرمو نے کہا کہ دونوں ممالک مشترکہ تاریخ، زبان اور ثقافت سے جڑے ہوئے ہیں اور یقین دلایا کہ ہندوستان اپنے پڑوسی کی ترقی کے سفر میں ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر جاری رہے گا۔مرمو نے اس امر کی طرح اشارہ  کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعظم حسینہ کی قیادت میں، ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، راشٹرپتی بھون کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے۔

راہول گاندھی سے ملاقات

      


 سابق وزیر اعظم اندراگاندھی کے پوتے اورکانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے بھی بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ سے ملاقات کی۔ کانگریس نے کہا کہ دونوں قائدین نے کئی مسائل پر نتیجہ خیز بات چیت کی۔یہ میٹنگ چانکیہ پوری کے ہوٹل آئی ٹی سی موریا میں ہوئی۔ گاندھی نے ایک فیس بک پوسٹ میں کہا، ”بنگلہ دیش کی وزیر اعظم ایچ ای شیخ حسینہ سے آج پہلے ملاقات کی“۔ انہوں نے یہ بھی کہا، ”ہندوستان اور بنگلہ دیش فطری اتحادی ہیں اور یہ بہت اہم ہے کہ ہمارے دونوں ملک اس بندھن کو مضبوط کرنے کے لئے کام کریں۔“


شیخ حسینہ واجد کیلئے درد ناک برس

        شیخ حسینہ واجد نے اپنے دورہ ہند کے موقع پر اپنی زندگی کے چند اہم پہلوؤں پر سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایاکہ وہ اپنے والد شیخ مجیب الرحمن (بنگلہ دیش کے پہلے صدر)کے قاتلوں سے بچنے کیلئے فرضی شناخت کے ساتھ دہلی میں پناہ لئے ہوئے تھیں۔انہوں نے 1975ء کے درد انگیز واقعات کو دہراتے ہوئے کہاکہ 30/ جولائی کو وہ اپنے والدین کو الوداع کہہ کر جرمنی کیلئے روانہ ہورہی تھیں تو انہیں بالکل یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ انکی والدین کے ساتھ آخری ملاقات ہوگی۔ شیخ حسینہ واجد کے شریک حیات اس وقت جرمنی میں نیوکلیئر سائنسدان تھے جبکہ وہ شادی کے بعد اپنے والدین کے گھر میں تین بہن بھائیوں کے ہمراہ رہ رہی تھیں۔ جرمنی جانے کے دو ہفتہ بعد یعنی 15/ گست کی صبح شیخ حسینہ کو خوفناک خبر ملی کہ ان کے والد کا قتل ہوگیا ہے۔ انکے لئے یہ خبر ناقابل یقین تھی کہ کوئی بھی بنگالی ایسا کرسکتاہے۔ فوجی بغاوت میں انکے والد اور خاندان کے تمام افراد کو قتل کردیا گیا تھا۔ وزیر اعظم حسینہ کا کہنا تھاکہ ان حالات میں سب سے پہلے مدد کی پیشکش کرنے والا پہلاملک ہندوستان تھا۔وزیر اعظم ہند اندرا گاندھی نے فوری پیغام بھیجا کہ وہ ہمیں سیکیوریٹی اور پناہ دینا چاہتی ہیں۔ یوگو سلاویہ کے مارشل ٹیٹو نے بھی پیغام بھیجا تھا لیکن انہوں نے دہلی جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ انکے ذہن میں تھاکہ دہلی سے واپس انکے ملک جانا آسان ہوگا اور یہ بھی معلوم ہوسکے گا کہ خاندان کے کتنے افراد زندہ ہیں۔ اس دل دہلا دینے والے واقعہ کو گزرے پچاس سال ہوچکے ہیں لیکن آج بھی اس پر بات کو یادکرتے ہوئے شیخ حسینہ کی آواز میں درد جھلکتا ہے۔ شیخ حسینہ واجد کا کہنا ہے کہ”غالباً 24/ اگست کو وہ دہلی آئے اور انکی ملاقات وزیر اعظم اندرا گاندھی سے ہوئی۔ انہو ں نے ہمیں بلایا تھا اور تب ہمیں معلوم ہوا کہ کوئی بھی زندہ نہیں بچا“۔ شیخ حسینہ کے مطابق اندراگاندھی نے انکے لئے تمام انتظامات کئے تھے، شوہر کیلئے نوکری کا بھی بندوبست کیا اور پنڈارا روڈ پر واقع ایک گھرمیں رہائش دی گئی اس وقت انکا لڑکا چار سال کا تھا اور ایک چھوٹی بیٹی تھی۔انکا خاندان کم و بیش چھ سال درد بھری زندگی گزارتا رہا، انکاکہنا تھاکہ دونوں بچے بہت زیادہ روتے اور انکی والدہ (دادی)اور والد(دادا) کے پاس جانے کا کہتے تھے۔ انکے والد کے قاتل انہیں بھی تلاش کرتے رہے۔ان برسوں میں شیخ حسینہ نے سوچا کہ اس طرح تو ساری زندگی نہیں گزاری جاسکتی، کچھ تو کرنا ہوگا اور پھر وہ عوامی لیگ کی سربراہ بننے کے بعد مئی 1981ء کو بنگلہ دیش واپس لوٹیں۔ اس وقت تک حالات کچھ بدل چکے تھے۔ شیخ حسینہ واجد تین مرتبہ اپوزیشن قائد رہ چکی اور تین ہی مرتبہ وزیراعظم بن چکی ہیں۔وہ بنگلہ دیش کی دسویں وزیر اعظم ہیں۔ شیخ حسینہ کا شمار دنیا کی طاقت ورترین خواتین میں ہوتا ہے، فوربس جریدے نے 2017کی طاقت ور ترین خواتین کی فہرست میں کو 30واں مقام دیا تھا۔



افغانستان معاشی بحران اور قحط سالی کا شکار

 عالمِ اسلام راؤنڈاَپ

افغانستان معاشی بحران اور قحط سالی کا شکار ۰۰۰ عالمی امداداور منجمد اثاثوں کی بحالی ناگزیر

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

      


 افغانستان میں طالبان حکومت، گذشتہ سال دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک کے حالات ابتر ہوتے جارہے ہیں، طالبان دور ِ اقتدار میں معاشی بحران شدید سے شدید تر ہوتا جارہا ہے۔ طالبان حکمرانوں کے ساتھ عالمی ممالک سفارتی تعلقات بحال کرنے کی پہل سے کترارہے ہیں اور نہیں معلوم افغان طالبان کے دورِ اقتدار میں افغان عوام مزید کن کن حالات کا شکار ہونگے۔ ان دنوں افغانستان شدید معاشی بحران کا شکا رہے اور قحط سالی کی صورتحال انتہائی سنگین نوعیت اختیار کرتی جارہی ہے۔ اس سلسلہ میں اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہیکہ افغانستان قحط کے کنارے پر پہنچ گیا ہے اور اس کی 60 لاکھ آبادی انتہائی مفلسی کی حالت میں گزر بسر کررہی ہے جبکہ موسم سرما کے دوران بدترین حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ذرائع ابلاغ نے اقوام متحدہ کے شعبہ انسانی امداد کے سربراہ مارٹن گریفتھ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ موسم سرما گزارنے کیلئے افغانستان کے عوام کو 77 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے۔انہوں نے عطیہ دہندگان پر زور دیتے ہوئے کہا افغانستان کی فنڈنگ بحال کی جائے۔مارٹن گریفتھ نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ اس وقت افغانستان کو کئی بحرانوں کا سامنا ہے جن میں انسانی، معاشی، موسمیاتی، بھوک اور غربت جیسے مسائل شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تنازعات، غربت کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں نے طویل عرصہ سے افغانستان کو مشکلات میں ڈالا ہوا ہے تاہم اس وقت سب سے اہم معاملہ اس امداد کا ہے جو ایک سال قبل طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ممالک نے روک دی تھی۔افغانستان کی آدھی سے زیادہ آبادی جو دو کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ نفوس پر مشتمل ہے جنہیں مدد کی شدید ضرورت ہے جبکہ ایک کروڑ نوے لاکھ خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان اعدادوشمار میں جلد ہی مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ موسم سرما آنے والا ہے اور اس دوران ایندھن اور خوراک کی اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو جائے گا جبکہ وہ پہلے سے بھی کافی زیادہ ہیں۔مارٹن گریفتھ کے مطابق ’مشکلات کے باوجود اقوام متحدہ کی ایجنسیز اور شراکت دار این جی اوز نے مثالی کردار ادا کیا ہے اور دو کروڑ 30 لاکھ لوگوں تک رسائی حاصل کی۔مارٹن نے کہا کہ اس کے باوجود فوری طور پر تقریباً 62 کروڑ ڈالر کی فوری ضرورت ہے کیونکہ موسم سرما شروع ہونے والا ہے اور اس سے قبل گھروں کی مرمت وغیرہ بہت ضروری ہے، گرم کپڑوں اور کمبلوں سمیت دوسرے سامان کی فراہمی بھی ضروری ہے۔اسی طرح ان علاقوں میں ابھی سے خوراک کا سامان پہنچانے کی ضرورت ہے جو موسم سرما کے دوران برفباری کی وجہ سے ملک سے کٹ جاتے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان کے پاس ملک کے مستقبل کیلئے کوئی بجٹ نہیں ہے اور یہ بات واضح ہے کہ وہاں امدادی اور ترقیاتی کام شروع کرنا ضروری ہے۔انہوں نے متنبہ کیا کہ سات کروڑ سے زائد افغان دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں اور اگر زراعت اور مویشیوں کو تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو لاکھوں کی تعداد میں زندگیاں داؤ پر لگ جائیں گی کیونکہ خوراک پیدا کرنے کی صلاحیت کم ہو جائے گی۔خیال رہے گذشتہ سال 15/ اگست کو طالبان نے امریکہ اور اتحادی افواج کے ملک سے انخلاء کے بعد اقتدار سنبھالا تھا جس کے بعد کئی ممالک نے وہاں کیلئے امدادی فنڈز روک دیے تھے اور امریکہ نے افغان اثاثوں کو منجمد کردیا گیا تھا۔اب دیکھنا ہے کہ افغانستان کے معاشی بحران اور قحط سالی سے نمٹنے کیلئے عالمی طاقتیں کس طرح سے تعاون کرتی ہیں، لاکھوں افغانیوں کی زندگیوں کو بچانے کیلئے طالبان کے اقتدار کو لے کر خاموشی اختیارکرتی ہے تو یہ انسانیت کیلئے شرمسار کردینے والی بات ہوگی کیونکہ عام افغان شہریوں کو طالبان یا کسی اور کے اقتدار سے کوئی لینا دینا نہیں۔ کاش عالمی برادری افغانستان کو جلد از جلد معاشی بحران سے نکالنے اور قحط سالی سے بچائے رکھنے کیلئے مؤثر اقدامات کرتے ہوئے مثالی کردار ادا کرینگی۔

پاکستان آفاتِ الٰہی سے دوچار ۰۰۰ سیلاب کی خطرناک صورتحال

پاکستان میں سیلاب کی صورتحال انتہائی خطرناک موڑ اختیار کرگئی ہے جس کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی امداد کیلئے عالمی ممالک اور خود اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے مدد کااعلان کیا ہے یہی نہیں بلکہ ترجمان اقوام متحدہ کے مطابق سکریٹری جنرل انتونیوگوتیرس اگلے ہفتے پاکستان کا دو روزہ دورہ کرینگے۔وہ 9/ ستمبر کو پاکستان پہنچے گے اور 11/ستمبر کوواپس ہونگے۔ سیکریٹری جنرل اپنے دورے کے دوران سیلاب کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کا دورہ کرینگے۔ واضح رہیکہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے ہنگامی مدد کے حوالے سے دفتر خارجہ میں تقریب منعقد ہوئی جس میں سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان میں سیلاب کی صورتحال پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہے، اقوام متحدہ نے پاکستان کیلئے 160ملین ڈالر امداد کی اپیل کی ہے۔ سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے کہا کہ وہ پاکستان میں سیلاب اور بارشوں سے ہونے والی تباہی پر رنجیدہ ہیں، گرین ہاؤس گیس عالمی حدت کا باعث بن رہی ہیں، سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے پاکستان کو امداد کی ضرورت ہے، پاکستان میں بارشوں اور سیلاب سے مواصلاتی نظام تباہ ہوگیا ہے۔بتایا جاتا ہیکہ پاکستان کے” 72 اضلاع میں 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد متاثرہوئے ہیں جبکہ سیلاب سے 20 لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں“۔بتایا جاتا ہیکہ سیلاب کا 61سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ سوات کی ایک ہنی مون ہوٹل سمیت متعددہوٹلیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔  قہرالٰہی نے سیلاب کی شکل میں پاکستانی صوبوں میں جو تباہی مچائی ہے اس کے بعد کم از کم مسلمانوں کو اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ گذشتہ چند ہفتوں کے درمیان دنیا کے کئی ممالک خصوصاً پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش، متحدہ عرب امارات وغیرہ  میں بارشوں کی وجہ سے سیلاب کی صورتحال انتہائی سنگین ہوچکی تھی۔ اتنی تباہی و بربادی کے بعد عالمی سطح پر انسانوں کو سمجھنا چاہیے کہ قدرت کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے ورنہ مستقبل میں اس سے بھی خطرناک حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔

        ان تباہ کن حالات کے پیشِ نظر عالمی برادری پاکستانی متاثرین کیلئے بڑے پیمانے پر امداد پہنچا رہی ہے۔ اسی سلسلہ میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ امریکہ یو ایس ایڈ کے ذریعہ پاکستان کے سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے خوارک، پانی اور پناہ گاہوں کیلئے 30ملین ڈالرز فراہم کررہا ہے۔ پاکستانی نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہیکہ پاکستان تباہ کن سیلاب سے دوچار ہے، مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ واضح رہیکہ 16/ اگست کو بھی یو ایس ایڈ نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پاکستان میں سیلاب متاثرین کیلئے فوراً ایک لاکھ ڈالرز کی امداد فراہم کررہے ہیں۔اسی طرح چین کی جانب سے بھی پاکستان کی مدد کیلئے 100ملین یوان، 25ہزار خیموں و دیگر اشیاء کی امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔ چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی کی چیانگ نے سیلاب کی تباہ کاریوں پر صدر عارف علوی، وزیر اعظم شہباز شریف کیلئے خصوصی پیغام بھیجا جس میں پاکستانی قیادت اور عوام سے افسوس اور بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بتایا جاتا ہیکہ پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی درخواست  پر اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے تقریباً ایک کھرب 30ارب روپیے جمع ہوئے ہیں۔ ترجمان پیپلز پارٹی کے مطابق امریکہ نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی اپیل کے بعد پاکستان کو ساڑھے چھ ارب روپے کی امداد دی اس کے علاوہ  ورلڈ بینک، ایشین ڈولپمنٹ بینک، عالمی ادارہ صحت، یونیسف، ہلال احمر، ریڈکراس سمیت اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے مثبت ردعمل دیا ہے۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی اپیل پر اقوام متحدہ کے رکن ممالک سمیت مختلف عالمی اداروں کی جانب سے پاکستان کی امداد کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیر خارجہ اور سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کی اپیل کے بعد فوری طور پر چین، ترکیہ، امریکہ، برطانیہ، جاپان، آذربائیجان، سعودی عرب، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات،بنگلا دیش،اسپین، کینیڈا اور دیگر ممالک نے امداد کا اعلان کیا۔ اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے نقد امداد کے علاوہ خیمے، ادویات، کھانے پینے کی اشیاء سمیت دیگر اہم امدادی سامان کے ذریعہ تعاون کرر ہے ہیں۔ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سیلاب متاثرین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ٹوئٹ پیغام میں وزیراعظم ہند مودی نے کہا کہ امید ہے پاکستان میں سب کچھ جلد معمول پر آجائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین و سابق وزیر اعظم عمران خان نے سیلاب زدگان کی مدد کیلئے کی گئی ٹیلی تھون ٹرانسمیشن میں 500کروڑ روپیے سے زیادہ عطیات جمع کرلئے ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق بتایا جاتا ہیکہ عمران خان کی جانب سے سیلاب زدگان کی مدد کیلئے انٹرنیشنل ٹیلی تھون ٹرانسمیشن کی گئی جو تین گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہی۔ اس دوران دنیا بھر سے پاکستانیوں نے سیلاب زدہ بھائی بہنوں کی مدد کیلئے بڑے بڑے عطیات دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ٹرانسمیشن کے میزبان فیصل جاوید کے مطابق ٹرانسمیشن کے دوران سیلاب زدگان کیلئے پانچ سو کرو ڑ روپیے سے زائد عطیات دینے کا وعدہ کیا گیا ہے جس میں سے بہت سی رقم متعلقہ اکاؤنٹس میں آنا شروع ہوگئی ہے۔انہو ں نے کہا کہ جن لوگوں نے پیسے دینے کا اعلان کیا ہے کہ وہ دراصل اللہ تعالیٰ کے ساتھ وعدہ ہے، ان تمام لوگوں سے گزارش ہیکہ وہ جلد از جلد یہ رقم اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کردیں تاکہ مستحقین تک اسے بروقت پہنچایا جاسکے۔ فیصل جاوید نے یہ اعلان بھی کیاکہ ایسی ہی ٹرانسمیشن ایک بار پھر کی جائے گی۔اس طرح پاکستان میں سیلاب سے متاثرین کیلئے بڑے پیمانے پر امداد پہنچائی جارہی ہے اب دیکھنا ہیکہ مستحقین تک مکمل امداد پہنچتی ہے یا پھر اس میں سے بھی کوئی ہڑپ کرلیتا ہے۰۰۰

عمران خان توہین عدالت کیس 8/ ستمبر تک کیلئے ملتوی

        اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت8/ستمبرتک کیلئے ملتوی کر دی گئی ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو 7 روز میں دوبارہ تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا اسی طرح زبان سے نکلی بات واپس نہیں جاتی، عمران خان جیسے پائے کے لیڈر کو ہر لفظ سوچ سمجھ کے ادا کرنا چاہیے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے جو تحریری جواب جمع کرایا ا س کی توقع نہیں تھی،تحریری جواب سے مجھے ذاتی طور پر دکھ ہوا ہے۔واضح رہیکہ توہین عدالت کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم عمران کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پرغیرمعمولی حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔ بتایاجاتا ہیکہ اسلام آباد پولیس کے مطابق پیشی کے موقع پر تین ایس پیز، نو اے ایس پیز اور ڈی ایس پیز سیکوریٹی امور کی نگرانی کررہے تھے جبکہ ہائیکورٹ کے اطراف ایک ہزار کم درجے کے افسران اور اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔اسی طرح ڈیوٹی پر موجود کسی بھی اہلکار کو موبائل فون کے استعمال کی اجازت نہیں تھی۔ سخت سیکوریٹی کے بیچ عمران خان نے ہائیکورٹ میں داخل ہوئے اور اپنے مقدمہ کی سماعت کی۔اب دیکھنا ہیکہ 8/ ستمبر کو وہ چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں قائم بینچ کو کس طرح کا تحریری جواب دیتے ہیں اور عدلیہ کیا فیصلہ کرتی ہے۰۰۰

 *********