MY COLUMN

 عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

کلام پاک کی بے حرمتی۰۰۰

 عالمی برادری اس قسم کے ناقابلِ قبول اقدامات کو روکنے کیلئے اپنا فرض ادا کرے۔ڈاکٹر نایف


 

                  دشمنانِ اسلام کلامِ مقدس کی بے حرمتی کرکے اپنی دنیا بھی برباد کر لے رہے ہیں کیونکہ انکی آخرت تو بربادہو ہی چکی ہوتی ہے۰۰۰ ماضی کی کئی مثالیں ملتی ہیں جن کے ذریعہ پتہ چلتا ہے کہ قرآن کریم کی جنہوں نے بھی بے حرمتی کی ہیں انہیں کس طرح رب ذوالجلال نے عبرتناک انجام تک پہنچایا۔ 21/ جنوری کو سویڈن کے دارالحکومت اسٹا ک ہوم میں دائیں بازو کا سیاست داں راسموس پالوڈن نے اسٹاک ہوم میں واقع ترک سفارت خانے کے سامنے مظاہرے کے دوران کلام پاک کو نذر آتش کیا تھا۔اس واقعہ نے ساری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کردیا تھا اور عالمی سطح پر مسلمانوں نے سویڈن حکومت کے خلاف اس دشمنان ِاسلام کو سزا دینے کی مانگ کرتے ہوئے احتجاج کررہے ہیں، ابھی مسلمانوں کے جذبات ٹھنڈے بھی نہ ہوپائے تھے کہ پھر ایک معلون نے ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران قرآن کریم کے اوراق بھاڑکر اسلام کے تشخص اور مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ ان ظالم تعصب پرست دشمنان ا سلام کو ان کے کئے کی سزا تو مل کر ہی رہے گی۔ اگر دنیا کی عدلیہ انکے خلاف خاموشی اختیار کرتی ہے اور سزا نہیں دیتی ہے تو اللہ کے قہار سے یہ ملعون اشخاص بچ نہ پائیں گے۔ عالمی برادری اور سوپر پاور کہے جانے والے ممالک کے حکمرانوں کو چاہیے تھا کہ وہ فوراً اس جانب توجہ دیتے ہوئے کلام پاک کی بے حرمتی کرنے والے ان دونوں معلونین کو کفیرکردار تک پہنچانے کا انکی حکومتوں سے اپیل کرتے۔ سعودی عرب کی وزارت خارجہ سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے اشتعال انگیز قدم قرار دیا۔وزارتِ خارجہ نے منگل کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’سعودی عرب انتہا پسندی اور نفرت کے محرکات کو ترک کرنے اور پرامن بقائے باہم، روا داری اور مکالمے کے اصولوں کے فروغ کی پالیسی پر گامزن تھا، ہے اور رہے گا۔ اس حوالے سے ہمارا موقف غیر متزلزل ہے‘۔اسی دوران خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر نایف الحجرف نے ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں ایک انتہا پسند کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی کے اقدام کی سخت مذمت کی ہے۔ڈاکٹر نایف الحجرف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’اس قسم کی حرکتوں سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور یہ اشتعال انگیز عمل ہے‘۔انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ ’وہ اس قسم کے ناقابل قبول اقدامات کو روکنے کیلئے اپنا فرض ادا کرے‘۔ پاکستان،عرب لیگ، مصر اور جامعہ الازہر نے سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں انتہا پسند سیاست داں کی جانب سے قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔

                    ترک صدر رجب طیب اردغان نے کلامِ پاک کی بے حرمتی کے واقعہ کے خلاف کہاک ”اسلام کیلئے احترام کا مظاہرہ کرنے اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے طریقہ کار کو تبدیل کئے بغیر،سویڈن کو نیٹو کی بولی پر ترکیہ سے کسی بھی اچھی خبر کی توقع نہیں رکھتی چاہیے۔ انہو ں نے دارالحکومت انقرہ میں کابینہ کے اجلاس کے بعد کہا کہ جن لوگوں نے ہمارے سفارت خانے کے سامنے اس طرح کی حرکت کی ہے، انہیں اپنی نیٹو کی رکنیت کی درخواستوں پر ہم سے کسی قسم کے احسان کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔اردغان نے اس بات پر زور دیکر کہا کہ کسی بھی فرد کو مسلمانوں یا دیگر مذاہب اور عقائد کی توہین کرنے کی آزادی نہیں ہے“۔ انہوں نے مزید کہا کہ سویڈن میں گھناؤنا اقدام ہر اس شخص کی توہین ہے جو لوگوں کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کا احترام کرتا ہے، خاص طور پر مسلمانوں کا۔ سویڈن حکومت سے رجب طیب اردغان یہ بھی کہا کہ اگر وہ دہشت گرد تنظیم کے ارکان اور اسلام کے دشمنوں سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں تو ہم انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنے کا دفاع ان کے سپرد کریں۔

                    عرب نیوز کے مطابق مصر کی قدیم علمی درسگاہ الازہر الشریف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ قرآن تمام انسانیت کیلئے ایک رہنما کتاب کے طور پر اپنی شان میں قائم رہے گا۔یہ مبارک کتاب بنی نوع انسان کیلئے نیکی، سچائی اور خوبصورتی کی اقدار کی رہنمائی کرتی ہے۔الازہر کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ جان بوجھ کر اور بار بار مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کوشش انتہائی دائیں بازو کی شخصیات کے ساتھ سویڈش حکام کی ملی بھگت ہے۔الازہر نے احتجاجی رپورٹ میں کہا ہے کہ کسی قسم کی وحشیانہ یا مجرمانہ حرکات سے مسلمانوں کے دل میں قرآن پاک کی حرمت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔گمراہی کی جانب دھکیلنے اور جنونیت کو فروغ دینے والوں کی بیمار سوچ اور نفرت انگیز اقدامات مذہبی کشیدگی میں سیاہ ریکارڈ رکھتے ہیں اس سب کے باوجود بھی وہ سب قرآن پاک کی حرمت کم نہیں ہو گی۔الازہر نے اس واقعے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے کہا ہے کہ مذہبی عقائد کو مجروح کرنے کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے اٹھ کھڑے ہوں۔قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دینا مشرق اور مغرب کے ساتھ ساتھ اسلامی دنیا اور مغرب کے درمیان امن، بین المذاہب مکالمے اور روابط کو فروغ دینے کی کوششوں میں رکاوٹ ہے۔ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط اور مصر کی حکومت نے بھی اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

                    سعودی عرب کے مفتی اعلیٰ اور ممتازعلما بورڈ کے سربراہ شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے اتوار کو ایک بیان میں سویڈن میں انتہائی دائیں بازو کے مظاہرین کی طرف سے قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعے کی مذمت کی ہے۔انہوں نے اسے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز اقدام قرار دیا اور کہا کہ’اس اقدام سے انتہا پسندی اور فتنہ انگیزی کی آگ بھڑکے گی‘۔انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قسم کی حرکتوں کی کسی بھی نام یا عنوان سے مدد کرنے والوں کے خلاف ٹھوس اور فیصلہ کن موقف اختیار کرے۔اسی طرح ممتاز علماء بورڈ جنرل سیکریٹریٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعہ سے مسلمانوں کے جذبات متاثر ہوئے ہیں۔ یہ حرکت تعصب اور نفرت کی علامت ہے۔ اس سے پرامن بقائے باہم اور روا داری کے اس اصول کو کسی طرح کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا جس کا مطالبہ کیا جا رہا ہے‘۔سعودی علما نے دنیا سے اپیل کی کہ ’وہ قرآن پاک کی بے حرمتی کے اقدام کی مذمت کریں۔ نفرت بھڑکانے اور انتہا پسندی کو ہوا دینے والے ایسے واقعات کو روکنے کیلئے قانون سازی کی جائے‘۔ 

ہندوستان کے جشن جمہوریہ میں مصری صدر کی شرکت۔ باہمی تعاون کے معاہدات

                    بی بی سی ڈاکومنٹری اپنی جگہ نریندر مودی کی پالیسی اپنی جگہ۔ 74ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کو مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعو کرکے مسٹر مودی نے عرب ممالک سے اپنے تعلقات کی اہمیت جتائی ہے۔ مصر کے صدر کے علاوہ مصری مسلح فوج کا ایک دستے نے بھی جو 144سپاہیوں پر مشتمل تھا یوم جمہوریہ پریڈ میں شامل تھا اور توجہ کا مرکز تھا۔ السیسی کا مسٹر مودی نے پُرتپاک استقبال کیا اور دہلی کے حیدرآباد ہاؤز میں ان سے باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر مصری صدر نے وزیر اعظم مودی کو دورہئ مصر کی دعوت دی اور دہلی اور قاہرہ کے درمیان مزید فضائی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا۔ مسٹر مودی نے اس بات سے اتفاق کیا کہ انتہا پسند طاقتوں کی جانب سے سائبر اسپیس کا غلط استعمال دونوں ممالک کے لئے خطرہ ہے اور دونوں کو متحدہ طور پر اس کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ دونوں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ دہشت گردی انسانیت کو درپیش سب سے بڑا خطرہ ہے۔ سرحد پار سے دہشت گردی کو نمٹنے کیلئے سخت اقدامات کئے جانے چاہئیے۔ ہندوستان نے G20 سربراہ کانفرنس میں مصر کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان قدیم تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی۔ دونوں ممالک نے باہمی طور پر فوجی تعلقات اور سیاسی سلامتی، اقتصادی اور سائنٹیفک علاقوں میں طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ السیسی نے کہا کہ مصر کی خواہش ہے کہ زیادہ سے زیادہ ہندوستانی سیاح مصر کا دورہ کریں۔ دونوں ممالک نے ثقافت، نوجوانوں کے امور، سائبر سیکیوریٹی، انفارمیشن ٹکنالوجی اور پبلک براڈ کاسٹنگ اس طرح پانچ معاہدوں پر دستخط کئے۔ السیسی نے بتایا کہ انہوں نے وزیر اعظم مودی سے درخواست کی ہے کہ وہ چھوٹے اور متوسط پیمانے کی صنعتوں کے درمیان ڈیجیٹل کنکشن میں اضافہ کے لئے مستقل چیانلس تشکیل دیں جس سے عام آدمی کا معیار زندگی بہتر ہوسکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون بات چیت کا اصل موضوع تھا۔ مشترکہ فوجی مشقیں اس کی ایک مثال ہے۔ مصری صدر نے مسٹر مودی سے مصر میں سرمایہ کاری کے امکانات پر بھی بات چیت کی۔ گرین ہائیڈروجن اور قابل تجدید توانائی Cop27 پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ السیسی کا یہ تیسرا دورہئ ہند ہے۔ مشرق وسطیٰ میں مصر کی بڑی اہمیت رہی ہے۔ اور یہ ہندوستان سے ہمیشہ دوستانہ تعلقات کا حامل رہا ہے۔ واضح رہے کہ مصر کو ہمیشہ عالم عرب میں ایک لیڈر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ 50کی دہائی میں جمال عبدالناصر نے عرب قوم پرستی کی بنیاد ڈالی تھی اور انور سادات نے اسرائیل کے ساتھ امن کی راہ تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔ عبدالفتاح السیسی اور نریندر مودی 2014ء میں اپنے اپنے ملک کے سربراہ بنے۔ وہ ایسے وقت ہندوستان آئے ہیں جب مصر میں اقتصادی بحران ہے۔ 2021-22 ء میں ہندوستان اور مصر کے درمیان 7.26 ارب ڈالر کی تجارت ہوئی  تھی اور پچاس سے زائد ہندوستانی کمپنیوں نے مصر میں تین ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی تھی۔ ہندوستان اور مصر میں اُس وقت تعلقات بہت اچھے تھے جب جواہر لعل نہرو ہندوستان کے وزیر اعظم اور جمال عبدالناصر مصر کے صدر تھے۔ 1956ء میں جب نہر سوئز کا بحران پیدا ہوا تب ہندوستان نے خفیہ طور پر مصر کو اپنی فوج بھی بھیجی اور فوجی سامان بھی۔ ہندوستان اور مصر کے درمیان 2013ء میں السیسی کے دورہ کے بعد سے تبدیلی آئی تھی۔ 2021ء میں کووڈ بحران کے دوران مصر نے ہندوستان کو آکسیجن سیلنڈر کنسنریٹر اور ریمڈسویر دوائیں روانہ کی تھیں اور ہندوستان نے مصر کو 61ہزار 500 ٹن گیہوں بھیجا تھا۔ 

 بلاول بھٹو کو دورہئ ہند کی دعوت

شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن SCO کا مئی 2023ء میں ہندوستان میں انعقاد عمل میں آرہا ہے جس میں ہندوستان نے پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹوزرداری کو شرکت کی دعوت دی ہے۔ حالانکہ پاکستانی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی پر نازیبا ریمارکس کئے تھے۔ ہندوستانی وزیر خارجہ مسٹر جے شنکر کی جانب سے یہ دعوت نامہ مسٹر بلاول بھٹو کو بھیجا گیا ہے۔ اگر اسے قبول کرلیا جاتا ہے تو بھٹو 12سال کے وقفہ کے بعد ہندوستان کا دورہ کرنے والے پہلے پاکستانی وزیر خارجہ ہونگے۔ یوں تو ہند وپاک کے درمیان تقسیم کے بعد سے ہی کشیدگی رہی ہے‘ تاہم 2019ء میں کشمیر کے خود مختار موقف کی برخواستگی کے بعد سے اس میں اضافہ ہوگیا ہے۔ یو اے ای نے 2021ء میں دونوں ممالک کے درمیان مصالحت کی کوشش کی تھی۔ ابھی حال ہی میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے معاشی بحران سے نکلنے کے لئے ہندوستان سے مدد مانگی تھی۔ اس وقت پاکستان تاریخ کے بدترین دور سے گزررہا ہے۔ اس وقت پاکستان غذائی اشیاء کی قلت سے بُری طرح پریشان کن ہے۔دیکھنا ہیکہ اگر بلاول بھٹو زردری شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن اجلاس میں شرکت کرتے ہیں تو حکمراں بی جے پی اراکین انکے خلاف خاموشی اختیار کرتی ہے یا پھر وزیر اعظم کے خلاف کہے جانے والے انکے بیان پر احتجاج کرتی ہے۰۰۰

لبنان فوج اور پولیس کو تنخواہوں کی شکل میں امریکی امداد

امریکہ نے چہارشنبہ کو لبنان کی سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے سات کروڑ 20 لاکھ ڈالر امداد کا اعلان کیا ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق مذکورہ امداد اقوام متحدہ کے ساتھ مشترکہ پروگرام کے تحت دی جائے گی۔واضح رہے کہ لبنان کی معیشت گذشتہ تین سال مسلسل بحران اور گراوٹ کا شکار ہے جس کے سبب فوجی بجٹ میں کمی کی گئی ہے۔امریکہ لبنان کی فوج کا کافی عرصے سے سب سے بڑا ڈونر ہے۔ اس نے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی کے ساتھ اپنی نوعیت کی پہلی امریکی امداد کی ڈیلیوری کے لیے اشتراک کیا ہے۔یو این ڈی پی اور بیروت میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق پروگرام کے تحت سات کروڑ 20 لاکھ ڈالر لبنان کی سکیورٹی فورسز اور انٹرنیشنل سکیورٹی فورسز کے اہلکارں کی تنخواہوں کے لیے دی جائے گی۔لبنان کی معیشت کا بُرا حال ہونے کی وجہ سے ہر فوجی اور پولیس آفیسر کو امریکی قانون کے مطابق 100ڈالر ماہانہ چھ ماہ تک ادا کئے جائینگے۔ اس وقت لبنان میں کم رینک کے فوجی اہلکار کی تنخواہ 50امریکی ڈالڈر کے برابر ہے جو کہ 2019سے جاری مالی بحران سے قبل 800امریکی ڈالر کے برابر تھی۔ قطر نے گذشتہ برس بحران کی شکار لبنانی فوج کیلئے چھ کروڑ ڈالر امداد کا اعلان کیا تھا۔2019 کے بعد سے اب تک لبنان کی کرنسی کی قدر 95 فیصد تک گر گئی ہے جس کے سبب کئی لبنانی فوجی نوکری چھوڑ چکے ہیں یا پارٹ ٹائم ملازمت کر رہے ہیں۔
***


پاکستان آخرکار ہندوستان سے بہتر تعلقات کیلئے تیار

عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

پاکستان آخرکار ہندوستان سے بہتر تعلقات کیلئے تیار

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

 


                   کیا ہندوستان اور پاکستان کے درمیان رشتے مضبوط اور خوشگوار ہوپائینگے۰۰۰؟ کیا پاکستانی حکمراں و اپوزیشن اور ہندوستانی حکمراں و اپوزیشن ان دونوں ممالک کے درمیان خوشحالی دیکھنا پسند کرتے ہیں ۰۰۰؟ دونوں ممالک کے عوام چاہتے ہیں کہ ہمسایہ ممالک کے ایک دوسرے کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہوں تاکہ اس سے اپنے ملک کی معیشت بہتر ہوسکے۔ پاکستان جو ان دنوں مشکل ترین معاشی بحران کا شکار ہے اور عالمی سطح پر معیشت کے استحکام کیلئے پاکستان کو امداد طلب کرنی پڑرہی ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف بھی اپنے ملک کی خستہ حال معیشت کو قبول کرتے ہوئے دنیا کے متمول ممالک سے تعاون کی درخواست کررہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو ان دنوں مشکل ترین معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔عرب ٹیلویژن کودیئے گئے انٹرویو میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کرپشن کے معاملے پر ہماری پالیسی ’زیرو ٹالیرنس‘ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان کئی دہائیوں سے برادرانہ تعلقات ہیں۔ ہم اسلام کو سلامتی کا مذہب ثابت کرنے کیلئے خلیجی ملکوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔پاکستان خلیجی ملکوں کی تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے کام کر رہا ہے۔ میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے ساتھ بنیادی مسائل حل کرکے پرامن ہمسائے کے طورپر رہنا چاہتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان 3 جنگیں ہوئیں جن کا نتیجہ غربت اور بیروزگاری کے علاوہ کچھ نہیں نکلا۔ انہوں نے کہا کہ ”ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کو سنجیدہ اور مثبت مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں۔ پاکستان اور بھارت کو فضول کی کشمکش اور دشمنی سے نکلنا ہوگا اور دونوں ملکوں کو عوام کی ترقی کیلئے کام کرنا ہوگا، اگر ہندوستان اپنا رویہ تبدیل کرکے مذاکرات کرے تو ہمیں تیار پائے گا“۔شہباز شریف نے مشرقی یورپ میں کشیدہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے دنیا پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو چین اور امریکہ کے درمیان پل کی حیثیت قراردیا۔

                    سوال پیدا ہوتا ہیکہ کیا موجودہ بی جے پی دورِ حکومت میں ہندوستان او رپاکستان کے درمیان رشتے خوشگوار نوعیت اختیار کرسکتے ہیں؟ ہندوستان اور پاکستان جوہری ہتھیار وں سے لیس ہیں۔ دونوں ممالک کواپنی فوجی طاقت پر ناز ہے اور ہونا بھی چاہیے، کیونکہ ہم جس طرح اپنے ملک ہندوستان کی فوجی طاقت کو جتنا مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں ویسا ہی پاکستانی شہری بھی اپنی فوج کو طاقتور اور مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔ فوجی طاقت مضبوط رکھنا ہر ملک کے ضروری ہے کیونکہ اس سے دشمن طاقتیں اور دشمن ممالک ڈرو خوف کے سایہ میں رہتے ہیں یا کسی بھی قسم کا حملہ کرنے سے احتیاط برتتے ہیں، لیکن ان ہتھیاروں اور طاقت کے نشے میں پڑوسی ممالک کے ساتھ ہمیشہ لڑائی جھگڑا کرنا دونوں ممالک کی تباہی کی وجہ بنا رہتا ہے۔ جیسا کہ اوپر بتایا جاچکا ہے پاکستان ان دنوں خطرناک معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ سیلاب نے پاکستان کو مزید متزلزل کرکے رکھدیا ہے جس کے بعد اقوام متحدہ کی جانب سے رکن ممالک سے پاکستان کو امداد دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، پاکستان کو معاشی تعاون فراہم کرنے کیلئے عالمی سطح پر مثبت ردّعمل کا اظہار ہورہا ہے۔ ایک طرف ہندوپاک کے درمیان رشتوں میں قربت کی کوشش کی جاتی رہی ہے تو وہیں دوسری جانب اسکے خلاف آوازیں بھی اٹھتی رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہندوپاک کے درمیان ہر دور میں حالات تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ان دنوں پاکستان میں ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر کی ایک ویڈیو کلپ وائرل ہو رہی ہے، جس میں مودی کہہ رہے ہیں کہ ہم نے پاکستان کو بھیک کا چپا لے کر مانگنے کیلئے مجبور کر دیا ہے۔ یہ ویڈیو کلپ عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف کی جانب سے وائرل کی جا رہی ہے کیونکہ اس وقت موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف معاشی بدحالی کی وجہ سے دنیا کے مختلف ممالک سے مالی مدد مانگ رہے ہیں، ان دنوں پاکستان میں شدید مالی بحران کے ساتھ ساتھ اناج کا بحران بھی ہے۔ وزیر اعظم ہند نریندر مودی کی اس ویڈیو میں یہ بھی کہا گیا ہیکہ اب وہ پاکستان کی نیوکلیر دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں کیونکہ ان کے پاس جو نیوکلیر ہتھیار ہیں وہ دیوالی کے لیے نہیں رکھے گئے ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق شہباز شریف نے یہ بھی کہا ہیکہ پاکستان ایک نیوکلیر طاقت ہوتے ہوئے دوسرے ممالک سے مدد مانگ رہا ہے جو شرمناک ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ ویڈیو کلپ 2019 کا بتایا جاتا ہے، جس وقت عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم تھے اور وہی ویڈیو کلپ عمران خان نے شہباز شریف حکومت کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔عمران خان جس وقت وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف لیے وہ اپنی پہلی تقریر میں ہندوستان سے کہے تھے کہ آپ ایک قدم آگے بڑھاؤ اور ہم دو قدم آگے بڑھائینگے۔ عمران خان،ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کی کئی مرتبہ تعریف کرتے رہے ہیں۔ اب جبکہ پاکستانی معیشت کا بُرا حال ہے۔ ان حالات میں پاکستان اپنے دوست ممالک سے مدد لینے میں سرگرم عمل دکھائی دے رہا ہے، سعودی عرب نے 11 بلین ڈالر کی مدد کی ہے۔پاکستانی وزیر خزانہ اسحق ڈار کے مطابق متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو دیئے گئے 2ارب ڈالر کے قرض کی مدت میں توسیع کردی ہے۔اس توسیع سے متعلق وزیر  خزانہ کا کہنا ہیکہ وزیر اعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ متحدہ عرب امارات کے باعث اس مدت میں توسیع کی گئی ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کو اس حال تک پہنچانے کیلئے ذمہ دار نواز شریف، اوربھٹو خاندان بتائے جاتے ہیں جنہوں نے اپنے ملک کی دولت دوسرے ممالک کو منتقل کر دی ہے۔ پاکستان کئی لیڈرس اربوں ڈالر کا مالک بتایا جاتاہے، اگر یہ دولت وہ اپنے ملک کے حالات کو بہتر بنانے کیلئے خرچ کریں تو بحران سے نکلا جاسکتا ہے اور پاکستان کی معیشت بہتر ہوسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہیکہ پاکستان میں اس وقت ایک کلو آٹے کی قیمت کم و بیش 150 روپے، پکوان کا تیل 580 روپیے کلو، پیاز 280 روپے کلو اور ایک انڈے کی قیمت بھی تقریباً25روپیے تک پہنچ گئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر(پاکستان) میں آٹے کیلئے 5 کلو میٹر طویل لائن دیکھی گئی۔ اس معاشی بحران کے نتیجے میں بتایا جاتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں موافق ہندوستان تحریک کو تقویت مل رہی ہے اور ہندوستانی چینلس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جنگ کے بغیر ہندوستان نے آدھا مقبوضہ کشمیر جیت لیا ہے۔ ہندوستانی کشمیر کا مسئلہ چھیڑنے کے بجائے پاکستان کو اپنے ملک کی فکر کرنی چاہیے اور یہ پاکستانی عوام بھی چاہتے ہیں کہ شہباز شریف حکومت اپنے عوام اور ملک کی خوشحالی کیلئے کام کریں۔

                    ویسے تو کئی ممالک کے نامور سیاستداں اربوں ڈالر کے اثاثے رکھتے ہیں اور اسی کے تحت وہ اپنے اقتدار کو بچائے رکھنے میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بلاول بھٹو زرداری جو ارب پتی سیاستدانوں میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں ان کے زیادہ تر اثاثے متحدہ عرب امارات میں ہیں۔ 4 کمپنیوں کو وہ دیڑھ ارب روپے قرض دے چکے ہیں۔ ان کے والد آصف علی زرداری سابق صدر پاکستان کی ہزاروں ایکر زمینیں ہیں، دبئی میں اثاثے ہیں اور 676.87 ملین کی کل جائیداد سمجھی جاتی ہے۔ شہباز شریف کے 247.49 ملین روپے کے اثاثے ملک اور بیرون ملک ہیں۔ ان کی اہلیہ نصرت شہباز کے 235.21 ملین کے اثاثے ہیں، شہباز شریف کی دوسری اہلیہ تہمینہ شہباز کی بھی کافی جائیدادیں ہیں۔ نون لیگ کے ایم پی احسان باجوا 4 بلین روپیوں کے مالک بتائے جاتے ہیں۔ اسی طرح دیگر شخصیات میں نور عالم خان 3.2 بلین کے مالک ہیں۔ ارباب عمر جنا کا تعلق پشاور سے ہے 2.75 بلین روپیوں کے مالک ہیں۔ نجیب ہارون کراچی، مونس الٰہی مسلم لیگ ق، نور الحسن تنویر، عمر ایوب بھی ارب پتی سیاست دانوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ سابق وزیر اعظم عمران خان ملک کے امیر ترین دس ارب پتیوں میں شامل ہیں جن کے 108 ملین روپے کے اثاثے ہیں۔ پاکستان کے سابق آرمی چیف قمرجاوید باجوہ جنہیں بعض حلقوں کی جانب سے بدعنوان ترین فوجی سربراہ کی حیثیت سے پیش کیا جارہا ہے ان کے اثاثے لگ بھگ 13 بلین پاکستانی روپیوں کے برابر بتائے جارہے ہیں۔ گزشتہ 6 سالوں کے دوران قمرجاوید باجوہ کے ارکان خاندان ارب پتی بن گئے ہیں۔ ان کی اہلیہ عائشہ امجدسے متعلق بتایا جارہا ہے کہ وہ 2016 میں کسی قسم کی جائیداد نہیں رکھتی تھیں مگر 2022 میں وہ 2.2 بلین روپیوں کی مالک بن گئیں۔ ایک کمپنی انکے میں 15000 شیئرس ہیں۔ پاکستان کو حالیہ سیلاب کے بعد کافی بیرونی امداد حاصل ہوئی اور ہورہی ہے۔ اس رقم کے متعلق بھی سمجھا جارہا ہے کہ یہ رقم بھی متاثرین پر خرچ کرنے کے بجائے سیاستدانوں کی تجوریوں میں چلی جاسکتی ہے۔ پاکستان کو اس کے سیاستدانوں اور بعض حکومتی عہدیداروں نے کنگال بنا دیا اوراب یہ ملک دیوالیہ ہونے کی نوبت تک پہنچ گیا ایک ایسے وقت جب عمران خان نے ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کیلئے کوشاں دکھائی دیتے تھے۔ ان کے خلاف سازش رچی گئی، ان کا تختہ الٹا گیا۔ عوام نے عمران خان کی آواز پر متحد ہوکر تختہ الٹنے والو ں کو بتادیا کہ وہ عمران خان کے ساتھ ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہیکہ پاکستان کے موجودہ حالات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ معاشی بحران،عوامی خلفشار اس ملک کی مزید تقسیم کا سبب بن سکتے ہیں۔اسی لئے پاکستان حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی جیبیں گرم کرنے کے بجائے ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے لگائے۔ ورنہ دنیا کے کسی بھی ملک میں وہ پناہ لے لیں انہیں دوسرے ممالک والے حقیر نظر سے دیکھ سکتے ہیں ۰۰۰ 

 امریکہ۰۰۰عراق کی دولت ہڑپنے کا خواب ادھوراہی چھوڑ گیا

عراق میں امریکہ کو ناکامی ہوئی اور ملک میں جمہوریت بحال ہوگئی۔ امریکہ 2003میں جس وقت مردِ آہن صدام حسین عراق کے صدر تھے، عالمی سطح پر صدام حسین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اورعالمی سطح پر مسلمانوں میں صدام حسین سے محبت نے امریکہ اور دیگر ممالک کے حکمرانوں میں ڈرو خوف پیدا کردیا تھا اور ایک بہانے سے صدام حسین پر الزام عائد کرکے عراق پر خطرناک حملے کرتے ہوئے اسے تباہ و برباد کردیا اور صدام حسین کو گرفتار کرکے انہیں پھانسی پر لٹکا کر شہید کردیا گیا۔ صدام حسین یوم عرفات کے دن پھانسی دی گئی اور یہ مردِمجاہد کلمہ طیبہ کی صداؤں کے ساتھ اپنے خالقِ حقیقی سے جاملاجس کی ویڈیو عالمی سطح پر دیکھی گئی۔تیل کے ذخائر سے مالامال دنیا میں دوسرے نمبر پر رہنے والے عراق پر امریکہ قبضہ کرنا چاہتا تھا لیکن اسے شدید ناکامی کا شکار ہونا پڑا۔امریکہ عراق میں ایک دوسرے کے خلاف  نفرت کی دیوار کھڑی کرنا چاہتا تھا‘ اس نے اس مقصد کیلئے مقتدالصدر کو استعمال بھی کیا۔ مگر آج عراق میں مقتدر الصدر کی جماعت ایران کی دوست ہے۔بش اور اسکے بعد والے صدور عراق پر حکومت کرنے کے خواب دیکھتے رہ گئے۔ جیسا کہ ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ نے صدر امریکہ کی حیثیت سے جب عراق کا دورہ کیا تب سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے بازوقدس فورس کے سپہ سالار اعلیٰ میجرجنرل قاسم سلیمانی کو 3/ جنوری 2020میں ڈرون حملہ میں ہلاک کروایا جس میں ابو مہدی المہندس اور دس دیگر افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کا حکم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دیا تھا۔ ایک سال بعد عراقی سپریم کورٹ نے امریکی صدر ٹرمپ کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا‘ کیا ایسا تصور بھی کیا جاسکتا تھا۔ ابھی حال ہی میں عراقی صدر محمد شیعہ السودانی اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے جنرل سلیمانی کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کی اور کہا کہ ان کی شہادت رائیگاں نہ جائے۔ وقت اور حالات بدل گئے۔ عراقی تیل کی دولت پر قبضہ امریکہ کا خواب ادھورا رہ گیا۔ سمجھا جارہا ہے کہ عراق کو اب اپنی دولت کی حفاظت کا سلیقہ آچکا ہے۔ خلیجی جنگ کے دوران جو عراقی ملک سے چلے گئے تھے وہ اب واپس آنے لگے ہیں۔ تیل کی پیداوار میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ فی کس آمدنی جو 2003ء کی جنگ سے پہلے 1200 ڈالر تھی اب 5000 ڈالر فی کس ہوچکی ہے۔ عراق میں انتخابات ہوئے‘ جمہوریت بحال ہوئی اور بے چارہ امریکہ اپنی فوج اور معیشت کو بچانے کیلئے عراق سے ناکامی منہ لے کر واپس ہوا۰۰۰

فلسطینی علاقوں سے اسرائیل تسلط برخواست کرنے کی مانگ

                    اسرائیل کی جارحیت اور ظلم و زیادتی اب ختم ہونی چاہیے۰۰۰ نیتن یاہو کی حکمرانی میں فلسطینی علاقوں پرمزید قبضے کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں۔ عالمی سطح پر اسرائیل سے مانگ کی جارہی ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں سے اپنا تسلط ختم کرے اور فلسطینی عوام کو خوشحال زندگی گزارنے کی راہیں فراہم کئے جائیں۔ فلسطینیوں کو کسی نہ کسی بہانے کے ذریعہ نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور انکی املاک کو تباہ و برباد کرکے انکی جائیدادو ں کو ہڑپ لیا جانا یہ اسرائیلی یہودیوں کا شیوہ رہا ہے۔ اسی کے خلاف عالمی سطح پر پھر ایک مرتبہ آواز اٹھائی گئی ہے۔ارجنٹینا کے بشمول 40 ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطین کے خلاف عائد کردہ پابندیوں کو ہٹا دے، یاد رہے کہ 30/ دسمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی تسلط برخواست کرنے کی مانگ کی تھی۔ بین الاقوامی عدالت انصاف کی رائے کی بنیاد پر یہ مانگ کی گئی تھی۔ اسرائیل نے اس کے جواب میں فلسطینی اتھاریٹی کے خلاف کئی پابندیاں عائد کردیں جن میں مالی امداد پر پابندی بھی شامل ہے۔ اقوام متحدہ کے رکن 40 ممالک نے بین الاقوامی عدالت انصاف کی رائے کی حمایت کی ہے اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینی عوام پر عائد کردہ پابندیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان ممالک میں جنہوں نے قرارداد پر دستخط کیے الجیریا، ارجنٹینا، بلجیم، آئرلینڈ، پاکستان، جنوبی افریقہ قابل ذکر ہیں۔ قرارداد کے خلاف ووٹ دینے والوں میں جرمنی اور اسٹونیا شامل ہیں۔ فرانس اور ساؤتھ کوریا قرارداد کی پیشی کے دوران غیر حاضر رہے۔ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی، اسرائیلیوں کے جبری داخلے کے بعد حالات بگڑ گئے تھے۔ 

ٌٌٌ***

اسرائیل میں فرعون کی واپسی۰۰۰ فلسطینیوں کی زندگی اوربھی اجیرن

عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

اسرائیل میں فرعون کی واپسی۰۰۰ فلسطینیوں کی زندگی اوربھی اجیرن

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

    


                  بنجمننیتن یاہو نے ایک بار پھر اسرائیل کے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ نئی حکومت کے آتے ہی فلسطینیوں پر ظلم و ستم کا آغاز ہوچکا ہے۔ فرعونیت پھر سے عود کرآئی ہے۔تجزیہ کار اس کو انتہائی دائیں بازو کی حکومت کے آغاز کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ 73 سالہ نیتن یاہو اس سے قبل 1996سے 1999اور 2009سے 2021تک وزیراعظم رہ چکے ہیں اور وہ تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک اس عہدے پر براجمان رہے ہیں۔واضح رہے کہ نیتن یاہو کو بدعنوانی کے الزامات کا سامنا ہے اور یہ معاملہ عدالت میں زیردوراں ہے۔حلف اٹھانے سے قبل نیتن یاہو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ چھٹی بار ہے کہ میں حکومت کا نمائندہ بنا ہوں۔ میں ایوان کی حمایت حاصل کرنے جا رہا ہوں اور میں اس قدر ہی پرجوش ہوں، جتنا پہلی بار تھا۔‘ نیتن یاہو جو خود کو ملک کی سلامتی کا ضامن قرار دیتے ہیں، کا کہنا ہے کہ ’میرا سب سے بڑا مقصد ایران کے جوہری طاقت بننے کو روکنا اور خطے میں اسرائیل کو فوجی برتری دلانا ہو گا۔‘انہوں نے عرب ممالک کے ساتھ ’امن کا دائرہ‘ بڑھانے پر بھی زور دیا۔نتین یاہو کو جون 2021 میں بائیں بازو اور دیگر جماعتوں نے نفتالی بینیٹ کی سربراہی میں عہدے سے معزول کر دیا تھا، تاہم بنجمن نیتین یاہو کم عرصہ میں واپس آگئے۔یکم نومبر کو ہونے والے انتخابات میں فتح کے بعد نیتن یاہو نے دائیں بازو کی پارٹیوں کے ساتھ مذاکرات کیے تھے جو فلسطین کے حوالے سے سخت موقف رکھتی ہیں۔اسی لیے کئی مبصرین نے ان خدشات کا اظہار کیا ہیکہ  یہ فلسطین کے خلاف ایک سخت حکومت ہو گی۔اسرائیل ڈیموکریسی انسٹیٹیوٹ نامی تھنک ٹینک کے صدر یوہانن پلینسر کا کہنا ہے کہ ’یہ نیتن یاہو کے پارٹنرز کیلئے ایک ایسی حکومت ہو گی جس کا وہ خواب دیکھتے رہے ہیں اور ایک طرف کا خواب دوسری طرف کے لیے ڈراؤنا خواب ہو گا۔ یہ حکومت ملک کو بالکل ایک نئے راستے پر لے جائے گی۔‘امریکی کے وزیر خارجہ انتونی بلنکن نے خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن آباد کاری میں توسیع اور مغربی کنارے کے الحاق کی کسی بھی کوشش کی سخت مخالفت کرے گا۔دوسری جانب نیتن یاہو کی پارٹی نے گذشتہ سال ڈسمبرکے اواخر میں کہا تھا کہ حکومت مغربی کنارے میں آباد کاری کا سلسلے کو آگے بڑھائے گی۔اس وقت بین الاقوامی قانون کے تحت غیرقانونی سمجھی جانے والی بستیوں میں چار لاکھ 45 ہزار کے قریب یہودی آباد ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو نے انتہائی دائیں بازو کی پارٹیوں کو اس امید پر رعایتیں پیش کی ہیں کہ شاید ان کو عدالتی استثنٰی ہو جائے یا پھر ان کا بدعنوانی کا مقدمہ منسوخ ہو جائے۔اس دوران بنجمن نتین یاہوحکومت کے وزیر سیاحت ہیم کاٹز نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے میں ترقی اور بحالی کے ساتھ سیاحت کے فروغ میں سرمایہ کاری کا عندیہ دیا ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ہیم کاٹز نے اپنا یہ تبصرہ نومنتخب وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے اقتدار سنبھالنے کے چند دن بعد کیا ہے۔بتایا جاتا ہیکہ ہیم کاٹز کے حکومتی اتحادیوں میں اعلیٰ عہدوں پر انتہائی دائیں بازو کے آبادکار رہنما شامل ہیں اور انہوں نے اپنے اتحادیوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مغربی کنارے میں آباد کاری کیلئے تعمیر کو اولین ترجیح دیں گے۔واضح رہے کہ اسرائیل نے1967میں مشرق وسطیٰ کی جنگ میں مغربی کنارے کے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد وہاں درجنوں یہودی بستیاں تعمیر کی گئی اور اب وہاں تقریباً پانچ لاکھ یہودیوں کے گھرموجود ہیں۔وزیر سیاحت کا کہنا ہے کہ ہم ان علاقوں میں سرمایہ کاری کریں گے جنہیں شاید آج تک خاطر خواہ  توجہ نہیں مل سکی  ہے۔ہیم کاٹز نے مذہبی اور دائیں بازو کے اسرائیلی یہودیوں کی جانب سے پسندیدیہ مقام مغربی کنارے کے لیے بائبل کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہاں یہودیہ اور سامریہ کے لیے خاص مقام ہوگا۔اسرائیل اس علاقہ کو وسیع تر سیاحتی شعبے کا حصہ سمجھتا ہے جب کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی گروپوں کا ماننا ہے کہ اس ارادے سے اسرائیل مقبوضہ علاقے پر اپنا کنٹرول بڑھا رہا ہے۔دوسری جانب جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین عدالتی ادارے سے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی پالیسیوں کی قانونی حیثیت پر اپنی رائے دے تاہم  بینجمن نیتن یاہو نے اس قرارداد کو ’ذلت آمیز‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی عدالت انصاف کے ساتھ تعاون کرنے کا پابند نہیں۔امریکہ نے اسرائیلی وزیر اعظم پر زور دیا ہے کہ وہ مقدس مقامات کی حیثیت برقرار رکھنے کے وعدے پر قائم رہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری ’کرین جین پیئر‘نے کہا کہ امریکہ یروشلم میں مقدس مقامات کی حیثیت کے تحفظ کیلئے مضبوطی سے کھڑا ہے، یروشلم کے مقدس مقامات کو خطرے میں ڈالنے والا کوئی بھی یکطرفہ اقدام ناقابلِ قبول ہے۔واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتماربن گویر نے سخت سیکیوریٹی میں مسجد اقصیٰ کا اشتعال انگیز دورہ کیا تھا، اسرائیلی وزیر کے دورہ مسجد اقصیٰ کے بعد مسلم ممالک اور مسلمانوں کی جانب سے شدید برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ چین اور متحدہ عرب امارات نے اس معاملے پر اقوام متحدہ سے سلامتی کونسل کی ہنگامی میٹنگ طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سعودی عرب نے منگل کی صبح مسجد اقصیٰ کے احاطے ایتماربن گویر کے اشتعال انگیز اقدام کی مذمت کی ہے۔سعودی دفتر خارجہ نے اس اقدام کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ’قابض اسرائیلی حکام کی اس قسم کی سرگرمیوں سے عالمی امن مساعی سبوتاژ ہورہی ہیں۔ مقدس مذہبی مقامات کے احترام کے حوالے سے عالمی روایات اور اصولوں کی مخالفت ہورہی ہے‘۔ دفتر خارجہ نے سعودی عرب کے غیر متزلزل موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ’مملکت فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہے۔ غاصبانہ قبضہ ختم کرانے اور مسئلہ فلسطین کے جامع اور منصفانہ حل تک رسائی کیلئے کی جانے والی ہر کوشش کی حامی ہے‘۔بیان میں کہا گیا کہ’سعودی عرب چاہتا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کے دائرے میں خودمختار فلسطینی ریاست قائم ہو اور اس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہو‘۔اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھی اسرائیلی حکومت کے انتہا پسند وزیر کی جانب سے مسجد اقصی کے صحنوں کی بے حرمتی کی سخت مذمت کی ہے۔او آئی سی نے بیان میں کہا کہ اسرائیلی وزیر ایتمار بن غفیر کا سیکیورٹی فورس کے ساتھ مسجد اقصی میں گھسنا قبلہ اول کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کی اسرائیلی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔اور ’اسرائیلی وزیر نے جو کچھ کیا اس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہوئے ہیں اور یہ اقدام متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘اسلامی تعاون تنظیم نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ ’وہ اسرائیل کی ان خلاف ورزیوں کو روکنے کیلئے اپنا فرض ادا کرے۔ اس قسم کی حرکتوں سے خطے میں مذہبی کشمکش، انتہا پسندی اور عدم استحکام کو ہوا ملتی ہے۔‘

معصوم فلسطینی لڑکے کی اسرائیلی ظالم پولیس اہلکار کے ہاتھوں گلا دباکر شہادت

                    یوشلم میں موجود امریکی سفارت خانہ کے پاس فلسطینیوں کی جانب سے احتجاج کے موقع پر ایک اسرائیلی ظالم درندہ صفت پولیس اہلکار نے ایک معصوم فلسطینی لڑکے کو گلا دباکر شہید کردیا۔ اپنی شہادت سے قبل یہ فلسطینی لڑکا کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے خالق حقیقی سے جاملا۔ سوشل میڈیا پر جاری اس ویڈیو کلپ کو تمام سوشلپلیٹ فارمس نے ڈیلیٹ کردیا گیا۔بتایا جاتا ہیکہ یہظلم کی انتہاء ہفتہ کے روز پیش آئی۔ واضح رہیکہ امریکہ میں ایک سیاہ فام کے ساتھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا جس کے بعد دنیا بھر میں احتجاج بلند ہوا تھا۔ جبکہ فلسطینی معصوم لڑکے پر جو ظلم ستم کرکے شہید کیا گیا اس کے خلاف کسی قسم کا کوئی احتجاج نہیں ۰۰۰بنجمین نتین یاہو کے پھر سے ایک مرتبہ وزیر اعظم بننے کے بعد فلسطینیوں کیلئے حالات خراب ہوتے نظر آرہے ہیں۔

 شاہ عبداللہ الثانی اور یو اے ای صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کی ملاقات

                    متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ الثانی کا ابوظہبی کے الشاطی محل میں چہارشنبہ  کے روز خیر مقدم کیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ الثانی 

کے دورہ کے موقع پر دونوں ملکوں کے برادرانہ تعلقات اور باہمی تعاون کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا ہے۔شیخ محمد آل نہیان نے اردنی فرمانروا کو نئے سال کی مبارکباد دی اور دعا کی کہ’اللہ تعالی نئے سال کو دونوں ملکوں، خطے اور دنیا بھر کیلئے ترقی و خوشحالی کا سال بنادے۔‘ اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر داخلہ شیخ سیف بن زاید آل نہیان، قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زاید آل نہیان، نائب وزیراعظم و وزیر ایوان صدارت شیخ منصور بن زاید آل نہیان اور مجلس عاملہ کے رکن شیخ خالد بن محمد بن زاید آل نہیان بھی موجود تھے۔ جبکہ اردن کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ ایمن الصفدی بھی ملاقات کے موقع پر موجود تھے۔ واضح رہے کہ شاہ عبداللہ ثانی متحدہ عرب امارات کے دورہ پر پہنچنے پر انکا البطین ایئر پورٹ پر شیخ محمد بن زاید اور حکمراں خاندان کی اہم شخصیات نے خیر مقدم کیا۔

 پاکستانی فوجی سربراہ جنرل عاصم منیر کا پہلا غیر ملکی دور ہ سعودی عرب

                    پاکستانی فوجی سربراہ جنرل عاصم منیر نے اپنا پہلا غیر ملکی دورہ سعودی عرب سے کیا وہ مملکت ریاض پہنچ کر سعودی وزیردفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی۔سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے جنرل عاصم منیر کو پاکستانی فوجی سربراہ بننے پر مبارکباد دی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ دورہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تعلقات کوفروغ دینے کے تناظر میں کیا گیا ہے جس میں دفاعی شعبہ بھی شامل ہے۔ جمعرات کو اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات ہیں جس کی جڑیں تاریخ اور مشترکہ مذہب پر مبنی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ’سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات کثیرجہتی ہیں جن میں دفاع کا شعبہ بھی شامل ہے۔بتایا جاتا ہے کہ ملاقات کے دوران دونوں برادر ملکوں کے دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی اور پائیداری پر زور دیا گیا۔ فوجی اور دفاعی تعاون بڑھانے اور سپورٹ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔مشترکہ تشویش کے اہم ترین علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی بات چیت کی گئی۔اس موقع پر سعودی عرب کی فوج کے سربراہ اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔سعودی وزیر دفاع شہزاد خالد بن سلمان نے ٹویٹ کی کہ ’پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر سے ملاقات کرکے خوشی ہوئی۔‘’ہم نے اپنے برادر ملکوں کے درمیان اسٹریٹیجک پارٹنرشپ پر زود دیا۔ دوطرفہ فوجی اور دفاعی تعلقات کا جائزہ لیا اور اپنے تعاون کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔‘پاکستانی فوجی شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فوجی سربراہ جنرل عامنیر 4/ جنوری سے 10/ جنوری تک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے دورہ پر ہیں۔

اسلام آباد میں چند سو پولیس جائیدادوں کیلئے ہزاروں امیدوارمیدان میں 

                    محنت کرنا کون نہیں چاہتا اور اگر حکومت کی جانب سے روزگار فراہم کیا جارہا ہے تو اس میں سبقت لے جانے کی ہر کوئی شہری کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح گذشتہ دنوں پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس میں 1667جائیدادوں پر بھرتی کیلئے پہنچنے والے مردو خواتین کی تعداد 30ہزار سے متجاویز کرگئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اسٹڈیم میں اہلیت تحریری امتحان دینے والوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس میں دیکھا جاسکتا ہیکہ روزگار کے متلاشی (امیدواروں) سے اسٹیڈیم کھچا کھچ بھرا ہوا ہے۔ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق سی پی او ہیڈ کوارٹرز، سی پی او سکیورٹی، سی پی او سیف سٹی، سی پی او ٹریننگ و لاء اینڈ آرڈر، سی پی او آپریشنز نے اس بھرتی کے تمام عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے اور امتحانات کے تمام مراحل کیلئے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے، واضح رہے کہ اس امتحان میں اہل قرار پانے والے خوش قسمت امیدواروں کو سلیکشن کے اگلے مراحل سے گزرنا ہو گا۔

***