MY COLUMN

حمزہ شہباز کی معزولی کے بعد ۰۰۰ اگلا نشانہ عمران کا ۰۰۰؟

 

عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

 ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید 

جوائنٹ ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی، حیدرآباد

            آخرکار پرویز الٰہی پنجاب کے وزیراعلیٰ بن گئے اور انہیں ایوان صدر اسلام آباد میں صدر مملکت پاکستان عارف علوی نے رات دو بجے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے عہدے کا حلف دلایاکیونکہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمن نے پرویز الٰہی کو وزارت ِ اعلیٰ کاحلف دلانے سے انکار کیا تھا ۰۰۰تاریخی فیصلہ سے حکمراں اتحاد کو منہ کی کھانی پڑی۰۰۰ سپریم کورٹ آف پاکستان کے سہ رکنی بینچ چیف جسٹس عمر عطا بندیال،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے موقع پر ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کی طرف سے دی گئی رولنگ کے خلاف 26/ جولائی کی رات نو بجے 11صفحات پر مشتمل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ درست نہیں ہے، انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو غلط سمجھا، ان کی رولنگ کالعدم قرار دی جاتی ہے، عدالت نے اپنے فیصلے میں ق لیگ کے مسترد تمام دس ووٹوں کو درست قرار دے دیا اور پرویز الٰہی کے 186ووٹ بحال کردیئے۔ عدالت کے فیصلے میں کہا گیا کہ پرویز الٰہی پنجاب کے وزیراعلیٰ ہونگے۔ سپریم کورٹ کے سہ رکنی بینچ نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمن کو حکم دیا تھا کہ وہ رات ساڑھے گیارہ بجے پرویز الٰہی سے وزیر اعلیٰ کا حلف لیں۔ اگر گورنر پنجاب دستیاب نہ ہوں تو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی پرویز الٰہی سے حلف لینگے۔ سپریم کورٹ نے چیف سیکریٹری کو حکم دیا تھا کہ وہ فوری طور پر پرویز الٰہی کے وزیر اعلیٰ بننے کا نوٹیفکیشن جاری کریں۔ اسی طرح فیصلے میں حمزہ شہباز کا وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اور اسکے بعد کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیا گیا اور حکم دیا گیا کہ حمزہ شہباز اور انکی کابینہ فوری طور پر عہدے چھوڑ دیں۔ حمزہ شہباز کی جانب سے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب کی حیثیت کی جانے والی تقرریوں کو بھی کالعدم قرار دیا گیا۔ عدالت نے دن کے وقت ہی فیصلہ محفوظ کرکے کہا تھا کہ پونے چھ بجے سنایا جائے گا تاہم بعد میں فیصلے کا وقت تبدیل کرکے ساڑھے سات بجے کیا گیا پھر اس میں بھی تبدیلی کی گئی اور رات قریب 9بجے فیصلہ سنایا گیا۔ چونکہ پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اسکی تمام جماعتوں کے پاس اہمیت بھی ہے۔ واضح رہے کہ 22/ جولائی کو20نشستوں پر ضمنی انتخابات کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے انتخاب عمل میں لایا گیا تھا، ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو 15نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی جس کے بعد پی ٹی آئی کے پنجاب اسمبلی میں 176ارکان اور اسکی اتحادی جماعت ق لیگ کے 10ارکان کے منجملہ 186ارکان نے پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے منتخب کیا تھا جبکہ مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کے امیدوارکی تعداد179تھی اور انہوں نے حمزہ شہباز کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ ووٹوں کی گنتی کے موقع پر ڈپٹی اسپیکر نے (ق) لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کا خط دکھاکر کہا کہ اس میں ق لیگ کے ارکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حمزہ شہباز کو ووٹ دیں، چونکہ ق لیگ کے ارکان نے پارٹی سربراہ کے فیصلے سے روگردانی کی ہے اس لئے چودھری پرویز الٰہی کو ملنے والے 10ووٹ مسترد کئے جاتے ہیں، ڈپٹی اسپیکر کے فیصلے کے نتیجے میں حمزہ شہباز 179ووٹوں کے ساتھ وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے  اور گورنر پنجاب بلیغ الرحمن نے حمزہ شہباز کو حلف بھی دلادیا تھا۔ ق لیگ پارلیمانی پارٹی کے صدر پرویز الٰہی ہیں اور پاکستانی آئین کے مطابق پارلیمانی پارٹی کے صدر کے کہنے پر اراکین کو اسمبلی میں ووٹ استعمال کرنا ہوتا ہے۔ اسطرح پاکستانی آئین کے مطابق پرویز الٰہی کو ہی اصل میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ قرار دیا جانا تھا لیکن ڈپٹی اسپیکر نے اپنی رولنگ میں حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ قرار دیا۔ڈپٹی اسپیکر کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی اور پرویز الٰہی نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اسکا نتیجہ 26/ جولائی کی رات سپریم کورٹ کے سہ رکنی بینچ نے سناکر پاکستانی عدلیہ کی ساکھ کو متاثر ہونے سے بچالیا۔ اس فیصلے کے آنے سے قبل حکمراں اتحاد نے فوری فل کورٹ بینچ بنانے کی درخواست دی تھی جس پر  تین رکنی بینچ نے کہاکہ موجودہ بینچ ہی کیس کی سماعت کرے گا۔ جس کے بعد پاکستانی ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے حکومتی اتحاد کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس میں فل کورٹ بینچ کی تشکیل کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے عدالتی فیصلے کو جوڈیشل کِو قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ  انصاف کا قتل نامنظور، حکومت کو سخت موقف اختیار کرنا چاہیے اور ڈٹ جانا چاہیےے، لیڈر ان حالات سے بنتے ہیں جن کا وہ سامنا کرتے ہیں۔ مریم نواز کے والد اور سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف جو ان دنون لندن میں مقیم ہیں نے عدالتی فیصلے پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ”پاکستان کو ایک تماشہ بنادیا گیا ہے، تینوں جج صاحبان کو سلام“۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق 27/ جولائی کو مریم نواز نے ایک اور ٹوئٹ کرکے کہا کہ ’غلطی کی تو لاڈلے کے حق میں، غلطی کی تصحیح کی تو بھی لاڈلے کے حق میں؟ کیسے جسٹفائی کریں گے اس کھلی بلکہ ننگی ناانصافی کو؟ یہ بھی عدالتی قتل ہوا ہے مگر اس بار مقتول عدل وانصاف ہے! یہ کیا کربیٹھے آپ چیف جسٹس صاحب؟“اس طرح سپریم کورٹ کا فیصلہ ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی رولنگ کے خلاف آنے پر حکمراں اتحاد سخت غصہ میں دکھائی دیتا ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس فیصلے سے ن لیگ کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، ہم جانتے ہیں کہ پنجاب کا مینڈیٹ ن لیگ، نواز شریف اور شہباز شریف کا ہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک فیصلہ پنجاب کے اوپر ایک ایسے شخص کو مسلط کردے جس کا مینڈیٹ نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ ملک کے اندر جوڈیشل کو سے مطابق رکھتا ہے، یہ فیصلہ ملک اور عوام کو اور زیادہ انتشار او رانارکی کی طرف لے کر جائے گا، اس فیصلے کو آدھے سے زیادہ عوام نہیں مانتے، اس فیصلے پر فل کورٹ اس لئے نہیں بنایا گیا کیونکہ اگر یہ بن جاتا تو فیصلہ مختلف ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ آج سے عدلیہ کی بحالی کی تحریک کا دوسرا باب شروع ہوا ہے، آج کے فیصلے کو پارلیمان او رآئین کی بالادستی میں تبدیل کرینگے۔اسی طرح وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہیکہ میں نے پنجاب میں گورنر راج لگانے کیلئے سمری پر کام شروع کردیا ہے، گورنر راج کی سمری وزارت داخلہ میں تیار ہورہی ہے۔ انکا کہنا ہیکہ اگر انکا پنجاب میں داخلہ بند کیا گیا تو گورنر راج لگانے کا جواز ہوگا، رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھاکہ انکوائری ہورہی ہے، عمران خان کی کرپشن سامنے آرہی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے سے مزید عدم استحکام پیدا ہوا ہے، نواز شریف واپس آئینگے اور انتخابی مہم چلائیں گے، عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد مسلم لیگ (ن) کا فیصلہ تھا کہ عام انتخابات کی طرف جایا جائے۔اس طرح حکمراں اتحاد اور وزراء سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اٹھ کھڑے ہیں اب دیکھنا ہیکہ سپریم کورٹ کے خلاف جس طرح کے الفاظ استعمال کئے گئے اسکے تحت توہین عدالت کا مقدمہ ان قائدین کے خلاف دائر کیا جاتا ہے یا نہیں ۰۰۰ لیکن اتنا ضرور ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ پرویز الٰہی کے حق میں آنے کے بعد لاہور ہی نہیں

بلکہ پاکستان کے علاوہ دنیاکے دیگر کئی ممالک بشمول لندن، فرانس، امریکہ، اٹلی، جرمنی، سعودی عرب وغیرہ میں پاکستانی عوام نے اسے تاریخ کا ایک عظیم فیصلہ قرار دیتے ہوئے سہ رکنی پینچ کی سراہنا کی اورعمران خان و پرویزالٰہی کو مبارکباد دیتے ہوئے جشن منایا۔ عمران خان نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر خوشی کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ یہ حق کی جیت ہے اور پاکستان عدلیہ نے انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا ہے انہوں نے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ آج عوام جاگ گئی ہے ان میں شعور بیدار ہوا ہے، عوام اپنی حقیقی آزادی کیلئے نکل گئے ہیں اور خوف و ہراس سے پرے ہوکر ضمنی انتخابات میں ووٹ دے کر اسکا ثبوت پیش کیا ہے۔انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد 27/ جولائی کو اپنی تقریر میں مزید کہا کہ ملک میں صاف و شفاف انتخابات کرانے کیلئے موجودہ الیکشن بورڈ کو مستعفی ہونا چاہیے۔انہوں نے اس فیصلہ پر اللہ کا شکر اداکیا اور کہا کہ حضور ﷺ کی نظر کرم اور عوام خصوصاً خواتین و نوجوانوں کا بڑے پیمانے پر تعاون ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے خوش آئند ہے اسکے لئے انہوں نے عوام کا شکریہ اداکیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ انکے دور میں ملک ترقی کی طرف گامزن تھا کورونا کے دورمیں بھی ملک کی معیشت کو بڑھانے کی کوشش کی اور شعبہ زراعت و انڈسٹریز میں اضافہ ہوا۔ عوام میں خوشحالی آرہی تھی، ملک صحیح سمت جارہا تھا،پاکستان کو فلاحی ریاست کی جانب لے جارہے تھے، پہلی دفع ہیلت کارڈ کے ذریعہ دس لاکھ روپیے کا علاج کروایا جاسکتا تھا، سستے قرضے دیئے جارہے تھے سود کے بغیر گھر بنانے کیلئے قرضے دیئے جارہے تھے، یہ ساری چیزیں چل رہی تھی عین اس وقت انکی حکومت کو گرایا گیا۔حکومت گرانے سے جو نقصانات ہونگے اس سے آگاہ کیا گیا اور عوام آج دیکھ رہے ہیں کہ چند ماہ کے اندر ملک کی معیشت بے حالی کا سبب بن گئی ہے۔اب دیکھنا ہیکہ عمران خان مستقبل قریب میں وفاقی حکومت کے خلاف کیا کارروائی کرتے ہیں اور انکا اگلا نشانہ کون ہوگا ۰۰۰؟

وزیراعلیٰ پنجاب کی عمران خان سے ملاقات اور اظہارِ تشکر

                چودھری پرویز الٰہی نے وزارتِ اعلیٰ پنجاب کا منصب سنبھالنے کے بعد  چیئرمین پی ٹی آئی وسابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات کیلئے اسلام آباد پہنچ کر انکی جانب سے حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بننے پر مبارکباد دی، ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور آئندہ کی حکمت عملی سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام نے جس طرح ان پر اعتماد کیا ہے اس پر پورا اترینگے۔ ملاقات میں پنجاب کابینہ کی تشکیل پر بھی مشاورت کی گئی۔وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کے صاحبزادے اور سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی بھی اس ملاقات کے موقع پر موجود تھے۔

عازمین عمرہ کیلئے خوشخبری۔یکم محرم سے عمرہ بکنگ کا آغاز

اللہ کے بندے اپنے خالق و مالک کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر اداکرکے خوشی حاصل کرتے ہیں۔ ان ہی نعمتوں میں سے ایک نعمت عمرہ کی سعادت حاصل کرنا بھی ہے۔مملکت سعودی عربیہ کی شاہی حکومت کی جانب سے سعودی وزارت حج و عمرہ نے کہا ہے کہ یکم/ محرم الحرام ۴۴۴۱ھ مطابق 30 /جولائی 2022 سے عمرہ پرمٹ اور بکنگ اعتمرنا کے ذریعے کرائی جا سکتی ہے۔عاجل، سبق اور اخبار 24 کے مطابق وزارت حج و عمرہ کا کہنا ہے کہ عمرہ زائرین سکون و اطمینان اور سہولت و آسانی سے عمرہ کر سکیں گے۔ زائرین کیلئے مطلوب تمام سہولتیں مہیا ہونگی۔ اعتمرنا ایپ کے ذریعے عمرہ پرمٹ کے اجرا اور بکنگ کی سہولت اسی حکمت عملی کا حصہ بتائی جاتی ہے۔بتایا جاتا ہیکہ اعتمرنا ایپ کے ذریعہ مسجد الحرام کی گنجائش کے لحاظ سے عمرہ پرمٹ جاری ہونگے۔ بکنگ کراتے وقت زائرین کو متعدد آپشن دیے جائیں گے۔اعتمرنا ایپ کے ذریعے مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں داخلے کے حوالے سے متعدد ہدایات بھی پیش کی جا رہی ہیں۔اعتمرنا ایپ کے ذریعے عمرہ اور زیارت کے پرمٹ اور اس کی بکنگ سعودی شہری اور مقیم غیرملکی بھی کرا سکتے ہیں۔ خلیجی تعاون کونسل کے شہریوں اور وہاں مقیم غیرملکیوں کو بھی یہی سہولت حاصل ہوگی۔وزارت نے توجہ دلائی ہے کہ عمرہ پرمٹ کیلئے بکنگ کا دارومدار حرم شریف میں گنجائش پر ہے، اگر سبز رنگ نظر آ رہا ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ معمولی بھیڑ ہے۔ سرخ رنگ زیادہ رش کی علامت ہے جبکہ نارنجی رنگ اوسط درجے کے رش کا پتہ دیتا ہے اور سرمئی رنگ اس بات کی علامت ہے کہ حرم شریف میں مزید بکنگ کی گنجائش نہیں۔

شاہ سلمان کو قازقستان کا سب سے بڑا اعزاز


سعودی فرمانروا و خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو صدر قازقستان قاسم جومارٹ توکایف نے اپنے ملک قازقستان کا سب سے بڑا اعزاز پیش کیا ہے۔ یہ گولڈن ایگل میڈل جو ’الطین قیران‘ کہلاتا ہے اسے دونوں ملکوں کے باہمی مستحکم تعلقات کو عروج کی نئی منزلوں تک پہنچانے کا عملی اعتراف تصور کیا جارہا ہے۔خادم حرمین شریفین کودیا گیا اعزاز صدر قازقستان سے جدہ میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان حاصل کیا۔ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اعلی ترین اعزاز پیش کرنے پر خادم حرمین شریفین کی جانب سے قازقستان کے صدر کا شکریہ ادا کیا اور ان کیلئے دلی قدرومنزلت کا اظہار کیا۔

جدہ میں قازقستانی صدراورسعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ملاقات

سعود ی ولیعہد و وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے قازقستان کے صدر قاسم جومارت کا جدہ کے قصر السلام میں استقبال کیا۔ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور کے علاوہ مشترکہ مفادات کے تحفظ پر بات چیت کی ہے۔ سعودی عرب اور قازقستان نے اتوار کو جدہ میں 13 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے۔ فریقین نے سعودی قازقستانی سرمایہ کاری فورم کے دوران صدر قاسم جومارٹ توکایف اور دونوں ملکوں کے پرائیویٹ سیکٹر کے نمائندوں، بڑی کمپنیوں کے سربراہوں و عہدیداروں اور وزرا کی موجودگی میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔واضح  رہے کہ سعودی قازق سرمایہ کاری فورم دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کی 31 ویں سالگرہ کی مناسبت سے منعقد کیا گیا تھا۔

*****

مولانا حافظ محمد خواجہ نذیر الدین سبیلیؔ ناظم جامعہ عائشہ نسواں

مولانا حافظ محمد خواجہ نذیر الدین سبیلیؔ ناظم جامعہ عائشہ نسواں
 

 ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید 

جوائنٹ ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی، حیدرآباد

    

         مولاناحافظ محمد خواجہ نذیر الدین سبیلیؔ جناب محمد خواجہ معین الدین صاحب کے فرزند ہیں۔ 6/ جون 1960ء کو ورنگل میں پیدا ہوئے۔ چھ سال کی عمر میں باب العلوم ورنگل میں شعبہ حفظ میں داخلہ لیا اور پانچ پارے حفظ کرنے کے بعد مولانا حافظ حماد بن ذکی صاحب کے پاس مدرسہ الٰہیہ، قطب شاہی مسجد، بازار گھاٹ حیدرآباد میں دس سال کی عمرمیں حفظ قرآن مجید کی تکمیل کی۔تکمیل حفظ قرآن کے بعد گورنمنٹ بوائز(ذکور) اسکول کرما گوڑہ، سعیدآباد، حیدرآباد میں داخلہ لیا اور 1975ء میں ایس ایس سی کامیاب کئے۔ اعزہ جونیر کالج سے 1977ء میں انٹرمیڈیٹ کئیاور انوار العلوم کالج سے 1980میں بی اے کی تکمیل کی۔ انوارالعلوم سے بی اے کرتے ہوئے رات کے اوقات میں دارالعلوم سبیل السلام سے شعبہ عا  لمیت میں داخلہ لیا۔ مولانا حافظ محمدخواجہ نذیر الدین سبیلی نے بتایا کہ بی اے کی تعلیم کے دوران انہیں اور انکے ایک کالج کے ساتھی حافظ شمشیر علی کو دینی علوم حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوئی، یہ دونوں دینی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے مولانا رضوان القاسمی صاحب سے ملاقات کرکے اپنے اس عزم کا اظہار کیا اور ساتھ انوار العلوم کالج میں بی اے کی تعلیم جاری رہنے کی بات کی جس پر مولانا رضوان القاسمی نے ان دونوں کو مشورہ دیا کہ وہ رات کے اوقات (شبینہ) میں دینی تعلیم حاصل کریں اس کیلئے مولانا رضوان القاسمی نے دارالعلوم سبیل السلام میں عالمیت کیلئے شبینہ کلاسس کا آغاز کیا اس طرح حافظ محمد خواجہ نذیر الدین شبینہ کلاسس میں عالمیت کے کورس کے پہلے بیاچ سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے 1980ء میں شعبہ عالمیت میں داخلہ لیااو ر1985ء میں فراغت پائی۔ حافظ صاحب کے اساتذہ میں مولانا رضوان القاسمی مرحوم،مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اورمولانا غیاث الاسلام رحمانی ہیں۔ حافظ صاحب نے بتایا کہ وہ گرائجویشن کے دوران انوار العلوم کالج سے مولانا قاری سید کلیم اللہ حسینی صاحب ؒ کے مکان جاکر عشرہ قرأت کی تعلیم حاصل کئے۔اسی طرح فن خطاطی کیلئے حیدرآباد کے ممتاز خطاط جناب سلام خوشنویس سے خطاطی کی مشق کی۔ مئی 1983ء میں آپ جناب محمد بشیر الدین صاحب کی دختر سے نکاح کیا۔حافظ صاحب کو چار لڑکے اور تین لڑکیاں ہیں جو الحمد للہ سب کے سب حافظ قرآن اور عالم دین ہیں۔ چاروں صاحبزادے آپ ہی کے پاس حفظِ قرآن مجید کی تکمیل کی۔ بڑے فرزند حافط محمد خواجہ معز ندوی، ندوۃ العلماء سے فراغت پائی اور مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے مدرسہ معہد العالی سے افتاء کیا۔ دوسرے فرزند حافظ محمد خواجہ وحید الدین طیب، تیسرے فرزند حافظ  محمد خواجہ حسن الدین انس اور سب سے چھوٹے فرزند حافظ محمد خواجہ معین الدین عمیر ہیں تینوں صاحبزادے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کے مدرسہ عبداللہ ابن مسعود سے فراغت حاصل کئے ہیں۔ 

     حافظ محمد خواجہ نذیر الدین صاحب پندرہ سال کی عمر سے نمازِ تراویح میں روزانہ پانچ پارے قرآن مجید سنانے کی سعادت حاصل کررہے ہیں اور الحمد للہ یہ سلسلہ گذشتہ 42سال سے جاری ہے۔ تکمیل حفظ قرآن مجید کے بعدسے مسجد نور مادنا پیٹ میں بچوں کوناظرہ قرآن مجید اور حفظ قرآن مجید کرانے کا آغاز کیا اوریہ سلسلہ بھی پندرہ سال تک یعنی قیام”عائشہ نسوان“تک جاری رہا،آپ کے پاس کئی طلباء نے حفظ قرآن مجید کی تکمیل کی۔1975ء یعنی پندرہ سال کی عمر سے مولانا حافظ خواجہ نذیر الدین مسجد نور مادنا پیٹ میں خطیب و امام کی حیثیت سے فائز ہیں۔ گذشتہ سال طبیعت کی سخت ناسازی کے بعد سے اب صرف جمعہ کی خطابت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ 1985ء میں انہیں مسابقۃ القرآن الکریم میں شرکت کیلئے مکہ مکرمہ جانے کا موقع نصیب ہوا اور آپ کو کعبۃ اللہ شریف کے اندر نماز پڑھنے کا موقع ملا۔ اس مسابقہ میں بین الاقوامی سطح سے تقریباً 350قرأ، حفاظ اور علماء تشریف لائے تھے۔ مولانا نے بتایا کہ دینی اور عصری علوم کی تکمیل کے بعد ابتداء میں مادنا پیٹ میں ”الفلاح پرنٹنگ پریس“ کا قیام عمل میں لایا پھراسے یہاں سے  چھتہ بازار منتقل کیاگیا، لیکن جامعہ عائشہ نسوان کے قیام کے بعد مصروفیات کی وجہ سے پرنٹنگ پریس کو بند کردیا گیا۔

    جامعہ عائشہ نسوان کا قیام:۔ مولانا حافظ محمد خواجہ نذیر الدین سبیلی نے جامعہ عائشہ نسوان کے قیام کے سلسلہ میں بتایا کہ جامعہ کے قیام سے قبل چند افراد کے درمیان خواتین کے چند ضروری مسائل کے سلسلہ میں کسی مسئلہ پر بات چیت ہورہی تھی اس موقع پر انہیں خیال پیدا ہوا  کہ کیوں نہ لڑکیوں کیلئے مدرسہ کا قیام عمل میں لایا جائے۔ اس خیال کو عملی جامہ پہنایا گیا اور پھر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی سرپرستی میں 20/ اگسٹ 1986ء میں جامعہ عائشہ نسوان کا قیام عمل میں لایا گیا۔آغاز کے وقت ہی ایک کمیٹی بنائی گئی جس کے بانی سرپرست مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور بانی ناظم مولانا محمد خواجہ نذیر الدین سبیلی ہیں۔ کمیٹی کے دیگر عہدیداروں میں حکیم میر مقبول علی ہاشمی نگران عمومی اور جناب محمد بشیر الدین خازن ہیں۔عائشہ نسوان کا آغاز صرف سات لڑکیوں کی تعلیم سے ہوا اور الحمد للہ ترقی کرتا ہوا یہ جامعہ آج ریاست تلنگانہ، آندھراپردیش اور دیگر ریاستوں کے 1600طالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کررہا ہے۔ جامعہ میں اس وقت 900طالبات اقامتی حیثیت سے تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ جامعہ میں شعبہ حفظ قرآن مجید کے تحت مکمل تجوید کی رعایت کے ساتھ قرآن مجید کے حفظ کا انتظام ہے۔ اس شعبہ میں صرف ان ہی طالبات کو داخلہ دیا جاتا ہے جو سن بلوغ کو پہنچنے سے پہلے حفظ مکمل کرسکتی ہیں۔ حفظ شروع کرنے سے قبل تجوید کی مشق کیلئے قاعدہ و ناظرہ کا درس دیا جاتا ہے۔ شعبہ عالمیت میں قرآن و حدیث، فقہ و عربی ادب کی اعلیٰ تعلیم کا نظم ہے یہ شعبہ پانچ سالہ نصاب پر مشتمل ہے اس نصاب کی تکمیل پر فضیلت کی سند دی جاتی ہے۔ شعبہ تخصص فی الفقہ کے تحت فقہی مسائل میں مہارت اور روزمرہ پیش آنے والے مسائل کی جانکاری اور ان کے اسلامی حل کے طریقوں سے واقفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فضیلت حاصل کرنے والی طالبات کیلئے شعبہ تخصص فی الفقہ عمل میں لایا گیا۔ اس شعبہ میں ملک کے دیگر جامعات کی فاضلات بھی شریک ہوتی ہیں۔ شعبہ تخصص فی الادب میں عربی زبان وادب کی اہمیت کے پیش نظر  اس میں جامعہ سے فارغ ہونے والی طالبات کیلئے یہ شعبہ قائم کیا گیا۔ شعبہ عصری علوم میں شعبہ عالمیت کے ساتھ عصری علوم کا بھی نظم ہے اور اس میں ایسا نصاب مرتب کیا گیا ہے کہ عالمہ بننے والی طالبہ اپنے عالم کورس کے ساتھ ساتھ میٹرک تک عصری تعلیم حاصل کرسکتی ہیں۔ نیز انگریزی و تلگو زبان میں دین کی اشاعت کیلئے اسپوکن انگلش و تلگو کی خصوصی مشق کرائی جاتی ہے۔ شعبہ صنعت و حرفت کے تحت کمپیوٹرس کے مختلف کورسس، ٹیلرنگ، کشیدہ کاری کی ٹریننگ دی جاتی ہے تاکہ طالبات گھر بیٹھے اپنے روزگار کا انتظام کرسکیں۔ اس شعبہ میں مزید ہنر بشمول موم بتی و چاک سازی کی تربیت بھی زیر غور ہے۔ طالبات کی تقریری و تحریری صلاحیتوں کوپروان چڑھانے کیلئے تربیتی پروگرام کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جامعہ میں فقہی مذاکرہ پروگرام کے تحت طالبات کو مسائل سے واقف کروانا اور ان میں مسائل بیان کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ اسی طرح بزم عائشہ کے ذریعہ ہر پندرہ دن میں ایک مرتبہ اس کا انعقاد عمل میں لایا جاتا ہے اس میں طالبات عربی، اردو، انگریزی اور تلگو زبانوں میں تقریریں کرتی ہیں اور حمد و نعت و نظمیں سناتی ہیں اس پروگرام سے طالبات میں تقریری صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

    جامعہ عائشہ نسوان میں دارالافتاء: پیش آنے والے مسائل میں شرعی رہنمائی کیلئے جامعہ میں دارالافتاء بھی قائم ہے۔ دارالافتاء سے کثیر تعداد میں اب تک مختلف اہم اور غور طلب مسائل پر مشتمل فتاوی جاری ہوچکے ہیں نیز مردو خواتین حسب سہولت مدرسہ حاضر ہوکر یا فون پر اپنے مسائل کا شرعی حل معلوم کرسکتے ہیں۔

لائبریری:۔جامعہ میں اس وقت تفسیر، حدیث، فقہ، کلام، لغت اور دیگر اسلامی علوم کی اہم اور مستند کتابیں موجود ہے مزید اسکی افادیت کو عام کرنے کیلئے ایک مستقل لائبریری کا قیام بھی شامل ہے۔

    جامعہ کا ماہانہ علمی و اصلاحی ترجمان ”حضرت عائشہ ؓ “ کے نام سے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی سرپرستی اور حافظ محمد خواجہ نذیر الدین سبیلیؔ کی ادارت میں شائع ہوتا ہے جس میں حالات حاضرہ سے متعلق شرعی نصوص کی روشنی میں لکھے گئے مدلل و مفصل مضامین شائع ہوتے ہیں۔ اس ترجمان کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں صحابیات کی حالات زندگی، اسلام میں عورتوں کا مقام اور خواتین کے مسائل وغیرہ مفصل اور تحقیقی انداز میں شائع کئے جاتے ہیں۔ اس ماہنامہ کے نائب مدیر محمد عارف باللہ القاسمیؔ ہیں۔

    جامعہ عائشہ نسوان کی طالبات کیلئے تلنگانہ و آندھراپردیش اور دیگر ریاستوں میں 40شاخیں قائم ہیں جن میں سے 15اقامتی ہیں۔ ان تمام شاخوں کے مولانا حافظ محمد خواجہ نذیر الدین ناظم تعلیمات ہیں۔ ان شاخوں کے علاوہ لڑکوں کے 8مدارس کے بھی مولانا ناظم تعلیمات ہیں۔ مولانا نے بتایا کہ جامعہ میں مقیم 30فیصد طالبات سے مکمل فیس لی جاتی ہے جبکہ 40فیصد طالبات سے جزوی فیس لی جاتی ہے اور مکمل امدادی طالبات 30فیصد ہیں۔جامعہ کی تمام شاخوں میں 3500ہزار طالبات دینی علوم حاصل کررہی ہیں۔ حیدرآباد میں تین شاخیں جھرا، بورہ بنڈہ اور کرما گوڑہ میں قائم ہیں۔مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے جامعہ کو مسلمہ قرار دیا ہے۔ جامعہ سے فضلیت کی سند حاصل کرنے والی طالبات مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے بی اے میں داخلہ لے سکتی ہیں جبکہ تخصص کرنے والی طالبات ایم اے میں داخلہ لے سکتی ہیں۔ مولانا محمد خواجہ نذیر الدین سبیلی طبیعت کی ناسازی کے باوجود پابندی سے جامعہ میں طالبا ت کو درس قرآن، درس حدیث اور درس فقہ کی کلاسس لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف مقامات پر بھی حافظ صاحب کے درس قرآن،درس حدیث اور درس فقہ کے پروگرام ہوتے ہیں۔مولانا محمد خواجہ نذیر الدین صاحب نے بتایا کہ وہ ان دنوں ترمذی شریف کی شرح ”معارف الترمذی“ کے نام سے لکھ رہے ہیں جو انشاء اللہ دس جلدوں پر مشتمل ہونگی جس سے عوام اور علماء دونوں استفادہ کرسکتے ہیں۔ مولانا کئی حج کرچکے ہیں اور کئی مرتبہ حجاج کرام کی رہنمائی کیلئے حرمین شریفین جانے کا انہیں شرف حاصل ہوچکا ہے۔ طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے دو سال سے یہ سلسلہ رکا ہوا ہے۔جامعہ عائشہ نسوان کے ذریعہ آپ نے حیدرآباد اور دیگر ریاستوں کی لڑکیوں کی دینی تعلیم و تربیت اور انہیں روزگار کے مواقع کے ذریعہ،خصوصی طور پر اتنی بڑی تعداد میں لڑکیوں کو اقامتی سہولتوں کے ساتھ جو خدمات انجام دے رہے ہیں قابلِ تحسین اور لائق ستائش ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں کو صحت و عافیت اور سلامتی کے ساتھ درازی عمر عطا فرمائے اور ان کی سعی کو دین و دنیا میں سرخروئی عطا فرمائے۔آمین

فون: 040-24533792,24530013

جامعہ عائشہ نسوان، داراب جنگ کالونی، نزد عیدگاہ قدیم مادنا پیٹ، حیدرآباد

عمدۃ المحدثین حضرت مولانا محمد خواجہ شریف شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ

 

عمدۃ المحدثین حضرت مولانا محمد خواجہ شریف شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

جوائنٹ ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی، حیدرآباد


     عمدۃ المحدثین، اشرف العلماء، محدث ِ ملت حضرت العلامہ مولانا محمد خواجہ شریف رحمۃ اللہ علیہ حضرت مولانا محمد شہاب الدین علیہ الرحمہ کے فرزند ہیں۔ آپ 15/ شوال المکرم 1359ہجری م 4/ جنوری 1940ء کو قصبہ اکرہار پوٹلا پلی، ضلع شادنگر، تلنگانہ اسٹیٹ میں پیدا ہوئے اور 14/ ڈسمبر2018ء بروز جمعہ اپنے خالق و مالک رب کائنات سے جاملے۔آپ کی نماز جنازہ بعد نماز عشاء جامعہ نظامیہ میں حضرت العلامہ مولانا مفتی عظیم الدین صاحبؒ صدر مفتی جامعہ نظامیہ کی امامت میں ادا کی گئی اور تدفین آبائی وطن پوٹلہ پلی، ضلع محبوب نگر میں عمل میں آئی۔ آپ کا انتقال ملت اسلامیہ خصوصاً طالبانِ علم دین کیلئے نقصانِ عظیم ہے۔ انتقال سے ایک ماہ قبل سخت علالت میں آپ علیہ الرحمہ نے عمرہ کی سعادت سے سرفراز ہوئے اور پیارے حبیب رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ و سلم کے دربار اقدس میں بھی حاضرہونے کا شرف حاصل فرمایا۔آپ کا علمی فیض علماء و شاگردوں اور تشنگانِ علوم اسلامیہ کیلئے تاقیام قیامت انشاء اللہ العزیز جاری و ساری رہے گا۔ آپ انتہائی سادہ لوح، منکسرِ المزاج، ادب و اخلاق کے پیکر، ولی کامل، طلبہ سے حسنِ سلوک اور نرم گفتگو فرمانے والے نہایت مشفق استاذ کی حیثیت سے ممتاز و معروف رہے ہیں۔اپنی زندگی کے آخری ایام و لمحات تک بھی خالق و مالک کی حمد و ثناء کرتے رہے اور پیارے حبیب ﷺ پر درود و سلام کے نذرانہ پیش کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ عمدۃ المحدثین علیہ الرحمہ کے درجات عالیہ میں بے انتہاء بلندی و وسعت عطا فرمائے۔ آمین۔

    عمدۃ المحدثین حضرت العلامہ مولانا محمد خواجہ شریف علیہ الرحمہ کا سلسلہ نسب والدماجد کی طرف سے حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے جا ملتا ہے۔ اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضرت سیدنا حسین ابن علی ؓ یعنی ہاشمی سید گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے نام کے ساتھ شریف اس لئے رکھا گیا کیونکہ دکن کی روایت تھی کہ اگروالدہ کا سلسلہ نسب ہاشمی سید اور والد شیخ گھرانے سے تعلق رکھتے ہوں تو شریف کا لفظ احترام کے طور پر رکھا جاتا۔مولانا محمد خواجہ شریف پولیس ایکشن کی وجہ سے اپنے والد حضرت محمد شہاب الدین ؒ کے ساتھ آٹھ سال کی عمرمیں حیدرآباد منتقل ہوگئے۔ حیدرآباد کے محلہ گوشہ محل میں پرائمری سکشن میں داخلہ لیا۔ دس سال کی عمرمیں یعنی 1950ء میں آپ کے بڑے بھائی حضرت مولانا محمد شریف صاحب نے آپ کا داخلہ جامعہ نظامیہ حیدرآباد کی جماعت چہارم میں کروایا۔ طالبِ علمی کے زمانے میں آپ اساتذہ کے نورِ نظر رہے اور جامعہ میں ممتاز طالب علم کی حیثیت پائی۔ آپ ہر جماعت میں درجہ اول سے کامیابی حاصل کرتے رہے۔ جامعہ نظامیہ میں آپ جماعت چہارم سے فاضل، کامل تک تعلیم حاصل کئے۔ 1963ء میں رشتہ ازدواج سے بندھ گئے یعنی آپ کی شادی چچا زاد بہن سے ہوئی۔ 1966ء میں آپ نے حضرت مولانا مفتی محمد عبدالحمیدؒ شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ کے حکم پر درس و تدریس کے لئے درخواست دی اور آپ کااستاذ کی حیثیت سے تقرر عمل میں آیا۔ آپ جامعہ نظامیہ میں مختلف عہدوں بشمول مؤدب، مہتمم کتب خانہ، نائب شیخ الادب، نائب شیخ الحدیث، پھر 13/ فبروری 1993ء میں شیخ الحدیث کے باوقار عہدہ پر فائز ہوئے اور الحمد للہ آپ اس عہدہ پر آج بھی فائز رہ کر امت محمدیہ ﷺ کے فرزندوں اور دختران کو زیورِ احادیث سے فیضیاب کررہے ہیں۔ درمیان میں یعنی 1971ء میں آپ نے جامعہ امنیہ، دہلی میں حدیث نبوی ﷺ میں مکمل مہارت حاصل کرنے کی غرض سے داخلہ لیا، صحاح ستہ و دیگر کتب احادیث کا درس حاصل کرکے سند حاصل کی اور واپس آکر آپ دوبارہ جامعہ نظامیہ میں طلباءِ جامعہ کو علم دین کی دولت سے بہرور فرمارہے ہیں۔ اس طرح آپ کا درس و تدریس کا سلسلہ الحمد للہ جاری ہے۔

    عمدۃ المحدثین مولانا محمد خواجہ شریف صاحب تقریباً تین دہائیوں سے مجلس اشاعت العلوم جامعہ نظامیہ کے معتمد ہیں اور آپ کی نگرانی میں کئی کتب کی طباعت عمل میں آچکی ہے۔ مختلف علوم و فنون بالخصوص علم حدیث شریف کی خدمت میں آپ نے جو نقوش ثبت کئے ہیں وہ جامعہ نظامیہ کی طویل تاریخ کا ایک زرین باب ہے۔ آپ کو علم حدیث شریف کے علاوہ عربی ادب نثر و نظم پر یکساں عبور و دسترس حاصل ہے۔ کئی کتابوں کے مصنف و مترجم ہیں۔ ”امام اعظم امام المحدثین“ یہ کتاب حضرت مولانا محمد خواجہ شریف مدظلہ العالی کے رشحات قلم پر مشتمل اپنی نوعیت کی اہم ترین تصنیف ہے۔ اس کتاب میں غیر مقلد حضرات کے اعتراضات کا علمی و تحقیقی جواب دیا گیا ہے اور امام اعظم حضرت سیدنا نعمان بن ثابت ابو حنیفہ ؒ کا امام المحدثین ہونا ثابت کیا گیا ہے۔ جامعہ میں تقرر سے قبل آپ دارالعلوم موستمر العلماء مغل گدہ میں بحیثیت مہتمم خدمات انجام دے رہے تھے۔ آپ نے حضرت مفتی محمد عبدالحمید ؒ کے کہنے پر اس عہدہ کوخیرباد کرکے جامعہ نظامیہ میں خدمات انجام دینے کو ترجیح دی۔ یہاں ایک بات کا ذکر اس لئے ضروری ہے کہ اللہ کے نیک بندے جو دنیاکی طلب سے دور اپنے خالق و مالک اور پیارے حبیب ﷺکو راضی کرنے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں آپ نے بھی شیخ الجامعہ کے حکم پر عمل کرکے اس کا ثبوت دیا۔ حضرت مولانا خواجہ شریف نے مہتمم کے عہدہ کو خیرباد کہہ دیا جہاں پر آپ کی ماہانہ تنخواہ اس وقت کے 150روپیے تھی جبکہ جامعہ نظامیہ میں آپ کی تنخواہ صرف75/-روپیے تھی۔آپ اپنے استاد گرامی رئیس المفسرین حضرت العلامہ مولانا سید شاہ طاہر رضوی القادریؒ صدر الشیوخ جامعہ نظامیہ سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں صاحب اجازت ہیں بے شمار افراد آپ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے ہیں۔ علوم شریعت و طریقت کے ذریعہ عوام الناس اور خواص کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ علم حدیث شریف سے خاص والہانہ شغف ہے۔ جامعہ نظامیہ میں عرصہئ دراز سے امہات الکتب بخاری شریف، مسلم شریف، ترمذی شریف، ابن ماجہ، ابو داؤد، نسائی شریف،مؤطا و دیگر کتب کا درس انتہائی فصاحت و بلاغت اور عمدہ اسلوب میں دیتے ہیں۔”درس ختم بخاری شریف“ آپکی پہچان بن گیا ہے۔ آپ کے دروس کا انداز مختصر، جامع و دل نشین، اخلاقی مسائل میں نہایت معتدل و محقق و غیر جارحانہ تشفی بخش و دل پذیر ہوتا ہے۔ انداز کلام کی حلاوت و شیرینی دلوں کو موہ لیتی ہے، عام جلسوں میں بھی آپ کا انداز بیان اسی طرح ہوتا ہے۔ آپ نے مختلف مساجد میں حدیث و فقہ کے دروس کے ذریعہ بھی عامۃ المسلمین کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے رب العالمین جل جلالہ و رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ و سلم کی خوشنودی حاصل کرتے رہے ہیں۔ مسجد سنگ پتلی باؤلی، جامع مسجد قادریہ فرسٹ لانسر، مسجد جعفری صنعت نگراور مسجد چیونٹی شاہ میں آپ کے دروس حدیث و فقہ چالیس سال کے طویل عرصہ تک جاری رہے۔ مسجد چیونٹی شاہ میں ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے جبکہ مسجد جعفری صنعت نگر اور مسجد چمکورہ میں شب معراج، شب برأت اور شب قدرمیں بھی آپ خطاب فرماتے ہیں۔ عالم اسلام میں عرب حضرات و علماء آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ عرب ممالک میں آپ کی آمد پر عرب حضرات ملاقات کا شرف حاصل کرنے بے چین رہتے ہیں۔حضرت شیخ  الحدیث نے مدارس کے احیاء و قیام کے سلسلہ میں بھی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ دارالعلوم دینیہ بارگاہ بندہ نواز علیہ الرحمہ کا احیاء آپ کا کارنامہ ہے کہ آپ نے شہر گلبرگہ میں چھ ماہ قیام فرماکر اس قدیم اور تاریخی ادارہ کا احیاء عمل میں لایا جس کا فیضان آج بھی جاری ہے۔ دارالعلوم مؤتمر العلماء اننت پور کے آپ بانی ہیں۔ حضرت شیخ الاسلام حافظ محمد انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ بانی جامعہ نظامیہ کے وطن قندھار میں مدرسہ قائم کیا اور اس کے علاوہ نندیال، کرنول اور مختلف مقامات پر مکاتب اسلامیہ کا قیام عمل میں لایا۔ اس کے علاوہ حیدرآباد میں طالبات کے لئے دو مدارس”معہد البنات نفیس النساء“ چمکورہ خلوت اور معہد البنات رفیق النساء آدتیہ نگر ٹولی چوکی میں قائم فرمایا۔

    عمدۃ المحدثین حضرت محمد خواجہ شریف نے المعہد الدینی العربی کا قیام 5/ ربیع الاول 1405ہجری م1984ء عمل میں لایا اس طرح آپ المعہد الدینی العربی کے بانی و سرپرست اعلیٰ ہیں۔ یہاں پر شعبہ ناظرہ، شعبہ حفظ اور شعبہ عربی قائم ہے اس کے علاوہ کلےۃ الدراسات اللغۃ والاسلامیہ (کالج آف اسٹڈیز لنگویجس اینڈ اسلامک) تک تعلیم دی جاتی ہے جو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں مسلمہ ہے یعنی اس میں بی اے کی تعلیم دی جاتی ہے جو فاضل کے مماثل ہے۔المعہد الدینی العربی حیدرآباد ہی نہیں بلکہ ہندوستان بھر میں اپنی علمی شناخت رکھتا ہے اور اس کا شمار ریاست کے ممتاز اداروں میں ہوتاہ ے۔ جس میں جامعہ نظامیہ کے فارغین تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں اور اندرون و بیرون طلبہ کی تعداد 500سے متجاوز ہے۔ الغرض حضرت عمدۃ المحدثین مولانا خواجہ شریف جنہیں حکومت تلنگانہ نے یوم قیام تلنگانہ کے موقع پر 2017میں مذہبِ اسلام کیلئے مختلف اداروں کے ذریعہ آپ کی بہترین خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ایوارڈ عطا کیا۔مولانا محمد خواجہ شریف صاحب کی زندگی علماء الاسلام اور مسلمانان عالم کے لئے ایک نمونہ ہے آپ انتہائی ملنسار اور نرم دل کے مالک ہیں۔ آپ اپنے شاگردوں اور مدارس کے اساتذہ کو نصیحت فرماتے ہیں کہ طلباء کو بغیر سختی کئے درس دیں جو آپ کا وصف ہے۔آپ نے مختلف ممالک کے تعلیمی دورے کئے جن میں مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، کویت، دبئی، قطر اور جرمن شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و عافیت کے ساتھ سلامت رکھے اور ہم حیدرآباد کے مسلمانوں کو آپ کے علمی فیض سے فیضیاب ہونے کا موقع عنایت فرمائے آمین۔

الحاج احمد الدین اویسی


 

الحاج احمد الدین اویسی
ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید 

جوائنٹ ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی، حیدرآباد

 الحاج احمد الدین اویسی کوشہرِ تاجدارِ حرمِ رسول ﷺ میں 4 دہائیوں سے قیام کی سعادت


    خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں دربارِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی حاضری بار بار نصیب ہوتی ہے، جنہیں حرم نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے قریب شہرِ مدینہ منورہ میں رہنے کا موقع ملتا ہے۔ ان ہی خوش نصیبوں میں ایک نام جناب احمد الدین اویسی کا ہے جنہیں پیارے حبیب رحمۃ للعالمین تاجدار مدینہ، سرورکونین، ختم المرسلین صلی اللہ علیہ و سلم کے اُس سرسبز و شاداب، پُر نور شہر مدینہ میں رہنے کا برسوں سے موقع نصیب ہوا۔ جناب احمد الدین اویسی،جناب عبدالواحد اویسی مرحوم ممتازایڈوکیٹ، عالمِ دین جامعہ نظامیہ، قائد احیاء مجلس اتحاد المسلمین کے فرزند ہیں۔ جناب احمد الدین اویسی 9/ مئی 1946ء کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ دینی تعلیم گھر پر استاذ کے پاس ہوئی اور پرائمری تا بارہویں جماعت تک کی تعلیم مدرسہ عالیہ، حیدرآباد میں ہوئی۔ 1965ء میں بارہویں جماعت کامیاب کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج آف فائن آرٹس ارکیٹکچرملحقہ جواہر لعل نہرو ٹکنیکل یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور 1971ء میں پانچ سالہ آرکٹکچرر کورس کی تکمیل کی۔ اسی سال1971ء میں امریکہ روانہ ہوئے اور وہاں پرشکاگو کالج آف ٹکنالوجی سے دو سالہ کورس آرکیٹکچرانجینئرنگ کی تکمیل کی۔ مِڈ امریکی کمپنی میں ڈیڑھ سال تک خدمات انجام دینے کے بعد 1974ء میں حج کی سعادت سے سرفراز ہوئے۔ 1975ء میں والد محترم جناب عبدالواحد اویسی ؒ کے انتقال کے بعد حیدرآباد آئے، پھر دوبارہ 1975ء میں عمرہ کی سعادت حاصل کی اور چند ماہ جدہ کی ایک کمپنی میں خدمات انجام دیں۔ اس موقع پر مدینہ منورہ میں رہنے کی نیت کی۔ جدہ کی ایک کمپنی الحرمین کنسٹرکشن کی جانب سے مستقل بنیاد پر خدمات انجام دینے لئے ویزا دیا گیا یہاں سے امریکہ روانہ ہوئے اور پھر واپس جدہ منتقل ہوگئے۔ جدہ میں الخالدیہ سعودی سٹی کے ہاؤزنگ پراجکٹ میں ایک سال خدمت انجام دینے کے بعد مدینہ منورہ منتقل ہوئے۔وہ 1976ء سے وزارتِ مواصلات کے ڈپارٹمنٹ عمارت شوارع میں 19سال تک یعنی 1993ء تک خدمات انجام دیتے رہے۔ سعودی شہریوں کو روزگار سے مربوط کرنے کے حوالے سے انہیں وزارتِ مواصلات میں خدمات سے سبکدوش کیا گیا۔مدینہ منورہ کے میئر انجینئر عبدالعزیز الحصین نے جو ان ہی کے ساتھ وزارتِ مواصلات میں خدمات انجام دیتے تھے انہیں جب اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے احمد الدین اویسی صاحب سے اما نۃ المدینہ المنورۃ (بلدیہ) میں خدمات انجام دینے کی خواہش ظاہر کی جسے قبول کرتے ہوئے 1993میں بلدیہ میں خدمات انجام دینے لگے اور تاحال وہیں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
خاندان
    جناب احمدالدین اویسی کے دادا جناب محمد اسماعیلؒ اور نانا حضرت محمد قاسم نقشبندی ابوالعلائی ؒ ہیں۔آپ کے پانچ بھائی اور 6بہنیں ہیں۔ بڑے بھائی سالارِ ملت الحاج سلطان صلاح الدین اویسی ؒ ہیں جن کی بے باکی اور حق گوئی نے آج آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کو ہندو بیرون ہند ممتاز مقام عطا فرمایا۔اُس وقت جب حیدرآبادی مسلمانوں میں حکومتِ وقت اور پولیس کا خوف و ہراس پایا جاتا تھا آپ کے والد جناب عبدالواحد اویسی نے اپنی بے باک اور ہمت افزاء تقاریر کے ذریعہ مسلمانوں کو منظم کرنے کی سعی کی۔ جناب احمد الدین اویسی نے بتایا کہ جب سالار ملت محترم جناب سلطان صلاح الدین اویسی نے والد صاحب سے سوال کیا کہ وکلاء تو جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ سے بدل دیتے ہیں اس بات پر جناب عبدالواحد اویسی نے کہاکہ میں مکمل تحقیق کے بعد مظلوم لوگوں کے مقدمات کی پیروی کرتا ہوں اور جھوٹے لوگوں کو کسی نہ کسی طرح معذرت کرکے واپس بھیج دیتا ہوں۔ وکیل صاحب کی ایک اور خصوصیت بتاتے ہوئے احمد الدین اویسی نے کہا کہ والد محترم بہترین جرح کرتے تھے انکی جرح کے وقت کئی دوسرے وکلاء سننے آجاتے تھے یہی نہیں بلکہ بعض وکلاء اپنے کیسس میں جرح کیلئے ان سے خواہش کرتے تھے۔ دارالسلام کے حصول کیلئے بھی انہوں نے 12سال تک جدوجہد کرتے ہوئے مقدمہ لڑا اور اس میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے بتایا کہ دارالسلام کا حصول اور مسلمانوں میں اتحاد والد صاحب کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ ان کی قیادت اور کاوشوں کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے سالارِ ملت سلطان صلاح الدین اویسی ؒنے اپنی دلیرانہ قیادت کا جھنڈا بلندیوں تک پہنچانے کیلئے، اپنی نجی زندگی کی مصروفیات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے،مسلمانوں میں ہمت و حوصلہ پیدا کیا اور آج ان ہی کے جواں سال فرزندان بیرسٹر اسد الدین اویسی صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمنٹ اور جناب اکبر الدین اویسی سابق رکن اسمبلی و قائد مقننہ تلنگانہ اسمبلی کی بے باکانہ اور مضبوط قیادت نے ملک کے بیشتر علاقوں خصوصاً حیدرآبادی مسلمانوں کو پھر سے ایک نئے عزم و حوصلہ کی جلا بخشی ہے۔ جناب احمد الدین اویسی نے کہاکہ آج مجلسی قیادت نے ملک کی ترقی و سلامتی کیلئے جس طرح شہر حیدرآباد میں تعلیم کو عام کرنے اور صحت و تندرستی کیلئے تعلیمی اداروں اور ہاسپتلوں کا قیام عمل میں لایا یہ قابلِ تحسین اقدام ہیں۔جناب احمد الدین اویسی کے دوسرے بھائی جناب یوسف الدین اویسی ہیں جو میکانیکل انجینئر ریٹائرڈ، شکاگو میں مقیم ہیں۔ تیسرے بھائی جناب اظہر الدین اویسی کمیکل انجینئر، شکاگو میں مقیم تھے گذشتہ چند سال قبل اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ چوتھے بھائی جناب معین الدین اویسی شکاگو میں طالب علمی کے زمانے میں بعمر 26سال انتقال کرگئے۔سب سے چھوٹے جناب احمد الدین اویسی ہیں۔
شادی بیاہ
    جناب احمد الدین اویسی کی شادی 5/ مارچ1978ء میں جناب محمد الطاف اللہ صاحب مرحوم کی صاحبزادی سے ناگپور میں ہوئی۔ انہیں پانچ فرزند ہیں۔ بڑے فرزند ممتاز عالم دین مولانا فخر الدین اویسی ہیں۔ مولانا فخر الدین اویسی کی ابتدائی تعلیم 9سال تک مدینہ منورہ میں ہوئی انہیں 8سال تک مسلسل امتیازی کامیابی حاصل کرنے پر ”تعلیم متوفق“ ایوارڈ سے نوازا گیااور آٹھ سال تک مدرسہ کے نوٹس بورڈ پر دس طلبہ کے ناموں کے ساتھ آپ کا نام بھی لکھا جاتا رہا۔مکہ معظمہ کے مشہور عالمِ دین مرحوم سید محمد علوی مالکی کے تلمیذ ہونے کا بھی انہیں شرف حاصل ہے۔فخر الدین اویسی مدرینہ منورہ میں 9سال تک عربی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسلامک کالج آف ساؤتھ آفریقہ، کیپ ٹاؤن میں باقاعدہ اسکالر شپ کے ساتھ 4سالہ دینی کورس ذریعہ تعلیم انگلش تھا، تین سال میں مکمل کیا اوریہاں پر بھی امتیازی کامیابی حاصل کرتے ہوئے بہترین صلاحیتوں کے حامل طالب علم کی حیثیت حاصل کی۔ اس کے بعد کیپ ٹاؤن یونیورسٹی سے تین سال اسلامک اسٹڈیز میں اسکالر شپ کے ساتھ بی اے کی تکمیل کی۔ اسلامک اسٹڈیز میں ہی ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ جشن عید میلاد النبی ﷺ پر آپ نے مکمل دلائل کے ساتھ مقالہ پیش کیا جس پر آفریقہ یونیورسٹی نے انہیں ڈگری عطا کی۔ قصیدہ بردہ شریف کی سند شیخ محمد الیعقوبی شام کے معروف عالم دین، اردن میں مقیم سے حاصل کی۔ کیپ ٹاؤن کی مسجد قدس میں تقریباً پانچ گھنٹے تک قصیدہ بردہ شریف کا اجمالی تعارف انگریزی میں پیش کیا۔ اٹلانٹا میں مدینہ انسٹی ٹیوٹ میں گذشتہ چند سال سے د و تین ہفتہ مقیم رہ کر خصوصی دروس کیلئے مدعو کئے جارہے ہیں۔ ساؤتھ آفریقہ یونیورسٹی میں ہی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ غرض کہ مولانا فخر الدین اویسی مغربی و یوروپی اور جنوبی ایشیائی ممالک کا اکثر سفر کرتے رہے ہیں جہاں انہیں تقاریر و درس کے لئے مدعو کیا جاتا ہے۔ دوسرے فرزند ڈاکٹر امین الدین اویسی ورائچی ہاسپٹل میں کنسلٹنٹ کارڈیالوجی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کی ابتدائی تعلیم مدینہ منورہ میں ہوئی، ہائی اسکول انڈین اسکول جدہ سے کیا، انٹرمیڈیٹ حیدرآباد سے کرنے کے بعد دکن میڈیکل سے ایم بی بی ایس، ایم ڈی اور پھر کارڈیالوجی میں ڈی ایم کرچکے ہیں۔ تیسرے فرزند جناب فرید الدین اویسی ہیں انکی بھی ابتدائی تعلیم مدینہ منورہ میں ہوئی، انڈین اسکول جدہ سے میٹرک پاس کئے، انٹرمیڈیٹ اور پھر ہوٹل مینجمنٹ کورس حیدرآباد میں کرنے کے بعد خانگی کاروبار سے منسلک ہیں۔ چوتھے فرزند جناب نظام الدین اویسی ہیں ان کی ابتدائی تعلیم بھی مدینہ منورہ میں ہوئی اور میٹرک حیدرآباد میں کیا وہ اپنی زوجہ کے ساتھ شکاگو میں مقیم ہیں انکی اہلیہ صاحبہ ڈاکٹر ہیں۔ پانچویں فرزند جناب قطب الدین اویسی ہیں جن کی ابتدائی تعلیم بھی مدینہ منورہ میں ہوئی اور آپ حافظ قرآن بھی ہیں۔ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ حیدرآباد میں کامیاب کئے۔ ان دنوں ایل ایل بی کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ کنسٹرکشن پیشہ سے وابستہ ہیں۔
بزم اتحاد کا قیام
    احمد الدین اویسی صاحب نے بتایاکہ 1987ء میں جناب الحاج سلطان صلاح الدین اویسی عمرہ کیلئے تشریف لائے ہوئے تھے ان ہی کی نگرانی میں بزم اتحاد کا قیام عمل میں لایا گیا۔ بانی صدربزم اتحاد جناب احمد الدین اویسی، جدہ کے نائب صدر ڈاکٹر سید علی محمود اور ریاض میں آرکیٹکٹ عبدالرحمن سلیم بنائے گئے۔ بزم اتحاد کے موجودہ نائب صدر جناب عبید الرحمن ہیں جبکہ جنرل سکریٹری جناب یوسف الدین امجد ہیں۔بزم اتحاد کے ذریعہ چھ عالمی مشاعرے جدہ میں ہوچکے ہیں، ساتواں عالمی مشاعرہ آئندہ سال فبروری میں منعقد ہوگا۔ ان مشاعروں میں بین الاقوامی شعراء کرام یعنی ہندو پاک اور دیگر خلیجی ممالک میں مقیم شعراء کو مدعو کیا جاتا ہے۔ بزم اتحاد کی جانب سے چار سو سالہ جشن حیدرآباد عظیم الشان پیمانے پر جدہ اور ریاض میں منایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ عمرہ و حج کو آنے والے زائرین علمائے کرام اور مجلسی قائدین کی تہنیتی تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔بزم کے دیگر اغراض و مقاصد اور کارہائے نمایاں میں قابلِ ذکر یہ ہے کہ تلاشِ روزگار کے سلسلہ میں ہندوستان سے جدہ آنے والے نوجوانوں کو کمپیوٹر کلاسس کا اہتمام کیا جاتا تھا، نادر غریب طلبہ کی امداد، غریب لڑکیوں کی شاہ بیاہ، رمضان المبارک میں غریب لوگوں کی امداد کی جاتی ہے۔ یہ امداد حیدرآباد و جدہ میں مقیم غرباء کیلئے کی جاتی ہے۔ جناب احمد الدین اویسی نے بتایا کہ ان دنوں تلنگانہ انتخابات کے پیشِ نظر بزم اتحاد کی آئی ٹی ٹیم مسلمانوں کو اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کرنے کی ترغیب دے رہی ہے۔ اس ٹیم میں جناب عظمت عمرانی، جناب نصیر احمد، اشفاق محی الدین وغیرہ شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں علماء کرام کو مدعو کیا گیا اور مجلس کی کامیابی کیلئے اجتماعی دعاکا اہتمام کیا گیا۔ جناب احمد الدین اویسی نے بتایا کہ بزم اتحاد کا دفتر حیدرآباد میں قائم کیا جانے والا ہے جہاں پر اپنے وطن واپس ہونے والے این آر آئیز کا مکمل ڈاٹا جمع کیا جائے گا تاکہ مستحق غریب این آر آئیز کیلئے حکومت سے نمائندگی کرکے انہیں رہائش فراہم کرنے کی سعی کی جائے گی۔ جناب احمد الدین اویسی بزم اتحاد کے صدر کے ساتھ ساتھ تلنگانہ گلف این آر آئیز فیڈریشن کے صدر بھی ہیں۔ اسی لئے وہ اور فیڈریشن کے دیگر عہدیدار این آر آئیز کے مسائل کو حل کرنے کے لئے حکومت وقت سے نمائندگی کرینگے جو وقت کا اہم تقاضا بھی ہے۔ اگر بزم اتحاد اور تلنگانہ گلف این آر آئیز فیڈریشن اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ این آر آئیز کیلئے خوش آئند اقدام ہوگا کیونکہ ہزاروں این آر آئیز پریشان کن صورتحال سے دوچار ہیں اور انکے مسائل سننے اور حل کرنے والا شاید کوئی نہیں۔احمدالدین اویسی صاحب اپنی نوکری کے ساتھ ساتھ بزم اتحاد اور تلنگانہ گلف این آر آئیز فیڈریشن کے بینر تلے سعودی عرب کے مختلف شہروں کا دورہ کرتے ہیں اور وہاں کے مسائل سے واقفیت حاصل کرکے مجلسی قیادت کو بھی واقف کرواتے ہیں۔ ان کی اس کوشش کو دیکھتے ہوئے قطر اور کویت میں مقیم تارکین وطن ہند وہاں پر بھی بزم اتحاد کی شاخیں قائم کرنا چاہ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جناب احمد الدین اویسی اور انکے رفقاء کی کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور اس میں مزید وسعت عطا فرمائے۔ آمین
    جناب احمد الدین اویسی سے ملاقات کیلئے حیدرآبادی، مسجد نبوی ﷺ چلے جاتے ہیں، جہاں بعد نماز عشاء احمد صاحب مزار شریف کے قدم مبارک کی طرف مل جاتے ہیں۔