![]() |
| مولانا خالد سیف اللہ رحمانی |
ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید
جوائنٹ ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی، حیدرآباد
10/ جمادی الاولیٰ 1376ہجری مطابق نومبر1956ء کی صبح، بہار کے قصبہ جالے، ضلع دربھنگہ کے ایک معروف علمی گھرانے میں پیدا ہونے والے نور خورشیدعلم کی روشنی اس قدر بکھریں گے کسی کو اندازہ نہ تھا۔ آج دنیائے اسلام میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے نام سے مشہور فقیہ عصر،ہند و بیرون ہند مختلف جامعات سے فراغت پانے والے روشن ستاروں کو مزید مزین کرکے عوام الناس کیلئے روشنی بکھیرنے کا کام انجام دے رہے ہیں۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا حکیم زین العابدین گورنمنٹ طبیب یونانی کے فرزند، حضرت مولانا عبدالاحد (دارالعلوم دیوبند کے معروف عالم دین)کے نبیرہ اور مشہور و معروف عالم دین حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒ جو نائب امیر شریعت بہار و اڑیسہ و جھارکھنڈ اور صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بھتیجے ہیں۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا نانیہال بہار کے مشہور بزرگ مولانا بشارت کریم گڑھولوی سے وابستہ تھا، اس خانوادہ کے مورث اعلیٰ ملا سید محمد علی ہیں جو ”ملا سیسو“ کے نام سے مشہور تھے۔ انہوں نے سید احمد شہید ؒ کی تحریک جہاد میں شرکت کی اور معرکہ بالاکوٹ کے بعد بہار لوٹے۔خالد سیف اللہ کی ابتدائی تعلیم انکے والدہ ماجدہ، دادی صاحبہ اور پھوپھا جان مولانا وجیہ الدین کے پاس ہوئی۔ عربی اور فارسی کی ابتدائی کتابیں والد ماجد مولانا حکیم زین العابدین سے پڑھیں۔ اس کے بعد قاسم العلوم حسینہ،دوگھرا، ضلع دربھنگہ میں کسب فیض کیا۔ پھر اس وقت کا معروف ادارہ جامعہ رحمانی مونگیر میں داخلہ لیا اور متوسطات سے دورہئ حدیث کی تکمیل کی۔ اپنی علمی پیاس بجھانے کیلئے دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا اور وہاں سے دورہ حدیث میں فراغت پائی۔ جامعہ رحمانی مونگیر میں امیر شریعت حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانیؒ سے خصوصی فیض حاصل کیا اور آپ کے نورِ نظر بن گئے۔ مولانا نے مونگیر میں جن اساتذہ سے فیض پایا ان میں مولانا سید شمس الحق قاسمی، مولانا اکرم علی قاسمی، مولانا حسیب الرحمن قاسمی، مولانا فضل الرحمن قاسمی اور مولانا فضل الرحمن رحمانی ہیں جبکہ دارالعلوم دیوبند میں مولانا شریف حسین دیوبندی،مولانامفتی محمود الحسن گنگوہی، مولانا محمد حسین بہاری، مولانا معراج الحق، مولانا سید انظر شاہ کشمیری، مولانامفتی نظام الدین، مولانا محمد نعیم، مولانا محمد سالم قاسمی سرفہرست ہیں۔ دارالعلوم دیوبند سے فراغت پانے کے بعد دو سال تک امارت شرعیہ میں رہے اور مولانا مجاہد الاسلام قاسمیؒ سے تربیت پائی۔اسی زمانے میں یعنی1977ء میں جبکہ ایمرجنسی ختم ہونے کے فوری بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا اجلاس عام منعقد ہوا جس میں مولانا نے امارت شرعیہ کے ترجمان ہفت روزہ ”نقیب“ کا مسلم پرسنل لا نمبر ترتیب دیا جسے بورڈ کے اجلاس میں آنے والے علماء و اکابرین نے پسند فرمایا ان ہی میں ایک مولانا محمد حمید الدین حسامی عاقلؒ شامل تھے۔فقیہ ملت مولانا مجاہد الاسلام قاسمی کے تربیت یافتہ خالد سیف رحمانی پر جب مولانا حمید الدین عاقل حسامی کی نظر پڑی تو انہوں نے مولانا مجاہد الاسلام قاسمی سے انہیں مانگ لیاجبکہ مولانا مجاہد الاسلام قاسمی اپنے اس برادرزادہ کوقریب رکھنا چاہتے تھے لیکن مولانا عاقل کے اصرار پر انہیں حیدرآباد روانہ ہونے کاحکم دیا۔مولانا حمید الدین عاقل کی خواہش پر1397ہجری کو حیدرآباد تشریف لائیچونکہ کچھ عرصہ قبل ہی دارالعلوم حیدرآباد کا قیام عمل میں آیا تھا جس میں مدرس کی ضرورت تھی اس کے علاوہ مولانا عاقل چاہتے تھے کہ کوئی ایسا صاحبِ قلم مل جائے جو ماہنامہ حسامی کو دوبارہ جاری کریں اور امارت شرعیہ کیلئے ایک قاضی کی بھی ضرورت تھی۔ مولانا کو حیدرآباد بلانے کی کارروائی میں جناب محمد رحیم الدین انصاری صاحب بھی پیش پیش تھے اس طرح مولانا حمید الدین عاقل حسامی کو ایک استاذ، قاضی اور صاحبِ قلم کی حیثیت سے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مل گئے۔
تدریس کا آغاز
۷۹۳۱ ہجری میں حیدرآباد تشریف لانے کے بعد مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے دارالعلوم حیدرآباد میں ایک سال تک تدریسی خدمات انجام دیں اور مولانا عاقل سے اجازت لے کر سبیل السلام منتقل ہوگئے کیونکہ مولانا محمد رضوان القاسمی سبیل السلام کے ذمہ دار تھے،ان سے پہلے ہی سے تعلقات تھے اور وہ بھی علمی ذوق رکھتے تھے۔۸۹۳۱ہجری سے یہاں بحیثیت صدر مدرس تدریس اور انتظامی امور میں مصروف ہوگئے کم و بیش 22سال کا طویل عرصہ سبیل السلام میں گزارا اس دوران عربی ابتدائی کتابوں سے لے کربخاری شریف تک کا درس دیا۔سبیل السلام میں شعبہ تربیت و افتاء اور شعبہ تربیت دعوۃ کا قیام ان ہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ مولانا محمد رضوان القاسمی کے دست و بازوبن کر خدمات انجام دیتے رہے۔ دونوں علمی ذوق رکھنے والے صاحبِ بصیرت حضرات سے دارالعلوم سبیل السلام ترقی کرتا گیا چند کمروں سے نکل کر یہ مدرسہ ایک وسیع و عریض دارالعلوم میں تبدیل ہوگیا جہاں عربی کے چند طلبہ تھے وہاں دور حدیث کے علاوہ اختصاص کے شعبے قائم ہوئے۔اس طرح ملک کے اہم اداروں میں اس کا شمار ہونے لگا
المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد کا قیام
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے سبیل السلام میں اپنی تدریسی خدمات کے دوران محسوس کیاکہ مدارس میں طلبہ کی کثرت کی وجہ سے افراد سازی پر توجہ پوری طرح نہیں ہوپارہی ہے چنانچہ انہو ں نے ملک کی جامعات سے فراغت پانے والے چند باصلاحیت طلبہ کو کسی خاص فن میں تربیت دینے کا خاکہ مرتب کیا، چونکہ مدرسہ سبیل السلام میں اختصاص فقہ کے شعبے ان کی توجہ کا مرکز رہے اور اس شعبے نے کم وقت میں بڑی شہرت پائی۔ چنانچہ اسی مقصد و منشاء کے تحت انہوں نے باضابطہ ایک مستقل ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا اورشوال ہجری مطابق جنوری 2000ء میں ادارہ”المعہد العالی الاسلامی“کے نام سے اکبر باغ، حیدرآباد میں ایک کرایہ کے مکان میں اس کا قیام عمل میں لایا۔ اس وقت قاری حافظ تقی الدین صاحب کا خصوصی تعاون انہیں حاصل رہا۔ تین سال اکبر باغ میں کام کرنے کے بعد ”المعہد العالی الاسلامی“ قبا کالونی، شاہین نگر، حیدرآباد، ذاتی عمارت میں منتقل ہوا۔اپنے قیام ہی سے ادارہ المعہد العالی الاسلامی افراد سازی اور طلبہ میں علمی ذوق پیدا کرنے اورمختلف شعبوں کیلئے اچھے معلمین کی تیاری کے سلسلہ میں مشہور ہونے لگا اور الحمد للہ آج ملک و بیرون ملک خاص مقام کا حامل بن چکا ہے۔مولانا رحمانی کے اس اقدام کی ملک بھر میں بڑی ستائش ہوئی اور اکابر علمائے کرام نے اسے وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیاکیونکہ ادارے کا بنیادی مقصد امت کیلئے مختلف میدانوں میں باصلاحیت افرادِ کار کی تیاری اور دیگر ابنائے وطن میں اسلام کے خلاف شبہات کو دور کرنا، علماء کو انگریزی زبان اور جدید علوم سے باخبر کرنا، تحقیق و تالیف، عصری تعلیم یافتہ حضرات کیلئے دینی تعلیم کا نظم، زمانہ شناس داعیوں کی تربیت وغیرہ شامل ہیں۔ادارہ المعہد العالی الاسلامی کے تحت مختلف شعبہ جات اور ادارے کام کررہے ہیں جن میں شعبہئ تخصصات کے تحت تخصص فی علوم القرآن، تخصص فی علوم الحدیث، تخصص فی الفقہ و الافتاء، تخصص فی الدعوۃ و اللغۃ، تربیت اسلامک فائنانس (اسلامک بینکنگ، اسلامک انشورنس، اسٹاک ایکسینچ، تدریب تحقیق و تالیف، شعبہ مطالعہئ مذاہب ہیں۔شعبہ تحقیق میں ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ چیئر، مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒ چیئر۔ مختصر مدتی عالم کورس برائے عصری مدارس کے تحت مدرسہ عبداللہ بن مسعودؓ، رین بازار، حیدرآباد، مدرسہ تعلیم القرآن، ناگپور، مدرسہ البنات، حافظ بابانگر۔ شعبہئ نگرانی دینی مدارس شعبہئ تربیت افتاء برائے بنات، جامعہ عائشہ نسواں، حیدرآباد، مدرسۃ الرشاد، بیگم پیٹ، سکندرآباد‘ مدرسہ نور العلوم، کوہیر، ضلع سنگاریڈی، مدرسہ تعلیم القرآن للبنات، بیدر، کرناٹ، مدرسہ دعوت الفلاح، گولڈن سٹی حیدرآباد، مدرسہ رحمت العلوم، ماناکندور، کریم نگر، مدرسہ انوار العلوم ورنگل، مدرسہ رحمت العلوم رین بازار، حیدرآباد، مدرسہ رحمت البنات، وادیئ صالحین، حیدرآباد، دارالعلوم سبیل الفلاح، جالے، ضلع دربھنگہ،بہار، مدرسہ عربیہ خادم الاسلام،عطاپور، حیدرآبادشامل ہیں۔
شعبہ دعوت کے تحت سنٹر فار پیس اینڈ ٹرومیسیج، ستیہ پرکاش (سوشل میڈیا برائے تعارف اسلام) اور دیگر شعبہ جات میں دارالافتاء، نشرواشاعت، کتب خانہ، ڈیجیٹل لائبریریاور ویب سائٹ شامل ہے۔ یہاں سے فراغت پانے والے اسکالرس ملک و بیرون ملک خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان فارغین کی کئی تصانیف ش ہوچکی ہیں۔
خطابات
تدریسی اور تصنیفی خدمات کے ساتھ ساتھ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی گذشتہ 41سال سے یعنی1399ھ سے مسجد حیدرگوڑہ، ایم ایل ایز کواٹرس میں جمعہ میں بیان فرماتے ہیں اس کے علاوہ ہر جمعہ کوالمعہد العالی الاسلامی میں بعد نماز مغرب اساتذہ، طلبا اور عام شہریوں کیلئے اصلاحی مجلس منعقد ہوتی ہے جس میں آپ کا خصوصی درس ہوتا ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اور اسلامک فقہ اکیڈیمی کی مصروفیات اور مسلسل اسفار کی وجہ سے دروس کا سلسلہ کم ہوگیا ہے۔ ایک حرکیاتی عالمِ دین جن کا محبوب مشغلہ تدریسی خدمات انجام دینا ہے۔ کئی کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ ادارہ معہد میں صبح 10بجے سے عشاء کی نماز کے بعد تک قیام فرماتے ہیں اس دوران تشنگان علم کی پیاس بجھانے کیلئے تدریسی خدمات انجام دیتے ہوئے ان کی رہبری و رہنمائی فرماتے ہیں۔ طلبا کی کردار سازی اور انکی علمی لیاقت کو جِلا بخشنے کیلئے ان کی کوتاہیوں اور خامیوں کونظر انداز کردیتے ہیں تاکہ ان محققین میں مزید حوصلہ پیداہو۔
کئی اداروں سے وابستگی
شبانہ روزتدریسی و تصنیفی مصروفیات کے ساتھ ساتھ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کئی ادارں سے منسلک ہی نہیں بلکہ اہم عہدوں پر فائز ہیں جن میں بانی و ڈائرکٹر المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد، جنرل سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈیمی انڈیا، سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، رکن انٹر نیشنل اسلامک فقہ اکیڈیمی، مکہ، مملکت سعودی عربیہ، رکن دارالعلوم(وقف) دیوبند، رکن دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنو، اترپردیش، سرپرست سنٹر فار پیس اینڈ ٹرو میسج حیدرآباد، ممبر آف لٹریری کمیٹی دائرۃ المعارف عثمانیہ، جنرل سکریٹری دینی مدارس بورڈ، جنرل سکریٹری مجلس تحفظ ختم نبوت آندھراپردیش، رکن مجلس شوریٰ امارات شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ، چیرمین شرعیہ بورڈ اینگلورینڈ فینانشیل سرویسز گروپ، ساؤتھ آفریقہ، شرعیہ بورڈ ممبر تقویٰ اڈوائزری اینڈ شرعیہ انوسٹمنٹ سولیوشن ممبئی، ایڈیٹر سہ ماہی بحث و نظر دہلی اور کالم نگار روزنامہ منصف حیدرآباد و روزنامہ انقلاب ممبئی ہیں۔ڈسمبر 1998ء سے روزنامہ منصف میں آپ کے کالم شمع فروزاں اور شرعی مسائل کے نام سے جمعہ کے خصوصی شمارہ میں شائع ہوتے ہیں جسے قارئین کی بڑی تعداد پسند کرتی ہے اسی طرح انقلاب ممبئی میں 2002سے آپ کا کالم شائع ہورہا ہے۔
تصنیفی خدمات
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اپنے طالب علمی کے زمانے سے ہی لکھنے کا آغاز کیا۔ امیر شریعت رابع حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی ؒ کی خصوصی توجہ و عنایات آپ کے ساتھ تھیں۔ مولانا کی فراست اور دور بینی تھی کہ اپنے اس طالب علم کو قریب رکھتے کیونکہ انہیں اس طالب علم میں مستقبل کا فقیہ نظر آرہا تھا چنانچہ ان کی علمی رہنمائی فرماتے اور آگے بڑھانے کی کوشش کرتے۔ ایک مرتبہ دارالافتاء میں ایمر جنسی کے موقع پر جبری نسبندی کے سلسلہ میں جب ادارہ مباحث فقہ کی جانب سے سوالنامہ حضرت امیر شریعت کو موصول ہوا تو انہوں نے مولانا سیف اللہ رحمانی کو اس کا جواب لکھنے کا حکم دیا، مولانارحمانی نے امیر شریعت کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس کا مفصل جواب تحریر کیا جسے حضرت امیر شریعت نے بہت پسند فرمایا۔ اس طرح جامعہ مونگیر کے زمانے ہی سے مولانا خالدسیف اللہ رحمانی میں لکھنے کی صلاحیت وقابلیت پیدا ہوگئی تھی اور یہ سلسلہ الحمد للہ آج تک جاری ہے اور انشاء اللہ تاحیات جاری رہے گا۔ آپ کی تالیفات میں آسان تفسیر قرآن مجید(۲ جلدیں)، قاموس الفقہ(۵جلدیں)، حلال و حرام، اسلام کا نظام عشرو زکوٰۃ، خطبات بنگلور (پیغمبر انسانیتﷺ)، پیام سیرت، حیاتِ طیبہ۔ایک نظر میں، جدید فقہی مسائل (۵جلدیں)، کتاب الفتاویٰ (۰۱جلدیں)، آسان اُصولِ تفسیر، آسان اُصولِ حدیث، آسان اُصولِ فقہ، چار فقہی مسالک، فقہ اسلامی۔تدوین و تعارف، ۴۲آیتیں، زکوٰۃ۔احکام و مسائل، متاعِ سفیر، دینی و عصری درسگاہیں۔تعلیمی مسائل، جدید مالیاتی ادارے۔فقہ اسلامی کی روشنی میں، فقہ حنفی۔اولیات و خصوصیات، فقہ حنفی اور حدیث، دعوتِ دین، مسلمانوں کے مسائل کا واحد حل، اسلام۔ ایک تعارف، مسلم پرسنل لا اور بعض غلط فہمیاں، مسجد کی شرعی حیثیت، غیر مسلم معاشرہ میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے روابط، مروجہ بدعات، فقہاء اسلام کی نظر میں، مختصر سیرتِ نبوی ﷺ، چند اہم علمی و فکری خطبات، غیر مسلموں کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک، زریں فرمودات، متاعِ فکر و نظر، مشعل راہ،مسلمانانِ کناڈا کے بعض مسائل، طلاق و تفریق، معاییر الحنفےۃ فی الاحتجاج بالسنۃ، قضایا فقیہۃ فی الأقلیات المسلمۃ، فقہ الدعوۃ، الدعوۃ اِلی اللہ وواجب الأمۃ المسلمۃ نحوھا، نوازل فقھیہ معاصرہ(۲جلدیں)، فقہ الحلال و الحرام، الامام محمد قاسم النانوتوی، النبی الخاتم و منتہ علی الانسانےۃ، woman in Islamic Perspective, Benefactor of Humanity, Modern Problem's in Islamic Perspective, Prophet Mohammad A Mercy for the Worlds, The Life of Prophet Mohammad, The Muslim Persanol Law and Misunderstandings, Islam and the Inter-communety Relations, Women's Financial Rights,شامل ہیں۔فقہ کے موضوع پر آپ کی مطبوعہ اور غیر مطبوعہ تحریریں دس ہزار صفحات سے زائد پر مشتمل ہیں۔ مزید کتابیں جو کئی موضوعات پر مشتمل ہیں ابھی طباعت کی منتظر ہیں۔
مولانا کے افرادِ خاندان
مولانا کی شادی نومبر1979ء میں جناب سید اظہار احمد صاحب (مرحوم) کی صاحبزادی سے ہوئی۔ آپ کو دو لڑکے اور تین لڑکیاں ہیں۔ بڑے فرزند مولانا عمر عابدین قاسمی مدنی ہیں جو دارالعلوم دیوبند سے فارغ اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں حدیث سے ماسٹرس، المعہدالعالی الاسلامی سے تخصص اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے ایم فل کئے ہیں۔ ان دنوں ادارہ ایم ایس میں شعبہ تحقیق میں ڈائرکٹر ہیں۔ دوسرے فرزند مولانا حافظ ظفر عابدین ندوی، حافظ القرآن اور دارالعلوم ندوۃ العلماء سے فارغ، انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی ملیشیاء سے اسلامک فینانس میں ماسٹرس ہیں ان دنوں دبئی اسلامک بینک میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تین صاحبزادیوں میں بڑی صاحبزادی محترمہ حفصہ عابدین عالمہ اور ایم بی اے ہیں ان دنوں ایم ایس گرلز اسکول ملک پیٹ میں پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں ان کے شریک حیات مولاناحافظ نوشاد اختر ندوی ہیں جو ندوۃ العلماء سے فارغ، معہد سے فقہ میں تخصص، اور ایفل یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ دوسری صاحبزادی صفیہ عابدین جو عالمہ اور ایم فارم ہیں، انکے شریک ہمسفر جناب سید فیصل ذوالفقار کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر ہیں اور ہائی ٹیک سٹی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تیسری صاحبزدای عائشہ عابدین جرنلزم یعنی ایم سی جے(انگریزی میڈیم) کی طالبہ ہیں۔
شعرو سخن
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جہاں ن ثر نگاری میں ملکہِ کمال رکھتے ہیں وہیں آپ شعر و سخن سے بھی شغف رکھتے ہیں۔ آپ شعر فہمی کے ساتھ ساتھ شعر گوئی کا بھی ذوق رکھتے ہیں۔ بعض جرائد میں آپ کے حمدیہ، نعتیہ یا اصلاحی نوعیت کے اشعار طبع ہوچکے ہیں۔ آپ کا ایک شعر قارئین کی نظر ہے۔
کون ہے جس نے جلایا شب میں ہے یہ شمع ماہ
کس نے شاعر کو عطا کی ہے بصیر ت کی نگاہ
غرض کہ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ایک باعمل متقی پرہیزگار عالم دین اور صاحبِ بصیر ت مفکراسلام فقیہ ہیں۔آپ کی خدمات امتِ محمدیہ کیلئے مسلمہ رہی ہیں اللہ تعالیٰ آپ کی دینی، ملی، سماجی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور دین و دنیا کی بہترین نعمتوں سے سرفراز فرمائے

No comments:
Post a Comment