MY COLUMN

ضیاء القرآن مولانا حافظ و قاری محمد رضوان قریشی خطیب مکہ مسجد

 

گفتگو و تحریر: ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید



مولانا حافظ و قاری محمد رضوان قریشی خطیب مکہ مسجد

امامت اور خطابت کی ذمہ داری ایک اہم فریضہِ اسلام ہے۔ امام و خطیب کے منصب پر فائز ہونا یہ اللہ رب العزت کی ایک عظیم نعمت ہی نہیں بلکہ ایک بہت بڑی آزمائش اور امتحان ہے۔ اس پیشہِ امامت و خطابت کے تقدس کو برقرار رکھنا اور اپنی ذمہ داری پورے حسن سلوک کے ساتھ انجام دینا یہ سب اللہ کے فضل و کرم اور آقائے دوعالم صلی اللہ علیہ و سلم کے صدقہ طفیل ہی شرفِ قبولیت کا باعث بنتے ہیں۔بعض حضرات اس منصب پر فائز ہونے کے باوجود دنیاوی اغراض و مقاصد کے حصول اور سیاسی حلقوں میں اپنا اثر و رسوخ جمانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں لیکن اللہ کا شکر و کرم ہے کہ ہم جس شخصیت کا اپنے قارئین کو تعارف کرانے کی سعی کررہے ہیں وہ الحمد للہ ان سب چیزوں سے دور ہیں اور اللہ و رسول اللہ ﷺ کی خوشنودی کے حصول کے لئے اپنے فرائض منصبی کو بحسن خوبی انجام دے رہے ہیں۔ آئیے ہم اپنی ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کی اس عظیم الشان تاریخی مکہ مسجد کے موجودہ خطیب اور سابق امام ضیاء القرأو سراج القرأ مولانا حافظ و قاری محمد رضوان قریشی صاحب سے متعلق کچھ معلومات حاصل کرنے کی سعی کرینگے۔ آپ قبیلہ قریش با معافہ یمن سے تعلق رکھتے ہیں اورآپ کا سلسلہ نسب خلیفہ اول حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ سے جاملتا ہے۔اس طرح آپ محتاج تعارف نہیں۔ مولانا حافظ و قاری محمد رضوان قریشی کے دادا حضرت مولانا محمد عبدالرحیم قریشی علیہ الرحمہ تاریخی مکہ مسجدکی امامت پر پچاس سال سے زائد عرصہ تک فائز رہے آپ فجر اور ظہر کی نماز پڑھاتے تھے۔ حضرت مولانا محمد عبدالرحیم قریشیؒ کی رحلت سے قبل آپ کے فرزند حضرت مولانا حافظ و قاری محمد علی قریشیؒ فجر اور ظہر کی نماز کے لئے مکہ مسجد میں اس منصب پر فائز کئے گئے اور الحمدللہ آپ نے بھی 23سال یعنی 1965سے 1988تک یعنی اپنے خالقِ حقیقی کے حضور حاضری سے قبل تک اس منصبِ امامت پر فائز رہے۔ حضرت مولانا حافظ و قاری محمد علی قریشی ؒمدرسہ حفاظ، مکہ مسجد کے فارغ تھے، فراغت حفظ القران کے بعد آپ کی دستار بندی اور خلعت محترم مکرہ جاہ کے ہاتھوں انجام پائی۔آپ ہی کے جواں سالہ فرزند مولانا حافظ و قاری محمد رضوان قریشی ہیں۔اسی خاندان کے ایک اور چشم و چراغ یعنی حضرت مولانا حافظ و قاری عبدالرحیم قریشی ؒ کے ایک اور نیک صفت فرزند عالم با عمل، شریعتِ مطہرہ ﷺ پر عمل پیرا رہنے والے، خوش الحانی سے کلام مقدس کی تلاوت کرنے والے،ولی کامل شخصیت مصباح القرأحضرت مولانا حافظ و قاری محمد عبداللہ قریشی الازہری علیہ الرحمہ خطیب مکہ مسجد و نائب شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ ہیں جن کے بھتیجہ حافظ و قاری محمد رضوان قریشی صاحب ہیں۔ محمد رضوان قریشی صاحب ابھی آٹھ سال کی عمر کے ہی تھے کہ آپ کے والد مولانا محمد علی قریشی اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ والدِ ماجد کے انتقال کے بعد والدہ محترمہ مرحومہ،اور چچا جان مصباح القرأحضرت مولانا محمد عبداللہ قریشی الازہری ؒ کی شفقت اور سرپرستی و نگرانی میں محمد رضوان قریشی کی تعلیم و تربیت ہوئی۔آپ کے ایک اور چچا مولاناحافظ محمد عبدالعلیم قریشی ہیں جو جامع مسجد چوک کے خطیب و امام ہیں آپ کی سرپرسی بھی انہیں حاصل ہے۔آپ کی مشفق والدہ صاحبہ ؒ بھی 2006ء میں انتقال کرگئیں۔ حافظ و قاری محمد رضوان قریشی 12/ ستمبر 1980ء کو شہر حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ حفظ ِ قرآن مجید سے قبل ابتدائی دینی اور دنیوی تعلیم کا آغاز ہوچکا تھا۔ مولانا عبدالغنی صاحب کے مدرسہ عربیہ تحفیظ القرآن تاڑبن میں 12سال کی عمر میں یعنی1992ء میں حفظ قرآن مجید سے فراغت پائی۔ فراغت حفظ کے بعد دارالعلوم النعمانیہ شاہ علی بنڈہ نئی خلوت روڈ میں شعبہ عربی میں داخلہ لیا اور ڈپلوما کورس میں کامیابی کے بعد1995میں جامعہ نظامیہ کی جماعت مولوی اول میں داخلہ لیا۔ تعلیم کا یہ سلسلہ 2002تک جاری رہا۔ جامعہ نظامیہ میں مولوی کامل الفقہ سے فراغت پائی۔ اسی دوران شام کے اوقات میں لطیفیہ عربک کالج سے پری ڈگری کورس میں داخلہ لیا اور پھر یہاں سے بی اے کی تکمیل کی۔ بی اے میں کامیابی کے بعد نوریہ پی جی کالج سے ایم اے کی 2007 تکمیل میں کی۔2012ء میں عثمانیہ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا۔ مولانا پروفیسر ڈاکٹر محمد سیف اللہ نائب شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ و سابق ڈین اورنٹیل لنگویجس عثمانیہ یونیورسٹی کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کررہے ہیں آپ کے مقالہ کا عنوان”علماء الجامعۃ و مساہمتہم فی التصوف الاسلامی“ ہے۔ مولانا حافظ محمد رضوان قریشی اپنے چچا اور سرپرست مصباح القراء حضرت مولانا حافظ محمد عبداللہ قریشی الازہری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس کئی برس فن قرأت کی مشق کئے اور چھ لحنوں میں آپ قرأت کلام پاک پڑھتے ہیں جن میں لحن مصری، لحن حجازی، لحن شامی، لحن مکی، لحن موصلی اور لحن رسَدہے۔ حضرت مولانا محمد عبداللہ قریشی الازہری رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کے بعد آپ ادارہ مکرم جاہ دارالتجوید و القرأت، خواجہ کا چھلہ، مغل پورہ کے2015سے مہتمم ہیں۔ یہاں پر صبح 7بجے تا 8بجے درس قرأت کلام پاک اور اذان کی عملی مشق کروائی جاتی ہے۔ مولانا حافظ رضوان قریشی کا 2003ء میں بحیثیت امام مکہ مسجد فجر و ظہر کی نماز کے لئے اپنے دادا اور والد صاحب کی جگہ تقرر ہوا۔ الحمد اللہ 2003سے 2017تک مکہ مسجد کے فجر اور ظہر کی امامت پر فائز رہے۔ حضرت مولانا محمد عبداللہ قریشی الازہری کے انتقال سے قبل یعنی 2008ء سے2009تک آپ کی ناسازی صحت کی بناء مولانا حافظ و قاری رضوان قریشی نے مکہ مسجد میں خطابت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔2009سے 2011کے دوران بھی یہ سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رہا لیکن 2011سے 2015تک پابندی سے خطابت کا سلسلہ حضرت کی زندگی مبارکہ میں جاری رہا۔ اسی دوران آپ رمضان المبارک کے پہلے دہے میں حضرت کی ناسازی صحت کی بناء مکہ مسجد میں آپ ہی کی زیرنگرانی کئی سال تراویح میں قرآن مجید سنانے کا شرف حاصل کیا۔حضرت کے انتقال کے بعد بھی خطابت کا سلسلہ جاری رہا لیکن 2016میں تلنگانہ حکومت کی جانب سے باقاعدہ آپ کا خطیب مکہ مسجد کی حیثیت سے تقرر ہوا۔ خطیب مکہ مسجد تقرر کے بعد آپ امامت کے فرائض سے سبکدوش ہوئے کیونکہ قانونی طور پر مکہ مسجد کے خطیب اور امام الگ الگ اپنے اپنے فرائض منصبی انجام دیتے ہیں۔ آپ مکہ مسجد میں پہلے دہے میں تراویح میں قرآن مجید سنانے کی سعادت حاصل کرتے ہیں اس کے علاوہ دوسرے عشرہ کی نماز تروایح میں مسجد علاء الدین خان مغل پورہ میں ایک قرآن مجید اور جامع مسجد چوک میں نماز تہجد میں ایک قرآن پاک سناتے ہیں اور تیسرے عشرہ میں مکہ مسجد میں گذشتہ دس سال سے نماز تہجد میں قرآن پاک سنانے کی سعادت حاصل کررہے ہیں۔ یوں تو آپ 13سال کی عمر سے نماز تراویج میں قرآن مجید سنانے کی سعادت حاصل کیے۔ آپ نے بتایا کہ سب سے پہلے 1993ء میں خواجہ کا چھلہ کی مسجد میں نماز تراویح پڑھانے کا آغاز کیا۔ 1993سے 1999ء تک مختلف مساجد میں نماز تروایج پڑھاتے رہے، 1999سے 2008تک مسجد قادر الدولہ، کوٹلہ عالیجاہ میں نماز تراویح پڑھاتے رہے۔ 1998سے 2006تک عصر، مغرب اور عشاء کی نماز کی امامت مسجد دستگیر پنچ محلہ، چارمینار میں انجام دیتے رہے۔ مولانا محمد رضوان قریشی شہر حیدرآباد کی قدیم عیدگاہ میر عالم میں بھی 2007سے حضرت عبداللہ قریشی الازہریؒ کی ناسازی صحت کی وجہ سے خطیب و امام کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں درمیان میں دو سال حضرت قبلہؒ نے نماز عید پڑھائی اور خطبہ دیا اس کے بعد سے پھر آپ اس فرائض منصبی کو بحسن خوبی انجام دے رہے ہیں۔ امامت اور خطابت کے فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ آپ نے درس و تدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ مولانا رضوان القریشی نے بتایا کہ جامعہ نظامیہ سے 2002ء میں فراغت کے بعد مدرسہ باب العلم انوارِ محمدی میں مدرس شعبہ عربی تقرر ہوا، فی الحال یہاں استاذ الحدیث و فقہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ معہد الدینی العربی، شاہ علی بنڈہ میں 2003سے 2007تک صدر شعبہ تجوید و قرأت کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ انہوں نے بتایا کہ باب العلم انوار محمدی میں مصروفیت زیادہ ہونے کی وجہ سے معہد الدینی العربی کی خدمات ترک کرنی پڑی۔مولانا حافظ محمد رضوان القریشی 2010ء میں رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے۔ آپ کو الحمد للہ دو لڑکیاں اور ایک فرزند ہیں۔

مولانا حافط محمد رضوان قریشی نے ریاست و بیرون ریاست کالی کٹ،ممبئی، بنگلور، اورنگ آباد، نانڈیروغیرہ میں قرأت کے مقابلوں میں حصہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی سطح پر کئی مقابلوں میں بحیثیت جج کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ آپ کو مرکزی بزم انوار صوفیہ شاہ ولی اللہی حیدرآباد نے جولائی 2016میں ”ضیاء القرآن“کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔ اس خطاب کے سپاس نامہ پر شہر کے ممتاز و محترم علمائے کرام اور مشائخین عظام نے دستخط ثبت کئے ہیں جس سے اس خطاب کی اہمیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی انجمن سیف الاسلام کی جانب سے اسی سال آپ کو ”سراج القرأ“ کے خطاب سے نوازا گیا۔ مولانا رضوان قریشی نے بتایا کہ والد محترم کے انتقال کے بعد والدہ صاحبہ مرحومہ اور چچا حضرت مولانا مصباح القرأ کی محبت و شفقت اورخصوصی دلچسپی و نگرانی نے انہیں اس مقام پر فائز فرمایا۔ انہوں نے اپنے محسن اساتذہ کرام شعبہ حفظ اور دارالعلوم النعمانیہ و جامعہ نظامیہ کا بھی تذکرہ کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین اور خراج عقیدت پیش کیا۔ خصوصی طور پر حضرت مفتی محمد عظیم الدین صاحب صدر مفتی جامعہ نظامیہ کی توجہہ خاص کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی خصوصی دعائیں رہبری و رہنمائی ہمیشہ انہیں حاصل رہی ہے۔انہوں نے اپنی زندگی کے کامیاب سفر میں ان بزرگ اساتذہ کرام حضرت مولانا سید طاہر رضوی القادریؒ، حضرت مولانا ولی اللہ ؒ، مولانا مفتی ابراہیم خلیل الہاشمیؒ، مولانا مفتی خلیل احمد صاحب شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ، مولانا محمد خواجہ شریف صاحب شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ کو بھی یاد کیا جن کی شفقت و پیار اور تعلیم و تربیت نے انہیں آج تاریخی مکہ مسجد میں خطابت کے جلیل القدر منصب پر فائز فرمایا۔الحمد للہ ضیاء القرآن مولانامحمد رضوان قریشی خطیب مکہ مسجد اپنے والدین اور سرپرستوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دنیوی اغراض و مقاصد سے بے نیاز فرائض منصبی ادا کررہے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں دینی و دنیوی نعمتوں سے سرفراز فرمائے اور حیدرآباد کے مسلمانوں کے لئے انہیں سرمایہ افتخار بنائے رکھے۔ آمین


No comments:

Post a Comment