MY COLUMN

سعودائزیشن کے تحت گذشتہ چند برسوں کے دوران لاکھوں تارکین وطن بے روزگار

 عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

سعودائزیشن کے تحت گذشتہ چند برسوں کے دوران لاکھوں تارکین وطن بے روزگار

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

  

                 کسی بھی ملک کے حکمراں کو اپنی رعایا کی خوشحالی اور ملک کی ترقی و سلامتی کی فکر لاحق رہنا ایک اچھی بات ہے اور یہ ایک اچھے حکمراں کی پہچان بھی ہے۰۰۰ سعودی عرب کی شاہی حکومت بھی گذشتہ چند برسوں کے دوران مملکت میں اپنی رعایا کو روزگار سے مربوط کرنے کے لئے مختلف لائحہ عمل پر عمل پیرا ہے۔ اسی سلسلہ کی ایک کڑی سعودائزیشن ہے جس کے ذریعہ سعودی خواتین اور مرد حضرات کو مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے کیلئے راہیں فراہم کی جارہی ہیں۔ واضح رہے کہ گذشتہ کئی دہائیوں سے سعودی عوام کو خوشحال اور پُر تعیش زندگی فراہم کرنے والے لاکھوں محنت کش تارکین وطن سعودائزیشن کی وجہ سے روزگار سے محروم کردیئے جارہے ہیں۔آج مملکت سعودی عرب عالمی سطح پر جس طرح معاشی اعتبار سے قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے یہ کئی ممالک کے لاکھوں تارکین وطنوں کی انتھک محنت و کاشوں کا نتیجہ ہے، ان عالیشان عمارتوں اور خوبصورت شہروں کی جدید آبادکاری میں ان لاکھوں تارکین وطنوں کا خون پسینہ شامل ہے۔ پٹرول کی دولت سے مالامال ملک سعودی عرب میں خام تیل کی نکاسی کا آغاز تاریکِ وطنوں کی مرہونِ منت ہے۔ یہ سچ ہیکہ مملکت سعودی عرب کا روزگار کے متلاشی جس تیزی سے رخ کئے اور انہیں جس طرح آسانی سے مملکت میں روزگار میسر آتا گیا اس سے ان لاکھوں خاندانوں کی زندگیوں میں خوشحالی آئی اور معاشی اعتبارسے یہ لوگ ہی نہیں بلکہ ان ممالک میں بھی خوشحالی آئی اور ترقی کی راہیں فراہم ہوئیں۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران موجودہ شاہی حکومت جس طرح سعودائزیشن کے ذریعہ لاکھوں تارکین وطنوں کو ملک بدر کرنے کی کوشش کررہی ہے شاید اس سے عالمی سطح پر مملکت کی نیک نامی پر داغ تصور کیا جارہا ہے۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران لاکھوں ہندوستانی، پاکستانی، بنگلہ دیشی، سری لنکا اور دیگر کئی ممالک کے افراد کو مملکت چھوڑنے کیلئے انکی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا یہی نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں تارکین وطن اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھوبیٹھنے کے بعد انہیں انکی محنت کی کمائی بھی نہیں دی گئی اور کئی کئی دن بھوک و پیاس کی حالت میں در در کی ٹھوکریں کھانے کے بعد تارکین وطن بے سروسامانی کی حالت میں مملکت چھوڑ کر اپنے اپنے ممالک واپس ہوئے۔ آج بھی کئی ہندوستانی وپاکستانی اور دیگر ممالک کے بے روزگار کئے گئے افراد اپنی محنت کی کمائی کے بقایاجات کے حصول کیلئے ان کمپنیوں سے آس لگائے بیٹھے ہیں، انکے عدالتی چکر جاری ہیں، لیبر قوانین کے تحت ان افراد کو جو روزگارسے محروم کردیئے گئے ان افراد کے بقایاجات واپس کرنا چاہیے لیکن کئی کمپنیاں و ادارے ان محنت کش مظلوم افراد کو روتا بلکتا چھوڑ دیئے ہیں۔اگرشاہی حکومت اس جانب خصوصی توجہ دیں تو ان بیروزگار ہونے والے تارکین وطنوں کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔

                     گذشتہ دنوں سعودی وزارتِ افرادی قوت و سماجی بہبود نے ”کسٹمر سروس“ کے شعبے میں سعودائزایشن کے فیصلے پر عمل درآمد کا آغاز کیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ وکلاء اور قانونی مشاورت کے شعبے کی سعودائزیشن کے دوسرے مرحلے کا بھی نفاذ کردیا گیا ہے۔اخبار 24 کے مطابق وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود نے بیان میں کہا کہ ’کسٹمر سروس کے شعبے کی صد فیصد(100%) سعودائزیشن شروع کی گئی ہے جن اداروں میں کسٹمر سروس میں غیرملکی ملازم تعینات ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی ہو گی۔‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کسٹمر سروس کی تمام اسامیاں سعودیوں کیلئے مختص کی جا چکی ہیں۔ ان میں کلیدی عہدے، انچارج وغیرہ سب شامل ہونگے۔‘وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود کا کہنا ہے کہ ’قانونی پیشوں کے دوسرے مرحلے میں 70 فیصد سعودائزیشن کی جا رہی ہے۔ فیصلے کا مقصد تمام کمپنیوں، مملکت میں لا فرمز اور وکلا کی ایجنسیوں میں سعودیوں کا تقرر یقینی بنانا ہے۔نئے فیصلے کے تحت قانونی مشیر برائے سرکاری ضوابط اور قانونی مشیر برائے پرائیویٹ سسٹم، معاہدوں کے ماہر، قانونی امور کے وثیقہ نویس سب شامل ہونگے۔ فیصلے کے تحت ایل ایل بی ڈگری ہولڈر کو کم از کم 5500 ریال تنخواہ دینا ہو گی۔ پہلے مرحلے میں 50 فیصد سعودائزیشن کی گئی تھی۔ اب اس کو توسیع کر کے 70 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل کئی شعبوں مثلاً ڈرائیونگ، بقالاجات، و غیرہ میں سعودئزیشن کے تحت سخت قوانین لاگو کئے گئے جس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ہزاروں تارکین وطنوں کو ملک چھوڑنا پڑا۔ ویسے ہر ملک کا حکمران چاہتا ہے کہ انکی رعایا خوشحال زندگی گزاریں۔ سعودی عرب کی شاہی حکومت بھی اپنی رعایاکیلئے ملازمتیں فراہم کرنے کیلئے سعودائزیشن کا نفاذ عمل میں لائی ہے اور اسی کے تحت لاکھوں ہندو پاک اور دیگر ممالک کے عوام کو انکے اپنے وطنوں کو واپس ہونا پڑرہا ہے۔ لیکن شاہی حکومت کو چاہیے کہ جو لوگ بے روزگار کردیئے گئے اور انہیں واپس انکے ممالک بھیج دیا جارہا ہے تو انکے بقایاجات دلانے کیلئے سخت قوانین کے ذریعہ دلائیں تاکہ یہ لوگ اپنے اپنے ملک واپس ہوکر نئے سرے سے خوشحال زندگی بسر کرنے کیلئے اپنا خود کا کاروبار لگانے یا روزگار ملنے تک چین و سکون کی زندگی بسر کرنے کا موقع ملے۔ 

آگنائزیشن آف اسلامک کونسل کے انسداد بدعنوانی اداروں کااجلاس

                      اسلامی تعاون تنظیم(او آئی سی) کے رکن ممالک میں انسداد بدعنوانی قوانین نافذ کرنے والے اداروں کا پہلا اجلاس منگل 20/ ڈسمبرکوہوا۔ سرکاری خبررساں ادارے ایس پی اے کے مطابق اجلاس میں او آئی سی کے رکن ممالک میں انسداد بدعنوانی قوانین نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے، سربراہ، نائبین، وزرا ء اور انسداد بدعنوانی کی بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہ شریک ہوئے۔ سعودی عرب کے کنٹرول اینڈ اینٹی کرپشن کمیشن کے سربراہ مازن الکھموس نے کہا ہے کہ’اجلاس نے او آئی سی کے رکن ممالک کی جانب سے مکہ معاہدے کی منظوری دی ہے‘۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاہدے کا مقصد انسداد بدعنوانی قوانین نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کا فروغ، قوانین کو پیشہ ورانہ انداز میں تیزی سے نافذ کرنے کو یقینی بنانا اورریاض انٹرنیشنل انشیٹو گلوبل ای نیٹ ورک میں رکن ملکوں کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس سے رکن ممالک براہ راست تیزی سے قانون کے دائرے میں معلومات کا تبادلہ کرسکیں گے۔ اور بدعنوانوں کیلئے محفوظ ٹھکانوں کے حصول کا دائرہ محدود اور بدعنوانی کے جرائم کا سدباب ہوگا۔ سمجھا جارہا ہے کہ اس معاہدے کے بعد ’مسلم ممالک مزید ترقی اور خوشحالی کا سفر آسانی سے طے کرسکیں گے۔ دیگر علاقائی و بین الاقوامی گروپ اس سلسلے میں او آئی سی کے نقش قدم پر چلیں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ’سعودی حکومت ملکی و بین الاقوامی سطح پر بدعنوانی کے انسداد کی ہر کوشش کا ساتھ دے رہی ہے۔ اس کا دارومدار سعودی ویژن 2030 پر ہے‘۔نایف یونیورسٹی برائے علوم سلامتی کے سربراہ عبدالمجید البنیان نے کہاکہ ’اس کامقصد یہ ہے کہ سرحد پار بدعنوانی جیسے سنگین جرم کے موثر انسداد کے سلسلے میں رکن ممالک ایک دوسرے سے تعاون اور معلومات کا تبادلہ کریں‘۔ او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہ نے زور دیا کہ ’مکہ مکرمہ معاہدے کی توثیق کرکے تمام رکن ممالک انسداد بدعنوانی مہم کا حصہ بنیں‘۔یاد رہے کہ مکہ مکرمہ انسداد بدعنوانی معاہدے کا مقصد رکن ملکوں میں انسداد بدعنوانی قوانین نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا اوراس سلسلے میں تیزی لانا ہے۔

ڈاکٹر سہیل اعجاز خان سعودی عرب کے نئے سفیر ہند مقرر

                     ڈاکٹر سہیل اعجاز خان کو ہندوستانی سفیر برائے مملکت سعودی عرب متعین کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر سہیل اعجاز خان اس سے قبل لبنان میں سفیر ہند کی حیثیت سے21/جون 2019سے تاحال خدمات انجام دے رہے تھے۔اس سے قبل وہ ریاض سعودی عرب میں سپٹمبر 2017سے جون 2019تک ڈپٹی چیف آف مشن کی حیثیت سے تعینات تھے۔2016اور 2017میں اقوام متحدہ کے پنشن بورڈ کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔اس کے علاوہ وہ جدہ میں قونصل جنرل آف انڈیا کی حیثیت سے 2005تا 2008خدمات انجام دیئے ہیں اس دوران وہ حج کے معاملات اور ہندوستانی عازمین  حج کے انتظامات سمیت متعدد امور کی انجام دہی میں مصروف رہے۔ 2008تا 2009کے درمیان وزارت خارجہ کے WANA(مغربی ایشیاء شمالی افریقہ) ڈویژن میں ڈپٹی سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیا۔2009تا 2011کے درمیان انڈین ہائی کمیشن اسلام آباد میں ویزا اور قونصلر کی ذمہ داری نبھائی۔ 2011تا 2013میں وزیر مملکت برائے امور خارجہ مسٹر ای احمد کے دفتر میں بطور ڈائرکٹر خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد ڈاکٹر سہیل خان سفارت خانہ اور ہندوستان کے مستقل مشن میں ڈپٹی چیف آف مشن کے طور ویانا چلے گئے۔ویانا میں ڈاکٹر خان نے سیاسی اور کثیر الجہتی کام کو سنبھالا۔2013اور2017کے درمیان وہ انٹر نیشنل اٹامک انرجی ایجنسی(IAEA)، اقوام متحدہ کی صنعتی ترقی کی تنظیم (UNIDO)، اور بیرونی خلاء کی صنعتی ترقی کی تنظیم(UNCOPUOS)کے اجلاسوں میں ہندوستان وفود کا حصہ رہے۔انہوں نے 2015میں آئی اے ای اے کے پروگرام اور بجٹ کمیٹی کے نمائندے، 2015میں یو این آئی ڈی او کے معاملات کے G-77کوآرڈینیٹر اور 2016-17تک یو این آئی ڈی او کی اسٹاف پنشن کمیٹی میں گورننگ باڈی کے نمائندے کی حیثیت سے خدمات انجام دیئے۔ ڈسمبر 2014میں ویانا میں جوہری ہتھیاروں کے انسانی اثرات پر ویانا کانفرنس میں ہندوستان وفد کے سربراہ رہ کی حیثیت سے نمائندگی کی۔ ڈاکٹر سہیل اعجاز خان کی سفارتی سرگرمیوں کا آغاز 1997میں ہوا۔اور پہلی مرتبہ وہ ہندوستانی سفارت خانہ  قاہرہ  میں سفارتی عہدہ سنبھالا۔ 1999تا 2001ء میں انہوں نے سفارت خانے قاہرہ میں دیگر فرائض منصبی کی انجام دہی کے علاوہ عربی زبان میں ایڈوانسڈ ڈپلومہ حاصل کیا۔ ڈاکٹر خان ایم جی ایم سے میڈیسن میں گریجویٹ ہیں اور انکی اہلیہ محترمہ رفعت جبین خان کو بین الاقوامی اور اقوام متحدہ کے اداروں میں کام کرنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔

جارجیا کے وزیر اعظم کی سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات

جارجیا کے وزیر اعظم ایراکلی گریبا شویلی سرکاری دورہ پرچہارشنبہ 21/ ڈسمبر کوسعودی عرب پہنچے جہاں انکا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ریاض کے نائب گورنر شہزادہ محمد بن عبدالرحمن وزیر اقتصادیات و منصوبہ بندی،شہزادہ فیصل بن فاضل ابراہیم اور دیگرنے استقبال کیا۔مہمان جارجیا کے وزیر اعظم کا سعودی ولیعہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے ریاض کے قصر الیمامہ میں استقبال کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان متعدد اہم امور پر بات چیت ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان اور ایراکلی گریباشویلی نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے فروغ کا جائزہ لیا۔ جارجیا کے میزبان وزیر اعظم نے سعودی وزیر اعظم کی جانب سے انکے بہترین استقبال اور میزبانی پر ولیعہد کا شکریہ ادا کیا۔

 افغان خواتین کوحصولِ اعلیٰ تعلیم کا حق۔رابطہ عالمِ اسلامی

رابطہ عالم اسلامینے افغان خواتین کو اعلیٰ تعلیم سے منع کرنے کے فیصلے مسترد کیا ہے۔ سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق رابطہ عالم عالم اسلامی نے کہا ہے کہ ”افغان انتظامیہ خواتین کو اعلیٰ تعلیم سے روک کر انہیں ان کے جائز حق سے محروم کردیا ہے“۔ رابطہ عالم اسلامی کا کہنا ہیکہ’یہ فیصلہ اسلامی تعلیمات کی روح سے منافی او راجماعِ امت کے علاوہ انسانی اقدار و حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے‘۔رابطہ عالم اسلامی نے افغان خواتین کو تعلیم کی اجازت دینا انکے جائز اور فطری حقوق میں سے بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ہم افغان خواتین اور قوم کے ساتھ انکے جائز حقوق دلانے میں یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ رابطہ اسلامی نے کہا کہ کسی بھی حکومت یا انتظامیہ یا ادارے کو یہ حق نہیں کہ وہ تعلیم سے کسی بھی طبقے کو محروم کرے۔ اب دیکھنا ہے کہ رابطہ عالمِ اسلامی کی جانب سے افغان خواتین کی اعلیٰ تعلیم کے سلسلہ میں دیئے گئے واضح بیان کے بعد افغان طالبان انتظامیہ کس قسم کے ردّعمل کا اظہار کرتی ہے اور مستقبل قریب میں افغانستان میں خواتین کے لئے کیا لائحہ عمل وضع کیا جاتا ہے۔

ٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌ***********


حجاب کے معاملہ پرسخت رویہ اپنانے پرایران کے خلاف اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے اقدامات

 عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

حجاب کے معاملہ پرسخت رویہ اپنانے پرایران کے خلاف اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے اقدامات

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

               حجاب کے معاملے پر ایران کے خلاف مغربی اور یورپی یونین ممالک کی جانب سے پابندیاں عائد کئے جارہے ہیں۔ حجاب اسلام کے تشخص کو اجاگر کرتا ہے۔ خواتین کو عزت و احترام فراہم کرتا ہے۔ پردہ نشین خواتین اور لڑکیاں اور اپنے گھر کے باہر نکلتے ہیں تو مکمل حجاب میں رہنا پسند کرتی ہیں اور کیوں نہ ہو انہیں جو عزت و احترام شریعت مطہرہ نے دیا ہے۔ ایران اور افغانستان میں مکمل حجاب یا درست حجاب پہننا لازمی ہے۔ جن جن ممالک میں خواتین حجاب میں نکلتی ہے انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ان ممالک میں خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات بھی نہ ہونے کے برابر دکھائی دیتے ہیں۔ دشمنانِ اسلام نیمسلم خواتین کو بے پردہ کرنے اور اسلام کے تشخص کو پامال کرنے کیلئے ہمیشہ حجاب کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ افغانستان اور ایران کی حکومتیں جس طرح خواتین کو مکمل حجاب میں رہنے کیلئے سخت رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ان ممالک کی حکومتوں کے خلاف ملک و بیرون ملک احتجاج جاری ہے۔ واضح رہے کہ سال رواں ماہِ ستمبر میں ایران کی ایک 22سالہ طالبہ مہسا امینی کو درست حجاب نہ کرنے کی وجہ سے ایران کی اخلاقی پولیس نے حراست میں لیا تھا جہاں دوران حراست انکی موت واقع ہوگئی تھی اسکی ہلاکت کے بعد اخلاقی پولیس کے خلاف احتجاج کا آغاز ہوا تھا اور پھر یہ احتجاج پُر تشدد ہوتا گیا، سیکیوریٹی فورسز کی جانب سے احتجاجیوں کے خلاف سخت کارروائی کی گئی اس طرح یہ پُرتشدد احتجاج میں بدل گیا۔ پُرتشدد احتجاج اور سخت کارروائیوں کی وجہ سے ایران کی ساکھ  عالمی سطح پر متاثر ہوئی ہے۔ایرانی حکومت کا احتجاجیو ں سے نمٹنے کیلئے سخت رویہ اور احتجاجیوں کی پرُتشدد کارروائیو ں کی وجہ سے سینکڑوں احتجاجی اور سیکیوریٹی عہدیدار ہلاک یا زخمی ہوگئے۔ احتجاج میں حصہ لینے والے دو نوجوان مجید رضا اور محسن شیکری جنکی عمریں 23،23سال بتائی جارہی ہے انہیں پھانسی کی سزادے دی گئی اور ان پر ”خدا کا دشمن“ہونے کا الزام لگایا گیاجو ایرانی قانون کا حصہ بتایا جاتا ہے۔ایرانی عدلیہ نے مزید افراد کو پھانسی کی سزا سنائی ہے۔ حقوق انسانی کی تنظیمو ں کے مطابق انکے علاوہ درجن بھر افراد کو ایسے الزامات کا سامنا ہے جن پر انہیں سزائے موت ہوسکتی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی عدلیہ نے حکومت کے خلاف احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے 400افراد کو جیل بھیجنے کا حکم دیا اور ان کو 10سال تک کی سزائیں سنائی گئی۔ حجاب سے متعلق سخت رویہ اپنائے رکھنے پر ایرانی حکومت کے خلاف اقوام متحدہ کے کمیشن برائے خواتین میں رکنیت منسوخ کردی گئی ہے۔ عرب نیوز کے مطابق جمعرات کوامریکہ کی جانب سے تجویز کردہ قرار داد رائے شماری کیلئے پیش کی گئی کہ اقوام متحدہ کے خواتین کی حیثیت پر کمیشن سے ایران کی رکنیت فوری طور پر ختم کی جائے۔ 45اراکین پر مشتمل اقوام متحدہ کی معاشی اور سماجی کونسل نے قرار داد منظور کرلی۔ کونسل کے 29اراکین نے قرار داد کے حق میں، 8اراکین نے اس کے خلاف جبکہ 16رکن ممالک نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔ واضح رہے کہ ایران اقوام متحدہ کے کمیشن برائے خواتین کا سال 2022سے رکن ہے جس کی مدت 2026میں ختم ہونی تھی، تاہم قرار داد کی منظوری کے بعد ایران اب اس کا حصہ نہیں رہا۔ رکنیت منسوخ کئے جانے کے بعد اقوام متحدہ میں ایرانی مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے امریکی قیادت میں کئے گئے اس فیصلے کو ”غیر قانونی“ اور امریکہ کی پالیسی کو ایران مخالف قرار دیا ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران کی رکنیت ختم کرنے سے قبل ایران سمیت فلسطین اور دیگر 17ممالک نے اقوام متحدہ کی معاشی اور سوشل کونسل کو خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اس معاملے پر ووٹنگ کروانے سے ایسی مثال قائم ہوگی جس سے مختلف کلچر، رواج اور روایات رکھنے والے دیگر رکن ممالک کو اس قسم کے کمیشن کی سرگرمیوں میں اپنا حصہ ادا کرنے سے روکا جاسکے گا۔ خط میں کونسل کے اراکین پر زور دیا گیا تھا کہ وہ امریکہ کے اس اقدام کے خلاف ووٹ کا استعمال کریں تاکہ آئندہ بین الاقوامی سسٹم میں سے کسی بھی قانونی طو رپر منتخب ملک کو نہ نکالا جاسکے۔ ایران نے مغربی ممالک پر الزام عائد کیا کہ انسانی حقوق کی کونسل کا استعمال کرتے ہوئے ایران کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ گذشتہ مہینے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے ایران میں جاری مظاہروں کو دبانے کے خلاف غیر جانبدار تحقیقات کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ یورپی یونین نے بھی ایران کے آرمی چیف عبدالرحیم موسوی،نائب وزیر داخلہ، پاسداران انقلاب کے علاقائی کمانڈرزکے ویزوں پر پابندی ہوگی جبکہ ان کے اثاثے بھی ضبط کئے جائیں گے۔ سرکاری ریڈیواسلامک ریپبلک آف ایران براڈ کاسٹنگ (آئی آر آئی بی) کے ڈائرکٹرز، ٹی وی کے عہدیداروں پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس طرح یورپی یونین کی جانب سے لگائی جانے والے نئی پابندیوں میں 60سے زائد افراد کے نام شامل بتائے جاتے ہیں۔ یہ پابندیاں ایران میں ہونے والے احتجاج اور پھانسی کی سزا دیئے جانے کے بعد کی گئی ہے اس کے علاوہ تہران کی جانب سے روس کی حمایت اوریوکرین پر حملے کیلئے ڈرونز کی فراہمی بھی شامل ہے۔ 

  یمن جنگ میں تین ہزار معصوم بچے ہلاک

                اقتدار کی چاہت نے تین ہزار سے زائد معصوم بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ صدرعبدربہ منصور ہادی کی حکومت کو بچانے اور انہیں صدارت کے عہدے پر فائز رکھنے کیلئے باغی حوثیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں اور پھر حوثی باغیوں کی جوابی کارروائیوں کے نتیجہ میں یمن کے مردو خواتین کے ساتھ ساتھ تقریباً چار ہزار بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسف نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ یمن میں جاری جنگ کے دوران مارچ 2015 سے ستمبر 2022 کے درمیان کم از کم تین ہزار 774 بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یونیسف کی جانب سے جاری حالیہ اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے باعث 7 ہزار 245 بچے معذور ہوئے ہیں۔یونیسف نے فوری طور پر جنگ بندی کے معاہدے کی تجدید کا مطالبہ کیا ہے جو اپریل سے اکتوبر تک نافذالعمل رہا۔یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل کا کہنا ہے کہ معاہدے کی تجدید انسانی امداد پہنچانے کی جانب ایک اہم قدم ہوگا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارچ 2015 سے ستمبر 2022 کے درمیان 3 ہزار 904 نوجوان لڑکوں کو جنگ میں لڑنے کی غرض سے بھرتی کیا گیا۔کیتھرین رسل کا کہنا ہے کہ ’اگر یمن کے بچوں کا اچھا مستقبل چاہتے ہیں تو پھر فریقین، عالمی برادری اور تمام بااثر عناصر کو بچوں کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کی مدد کرنے کی یقین دہانی کرانی ہوگی۔‘اقوام متحدہ کے مطابق حوثیوں نے بڑے پیمانے پر بارودی سرنگوں کا استعمال کیا جس سے جولائی اور ستمبر کے درمیان کم از کم 74 بچے ہلاک ہوئے۔واضح رہے کہ اس سے قبل حوثی حکام جنگ میں لڑنے کے لئے دس سال کی عمر کے لڑکوں کو بھرتی کرنے کا اعتراف کر چکے ہیں۔یونیسف نے گذشتہ ہفتہ دنیا بھر میں تنازعات اور آفات سے متاثرہ بچوں کی امداد کیلئے 10.3ارب ڈالر کی درخواست کی تھی جن میں سے 484.5ملین ڈالر یمن کیلئے مختص کئے جائیں گے۔یمن کی معاشی صورتحال جنگ سے پہلے ہی انتہائی خراب تھی جنگ کے دوران تو یہ صورتحال انتہائی سنگین نوعیت اختیار کرگئی ہے، مزید جنگ بندی جتنا جلد ممکن ہوسکے کی جانی چاہیے۔

 بنگلہ دیش میں جماعت اسلامیپر پھر ایک مرتبہ شیخ حسینہ کاقہر

                بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے سربراہ امیر شفیق الرحمن کو منگل کے روز گرفتار کرلیا گیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بنگلہ دیش کی پولیس نے کہا ہے کہ اس نے ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت کے سربراہ کو ڈھاکہ میں گرفتار کیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ چندروز قبل جماعت اسلامی نے اعلان کیا تھا کہ وہ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی برطرفی کیلئے اپوزیشن کے احتجاج میں شرکت کرے گی۔پولیس ترجمان فاروق احمد نے الزامات کی تفصیل دیے بغیر کہا کہ انسداد دہشت گردی کے افسران نے جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان کو گرفتار کیا۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کئی برسوں تک جماعت اسلامی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی بڑی اتحادی تھی۔ ان کے اتحاد نے 2001 سے 2006 تک حکومت کی تھی۔تاہم جب شیخ حسینہ واجد نے 2009 میں اقتدار سنبھالا تو جماعت اسلامی کی تمام لیڈرشپ کو حراست میں لیا گیا تھا اور ان پر 1971 میں پاکستان کے خلاف جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کے تحت مقدمات قائم کیے گئے۔الزامات عائد ہونے کے بعد 2013 سے 2016 کے درمیان جماعت اسلامی کے پانچ رہنماؤں کو پھانسی دی گئی تھی۔ جماعت اسلامی کے ان رہنماؤں کو سزائیں دیئے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران سینکڑوں کارکنان ہلاک ہوئے تے جبکہ ہزاروں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ہفتہ کو حکومت مخالف احتجاج کے موقع پر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے دو رہنماؤں کو بھی تشدد پر اکسانے کے الزام پر گرفتار کیا گیا تھا۔بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی شیخ حسینہ واجد سے استعفیٰ دینے اور نگراں حکومت کے تحت صاف اور شفاف انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے۔اپوزیشن کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ واجد کی موجودگی میں صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد ناممکن ہے۔ شیخ حسینہ واجد پر 2014 اور 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام ہے۔جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمن کے فرزند کو گذشتہ ماہ پولیس نے انتہا پسندی پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔بنگلہ دیش میں حالیہ مہینوں میں معاشی بحران، لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی کی وجہ سے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔بتایا جاتا ہے کہ اس دوران ہزاروں اپوزیشن کے اراکین بھی گرفتار ہوئے۔اقوام متحدہ سمیت مغربی ممالک نے بنگلہ دیش میں سیاسی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔اب دیکھنا ہیکہ جماعت اسلامی کے امیر کو حراست میں لئے جانے کے بعد ملک کے حالات کس کروٹ بدلتے ہیں۔ وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے دورِ اقتدار میں جس طرح انکے مخالفین کے خلاف کارروائیاں کیں گئیں ہیں اسے بنگلہ دیش کی تاریخ یاد رکھا جائے گا۰۰۰

**********