MY COLUMN

سعودائزیشن کے تحت گذشتہ چند برسوں کے دوران لاکھوں تارکین وطن بے روزگار

 عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

سعودائزیشن کے تحت گذشتہ چند برسوں کے دوران لاکھوں تارکین وطن بے روزگار

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

  

                 کسی بھی ملک کے حکمراں کو اپنی رعایا کی خوشحالی اور ملک کی ترقی و سلامتی کی فکر لاحق رہنا ایک اچھی بات ہے اور یہ ایک اچھے حکمراں کی پہچان بھی ہے۰۰۰ سعودی عرب کی شاہی حکومت بھی گذشتہ چند برسوں کے دوران مملکت میں اپنی رعایا کو روزگار سے مربوط کرنے کے لئے مختلف لائحہ عمل پر عمل پیرا ہے۔ اسی سلسلہ کی ایک کڑی سعودائزیشن ہے جس کے ذریعہ سعودی خواتین اور مرد حضرات کو مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے کیلئے راہیں فراہم کی جارہی ہیں۔ واضح رہے کہ گذشتہ کئی دہائیوں سے سعودی عوام کو خوشحال اور پُر تعیش زندگی فراہم کرنے والے لاکھوں محنت کش تارکین وطن سعودائزیشن کی وجہ سے روزگار سے محروم کردیئے جارہے ہیں۔آج مملکت سعودی عرب عالمی سطح پر جس طرح معاشی اعتبار سے قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے یہ کئی ممالک کے لاکھوں تارکین وطنوں کی انتھک محنت و کاشوں کا نتیجہ ہے، ان عالیشان عمارتوں اور خوبصورت شہروں کی جدید آبادکاری میں ان لاکھوں تارکین وطنوں کا خون پسینہ شامل ہے۔ پٹرول کی دولت سے مالامال ملک سعودی عرب میں خام تیل کی نکاسی کا آغاز تاریکِ وطنوں کی مرہونِ منت ہے۔ یہ سچ ہیکہ مملکت سعودی عرب کا روزگار کے متلاشی جس تیزی سے رخ کئے اور انہیں جس طرح آسانی سے مملکت میں روزگار میسر آتا گیا اس سے ان لاکھوں خاندانوں کی زندگیوں میں خوشحالی آئی اور معاشی اعتبارسے یہ لوگ ہی نہیں بلکہ ان ممالک میں بھی خوشحالی آئی اور ترقی کی راہیں فراہم ہوئیں۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران موجودہ شاہی حکومت جس طرح سعودائزیشن کے ذریعہ لاکھوں تارکین وطنوں کو ملک بدر کرنے کی کوشش کررہی ہے شاید اس سے عالمی سطح پر مملکت کی نیک نامی پر داغ تصور کیا جارہا ہے۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران لاکھوں ہندوستانی، پاکستانی، بنگلہ دیشی، سری لنکا اور دیگر کئی ممالک کے افراد کو مملکت چھوڑنے کیلئے انکی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا یہی نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں تارکین وطن اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھوبیٹھنے کے بعد انہیں انکی محنت کی کمائی بھی نہیں دی گئی اور کئی کئی دن بھوک و پیاس کی حالت میں در در کی ٹھوکریں کھانے کے بعد تارکین وطن بے سروسامانی کی حالت میں مملکت چھوڑ کر اپنے اپنے ممالک واپس ہوئے۔ آج بھی کئی ہندوستانی وپاکستانی اور دیگر ممالک کے بے روزگار کئے گئے افراد اپنی محنت کی کمائی کے بقایاجات کے حصول کیلئے ان کمپنیوں سے آس لگائے بیٹھے ہیں، انکے عدالتی چکر جاری ہیں، لیبر قوانین کے تحت ان افراد کو جو روزگارسے محروم کردیئے گئے ان افراد کے بقایاجات واپس کرنا چاہیے لیکن کئی کمپنیاں و ادارے ان محنت کش مظلوم افراد کو روتا بلکتا چھوڑ دیئے ہیں۔اگرشاہی حکومت اس جانب خصوصی توجہ دیں تو ان بیروزگار ہونے والے تارکین وطنوں کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔

                     گذشتہ دنوں سعودی وزارتِ افرادی قوت و سماجی بہبود نے ”کسٹمر سروس“ کے شعبے میں سعودائزایشن کے فیصلے پر عمل درآمد کا آغاز کیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ وکلاء اور قانونی مشاورت کے شعبے کی سعودائزیشن کے دوسرے مرحلے کا بھی نفاذ کردیا گیا ہے۔اخبار 24 کے مطابق وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود نے بیان میں کہا کہ ’کسٹمر سروس کے شعبے کی صد فیصد(100%) سعودائزیشن شروع کی گئی ہے جن اداروں میں کسٹمر سروس میں غیرملکی ملازم تعینات ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی ہو گی۔‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کسٹمر سروس کی تمام اسامیاں سعودیوں کیلئے مختص کی جا چکی ہیں۔ ان میں کلیدی عہدے، انچارج وغیرہ سب شامل ہونگے۔‘وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود کا کہنا ہے کہ ’قانونی پیشوں کے دوسرے مرحلے میں 70 فیصد سعودائزیشن کی جا رہی ہے۔ فیصلے کا مقصد تمام کمپنیوں، مملکت میں لا فرمز اور وکلا کی ایجنسیوں میں سعودیوں کا تقرر یقینی بنانا ہے۔نئے فیصلے کے تحت قانونی مشیر برائے سرکاری ضوابط اور قانونی مشیر برائے پرائیویٹ سسٹم، معاہدوں کے ماہر، قانونی امور کے وثیقہ نویس سب شامل ہونگے۔ فیصلے کے تحت ایل ایل بی ڈگری ہولڈر کو کم از کم 5500 ریال تنخواہ دینا ہو گی۔ پہلے مرحلے میں 50 فیصد سعودائزیشن کی گئی تھی۔ اب اس کو توسیع کر کے 70 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل کئی شعبوں مثلاً ڈرائیونگ، بقالاجات، و غیرہ میں سعودئزیشن کے تحت سخت قوانین لاگو کئے گئے جس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ہزاروں تارکین وطنوں کو ملک چھوڑنا پڑا۔ ویسے ہر ملک کا حکمران چاہتا ہے کہ انکی رعایا خوشحال زندگی گزاریں۔ سعودی عرب کی شاہی حکومت بھی اپنی رعایاکیلئے ملازمتیں فراہم کرنے کیلئے سعودائزیشن کا نفاذ عمل میں لائی ہے اور اسی کے تحت لاکھوں ہندو پاک اور دیگر ممالک کے عوام کو انکے اپنے وطنوں کو واپس ہونا پڑرہا ہے۔ لیکن شاہی حکومت کو چاہیے کہ جو لوگ بے روزگار کردیئے گئے اور انہیں واپس انکے ممالک بھیج دیا جارہا ہے تو انکے بقایاجات دلانے کیلئے سخت قوانین کے ذریعہ دلائیں تاکہ یہ لوگ اپنے اپنے ملک واپس ہوکر نئے سرے سے خوشحال زندگی بسر کرنے کیلئے اپنا خود کا کاروبار لگانے یا روزگار ملنے تک چین و سکون کی زندگی بسر کرنے کا موقع ملے۔ 

آگنائزیشن آف اسلامک کونسل کے انسداد بدعنوانی اداروں کااجلاس

                      اسلامی تعاون تنظیم(او آئی سی) کے رکن ممالک میں انسداد بدعنوانی قوانین نافذ کرنے والے اداروں کا پہلا اجلاس منگل 20/ ڈسمبرکوہوا۔ سرکاری خبررساں ادارے ایس پی اے کے مطابق اجلاس میں او آئی سی کے رکن ممالک میں انسداد بدعنوانی قوانین نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے، سربراہ، نائبین، وزرا ء اور انسداد بدعنوانی کی بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہ شریک ہوئے۔ سعودی عرب کے کنٹرول اینڈ اینٹی کرپشن کمیشن کے سربراہ مازن الکھموس نے کہا ہے کہ’اجلاس نے او آئی سی کے رکن ممالک کی جانب سے مکہ معاہدے کی منظوری دی ہے‘۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاہدے کا مقصد انسداد بدعنوانی قوانین نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کا فروغ، قوانین کو پیشہ ورانہ انداز میں تیزی سے نافذ کرنے کو یقینی بنانا اورریاض انٹرنیشنل انشیٹو گلوبل ای نیٹ ورک میں رکن ملکوں کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس سے رکن ممالک براہ راست تیزی سے قانون کے دائرے میں معلومات کا تبادلہ کرسکیں گے۔ اور بدعنوانوں کیلئے محفوظ ٹھکانوں کے حصول کا دائرہ محدود اور بدعنوانی کے جرائم کا سدباب ہوگا۔ سمجھا جارہا ہے کہ اس معاہدے کے بعد ’مسلم ممالک مزید ترقی اور خوشحالی کا سفر آسانی سے طے کرسکیں گے۔ دیگر علاقائی و بین الاقوامی گروپ اس سلسلے میں او آئی سی کے نقش قدم پر چلیں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ’سعودی حکومت ملکی و بین الاقوامی سطح پر بدعنوانی کے انسداد کی ہر کوشش کا ساتھ دے رہی ہے۔ اس کا دارومدار سعودی ویژن 2030 پر ہے‘۔نایف یونیورسٹی برائے علوم سلامتی کے سربراہ عبدالمجید البنیان نے کہاکہ ’اس کامقصد یہ ہے کہ سرحد پار بدعنوانی جیسے سنگین جرم کے موثر انسداد کے سلسلے میں رکن ممالک ایک دوسرے سے تعاون اور معلومات کا تبادلہ کریں‘۔ او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہ نے زور دیا کہ ’مکہ مکرمہ معاہدے کی توثیق کرکے تمام رکن ممالک انسداد بدعنوانی مہم کا حصہ بنیں‘۔یاد رہے کہ مکہ مکرمہ انسداد بدعنوانی معاہدے کا مقصد رکن ملکوں میں انسداد بدعنوانی قوانین نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا اوراس سلسلے میں تیزی لانا ہے۔

ڈاکٹر سہیل اعجاز خان سعودی عرب کے نئے سفیر ہند مقرر

                     ڈاکٹر سہیل اعجاز خان کو ہندوستانی سفیر برائے مملکت سعودی عرب متعین کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر سہیل اعجاز خان اس سے قبل لبنان میں سفیر ہند کی حیثیت سے21/جون 2019سے تاحال خدمات انجام دے رہے تھے۔اس سے قبل وہ ریاض سعودی عرب میں سپٹمبر 2017سے جون 2019تک ڈپٹی چیف آف مشن کی حیثیت سے تعینات تھے۔2016اور 2017میں اقوام متحدہ کے پنشن بورڈ کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔اس کے علاوہ وہ جدہ میں قونصل جنرل آف انڈیا کی حیثیت سے 2005تا 2008خدمات انجام دیئے ہیں اس دوران وہ حج کے معاملات اور ہندوستانی عازمین  حج کے انتظامات سمیت متعدد امور کی انجام دہی میں مصروف رہے۔ 2008تا 2009کے درمیان وزارت خارجہ کے WANA(مغربی ایشیاء شمالی افریقہ) ڈویژن میں ڈپٹی سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیا۔2009تا 2011کے درمیان انڈین ہائی کمیشن اسلام آباد میں ویزا اور قونصلر کی ذمہ داری نبھائی۔ 2011تا 2013میں وزیر مملکت برائے امور خارجہ مسٹر ای احمد کے دفتر میں بطور ڈائرکٹر خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد ڈاکٹر سہیل خان سفارت خانہ اور ہندوستان کے مستقل مشن میں ڈپٹی چیف آف مشن کے طور ویانا چلے گئے۔ویانا میں ڈاکٹر خان نے سیاسی اور کثیر الجہتی کام کو سنبھالا۔2013اور2017کے درمیان وہ انٹر نیشنل اٹامک انرجی ایجنسی(IAEA)، اقوام متحدہ کی صنعتی ترقی کی تنظیم (UNIDO)، اور بیرونی خلاء کی صنعتی ترقی کی تنظیم(UNCOPUOS)کے اجلاسوں میں ہندوستان وفود کا حصہ رہے۔انہوں نے 2015میں آئی اے ای اے کے پروگرام اور بجٹ کمیٹی کے نمائندے، 2015میں یو این آئی ڈی او کے معاملات کے G-77کوآرڈینیٹر اور 2016-17تک یو این آئی ڈی او کی اسٹاف پنشن کمیٹی میں گورننگ باڈی کے نمائندے کی حیثیت سے خدمات انجام دیئے۔ ڈسمبر 2014میں ویانا میں جوہری ہتھیاروں کے انسانی اثرات پر ویانا کانفرنس میں ہندوستان وفد کے سربراہ رہ کی حیثیت سے نمائندگی کی۔ ڈاکٹر سہیل اعجاز خان کی سفارتی سرگرمیوں کا آغاز 1997میں ہوا۔اور پہلی مرتبہ وہ ہندوستانی سفارت خانہ  قاہرہ  میں سفارتی عہدہ سنبھالا۔ 1999تا 2001ء میں انہوں نے سفارت خانے قاہرہ میں دیگر فرائض منصبی کی انجام دہی کے علاوہ عربی زبان میں ایڈوانسڈ ڈپلومہ حاصل کیا۔ ڈاکٹر خان ایم جی ایم سے میڈیسن میں گریجویٹ ہیں اور انکی اہلیہ محترمہ رفعت جبین خان کو بین الاقوامی اور اقوام متحدہ کے اداروں میں کام کرنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔

جارجیا کے وزیر اعظم کی سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات

جارجیا کے وزیر اعظم ایراکلی گریبا شویلی سرکاری دورہ پرچہارشنبہ 21/ ڈسمبر کوسعودی عرب پہنچے جہاں انکا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ریاض کے نائب گورنر شہزادہ محمد بن عبدالرحمن وزیر اقتصادیات و منصوبہ بندی،شہزادہ فیصل بن فاضل ابراہیم اور دیگرنے استقبال کیا۔مہمان جارجیا کے وزیر اعظم کا سعودی ولیعہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے ریاض کے قصر الیمامہ میں استقبال کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان متعدد اہم امور پر بات چیت ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان اور ایراکلی گریباشویلی نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے فروغ کا جائزہ لیا۔ جارجیا کے میزبان وزیر اعظم نے سعودی وزیر اعظم کی جانب سے انکے بہترین استقبال اور میزبانی پر ولیعہد کا شکریہ ادا کیا۔

 افغان خواتین کوحصولِ اعلیٰ تعلیم کا حق۔رابطہ عالمِ اسلامی

رابطہ عالم اسلامینے افغان خواتین کو اعلیٰ تعلیم سے منع کرنے کے فیصلے مسترد کیا ہے۔ سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق رابطہ عالم عالم اسلامی نے کہا ہے کہ ”افغان انتظامیہ خواتین کو اعلیٰ تعلیم سے روک کر انہیں ان کے جائز حق سے محروم کردیا ہے“۔ رابطہ عالم اسلامی کا کہنا ہیکہ’یہ فیصلہ اسلامی تعلیمات کی روح سے منافی او راجماعِ امت کے علاوہ انسانی اقدار و حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے‘۔رابطہ عالم اسلامی نے افغان خواتین کو تعلیم کی اجازت دینا انکے جائز اور فطری حقوق میں سے بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ہم افغان خواتین اور قوم کے ساتھ انکے جائز حقوق دلانے میں یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ رابطہ اسلامی نے کہا کہ کسی بھی حکومت یا انتظامیہ یا ادارے کو یہ حق نہیں کہ وہ تعلیم سے کسی بھی طبقے کو محروم کرے۔ اب دیکھنا ہے کہ رابطہ عالمِ اسلامی کی جانب سے افغان خواتین کی اعلیٰ تعلیم کے سلسلہ میں دیئے گئے واضح بیان کے بعد افغان طالبان انتظامیہ کس قسم کے ردّعمل کا اظہار کرتی ہے اور مستقبل قریب میں افغانستان میں خواتین کے لئے کیا لائحہ عمل وضع کیا جاتا ہے۔

ٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌ***********


حجاب کے معاملہ پرسخت رویہ اپنانے پرایران کے خلاف اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے اقدامات

 عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

حجاب کے معاملہ پرسخت رویہ اپنانے پرایران کے خلاف اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے اقدامات

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

               حجاب کے معاملے پر ایران کے خلاف مغربی اور یورپی یونین ممالک کی جانب سے پابندیاں عائد کئے جارہے ہیں۔ حجاب اسلام کے تشخص کو اجاگر کرتا ہے۔ خواتین کو عزت و احترام فراہم کرتا ہے۔ پردہ نشین خواتین اور لڑکیاں اور اپنے گھر کے باہر نکلتے ہیں تو مکمل حجاب میں رہنا پسند کرتی ہیں اور کیوں نہ ہو انہیں جو عزت و احترام شریعت مطہرہ نے دیا ہے۔ ایران اور افغانستان میں مکمل حجاب یا درست حجاب پہننا لازمی ہے۔ جن جن ممالک میں خواتین حجاب میں نکلتی ہے انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ان ممالک میں خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات بھی نہ ہونے کے برابر دکھائی دیتے ہیں۔ دشمنانِ اسلام نیمسلم خواتین کو بے پردہ کرنے اور اسلام کے تشخص کو پامال کرنے کیلئے ہمیشہ حجاب کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ افغانستان اور ایران کی حکومتیں جس طرح خواتین کو مکمل حجاب میں رہنے کیلئے سخت رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ان ممالک کی حکومتوں کے خلاف ملک و بیرون ملک احتجاج جاری ہے۔ واضح رہے کہ سال رواں ماہِ ستمبر میں ایران کی ایک 22سالہ طالبہ مہسا امینی کو درست حجاب نہ کرنے کی وجہ سے ایران کی اخلاقی پولیس نے حراست میں لیا تھا جہاں دوران حراست انکی موت واقع ہوگئی تھی اسکی ہلاکت کے بعد اخلاقی پولیس کے خلاف احتجاج کا آغاز ہوا تھا اور پھر یہ احتجاج پُر تشدد ہوتا گیا، سیکیوریٹی فورسز کی جانب سے احتجاجیوں کے خلاف سخت کارروائی کی گئی اس طرح یہ پُرتشدد احتجاج میں بدل گیا۔ پُرتشدد احتجاج اور سخت کارروائیوں کی وجہ سے ایران کی ساکھ  عالمی سطح پر متاثر ہوئی ہے۔ایرانی حکومت کا احتجاجیو ں سے نمٹنے کیلئے سخت رویہ اور احتجاجیوں کی پرُتشدد کارروائیو ں کی وجہ سے سینکڑوں احتجاجی اور سیکیوریٹی عہدیدار ہلاک یا زخمی ہوگئے۔ احتجاج میں حصہ لینے والے دو نوجوان مجید رضا اور محسن شیکری جنکی عمریں 23،23سال بتائی جارہی ہے انہیں پھانسی کی سزادے دی گئی اور ان پر ”خدا کا دشمن“ہونے کا الزام لگایا گیاجو ایرانی قانون کا حصہ بتایا جاتا ہے۔ایرانی عدلیہ نے مزید افراد کو پھانسی کی سزا سنائی ہے۔ حقوق انسانی کی تنظیمو ں کے مطابق انکے علاوہ درجن بھر افراد کو ایسے الزامات کا سامنا ہے جن پر انہیں سزائے موت ہوسکتی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی عدلیہ نے حکومت کے خلاف احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے 400افراد کو جیل بھیجنے کا حکم دیا اور ان کو 10سال تک کی سزائیں سنائی گئی۔ حجاب سے متعلق سخت رویہ اپنائے رکھنے پر ایرانی حکومت کے خلاف اقوام متحدہ کے کمیشن برائے خواتین میں رکنیت منسوخ کردی گئی ہے۔ عرب نیوز کے مطابق جمعرات کوامریکہ کی جانب سے تجویز کردہ قرار داد رائے شماری کیلئے پیش کی گئی کہ اقوام متحدہ کے خواتین کی حیثیت پر کمیشن سے ایران کی رکنیت فوری طور پر ختم کی جائے۔ 45اراکین پر مشتمل اقوام متحدہ کی معاشی اور سماجی کونسل نے قرار داد منظور کرلی۔ کونسل کے 29اراکین نے قرار داد کے حق میں، 8اراکین نے اس کے خلاف جبکہ 16رکن ممالک نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔ واضح رہے کہ ایران اقوام متحدہ کے کمیشن برائے خواتین کا سال 2022سے رکن ہے جس کی مدت 2026میں ختم ہونی تھی، تاہم قرار داد کی منظوری کے بعد ایران اب اس کا حصہ نہیں رہا۔ رکنیت منسوخ کئے جانے کے بعد اقوام متحدہ میں ایرانی مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے امریکی قیادت میں کئے گئے اس فیصلے کو ”غیر قانونی“ اور امریکہ کی پالیسی کو ایران مخالف قرار دیا ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران کی رکنیت ختم کرنے سے قبل ایران سمیت فلسطین اور دیگر 17ممالک نے اقوام متحدہ کی معاشی اور سوشل کونسل کو خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اس معاملے پر ووٹنگ کروانے سے ایسی مثال قائم ہوگی جس سے مختلف کلچر، رواج اور روایات رکھنے والے دیگر رکن ممالک کو اس قسم کے کمیشن کی سرگرمیوں میں اپنا حصہ ادا کرنے سے روکا جاسکے گا۔ خط میں کونسل کے اراکین پر زور دیا گیا تھا کہ وہ امریکہ کے اس اقدام کے خلاف ووٹ کا استعمال کریں تاکہ آئندہ بین الاقوامی سسٹم میں سے کسی بھی قانونی طو رپر منتخب ملک کو نہ نکالا جاسکے۔ ایران نے مغربی ممالک پر الزام عائد کیا کہ انسانی حقوق کی کونسل کا استعمال کرتے ہوئے ایران کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ گذشتہ مہینے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے ایران میں جاری مظاہروں کو دبانے کے خلاف غیر جانبدار تحقیقات کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ یورپی یونین نے بھی ایران کے آرمی چیف عبدالرحیم موسوی،نائب وزیر داخلہ، پاسداران انقلاب کے علاقائی کمانڈرزکے ویزوں پر پابندی ہوگی جبکہ ان کے اثاثے بھی ضبط کئے جائیں گے۔ سرکاری ریڈیواسلامک ریپبلک آف ایران براڈ کاسٹنگ (آئی آر آئی بی) کے ڈائرکٹرز، ٹی وی کے عہدیداروں پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس طرح یورپی یونین کی جانب سے لگائی جانے والے نئی پابندیوں میں 60سے زائد افراد کے نام شامل بتائے جاتے ہیں۔ یہ پابندیاں ایران میں ہونے والے احتجاج اور پھانسی کی سزا دیئے جانے کے بعد کی گئی ہے اس کے علاوہ تہران کی جانب سے روس کی حمایت اوریوکرین پر حملے کیلئے ڈرونز کی فراہمی بھی شامل ہے۔ 

  یمن جنگ میں تین ہزار معصوم بچے ہلاک

                اقتدار کی چاہت نے تین ہزار سے زائد معصوم بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ صدرعبدربہ منصور ہادی کی حکومت کو بچانے اور انہیں صدارت کے عہدے پر فائز رکھنے کیلئے باغی حوثیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں اور پھر حوثی باغیوں کی جوابی کارروائیوں کے نتیجہ میں یمن کے مردو خواتین کے ساتھ ساتھ تقریباً چار ہزار بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسف نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ یمن میں جاری جنگ کے دوران مارچ 2015 سے ستمبر 2022 کے درمیان کم از کم تین ہزار 774 بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یونیسف کی جانب سے جاری حالیہ اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے باعث 7 ہزار 245 بچے معذور ہوئے ہیں۔یونیسف نے فوری طور پر جنگ بندی کے معاہدے کی تجدید کا مطالبہ کیا ہے جو اپریل سے اکتوبر تک نافذالعمل رہا۔یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل کا کہنا ہے کہ معاہدے کی تجدید انسانی امداد پہنچانے کی جانب ایک اہم قدم ہوگا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارچ 2015 سے ستمبر 2022 کے درمیان 3 ہزار 904 نوجوان لڑکوں کو جنگ میں لڑنے کی غرض سے بھرتی کیا گیا۔کیتھرین رسل کا کہنا ہے کہ ’اگر یمن کے بچوں کا اچھا مستقبل چاہتے ہیں تو پھر فریقین، عالمی برادری اور تمام بااثر عناصر کو بچوں کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کی مدد کرنے کی یقین دہانی کرانی ہوگی۔‘اقوام متحدہ کے مطابق حوثیوں نے بڑے پیمانے پر بارودی سرنگوں کا استعمال کیا جس سے جولائی اور ستمبر کے درمیان کم از کم 74 بچے ہلاک ہوئے۔واضح رہے کہ اس سے قبل حوثی حکام جنگ میں لڑنے کے لئے دس سال کی عمر کے لڑکوں کو بھرتی کرنے کا اعتراف کر چکے ہیں۔یونیسف نے گذشتہ ہفتہ دنیا بھر میں تنازعات اور آفات سے متاثرہ بچوں کی امداد کیلئے 10.3ارب ڈالر کی درخواست کی تھی جن میں سے 484.5ملین ڈالر یمن کیلئے مختص کئے جائیں گے۔یمن کی معاشی صورتحال جنگ سے پہلے ہی انتہائی خراب تھی جنگ کے دوران تو یہ صورتحال انتہائی سنگین نوعیت اختیار کرگئی ہے، مزید جنگ بندی جتنا جلد ممکن ہوسکے کی جانی چاہیے۔

 بنگلہ دیش میں جماعت اسلامیپر پھر ایک مرتبہ شیخ حسینہ کاقہر

                بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے سربراہ امیر شفیق الرحمن کو منگل کے روز گرفتار کرلیا گیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بنگلہ دیش کی پولیس نے کہا ہے کہ اس نے ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت کے سربراہ کو ڈھاکہ میں گرفتار کیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ چندروز قبل جماعت اسلامی نے اعلان کیا تھا کہ وہ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی برطرفی کیلئے اپوزیشن کے احتجاج میں شرکت کرے گی۔پولیس ترجمان فاروق احمد نے الزامات کی تفصیل دیے بغیر کہا کہ انسداد دہشت گردی کے افسران نے جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان کو گرفتار کیا۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کئی برسوں تک جماعت اسلامی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی بڑی اتحادی تھی۔ ان کے اتحاد نے 2001 سے 2006 تک حکومت کی تھی۔تاہم جب شیخ حسینہ واجد نے 2009 میں اقتدار سنبھالا تو جماعت اسلامی کی تمام لیڈرشپ کو حراست میں لیا گیا تھا اور ان پر 1971 میں پاکستان کے خلاف جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کے تحت مقدمات قائم کیے گئے۔الزامات عائد ہونے کے بعد 2013 سے 2016 کے درمیان جماعت اسلامی کے پانچ رہنماؤں کو پھانسی دی گئی تھی۔ جماعت اسلامی کے ان رہنماؤں کو سزائیں دیئے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران سینکڑوں کارکنان ہلاک ہوئے تے جبکہ ہزاروں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ہفتہ کو حکومت مخالف احتجاج کے موقع پر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے دو رہنماؤں کو بھی تشدد پر اکسانے کے الزام پر گرفتار کیا گیا تھا۔بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی شیخ حسینہ واجد سے استعفیٰ دینے اور نگراں حکومت کے تحت صاف اور شفاف انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے۔اپوزیشن کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ واجد کی موجودگی میں صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد ناممکن ہے۔ شیخ حسینہ واجد پر 2014 اور 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام ہے۔جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمن کے فرزند کو گذشتہ ماہ پولیس نے انتہا پسندی پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔بنگلہ دیش میں حالیہ مہینوں میں معاشی بحران، لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی کی وجہ سے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔بتایا جاتا ہے کہ اس دوران ہزاروں اپوزیشن کے اراکین بھی گرفتار ہوئے۔اقوام متحدہ سمیت مغربی ممالک نے بنگلہ دیش میں سیاسی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔اب دیکھنا ہیکہ جماعت اسلامی کے امیر کو حراست میں لئے جانے کے بعد ملک کے حالات کس کروٹ بدلتے ہیں۔ وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے دورِ اقتدار میں جس طرح انکے مخالفین کے خلاف کارروائیاں کیں گئیں ہیں اسے بنگلہ دیش کی تاریخ یاد رکھا جائے گا۰۰۰

**********



پاکستانی فوج کے نئے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل حافظ عاصم منیر

عالمِ اسلام راؤنڈاَپ

پاکستانی فوج کے نئے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل حافظ عاصم منیر

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

  

        آخر کاروزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی صدارت میں آرمی چیف کی تعیناتی کے سلسلہ میں اتحادی جماعتوں کا اجلاس وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقدہوا جس میں تمام اتحادی جماعتوں نے آئینی تعیناتیوں کے حوالے سے فیصلے کا اختیار وزیر اعظم شہباز شریف کو سونپا تھا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے فوج کے سب سے سینئر لیفٹنٹ جنرل سید عاصم منیر کو چیف آف دی آرمی اسٹاف اور لیفٹنٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان فوج کے سربراہ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی تعیناتی کیلئے سمری صدر مملکت پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کو پہنچا ئی گئی تھی جس کے بعد صدر مملکت پاکستان عارف علوی نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیر اعظم عمران خان سے مشاورت کیلئے انکے گھر لاہور پہنچے تھے۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ صدر مملکت عارف علوی پی ٹی آئی سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ اس تعیناتی کے سلسلہ میں عمران خان سے مشاورت کیلئے لاہور پہنچے تو حکمراں اتحادی جماعتوں میں تشویش کا ماحول بنا ہوا تھا اور مختلف قسم کی باتیں ہورہی تھیں کہ عمران خان سے ملاقات کے بعد صدر مملکت کیا فیصلہ کرتے ہونگے۔چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بعد صدر مملکت پاکستان عارف علوی نے  سمری پر دستخط کردیئے ہیں اس طرح لیفٹیننٹ جنرل حافظ عاصم منیر پاکستانی فوج کے سربراہ بن گئے ہیں جبکہ لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد چیئرمین جوائٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹیبنائے گئے ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق عمران خان نے صدر مملکت کو وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے بھجوائی گئی سمری کو آئین و قانون کے مطابق دیکھنے کیلئے کہا تھا۔انہوں نے صدر پاکستان عارف علوی سے کہا تھا کہ ہماری کسی ادارے کے ساتھ کوئی جنگ نہیں ہے، ہمیں آئین و قانون کی پاسداری کرنی ہے اس لئے آرمی کی دو اہم ترین تعیناتیوں کیلئے وزیر اعظم آفس سے بھجوائی گئی سمری کو آئین و قانون کے مطابق دیکھیں۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ عمران خان وزیر اعظم کی حیثیت سے ملیشیاء کے دورے پر تھے اس وقت انہوں نے مہاتر محمد سے عاصم منیر جو اُس وقت ڈی جی آئی ایس آئی تھے کا تعارف فخریہ انداز میں کرواتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی اور خطرناک ایجنسی کے سربراہ ہیں۔ اس تعارف سے مہاتر محمد چونک گئے تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر حافظ قرآن ہیں۔ان سے متعلق بتایا جاتا ہیکہ وہ منگلا آفیسرز ٹریننگ اسکول پروگرام سے پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا، بطور بریگیڈیئر شمالی علاقہ جات فورس کمانڈ کی۔ انہیں 2017ء کے اوائل میں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ملٹری انیلی جنس تعینات کیا گیا تھا، اور اکٹوبر2018میں ڈی جی آئی ایس آئی بنایا گیا۔لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر دو سال تک کورکمانڈر گوجرانوالہ بھی رہ چکے ہیں جبکہ اس وقت جی ایچ کیو میں بطور کوارٹر ماسٹر جنرل تعینات ہیں۔ بتایا جاتاہے کہ لیفٹیننٹ جنرل عام منیر پہلے آرمی چیف ہونگے جو ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی میں رہ چکے ہیں۔ جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیرحافظ قرآن ہے انہیں یہ اعزاز اس وقت حاصل ہوا  جب وہ لیفٹیننٹ کرنل مدینہ منورہ میں تعینات تھے اس دوران، 38سال کی عمر میں عاصم منیر نے  قرآن کریم حفظ کیا۔لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کے تعلق سے بتایاجاتا ہے کہ پی ایم اے کاکول کے لانگ کورس سے پاس آوٹ ہوکر 76سندھ رجمنٹ سے فوجی کیرئیر کا آغاز کیا۔ ان سے متعلق بتایا جاتاہیکہ وہ پاکستان آرمی کی سب سے متحرک ٹین کور کے کمانڈر تھے۔ انہوں نے پاکستان فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف کے عہدے پر تعینات رہے۔لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا جنرل راحیل شریف کے دور میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز رہے۔ اس وقت وہ پاک فوج کی 10کور روالپنڈی کے کور کمانڈر ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق اتحادی جماعتوں نے وزیر اعظم کو اختیار سونپنے کے بعد وزیر اعظم نے مکمل اعتماد کا اظہار کرنے پر اتحادی جماعتوں اور ان کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔واضح رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر 27/ نومبر 2022کو ریٹائرڈ ہونے والے تھے۔ حکومت نے آرمی ایکٹ کے تحت لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو ”ری ٹین“ کرلیا ہے، کابینہ نے متفقہ طور پر عاصم منیر کو ری ٹین کرنے کی منظوری دی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق آرمی ایکٹ کے تحت میجر سے اوپر والے رینک کے تمام افسران کو ریٹائرمنٹ سے قبل ری ٹین کیاجاسکتا ہے، اسی ایکٹ کے تحت کابینہ نے متفقہ طور پر سمری منظور کی اور لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو ’ری ٹین‘ کیا گیا ہے۔اب دیکھنا ہیکہ نئے فوجی سربراہ پاکستان کے اعلان کے بعد ہمارا ملک ہندوستان اور دیگر ممالک کس قسم کے ردّعمل کا اظہار کرتے ہیں اور پاکستانی عوام کا کیا ردّعمل رہتا ہے۔ 

فیفاورلڈ فٹبال میچ میں سعودی عرب کی پہلے میچ میں کامیابی، عالمِ اسلام کے دل جیت لئے۰۰۰  


             کامیابی یا ناکامی اللہ رب العزت کی دین ہے لیکن محنت و مشقت کرنا اور اپنی کامیابی کیلئے حتی المقدور کوشش کرنا فطرت انسانی میں شامل ہے۔ جو کوئی سخت محنت و جستجو اور بلند حوصلے و مصمم ارادوں کے ساتھ ترقی کی راہیں تلاش کرتے ہیں تو پھر انہیں کامیابی قدم چومتے نظر آتی ہے۔ اسکے باوجود کبھی کبھار ناکامی کا منہ بھی دیکھنا پڑتاہے۔ بلند عزائم ناکامی کے بعد کامیابی بھی عطا کرتے ہیں۔ ایک طرف میزبان قطر کی ٹیم فیفا کے ابتدائی میچ میں ناکام ہوگئی تو دوسری جانب سعودی عرب نے ارجنٹائن سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے ہمت و حوصلوں کی داد حاصل کی۔ سعودی عرب کی ٹیم نے فیفا میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرکے عالمِ اسلام، مسلمانوں اور اشیائی عوام کے دل جیت لیئے ہیں۔ سعودی ولیعہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے میچ کی کامیابی پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ شکر ادا کیااور اپنی ٹیم کو مبارکباد دی، سعودی فٹ بالرزنے بھی میچ جیتنے کی خوشی میں سجدہ ریز ہو گئے۔جبکہ امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سعودی ولی عہد کے ہمراہ اسٹیڈیم میں موجود تھے۔ اور سعودی عرب کی جیت پر انہوں نے سعودی پرچم لہرایا۔چہارشنبہ کوسعودی کابینہ نے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت ریاض کے قصر یمامہ میں منعقدہ اجلاس میں سعودی عرب کی قومی ٹیم کو ورلڈ کپ فٹبال میں ارجنٹائن کے خلاف کامیابی پر مبارکباد دی۔ سعودی کابینہ نے کہا کہ ’امید ہے کہ سعودی ٹیم اسی جذبے اور عزم کے ساتھ کھیلتی رہے گی جس کیلئے سعودی عرب جانا جاتا ہے۔‘کابینہ نے ان ممالک کے رہنماوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے قومی ٹیم کی کامیابی پر مملکت کو مبارکباد دی ہے۔اجلاس میں سعودی ولیعہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان موجود بھی تھے جو جنوبی کوریا اور تھائی لینڈ کے حالیہ دورے کے بعد قطر میں فیفا کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی تھی۔سعودی عرب کی کامیاب پر مملکت سعودی عرب میں جشن کا ماحول تھا، عوام سڑکوں نکل آئے۔ دوسرے روز سعودی وزیر اعظم وولیعہد محمد بن سلمان نے ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے دوسرے دن یعنی چہارشنبہ کو سعودی عرب میں تمام نجی اور سرکاری ادارے بند رکھے گئے۔سعودی عرب کے ہاتھوں ارجنٹائن کو شکست کے بعد کپتان لیونل میسی نے ایک بیان جاری کیا۔نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق لوسیل ا سٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں سعودی عرب نے فیفا ورلڈکپ 2022 کے گروپ میچ میں ارجنٹینا کو 2 کے مقابلے ایک گول سے شکست دیکر تاریخ رقم کردی تھی، میچ میں شکست کے بعد ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی نے کہا کہ شکست“بہت بھاری دھچکا”تھا لیکن ہمیں خود پر اعتماد برقرار رکھنا چاہیے۔میسی نے کہا کہ گروپ میں ابھی پہلا میچ ہوا ہے میکسیکو اور پولینڈ کے خلاف جیت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔سعودی عرب کے خلاف میچ کے دوران میسی نے 9 ویں منٹ میں گول ا سکور کرکے ٹیم کو سبقت دلائی تھی تاہم دوسرے ہاف میں سعودی ٹیم نے جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 48 ویں اور 53ویں منٹ میں گول اسکور کرکے ارجنٹائن کی ٹیم پر سبقت حاصل کرلی اور میچ کے اختتام تک برقرار رہی۔سعودی عرب کو مزید دو میچس میکسیکو اور پولینڈ کے ساتھ کھیلنے ہیں۔ اور اس میں کامیابی کیلئے عالمِ اسلام ہی سعودی عرب کیلئے دعا گو ہے ۰۰۰سعودی عرب کی کامیابی عالمِ اسلام کیلئے ہی نہیں بلکہ ایشیائی ممالک کیلئے بھی ضروری ہے۔ کیونکہ فی الحال ایشائی ممالک میں سعودی عرب کو ہی فی الحال یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

 زلزلے نے پھر ایک بار انڈونیشیاکو دہلا دیا

انڈونیشیا میں زلزلے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ زلزلے آنے کی سائنسی وجہ بھی بتائی جاتی ہے اور مذہبی وجہ بھی۰۰۰ انسانوں کی نافرمانیاں، گناہوں میں اضافہ بھی آفات الٰہی کا نتیجہ ہے اور زلزلہ ان ہی آفات میں سے ایک ہے۔گذشتہ دنوں انڈونیشیا کے جزیرہ جاوا میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 268 ہوگئی ہے جبکہ 151 افراد تاحال لاپتا بتائے جارہے ہیں۔سینکڑوں کی تعداد میں لوگ زخمی ہیں۔ انڈونیشیا کے جزیرہ جاوا میں 5.6 کی شدت سے آنے والے تباہ کن زلزلے نے کثیر آبادی والے صوبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے جہاں زلزلے کا مرکز دارالحکومت جکارتا سے 75 کلومیٹر جنوب مشرق میں قصبہ سیانجر تھا جس میں ایک گاؤں ملبے تلے آگیا ہے۔ڈزاسٹر ایجنسی کے سربراہ سہریانتو نے کہا کہ زلزلے سے ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، 58 ہزار افراد بے گھر جبکہ 22 ہزار مکانات متاثر ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق نیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے سربراہ ہنری الفیندی نے بتایا کہ لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے ریسکیو اقدامات میں رکاوٹیں درپیش ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیموں کو سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ متاثرہ علاقہ پھیلا ہوا ہے جہاں بالائی گاؤں کی سڑکیں متاثر ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ متاثر ہونے والوں میں سب سے زیادہ بچے شامل ہیں کیونکہ وہ زلزلے کے وقت اسکولوں میں تھے۔اگرچہ انڈونیشیا میں 6 یا 7 کی شدت کے زلزلے نسبتاً عام ہیں لیکن اس کم شدت کے زلزلے کے نتائج مہلک تھے کیونکہ یہ نسبتاً کم گہرائی میں زمین پر آیا۔حکام نے کہا کہ بہت سے لوگ ناقص تعمیر شدہ عمارتیں منہدم ہونے سے جاں بحق ہوئے، تاہم ملکی صدر نے زلزلہ پروف مکانات پر مشمتل تعمیر نو کی کوششوں پر زور دیا ہے۔صدر نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تاکہ امدادی رضاکاروں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔صدر نے تمام رضاکاروں کو ہدایات دیں کہ ملبے میں دبے متاثرہ لوگوں کو ترجیحی بنیادوں پر نکالا جائے۔ڈزاسٹر ایجنسی کے حکام نے کہا کہ ان کی کوششیں سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک پر مرکوز ہوں گی جو کہ لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے شدید متاثر ہوا ہے۔قومی پولیس کے سربراہ لسٹیو سگیت پرابو نے کہا کہ ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کو امدادی سرگرمیوں کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔کچھ علاقوں میں بجلی کی بندش اور 145 آفٹر شاکس کی وجہ سے امدادی سرگرمیاں پیچیدہ ہوگئیں جہاں حکام نے خبردار کیا کہ آنے والے ہفتوں میں مزید لینڈ سلائیڈنگ ہوسکتی ہے۔خیال رہے کہ 2004 میں شمالی انڈونیشیا کے سماٹرا جزیرے پر 9.1 شدت کے زلزلے نے 14 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں 226,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔واضحرہے کہ انڈونیشیا میں زلزلے آتے رہتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انڈویشیا بحرالکال میں ’آگ کے دائرے‘ پرواقع ہے جہاں زمین کی پرتیں آپ میں ٹکراتی رہتی ہیں۔ سنہ 2018 میں سمندر میں ہولناک زلزے اور اس کے نتیجے میں آنے والی سونامی میں دو ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ابھی مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کا امکان ہے کیونکہ زخمیوں کی تعداد بھی سینکڑوں میں بتائی جارہی ہے۔ 

**** 



 

برسراقتدار طالبان نے افغانستان میں شرعی قوانین کے نفاذ کااعلان کردیا

 عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

برسراقتدار طالبان نے افغانستان میں شرعی قوانین کے نفاذ کااعلان کردیا۰۰۰

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

   


        افغانستان میں پھر ایک مرتبہ شرعی قوانین پر سختی سے عمل آوری کا آغاز ہوچکا ہے۔ اسلام ہی ایک ایساعظیم الشان مذہب ہے جس نے شرعی قوانین کے ذریعہ انسانیت کی حفاظت کی ہے، ظلم و بربریت کو روکنے، حق دار کا حق ادا کرنے اور مجرم کو جرم کی سزا دینے کے احکامات بتائے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہاہیکہ چوروں، اغوا کاروں اور بغاوت کرنے والے کی فائلوں کا بغور جائزہ لیا جائیگا۔افغانستان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخواندزادہ نے ججوں کو احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہیکہ ملک میں شرعی قوانین مکمل طور پر نافذ کئے جائیں جن میں سرعام پھانسی دینا، سنگسار کرنا، کوڑے مارنا اور چوروں کے اعضا کاٹنا شامل ہیں۔سپریم لیڈر نے یہ حکم ججوں کے ایک گروپ سے ملاقات کے بعد جاری کیا ہے۔واضح رہیکہ گذشتہ سال اگسٹ میں امریکی اور نیٹو افواج اپنی بیس سالہ ناکام جنگ سے راتوں رات راہِ فرار اختیار کی اور اسکے فوراً بعد صدر افغان اشرف غنیجلا وطن ہوگئے،اور پھرطالبان کا بیس سال بعد دوبارہ افغانستان پر اقتدار حاصل کرنا۔ سمجھا جارہا تھا کہ طالبان اس مرتبہ ملک میں سخت قوانین نافذ نہیں کرینگے اور عوام میں اعتماد پیدا کرنے اور طالبان کاجو خوف عوام میں بیٹھا ہوا ہے اسے دور کرنے کی کوشش کرینگے۔ لیکن لڑکیوں و خواتین کی اعلیٰ تعلیم اور ملازمتوں کے معاملہ میں اجازت نہ دیئے جانے کے بعد عالمی سطح پر طالبان انتظامیہ کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں تھیں۔ امریکہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کے تمام اثاثہ منجمد کردیئے تھے جس کی وجہ سے افغانستان میں شدید معاشی بحران پیدا ہوا ہے۔ ان سب حالات کے باوجود طالبان حکمراں ملک میں سخت قوانین لاگو کررہے ہیں اور اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ ملک میں شرعی قوانین پر عمل در آمد سے ہی جرائم پر قابو پایا جاسکتاہے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اخوندزادہ کے حکم کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ چوروں، اغوا کاروں اور بغاوت کرنے والے کی فائلوں کا بغور جائزہ لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ فائلیں جن میں حدود اور قصاص کی تمام شرعی شرائط پوری کی گئی ہیں، تمام لوگ ان پر عمل کرنے کے پابند ہیں، یہ شریعت اور میرا حکم ہے جو سب پر واجب ہے۔واضح رہے کہ اسلامی قوانین کے تحت حدود سے مراد ایسے جرائم ہیں جن کی سزائیں لازمی ہیں جبکہ دوسری جانب قصاص سے مراد ’بدلہ‘ ہوتا ہے، مثال کے طور پر اگر ایک شخص نے دوسرے شخص کی آنکھ ضائع کردی ہے یا نقصان پہنچایا ہے تو بدلے کے طور پر جرم کرنے والے شخص کی بھی آنکھ ضائع کی جائے گی۔ حدود کے جرائم میں زنا، کسی پر جھوٹا الزام عائد کرنا، شراب پینا، چوری، اغوا، ڈکیتی، انحراف اور بغاوت کرنا شامل ہے۔قصاص کے جرائم میں قتل اور جان بوجھ کر زخمی کرنا یا چوٹ پہنچانا شامل ہے لیکن یہ متاثرین کے اہل خانہ کو سزا کے بدلے معاوضہ قبول کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے۔اسلامی اسکالرز کا کہنا ہے کہ حدود کے جرائم میں ٹھوس ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے، مثال کے طور پر زنا کے جرم میں ملزم کا جرم کرنے کا اقرار کرنا یا چار بالغ مرد مسلمانوں کا گواہ ہونا لازمی ہوتا ہے۔کئی ممالک میں اسلامی قوانین لاگو ہیں اور سزائیں بھی دی جاتی ہیں البتہ حجاب کے معاملہ میں افغانستان میں سختی سے عمل کرنے کا حکم ہے۔ اور کیوں نہ ہو حجاب میں اسلام نے خواتین کو جو عزت و احترام کا مقام دیا ہے اس کا اندازہ انہیں ہی ہوتا ہے جو اپنے خالقِ حقیقی اور نبی مکرم ﷺ سے سچی محبت رکھتی ہیں۔ایران میں کئی ہفتوں سے حجاب کے خلاف احتجاج جاری ہے جبکہ ایران کی حکومت حجاب پر سختی سے عمل آوری چاہتی ہے۔بے پردگی کے عام ہونے سے ہی فسق وفجور کی راہیں کھلتی ہیں اور اسی سے خواتین کی عزت عصمت پامال ہوتی ہیں۔واضح رہے کہ افغانستان میں شرعی قوانین پر سختی سے عمل آوری دوسرے مسلم ممالک کیلئے ایک مثال ثابت ہوگی۔ سمجھا جارہا ہے کہ طالبان اس سے اپنی مذہبی شناخت کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔

مخصو ص جماعت کے لانگ مارچ میں ہی عدالت کی مداخلت کیوں درکارہے؟۔جسٹس عائشہ ملک

            ”آئے روز اسلام آباد میں پارلیمنٹ سمیت کئی جگہوں پر احتجاج ہوتے ہیں، کیا کبھی باقی احتجاجیوں کے خلاف آپ عدالتوں میں گئے ہیں؟مخصوص جماعت کے لانگ مارچ میں ہی عدالت کی مداخلت کیوں درکار ہے؟“۔ یہ سوال ہے سپریم کورٹ پاکستان کی جسٹس عائشہ ملک کا ۰۰۰ جنہو ں نے سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کا لانگ مارچ روکنے کیلئے درخواست پر سماعت کے دوران کہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کا”حقیقی آزادی“ لانگ مارچ روکنے کیلئے جے یو آئی ایف کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بنچ میں سماعت کی، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان کے لانگ مارچ کیلئے جگہ کا تعین کیا گیا ہے؟ بینچ نے عدالت میں موجود ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کو حکم دیا کہ وہ آدھے گھنٹے میں انتظامیہ سے پوچھ کر عدالت کو آگاہ کریں کہ پاکستان تحریک انصاف اسلام آباد میں کس مقام پر احتجاج کرے گی۔ ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے عدالت میں پیش ہوکر بینچ کو بتایا کہ وزیر آباد میں فائرنگ کے واقعے کے بعد انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ کو اسلام آباد میں لانگ مارچ کیلئے پی ٹی آئی کا خط موصول ہوا تھا، اور انتظامیہ نے تاریخ، وقت اور جگہ کے متعلق پوچھا تھا جس کا جواب نہیں دیا گیا۔ اس دوران جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا حکومت نے احتجاج کو ریگولیٹ کرنے کا کوئی طریقہ کار بنایا؟ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا انتظامیہ اتنی کمزور ہوگئی ہے کہ لانگ مارچ کنٹرول نہیں کرسکتی؟ یہ ایگزیکٹو کا معاملہ ہے ان سے ہی رجوع کریں، غیر معمولی حالات میں ہی عدلیہ مداخلت کرسکتی ہے، انتظامیہ کے پاس صورتحال کنٹرول کرنے کے وسیع اختیارات ہیں، پھر عدالت مداخلت کیوں کرے؟

            سینیٹر کامران مرتضیٰ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو سپریم کورٹ کے ذریعہ رکوانے کی کوشش کی جس میں انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ انہو ں نے عدالت میں کہاکہ بات اب بہت آگے جاچکی ہے،پی ٹی آئی کے لانگ مارچ  پر فائرنگ سے ایک شخص کی جان گئی،جس پر جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ تو کافی دنوں سے چل رہا ہے، کیا آپ نے انتظامیہ سے رجو کیا ہے؟ لانگ مارچ کے معاملے میں جلدی کیا ہے اور انتظامیہ کی غفلت کیا ہے؟ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ احتجاج کا حق لامحدود نہیں، آئینی حدود سے مشروط ہے، کیا آپ نے پنجاب حکومت سے رابطہ کیا ہے؟ صوبے اور وفاق کا رابطہ منقطع ہوجائے تو عدالت مداخلت کرسکتی ہے؟سہ رکنی بنچ کے جسٹس اطہر من اللہ نے سینیٹر کامران مرتضیٰ سے کہا کہ آپ ایک سینیٹر ہیں پارلیمنٹ کو مضبوط کریں، کامران مرتضیٰ نے کہا کہ میں ذاتی حیثیت میں آیا ہوں،

            جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ کیسے مان لیں آپ حکومت کا حصہ ہیں اور ذاتی حیثیت میں آئے۔ سہ رکنی بنچ کے تینوں ججوں کے سوالات نے آخر کار کامران مرتضیٰ اپنی حکومت کی نااہلی بتانے پر مجبور کردیا یعنی انہوں نے کہاکہ ”بظاہر لگتا ہے کہ انتظامیہ صورتحال کو کنٹرول نہیں کرسکتی“۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ملک میں ہنگامہ نہیں امن و امان چاہتے ہیں، بظاہر لانگ مارچ کے معاملے میں ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جو قبل از وقت ہو،اور درخواست گزار کامران سے جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ آپ چاہ رہے ہیں سپریم کورٹ ڈپٹی کمشنر کا کردار ادا کرے۔آخر میں بینچ نے ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کا موقف سننے کے بعد درخواست غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دی۔ عدالت نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل کے موقف کے بعد سپریم کورٹ کے حکم جاری کرنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ واضح طور پر آئینی خلاف ورزی کا خطرہ ہوتو عدلیہ مداخلت کرے گی۔ درخواست گزار نے کہا کہ درخواست میں ماضی کی آئینی خلاف ورزیوں کا حوالہ بھی موجود ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہو سکتا ہے خلاف ورزیوں پر دوسرے فریق کا اپنا موقف ہو، سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی پر عدالت کیلئے معاملہ پیچیدہ ہوجاتا ہے، عدالتی حکم، عمل درآمد کیلئے ہوتے ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ عمران خان کا لانگ مارچ اسلام آباد کب پہنچتاہے اور شہباز شریف کی وفاقی حکومت پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کوجس طرح روکنے کی کوشش کررہی ہے اس میں وہ کامیاب بھی ہوپائے گی یا نہیں۔ اگر لانگ مارچ کو روکنے کی کوشش کی گئی تو حالات بگڑسکتے ہیں کیونکہ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ یہ انکا قانونی حق ہے اور وہ تمام آئینی دائرے اور حدود میں رہ کر حقیقی آزادی مارچ کو انجام تک پہنچائے گی۔اس سلسلہ میں 16/ نومبر کو عمران خان نے کہا کہ راولپنڈی میں جمع ہونے کے بعد آئندہ کی حکمت عملی تشکیل دیں گے مگر جو بھی منصوبہ ہوگا پرامن ہوگا، آئینی حدود میں ہوگا اور ہم کسی قسم کی قانونی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔ واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم و چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان وزیر آباد میں ناکام قاتلانہ حملے میں گولیاں لگنے سے زخمی ہونے کے بعد لاہور میں اپنے گھر زمان پارک میں قیام کئے ہوئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جہلم پہنچ چکا ہے، عمران خان لانگ مارچ کے شرکاء سے روزانہ ویڈیو خطاب کررہے ہیں۔

 ایران کا ہائپر سونک بیلسٹک میزائل اور پہلی خلائی لانچ وہیکل کا تجربہ

            ایران نے ہائپرسونک بیلسٹک میزائل بنالیا ہے یہ اطلاع ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے پاسداران انقلاب کے ایرو اسپیس کمانڈر امیر علی حاجی زادہ کے حوالے سے  بتائی ہے۔بتایا جاتا ہیکہ یہ بیلسٹک میزائل دشمن کے جدید میزائل شکن نظام کو نشانہ بنائے گا، فضا کے اندر اور باہر ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتاہے اور میزائل سازی کی صنعت میں ایک بڑا اقدام ہے۔واضح رہے کہ ہائپرسونک میزائل آواز کی رفتار سے کم از کم پانچ گنا تیز رفتار سے پرواز کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔’یہ کسی بھی میزائل شکن دفاع کے نظام کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘حاجی زادہ نے کہا کہ اسے روکنے کے قابل نظام کو تیار ہونے میں کئی دہائیاں لگیں گی۔ہتھیاروں پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جنرل حاجی زادہ کا اندازہ درست ہے۔ کئی ممالک نے کروز اور بیلسٹک میزائلوں کے خلاف دفاع کے نظام تیار کیے ہیں، لیکن ہائپر سانک میزائل کو ٹریک کرنے اور اسے مار گرانے کی صلاحیت اب بھی ناپید ہے۔ہائپر سونک میزائل تیار کرنے کے دعوے کے بعد یہ سوال گردیش کرنے لگا ہے کہ  ایران نے یہ ٹیکنالوجی کہاں سے حاصل کی۔ویسے گزشتہ برس شمالی کوریا کی جانب سے ہاپئر سانک میزائل کا تجربہ کیا گیا تھا۔ہائپر سونک میزائل کی ٹیکنالوجی روس، چین اور امریکہ کے پاس بھی ہے جنہوں نے سب سے پہلے اس میدان میں صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ہائبر سونک بیلسٹک میزائل کے بنائے جانے کے اعلان سے قبل ایران کے سرکاری میڈیا کے حوالے سے گذشتہ ہفتے ایک خبر جاری ہوئی تھی کہ تین مرحلوں والی پہلی خلائی لانچ وہیکل غایم 100 کا تجربہ کیا گیا ہے جو زمینی سطح سے 500 کلومیٹر مدار میں 80 کلوگرام وزنی سیٹلائٹس کو رکھ سکے گی۔امریکہ نے اس طرح کے اقدامات کو 'غیر مستحکم' قرار دیا ہے کیونکہ اس کا خیال ہے کہ خلائی لانچ وہیکل جوہری وار ہیڈ کو لے جانے کے لئے استعمال کی جا سکتی ہیں تا ہم ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کی تردید کرتا ہے۔اب دیکھنا ہیکہ ایران کی جانب سے ہائپر سونک بیلسٹک میزائل کے بنائے جانے کا اعلان اور پہلی خلائی لانچ وہیکل غائم کے تجربے کے بعد عالمی سطح پر کس قسم کا ردّعمل آتا ہے اور پھر سے ایران کے خلاف مزید کسی قسم کی پابندی عائد کرنے کی باتیں ہوتی ہیں ۰۰۰

فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کیلئے اسرائیل نے روبوٹک ہتھیار نصیب کردیئے

            اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے کے دو مقامات فلسطینی پناہ گزین کیمپ اور مرکزی فلیش پوائنٹ پر روبوٹک ہتھیار نصب کئے ہیں جو مظلوم فلسطینی مظاہرین پر آنسو گیس، اسٹن گرینیڈ اور ربڑ کی گولیاں فائر کرسکتے ہیں۔ بتایاجاتاہیکہ مصنوعی ذہانت والے یہ ہتھیار اپنے ہدف کو خود تلاش کرتے ہیں۔ اسرائیل حکومت کا کہنا ہیکہ ان جدید ہتھیاروں کی تنصیب سے اسرائیلی اور فلسطینی جانوں کو بچایا جاسکے گا۔جبکہ ناقدین کے مطابق اسرائیل اپنے فوجیوں کو نقصاندہ راستے سے دور رکھتے ہوئے فلسطینیوں کو ہر لحاظ سے کنٹرول کرے گا۔ بتایا جاتا ہیکہ روبوٹک ہتھیار دوبڑے ٹاور پر نصب کئے گئے ہیں جہاں دوربین جیسے لینز ہیں اور آٹومیٹک بندوقیں نصب ہیں۔ بتایا جاتاہیکہ مقبوضہ مغربی کناریکے العروب مہاجر کیمپ کے قریب بڑے ٹاور پر جاسوس کیمرے بھی نصب ہیں۔ ان روبوٹک ہتھیاروں کا استعمال ایسے وقت کیا جائے گا جب فلسطینی مظاہرین ظلم و بربریت کے خلاف اسرائیلی فوجیوں پر پتھراؤ کرتے ہوئے سڑکوں پر آئینگے۔اسی اثناء یہ روبوٹک ہتھیار خودکار طریقے سے ان فلسطینی مظاہرین پر آنسو گیس پھینکنا یا ربڑ کی گولیاں چلانا شروع کردینگے۔واضح رہیکہ حالیہ انتخابات میں سابق وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو والے اتحاد کی کامیابی کے بعد مزید تشدد کے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ 

****


عمران خان کا جمہوریت پسند قوتوں کو حقیقی آزادی تحریک میں شامل ہونے کی دعوت

 عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید



            پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو گذشتہ ہفتہ 3/ نومبر کولانگ مارچ کے دوران وزیر آباد میں قتل کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ان پر فائرنگ کی گئی جس میں عمران خان کے  پیروں میں چار گولیاں لگیں جبکہ ذرائع ابلاغ کے مطابق عمران خان کے منجملہ 12افراد فائرنگ میں زخمی ہوئے ہیں،اسی دوران عمران خان کے گارڈ کی جانب سے جوابی فائرنگ کے دوران عمران خان کا چاہنے والا شخص معظم گوندل جاں بحق ہوگیا، یہ غریب شخص اپنے تین کمسن بچوں کے ساتھ لانگ مارچ میں شرکت کی غرض سے آیا تھا۔ اپنے بچوں کے سامنے اس نے دم توڑا۔واضح رہے کہ عمران خان کی مقبولیت اور ان سے جذباتی لگاؤ کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ جب عمران خان معظم کی والدہ اور انکے افراد خاندان سے اظہار تعزیت کئے تو مرحوم معظم کی والدہ نے ہاتھ اٹھاکر کہا کہ میں نے تم پر اپنا بیٹا قربان کردیا۔ اللہ تمہیں سلامت رکھے۔ مرحوم کے والد نے جب مرحوم کے کمسن بچوں کو عمران خاں کے سامنے کیا تو شیر دل خان نے جس سے اس کے دشمن کانپ رہے ہیں موم کی طرح پگھل جاتا ہے‘ آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ ان بچوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر ان کو اپنے سینے سے لگاکر وہ آن کیمرہ اعلان کرتا ہے۔ آج سے تم سب میرے بیٹے ہو۔ تمہاری تعلیم و پرورش میری ذمہ داری ہے۔ اور مرحوم کی والدہ کو ایک چھوٹے سے بیاگ میں رقم پیش کرتا ہے اور یہ معمولی رقم ایک کروڑ روپئے ہے۔ عمران خان پر فائرنگ کرنے والے شخص کو فائرنگ سے باز رکھنے کے لئے اپنی جان کی بازی لگانے ابتصام کو عمران خان نے ایک شاندار کار تحفہ میں دی ا ور ایک ٹی شرٹ پر لکھا کہ پاکستان کے اصل ہیرو آپ ہو۔اس ناکام قاتلانہ حملہ کے متعلق عمران خان کا کہنا ہیکہ اس سازش کا انہیں علم تھا انکا کہنا تھا کہ وہ دو ماہ قبل ہی اس قتل کے منصوبہ کو بے نقاب کردئے تھے، ذرائع ابلاغ کے مطابق عمران خان نے اپنے ٹوئٹس کے ذریعہ بتایا کہ ”میں نے 24/ ستمبر کو رحیم یار خان اور 7/ اکٹوبر کو میانوالی کے جلسوں میں خود پر ممکنہ قاتلانہ حملے کا ذکر کیا تھا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس منصوبے میں شریک اور نام بھی ظاہر کرینگے۔ عمران خان پر قاتلانہ حملے کے 90گھنٹے گزرجانے کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں ہوسکی تھی جس کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کو عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس نے ریماکس دیئے کہ اگر 24گھنٹے میں ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تو سپریم کورٹ اس معاملے پراز خود نوٹس لے کر دیکھے گی اور تفتیش کرے گی۔چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ ایک ایماندار افسر کی سربراہی میں اس مقدمے کے اندراج کے ساتھ ساتھ عمران خان پر حملے کی تحقیقات کی جائیں۔عمران خان پر قاتلانہ حملے کا مقدمہ تھانہ سٹی وزیر آباد میں درج کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ مقدمہ قتل، اقدام قتل، دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق بتایا جارہا ہے کہ گرفتار ملزم نوید کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف کی جانب سے اصرار کیا جارہا ہے کہ ایف آئی آر میں وزیر اعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان اور آئی ایس آئی کے ڈی جی سی میجر جنرل فیصل نصیر کو بھی مقدمہ میں نامزد کیا جائے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر وہ ملزم نہیں ہیں تو تفتیش میں نکل جائیں گے۔ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں قاتلانہ حملہ کیس کی ایف آئی آر کے حوالے سے  عمران خان نے کہا کہ اس مضحکہ خیز ایف آئی آر کے معاملے پر ان کے وکیل اپنا موقف دینگے۔ انہو ں نے کہا کہ ساری زندگی اپنے ملک کو ایک خوشحال فلاحی ریاست کے طور پر دیکھنے کا خواب دیکھا اور ان کی پوری جدوجہد اس خواب کو اپنی قوم کیلئے حقیقت بنانے کیلئے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج قوم انصاف، آزادی اور خود مختاری کے ان کے پیغام کی حمایت میں اُٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ عمران خان کا مزید کہنا ہے کہ”جب ہم اپنے مقصد کے اتنے قریب ہوں تو کوئی خوف یا موت کا خطرہ میری جدوجہد کو نہیں روک سکتا، ہمارا پرامن احتجاج اور مذاکرات صرف پاکستان کی حقیقی آزادی کیلئے ہیں۔ انہوں نے جمہوریت پسند قوتوں کو حقیقی آزادی تحریک میں شمولیت اختیار کرنے کی دعوت بھی دی۔اب دیکھنا ہے کہ عمران خان پرکئے گئے حملے کے خلاف پاکستانی عدلیہ کیا فیصلہ کرتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کا حقیقی آزادی مارچ 7روزہ وفقے کے بعد جمعرات سے پھر اپنی منزل کی جانب بڑھنے لگا ہے۔واضح رہیکہ 28/ اکٹوبر کو لاہور کے لبرٹی چوک سے اسلام آباد کی جانب بڑھنے والا حقیقی آزادی مارچ کا قافلہ وزیر آباد پہنچ کر عمران خان پر قاتلانہ حملہ کی وجہ سے روک دیاگیا تھا۔پی ٹی آئی کے حقیقی آزادی مارچ کی سیکیوریٹی کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں شاہ محمود قریشی، اسد عمر، عمر ایوب، حسین الٰہی و دیگر نے شرکت کی تھی اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے ہدایات جاری کیں کہ وزیر آباد سے راولپنڈی تک ہر شہر میں مکمل سیکیوریٹی فراہم کی جائے، راستے میں آنے والی عمارتوں پر سنائپرز تعینات کئے جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے لانگ مارچ کے روٹ پر 15ہزار پولیس اہلکار تعینات کرنیکا حکم دیا ہے۔ اسکے علاوہ لانگ مارچ کی ڈرون کیمروں کے ذریعہ نگرانی بھی کی جائے گی اور لانگ مارچ کے گرد حفاظتی سیکیوریٹی حصار بنانے، کنٹینر پربلٹ پروف روسٹرم اور شیشے کا استعمال یقینی بنانے کی وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی ہے۔ ادھر چیئرمین پی ٹی آئی و سابق وزیر اعظم عمران خان اور دیگر رہنماؤں کے خلاف حکومت شکنجہ تنگ کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق عمران خان اور دیگر رہنماؤں کے  فوجی قیادت اور اداروں پر الزامات کے خلاف حکومت نے مقدمات کے اندراج کیلئے قانونی ماہرین سے مشاورت مکمل کرلی ہے۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کے مطابق عمران خان اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمات کی درخواست کا مسودہ تیار کرلیا، حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدمات پیکا ایکٹ 2016اور فوجداری دفعات کے تحت درج ہوں، دفعات کا تعلق فوجی قیادت پر الزامات اور عوام کو بغاوت پر اکسانے سے متعلق بتائے جارہے ہیں۔ حکومت عمران خان کو کسی نہ کسی کمزور کرنے کی کوشش کررہی ہے لیکن عمران خان کی مقبولیت اور انکے چاہنے والوں میں آئے دن اضافہ ہی دیکھا جارہا ہے اور اب تو ان پر کئے گئے ناکام قاتلانہ حملے کے بعد حکومت کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے خلاف کسی اور طریقہ سے شکنجہ کسا جارہا ہے ۰۰۰


جی سی سی کی دفاعی مشترکہ کونسل کا ریاض میں اجلاس

            خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کی دفاعی مشترکہ کونسل کا  19 واں اجلاس منگل 8/نومبرکو سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی صدارت میں منعقد ہوا۔اجلاس میں جی سی سی میں شامل ممالک کے وزرائے دفاع اور سیکریٹری جنرل ڈاکٹر نایف الحجرف شریک ہوئے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق شہزادہ خالد بن سلمان نے افتتاحی خطاب میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولیعہد ووزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے خیر سگالی کے پیغامات دفاعی کونسل کے ارکان کو دیے۔شہزادہ خالد بن سلمان نے اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی تعاون کونسل میں شامل ممالک کے درمیان تعاون کی مختلف شکلوں کو مزید مضبوط بنانا ہوگا تاکہ خلیجی ممالک کے قدرتی وسائل، اور آمدنی کے ذرائع کی حفاظت کے ساتھ خلیجی قائدین کی امنگیں پوری کی جاسکیں۔ انہوں نے کہاکہ مشترکہ دفاعی کونسل خلیجی افواج کا معیار بلند کرنے کیلئے کوشاں ہے تاکہ درپیش خطرات اور دھمکیوں سے نمٹنے کیلئے محفوظ دیوار ثابت ہوں۔وزیر دفاع نے مشترکہ خلیجی دفاعی عمل کے استحکام کیلئے مخلصانہ کاوشوں پر وزرائے دفاع اور سیکریٹری جنرل کا شکریہ ادا کیا۔


2050تک کاربن کا اخراج زیرو تک لانا ہمارا ہدف ہے:شہزادہ محمد بن سلمان

             مشرق وسطی گرین انیشیٹو سمٹ کا دوسرا ایڈیشن پیر7/نومبر کو شرم الشیخ،مصر میں مصر اور سعودی عرب کی مشترکہ سربراہی میں منعقد ہوا، جس میں کئی ممالک کے رہنما شریک ہوئے۔مشرق وسطی گرین انیشیٹو سمٹ شرم الشیخ میں جاری کوپ۔27 سربراہی اجلاس کے ساتھ منعقد ہوئی۔سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کی میزبانی میں ہونے والی سمٹ میں خطے کو درپیش موسمیاتی چیلنجوں پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اکٹوبر 2021 سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں پہلے سربراہی اجلاس کے بعد ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا جبکہ ماحولیات کے حوالے سے پروگرام کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ’سعودی عرب، مشرق وسطی گرین انیشیٹو ہیڈکوارٹر کی میزبانی کرے گا جبکہ گرین مشرق وسطیٰ انیشیٹو کیلئے آئندہ دس برسوں میں 2.5 بلین ڈالر کا تعاون فراہم کرے گا‘۔شرم الشیخ میں دوسرے ایڈیشن کے صدارتی خطاب کے موقع پر ولیعہد نے کہا کہ ”میں خود کو سربراہ کانفرنس میں آپ کے درمیان پاکر خوشی محسوس کررہا ہوں اور تمام شرکاء کو شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے خیرسگالی اور سربراہ کانفرنس کی کامیابی کیلئے نیک خواہشات کا پیغام پہنچانا چاہتا ہوں“۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ’اس بات کیلئے کوشاں ہیں کہ 2030 تک بجلی کی پیداوار کیلئے پچاس فیصد تک تجدید پذیر توانائی پر انحصار کریں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’2035 تک 44 ٹن کاربن کے اخراج کو ختم کردیا جائے گا‘۔ ’سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کا مقصد سرکولر اکانومی اپروچ کے ذریعے 2050 تک کاربن کا اخراج زیرو تک پہنچانا ہدف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’کاربن کے اخراج میں کمی اور 670 ملین ٹن سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی ازالے کے لئے خطے کی جانب سے تعاون اور اس حوالے سے کوششوں کا ساتھ دینے کی اشد ضرورت ہے‘۔’پچاس ارب درختوں کی شجر کاری اور سبزہ زاروں سے آراستہ علاقہ بارہ گنا بڑھانے اور 200 ملین ہیکٹر خراب اراضی کو کارآمد بنانے سے کاربن کے اخراج کا جو ہدف حاصل ہوگا وہ عالمی اخراج کا  2.5 فیصد ہوجائے گا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کاربن کے اخراج میں کمی کے اہداف حاصل کرنے کیلئے مملکت نے 2030 تک 278 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی اخراج کم کرنے کے لئے گرین سعودی عرب انیشیٹو کا آغاز کیا ہے‘۔واضح رہے کہ گرین مشرق وسطی انیشیٹو خطے میں ماحولیات کے تحفظ اور موسمی تغیرات سے بچانے کے لئے واضح حکمت عملی پر مبنی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انیشیٹیو کے تحت سرمایہ کاری اور نئی اسامیاں (بھرتیاں) پیدا کی جائیں گی، جبکہ مستقبل میں آنے والی نسلوں کیلئے بہتر ماحول فراہم ہوگا۔

 متحدہ عرب امارات میں تمام کورونا پابندیاں ختم

            متحدہ عرب امارات نے پیر 7/ نومبر کی صبح چھ بجے سے کورونا کی تمام باقی پابندیاں بھی ختم کردیئے ہیں۔ امارات کی خبر رساں ایجنسی وام کے مطابق امارات کی نیشنل کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے اتوار کو کہا کہ ایپ اور ماسک سے متعلق تمام پابندیاں بھی ختم کی جارہی ہیں۔متحدہ عرب امارات کی حکومت نے کووڈ سے متعلق تازہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ملک بھر میں کووڈ 19 سے بچاؤ کی تمام احتیاطی تدابیر اور پابندیاں منسوخ کردی گئی ہیں‘۔اب یو اے ای میں ’ماسک کا استعمال ہر جگہ اختیاری ہے لازمی نہیں۔ عوامی مقامات اور رفاح عامہ کے اداروں میں داخلے کے وقت ’گرین پاس‘ کی شرط ختم کردی گئی ہے‘۔ امارات میں نیشنل کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان ڈاکٹر سیف الظاہری نے کہا ہے کہ’امارات نے کووڈ  19 سے تحفظ کے حوالے سے منفرد مقام پیدا کیا ہے۔ بین الاقوامی  برادری نے اس حوالے سے متحدہ عرب امارات کی کوششوں کا اعتراف کیا ہے‘۔انہوں نے کہا کہ کووڈ 19 سے بچاؤ کے حوالے سے پابندیوں میں نرمی کا دوسرا دور شروع کررہے ہیں۔ یہ فیصلہ پورے ملک میں وبائی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔ ہسپتالوں اور انتہائی نگہداشت کے شعبوں میں کورونا کے کیسز کو مدنظر رکھ کر نئے مرحلے کا آغاز کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر سیف الظاہری نے کہا کہ’کووڈ 19 سے متعلق تمام پابندیاں منسوخ کی جارہی ہیں۔ عبادت گھروں اور مساجد میں ماسک استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن یہ لازمی نہیں ہے۔ مساجد میں نجی جانماز لانا اور اس کا استعمال بھی اختیاری ہے‘۔انہوں نے کہا کہ البتہ ’صحت اداروں اور معذوروں سے متعلقہ مراکز میں ماسک کا استعمال ضروری ہوگا‘۔ ’کووڈ ویکسین کی پابندی ویکسین سرٹیفکیٹ تک محدود رہے گی۔ ملک کے اندر اور باہر ٹیسٹ رپورٹ طلب کرنے پر پیش کی جائے گی‘۔ ا سپورٹس اور اسسے متعلق سرگرمیوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ’ملکی اور مقامی سطح پر اسپورٹس منتظمین پیشگی ٹیسٹ طلب کرسکتے ہیں اور حسب ضرورت ویکسین سرٹیفکیٹ کی پابندی لگا سکتے ہیں‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’معاشرے کے تمام افراد کی صحت و سلامتی کیلئے کورونا وبا کے خطرات سے معاشرے کو آگاہ کرتے رہنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔‘ 

ٌ*******

پاکستان میں عمران نواز صحافی ارشد شریف کا کینیا میں قتل.

عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

پاکستان میں عمران نواز صحافی ارشد شریف کا کینیا میں قتل ۰۰۰ذمہ دار کون؟

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

 

          پاکستان کے نامور صحافی ارشد شریف کے قتل کامعاملہ طول پکڑتا جارہا ہے۔ ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کرنے والوں کے متضاد دعوے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انہیں ایک سونچے سمجھے منصوبے کے تحت قتل کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہیکہ ارشد شریف کو ایک ایسی سنسان جگہ پر لے جاکر فائرنگ کے ذریعہ قتل کیا گیا جہاں کینیا کا عام آدمی بھی رات کے اوقات جانے سے ڈرتا ہے۔ کینیا کے انڈی پینڈنٹ پولیس اوور سائٹ اتھارٹی کی چیئر پرسن این ماکوری نے صحافی ارشد شریف کے قتل کے معاملے پر24/ اکٹوبر کو اپنی ابتدائی تحقیقات کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق این ماکوری پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ کجیاڈو کاؤنٹی میں ایک پاکستانی کو مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا۔ رپیڈ رسپونس ٹیم جائے حادثے پر بھیج دی گئی ہے۔ بتایا گیا تھا کہ صحافی ارشد کے قتل سے متعلق اتھارٹی کی تحقیقات شفاف ہونگی، نیشنل پولیس سروس ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کررہی ہے۔23/ اکٹوبر کی اتور کی رات ارشد شریف کو کینیا میں گولیاں مارکر قتل کردیا گیا تھا،بتایا جاتا ہے کہ یہ واقعہ نیروبی سے دو سو کلو میٹر دور ہائی وے پر پیش آیا۔ کینیا کے میڈیا کا کہنا ہیکہ ارشد شریف کی گاڑی کو ناکے پر روکنے کا اشارہ کیا گیا تھا لیکن ڈرائیور کی جانب سے مبینہ طور پرگاڑی نہیں روکی گئی جس پر گاڑی کا پیچھا کیا گیا اور فائرنگ کے دوران ارشد شریف کے سر پر گولی لگی جس سے ان کی موت ہوگئی۔ کینیا میڈیا کے مطابق پولیس کو ایک اطلاع موصول ہوئی تھی جس میں ایک گاڑی کا حلیہ بتایا گیا جو کہ ارشد شریف کی گاڑی سے ملتی جلتی تھی، غلط فہمی کی بنیاد پر ارشد شریف کو قتل کیا گیا۔اب ایک اور رپورٹ ارشد شریف کے قتل کی سامنے آئی ہے۔ کینیا میڈیا پولیس کے حوالے سے نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صحافی ارشد شریف کی گاڑی سے فائرنگ ہوئی جس سے ایک کانسٹیبل زخمی ہوا، پھر جوابی کارروائی کی گئی جس میں پاکستانی سینئر صحافی ارشد شریف اس سے جاں بحق ہوگئے۔جبکہ اس سے قبل کینیا پولیس کی جانب سے کہا گیا تھا کہ روڈ بلاک کی خلاف ورزی پر ارشد شریف کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی تھی، کینیا میڈیا کی جانب سے کہا جارہا تھا کہ جس گاڑی میں بچہ چوری کی اطلاع پر روڈ بلاک کی گئی تھی، وہ گاڑی اور ارشد شریف کی گاڑی ملتی جلتی تھی۔ ان  متضاد دعوؤں سے صاف ظاہر ہوتا ہیکہ کینیا کی پولیس اصل معاملہ کو چھپانا چاہتی ہے یا پھر کینیا پولیس کے ہی بعد عہدیداروں کی جانب سے بھاری رقم لے کر صحافی ارشد شریف کو قتل کیا گیا۔ارشد شریف کے جسد خاکی کو کینیا سے پاکستان لالیا گیا اور انکی میت کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ ارشد شریف پاکستان کے ان نامور صحافیوں میں شمار کئے جاتے تھے جو حق بات کہنے اور لکھنے سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم و چیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی تائید میں جس طرح کھل کا اظہارِ خیال کیا تھا اور امریکہ کی پالیسی رجیم چینج پر تقاریر میں اظہار خیال کیا تھا اس سے ان کی زندگی کو خطرہ اُسی وقت سے شروع ہوچکا تھا۔ اس سلسلہ میں بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق بتایا جاتا ہیکہ پشاور میں انصاف لائرز کنونشن سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ ’ارشد شریف کو نامعلوم نمبروں سے دھمکیاں آئیں کہ رجیم چینج پر بات نہ کرو۔ میں نے ارشد شریف سے کہا کہ تم ملک سے باہر چلے جاؤ، تمہاری جان کو خطرہ ہے‘۔عمران خان نے کہا کہ لوگ جو مرضی کہیں مگر مجھے پتا ہے کہ یہ ٹارکٹ کلنگ کی گئی ہے، اور میں تمام صحافیوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ شاید ہی میں نے کوئی اتنا دلیر، بہادر اور محب وطن صحافی دیکھا ہو جو اپنے موقف سے بالکل پیچھے نہیں ہٹا۔

             بتایا جاتا ہیکہ ارشد شریف نے رواں سال اپریل میں سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعدیہ دعویٰ کیا تھاکہ انہیں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے ہراسانی کا سامنا ہے۔ بعد ازاں وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے اور اطلاعات کے مطابق خود ساختہ جلا وطنی کے دوران وہ دبئی اور پھر کینیا میں مقیم رہے۔

            ارشد شریف سے متعلق بتایا جاتا ہے کہ متعدد پاکستانی نیوز چینلز میں کلیدی عہدوں پر خدمات انجام دے چکے تھے، خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے سے قبل وہ نجی نیوز چینل اے آر وائی سے منسلک تھے تاہم عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد انہیں نوکری سے فارغ کردیا گیا تھا۔موجودہ شہباز شریف حکومت سے انہیں خطرہ لاحق تھا اس سلسلہ میں ارشد شریف کے وکیل فیصل چودھری کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ اُن کے موکل (ارشد شریف) کو ذرائع سے معلوم ہوا ہیکہ موجودہ حکومت نے اُن کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کو گرفتار کیا جاسکتا ہے جس کی وجہ ارشد شریف کی رپورٹنگ اور حکومت پر تنقید بتائی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ درخواست کے مطابق ارشد شریف ذرائع سے ملنے والی ان معلومات کے بعد ڈرے ہوئے تھے کیونکہ ’سول کپڑوں میں ملبوس افراد اُس کے گھر اور خاندان کی نگرانی کررہے ہیں۔‘  اس سے قبل مئی کے اواخر میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت کی پولیس کے سربراہ اور ڈپٹی کمشنر کو حکم دیا تھاکہ صحافیوں کے خلاف ملک کے مختلف صوبوں میں درج ہونے والے مقدمات میں ان صحافیوں کو عدالت کی اجازت کے بغیر مقامی پولیس کے حوالے نہ کیا جائے۔ عدالت نے یہ حکم مرحوم صحافی ارشد شریف، سمیع ابراہیم اور اینکر پرسن معید پیرزادہ کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواستوں پر دیا تھا۔

            پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ ارشد شریف کی موت پر اعلیٰ سطح کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ انکاکہنا ہیکہ ”یہ تحقیقات صرف ان ہی حالات کی نہیں ہونی چاہیے کہ وہاں (کینیا میں) کیا ہوا بلکہ ان حالات کی بھی ہونی چاہیے کہ ارشد شریف کو پاکستان سے جانا کیوں پڑا، کس نے انہیں یہاں سے جانے پر مجبور کیا۔ اور وہ کیسے گئے اور کہاں پر گئے۔ اس واقعے کے پس منظر میں کیا حالات تھے۔ جنرل بابر افتخار کا مزید کہنا تھا کہ ’سب کو ارشد شریف کی ناگہانی وفات پر افسوس ہے، وہ بہت پروفیشنل صحافی تھے۔ ارشد شریف کے قتل کے بعد صحافتی برادری کی جانب سے اس واقعے کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پاکستان کی وفاقی حکومت نے کینیا میں صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی دو رکنی ٹیم کی تشکیل نو کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ اس سے ایک روز قبل جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن میں تین رکنی ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ایک کرنل بھی شامل تھے تاہم چہارشنبہ کے دن وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن میں آئی ایس آئی افسر کو شامل نہیں کیا گیا اور حکومت کی جانب سے اس تبدیلی کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ موجودہ دو رکنی ٹیم میں ایف آئی اے کے ڈائریکٹر اطہر وحید اور آئی بی کے ڈپٹی ڈی جی عمر شاہد حامد پر مشتمل ہے۔اب دیکھنا ہیکہ پاکستان میں دوبارہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں کیا انکشافات ہوتے ہیں جبکہ کینیا پولیس کی جانب سے ارشد شریف پر کی گئی فائرنگ اور انکے قتل کا ذمہ دار کسی کو ٹھہرایا جاتا ہے یا پھر ارشد شریف کو ہی بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بے باک، حق و صداقت کو پیش کرنے والے صحافی جو اپنے ملک کی حکومت کے خوف سے دوسرے ممالک جاکر جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں ان حالات میں ان پر قاتلانہ حملہ یا قتل کردیا جانا معمولی بات نہیں ۰۰۰ اس کے پیچھے کون ذمہ دار ہیں اس کی تہہ تک پہنچا اشد ضروری ہے۔ اقوام متحدہ نے ان حالات کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جن میں سینئر پاکستانی صحافی ارشد شریف کو کینیا میں گولی مارکر ہلاک کردیا گیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے اس واقعے کے بارے میں افسوسناک رپورٹس دیکھی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کینیا کے حکام اس واقعے کی شفاف انداز میں تحقیقات کو یقینی بنائیں۔جمعرات کے روز بعد نماز ظہر ارشد شریف کی نماز جنازہ فیصل مسجد میں ادا کی گئی،خطیب فیصل مسجد نے امامت فرمائی۔ انکی تدفین ایچ الیون قبرستان میں کی گئی۔پاکستان کے مختلف شہروں بشمول لاہور، اسلام آباد، کراچی میں بھی انکی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی گئی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پاک فوج کی جانب سے انہیں سلامی دی گئی۔


ولیعہد محمد بن سلمان کی صدارت میں پہلا کابینی اجلاس

           سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے شاہی فرمان کے مطابق وزیر اعظم مقرر کئے جانے کے بعد منگل 25/ اکٹوبر کو ریاض کے قصر یمامہ میں پہلی مرتبہ سعودی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی۔اس موقع پر کابینہ نے صنعتی اداروں کی کارروائی کیلئے وزارت صحت اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کیلئے ضوابط کی منظوری دی۔ کابینہ نے نومبر میں مصر میں ہونے والی گرین مشرق وسطیٰ انشیٹو سربراہ کانفرنس اور گرین سعودی عرب انشیٹو فورم کے دورے ایڈیشن کو اس بات کی علامت قرار دیا کہ سعودی عرب خطے سمیت دنیا بھر کو درپیش موسمیاتی اور ماحولیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے سلسلے میں مشترکہ کوششوں کا پابند ہے۔سعودی کابینہ نے بین الاقوامی سپلائی چین کے نیشنل انشیٹو کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد سعودی عرب کی پوزیشن مضبوط بنانا ہے۔ اس اقدام سے ابتدائی دو برسوں کے دوران چالیس ارب ریال مالیت کی سرمایہ کاری آئے گی۔کابینہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ متعدد ملکوں میں پولیو اور چیچک کے انسداد اور اس سے بچاؤ کیلئے یونیسیف اور عالمی ادارہ صحت کے ساتھ شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی خدمات نے جو معاہدے کئے ہیں ان سے اس وبا کے خاتمے کیلئے کی جانے والی کوششوں میں مدد ملے گی۔ اس طرح دیگر اہم امور پر شہزادہ محمد بن سلمان کی صدارت میں کابینہ نے مزید فیصلے کئے۔

عمران خان کا لانگ مارچ کا اعلان

         سابق وزیر اعظم و چیرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جمعہ کو لاہور سے پُر امن لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ اس مارچ کی قیادت وہ خود کرینگے۔مارچ کا آغاز 11بجے دن لبرٹی چوک میں جمع ہونے سے شروع ہوگا، وہاں سے اسلام آباد روانہ ہونگے اور 4/ نومبر کو اسلام آباد پہنچے گااس دوران مارچ کو راستے میں جہاں رات آئے گی وہیں قیام کیا جائے گا۔عمران خان نے کہا کہ یہ الیکشن نہیں کرائینگے اس لئے لانگ مارچ کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کوئی سیاست نہیں پاکستان کے مستقبل کی جنگ لڑرہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے چیرمین نے اسے چوروں سے آزادی کی جنگ بتاتے ہوئے اسے جہاد قرار دیا اور کہا کہ یہجہاد فیصلہ کرے گا کہ پاکستان کیا چوروں کی غلامی یا خود مختاد پاکستان بنے گا۔ انکا کہنا ہیکہ نامور ڈاکو اپنے اپنے کیسز معاف کرارہے ہیں، کبھی اسمبلی میں ایسا نہیں ہوا جس طرح کی ترامیم کی جارہی ہیں۔ انہو ں نے کہاکہ آج ملک دوراہے پر کھڑا ہے، ایک طرف وہ چور اور لٹیرے ہیں جن کی کرپشن کے خلاف میں 26سال سے جدوجہد کررہا ہوں وہ اکٹھے ہیں جن کے ساتھ میڈیا ہاؤسز اور نامعلوم افراد بھی ملے ہوئے ہیں۔ لانگ مارچ کے اعلان کے بعد بتایا جاتا ہیکہ اسٹاک مارکیٹ پاکستان میں شدید مندی کے رجحان کے ساتھ ہوا اور کاروبار کے پہلے دیڑھ گھنٹے میں  انڈیکس 650پوائنٹس سے زیادہ گرگیا ہے۔عمران خان نے کہا کہ اسلام آباد میں تحریک انصاف کا لانگ مارچ کوئی قانون نہیں توڑے گا اور نہ ہی ریڈ زون میں داخل ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے خلاف حکومت اور پولیس کچھ نہیں کرسکیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا ہے کہ ارشد شریف کی والدہ نے کہا ہیکہ خون رائیگاں نہیں جانے دینا۔ 

***********

 

اسرائیل کو آسٹریلیا کا زبردست جھٹکا۔یروشلم کو دارالحکومت ماننے سے انکار

 عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

 اسرائیل کو آسٹریلیا کا زبردست جھٹکا۔یروشلم کو دارالحکومت ماننے سے انکار

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

 

           فلسطین پر قابض اسرائیلی حکومت کو آسٹریلیا نے      ایک جھٹکا دیتے ہوئے کہاہیکہ مغربی یروشلم کو آسٹریلیا، اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہیں کرتا۔ آسٹریلیاکی وزیر خارجہ پینی وونگ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہیکہ ”یروشلم کی حتمی حیثیت کا تعین اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کے نتیجے میں ہونا چاہئیے“۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ 2018ء میں اسکاٹ موریسن کی قیادت میں قدامت پسند آسٹریلوی حکومت نے مغربی یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے میں اُس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کی پیروی کی تھی۔موریسن کے اس اقدام کی وجہ سے آسٹریلوی شہریوں میں سخت ردعمل کا باعث بنا تھا اور پڑوسی ملک انڈونیشیا کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پیدا ہوگیا تھا جس کے بعد دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے مسلم اکثریتی ملک کے ساتھ عارضی طور پر آزاد تجارتی معاہدے کو تعطل کا شکار کر دیا۔

             اسطرح موریسن کی سابق کنزرویٹو حکومت کا یہ فیصلہ متنازعہ ہوچکا تھا۔اس سلسلہ میں وزیر خارجہ پینی وونگ نے سابق  موریسن حکومت پر الزام لگایا کہ ”وہ ساحل سمندر کے کنارے سڈنی کے مضافاتی علاقے میں ایک بڑی یہودی برادری کے علاقے سے ضمنی انتخاب جیتنے کے لئے یہ سب کر رہے تھے۔’آپ جانتے ہیں کہ یہ کیا تھا؟ یہ ایک گھٹیا ڈرامہ تھا، وینٹ ورتھ کی سیٹ اور ضمنی انتخاب جیتنے کے لیے۔“پینی وونگ کا کہناہیکہ ”ہم ایسے نقطہ نظر کی حمایت نہیں کرینگے جس سے دوریاستی حل کو نقصان پہنچے“۔انہو ں نے مزید کہا کہ آسٹریلیا کا سفارت خانہ ہمیشہ تل ابیب میں رہا ہے اور وہیں رہے گا۔ اس طرح آسٹریلیا نے مغربی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم انکار کرتے ہوئے سابق متنازعہ فیصلہ سے دستبرداری اختیار کی ہے۔ واضح رہے کہ آسٹریلیامیں مرکزی بائیں بازو کی لیبر پارٹی جس میں انتھونی البانی وزیر اعظم اور وونگ پینی وونگ وزیر خارجہ ہیں مئی 2022میں اقتدار میں آئی۔ وونگ نے کہا ہیکہ اس فیصلے سے اسرائیل سے کسی دشمنی کا اشارہ نہیں ملتا۔انہوں نے کہا کہ ’آسٹریلیا ہمیشہ اسرائیل کا ثابت قدم دوست رہے گا۔ ہم اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والے پہلے ممالک میں شامل تھے۔ انہو ں نے کہا کہ ’ہم اسرائیل اور آسٹریلیا میں یہودی برادری کی اپنی حمایت میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم فلسطینی عوام کی حمایت میں یکساں طور پر غیر متزلزل ہیں، بشمول انسانی امداد کے۔‘اسرائیل نے سنہ 1967 کی چھ روزہ جنگ میں مشرقی یروشلم پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں اس کا الحاق کرتے ہوئے پورے شہر کو اپنا ’ابدی اور ناقابل تقسیم دارالحکومت‘ قرار دیا تھا۔اب دیکھنا ہے کہ آسٹریلیا کے اس فیصلہ کے بعد امریکہ اور اسرائیل کس قسم کے ردّعمل کا اظہار کرتے ہیں اور سب سے بڑا آبادی والا پڑوسی مسلم ملک انڈونیشیا آسٹریلیا سے تعلقات بحال کرنے کیلئے کس طرح آگے آتا ہے۔سعودی عرب نے آسٹریلیا کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے کہا ہیکہ ”عالمی برادری کو چاہیے کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق فلسطینی عوام کی خواہش کے مطابق خود مختار ریاست بنانے میں مدد کرے جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو“۔

عمران خان ضمنی انتخابات میں کامیاب لیکن توشہ خانہ معاملہ میں نااہل قرار


            عمران خان ضمنی انتخابات میں بازی لے گئے لیکنتوشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن نے انہیں 5سال کیلئے نااہل قرار دے دیا ہے۔ جمعہ کو توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن نے کہاکہ عمران خان’کرپٹ پریکٹس کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ان کی قومی اسمبلی کی نشست خالی قرار دی جاتی ہے۔‘چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے پانچ رکنی کمیشن بینچ متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو آرٹیکل 63کے تحت نااہل قرار دیا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان آئین کے آرٹیکل 63ون پی کے تحت نااہلی پارلیمنٹ کی موجودہ مدت تک محدود ہوتی ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کرپٹ پریکٹسز کے مرتکب ہوئے ہیں جس کی وجہ سے انکے خلاف ٹرائل کورٹ میں مقدمہ بھی چلایا جائے گا۔عمران خان کے خلاف فیصلہ سنائے جانے کے بعد تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ناقابل قبول ہے۔ یہ عمران خان پر نہیں پاکستان کے آئین اور اداروں پر حملہ ہے۔جبکہ ذائع ابلاغ کے مطابق الیکشن کمیشن کے توشہ خانہ ریفرنس کے فیصلے کے بعد عمران خان کی زیر صدارت پارٹی رہنماؤں کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اس فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ میں رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور قانونی ٹیم کو پٹیشن تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔پارٹی رہنماؤں سے گفتگو کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ جانبدار الیکشن کمیشن سے اسی طرح کے فیصلے کی توقع تھی، چیف الیکشن کمشنر پی ڈی ایم کا اتحادی ہے، موجودہ الیکشن کمیشن اور اس کے فیصلوں کی کوئی ساکھ نہیں ہے۔اس فیصلہ کے بعد بتایا جاتا ہیکہ پاکستان کے مختلف شہروں اور مقامات پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔اب نہیں معلوم عوام حکومت اور عمران خان کے درمیان عدلیہ کے فیصلہ کے تئیں کیا کرتے ہیں اور اگر عوام عمران خان کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں تو پھر پاکستان کن راہوں پر کھڑا ہوتا ہے یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۰۰۰

            توشہ خانہ فیصلہ سے قبل سابق وزیر اعظم و چیئرمین پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) نے ضمنی انتخابات کے تحت قومی اسمبلی کیلئے آٹھ نشستوں پر ہونے والے الیکشن میں چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے حکومت کو سوچنے پر مجبور کردیا تھا، یہاں یہ بات واضح رہے کہ عمران خان نے آٹھ میں سے سات نشستوں پر خود انتخاب لڑا تھاجس میں سے انہیں کراچی کی ایک نشست پر ناکامی ہوئی ہے جبکہ ایک نشست کیلئے پی ٹی آئی کی امیدوارسابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی مہر بانو قریشی تھیں جنہیں پاکستانی پیپلز پارٹی کے امیدوار علی مونس گیلانی سے مقابلہ درپیش تھا جس انہیں ناکامی ہوئی ہے۔ ضمنی انتخابات میں عمران خان کا خود تمام سات نشستوں پر مقابلے میں حصہ لینا اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹ جانے کا ارادہ نہیں رکھتی اور ملک میں جلد از جلد عام انتخابات کروانے کے اس کے مطالبہ کو مزید تقویت حاصل ہو کیونکہ ضمنی انتخابات کے نتائج سے یہ ثابت ہوچکا ہیکہ عوام کی اکثریت عمران خان کو اقتدار پر واپس لانا چاہتی ہے اور اسی لئے عوام عمران خان کے حق میں ہی اپنے ووٹوں کا استعمال کرتے ہوئے انہیں کامیاب کئے ہیں۔عمران خان نے ضمنی انتخابات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ یہ الیکشن نہیں بلکہ ریفرنڈم تھا، ریفرنڈم اس لئے کیونکہ عوام کو پتا تھا کہ ہم نے اسمبلی میں نہیں بیٹھنا ہے، قوم اس وقت الیکشن چاہ رہی ہے۔ ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کو آٹھ میں چھ نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے یہ عوام کا مثبت ردّعمل بتایا جارہا ہے لیکن 2018کے انتخابات میں ان دو نشستوں پر بھی پی ٹی آئی نے ہی کامیابی حاصل کی تھی اس لحاظ سے پی ٹی آئی کو دو نشستوں پر ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ضمنی انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کرنے کے بعد عمران خان نے کہا ہیکہ ”میں نے اسٹبلشمنٹ کو پیغام پہنچایا کہ سازش کامیاب ہوئی تو معیشت نہیں سنبھل سکے گی، مارچ کی تیاری ہے، چند دنوں میں کسی بھی وقت مارچ کا اعلان کرونگا“۔ انکا کہنا تھا کہ وہ حکومت کو مزید وقت دے رہے ہیں کہ حکومت کے پاس چند دن ہیں، اس کے بعد وہ مارچ کا اعلان کرینگے۔یعنی اکٹوبر کے ختم ہونے سے قبل ہی مارچ ہوگا اور مارچ کے ذریعہ پتہ چل جائے گا کہ عوام کہاں کھڑے ہیں، انہوں نے حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر الیکشن کا اعلان نہ کیا گیا تو مارچ کیا جائے گا۔ اور کوئی بھی گیارنٹی نہیں دے سکتا کہ بڑی تعداد میں عوام کے نکلنے کا نتیجہ کیا آئے گا۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ وفاقی وزیر اطلاعام مریم اورنگزیب نے عام انتخابات کے سلسلہ میں کہا ہے کہ وہ وقت مقررہ پر ہونگے اور جب حکومت چاہے گی تب ہی ہونگے۔مریم اورنگزیب کا کہنا ہیکہ ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام آباد پر چڑھائی کردی جائے۔ انکا مزید کہنا ہیکہ اگر ضمنی انتخابات ریفرنڈم ہے تو پھر دو نشستیں یعنی ملتان اور کراچی کی سیٹوں پر کیا کہیں گے۔ اب دیکھنا ہیکہ حکومت کے مطابق،عام انتخابات وقت مقررہ پر ہی کرنے کے فیصلہ پر اٹل رہی تو عمران خان جو اسلام آباد پر چڑھائی (مارچ) کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں انہیں اجازت دیتی ہے جبکہ توشہ خانہ کیس میں انہیں نااہل قرار دینے کے بعد حالات سنگین ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔اگر مارچ کا اعلان کردیا جاتا ہے تو پھر مارچ کو روکنے کے لئے حکومت کس قسم کے اقدامات کرتی ہے یہ وقت آنے پر دیکھا جاسکتا ہے۰۰۰

امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان پھر دوریاں ۰۰۰

            امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات پھر ایک مرتبہ بگڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ تیل کی پیداوار کے سلسلہ میں کمی کرنے کے اوپیک پلس کو فیصلہ جوبائیڈن حکومت کو اسے روس کے حق میں قرار دیتی ہے۔ اوپیک پلس تنظیم سعودی عرب کی سربراہی میں ہے جس کی وجہ سے امریکہ سعودی عرب سے سخت ناراض دکھائی دیتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی ولیعہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان کے چچا زاد بھائی سعود الشعلان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جسمیں وہ مغربی ممالک کے خلاف دھمکی آمیز رویہ اپناتے ہوئے بیان دے رہے ہیں۔ سعودی عرب کے رویہ کو دیکھتے ہوئے اسکے ردّ عمل میں سعود الشعلان نے مغرب کو دھمکی دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں ”کسی نے اس ملک (سعودی سلطنت) کے وجود کو چیلنج کیا تو ہم سبھی شہادت اور جہاد کے لئے تیارہیں۔ مشرقِ وسطیٰ سے سعودی عرب کے انسانی حقوق کے وکیل عبداللہ العودہ نے کہا کہ سعود الشعلان قبائلی رہنما ہیں اور وہ سعودی عربکے بانی عبدالعزیز کے پوتے ہیں۔واضح رہے کہ 15/ نومبر سے انڈونیشیا میں G20ممالک کا اجلاس ہونے والاہے۔ جس میں دنیا کی بڑی معیشتوں والے ممالک شامل ہیں۔ اس اجلاس میں امریکی صدر جوبائیڈن اور سعودی ولعہد محمد بن سلمان بھی شرکت کرینگے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بتایا گیا ہے کہ اتوار کو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے واضح کردیا گیا کہ G20اجلاس کے دوران امریکی صدر بائیڈن کا ولیعہد محمد بن سلمان سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اوپیک پلس کے فیصلہ سے امریکہ اس لئے ناراض ہے کیونکہ تیل میں کمی ہوگی تو قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ دیکھنا ہے کہ سعود الشعلان کے اس ردّعمل پر امریکہ اور خود سعودی شاہی حکومت کیاکہتی ہے۰۰۰


کویتی عوام ارکان پارلیمان کی کارکردگی پر نظر رکھیں اور انکااحتساب کریں۔ولیعہد شیخ مشعل الاحمد

            کویت کے ولیعہد شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح منگل18/ اکٹوبر کو 17ویں قومی اسمبلی میں اللہ رب العزت کی حمد و ثناء کے بعد افتتاحیخطاب کرتے ہوئے عوام پر زور دیاکہ وہ پارلیمنٹیرینز کی کارکردگی پر نظر رکھیں اور ان کا احتساب کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وہ پارلیمنٹ کے سامنے اسٹریٹجک پلان پر عمل پیرا ہونگے اور اراکین پارلیمنٹ کو بھی چاہیے کہ وہ عوام سے کئے گئے وعدے پورے کریں۔ولیعہد شیخ مشعل الاحمد نے سیاستدانوں کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ امیر کویت کے آئینی اختیارات کا احترام کریں۔انہوں نے ملک میں قومی اتحاد اور یکجہتی کو توڑنے والی اور تقسیم کرنے والی آوازوں پر کان نہ دھریں۔کویت میں قومی یکجہتی کے خطرے کے پیشِ نظر اگست میں پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کے بعد نئے انتخابات کرائے گئے تھے۔29/ ستمبر کو ہونے والے قانون ساز اسمبلی انتخابات کے بعد 9پارلیمنٹ کااجلاس بلایا گیا تھا۔ کویت کی قانون سازی کے مطابق قومی اسمبلی کے 50منتخب ارکان چار سال کی مدت کیلئے منتخب کئے جاتے ہیں۔کویت میں تقریباً ساتھ لاکھ 96ہزار کویتی شہری ملکی پارلیمان کے ارکان کے انتخاب کیلئے حق رائے دہی رکھتے ہیں۔  

ٌٌٌٌ****


روس اور یوکرین بحران

 عالم ِ اسلام راؤنڈ اَپ

 روس اور یوکرین بحران ختم کرانے کیلئے شیخ محمد بن زاید النہیان کا دورہ ماسکو

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید


         روس اور یوکرین کی  جنگ عالمی سطح پر دنیا کو معاشی بحران کی جانب ڈھکیل رہی ہے۔ پہلے ہی کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اگر روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی نہ ہوئی تو مستقبل قریب میں اسکے سنگین نتائج برآمد ہونگے۔ اسی لئے کئی اہم ترین ممالک کے حکمراں روس اور یوکرین کے درمیان مصالحت کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے بھی 11/ اکٹوبر منگل کو سینٹ پیٹرزبرگ کے دورے پر روانہ ہوئے جہاں انہو ں نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی۔شیخ محمد زاید النہیان کی کوششیں کتنی ثمر آور ہوتی ہے یہ الگ بات ہے لیکن انہو ں نے جو پیشِ قدمی کی ہے وہ قابلِ ستائش ہے۔ کیونکہ دنیا کو اس وقت امن و سلامتی اور معاشی استحکام کی ضرورت ہے۔

         ذرائع ابلاغ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے صدر نے یوکرین بحران کے تمام فریقوں کے درمیان بات چیت کی ضرورت پرزور دیا۔بتایا جاتا ہیکہ ملاقات کے دوران امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے کہا کہ ’امارات دنیا میں امن واستحکام کی بنیادوں کے استحکام میں کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔کشیدگی کم کرنے اور بحرانوں کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لئے کام کررہا ہے۔ یوکرینی بحران حل کرانے کیلئے سفارتی کوششوں کی بھرپور حمایت ضروری ہے‘۔الامارات الیوم کے مطابق بتایا جاتا ہیکہ شیخ محمد بن زاید نے منگل کو ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ باہمی دلچسپی کے متعدد مسائل اور حالات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ خصوصا یوکرین بحران کی تازہ صورتحال پر غور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ’روس کے ساتھ تجارتی لین دین کا حجم دگنا کرکے پانچ ارب ڈالر تک پہنچا دیا ہے‘۔’امارات نے سفارتکاری، بات چیت اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کے احترام پر زور دیا ہے‘۔روس کے صدر کا کہنا تھا کہ’امارات نے خطے میں اہم کردار کیا ہے۔ ماسکو چاہتا ہے کہ توانائی کی منڈیاں رسد اور طلب کے درمیان توازن میں رہیں۔ اقدامات کا مقصد توانائی سیکڑ میں استحکام پیدا کرنا ہے‘۔



        ***سعودی فرمانرواشاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صدارت میں جدہ کے قصر السلام میں سعودی کابینہ کا اجلاس منگل 11/ اکٹوبر کو منعقد ہوا۔ کابینہ نے ایئرپورٹس کی عالمی کونسل (اے سی آئی) کا ریجنل آفس دارالحکومت ریاض میں قائم کرنے کے فیصلے کی ستائش کی اور کہا کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ سعودی عرب ہوابازی کے شعبے میں عالمی سطح پر آگے بڑھ رہا ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ عالمی تیل منڈی میں توازن اور استحکام کے حوالے سے اوپیک پلس کا کلیدی کردار ہے۔کابینہ نے قطر میں عالمی فٹبال ورلڈ کپ دیکھنے جانے والے شائقین کیلئے جاری ”ھیا کارڈ“ کی ای سروس فیس سرکاری خزانے سے ادا کرنے کی منظوری دی ہے۔انکے علاوہ مزید فیصلوں کی منظوری دی گئی ہے۔


ایران میں بے حجابی کیلئے پرتشدداحتجاج میں اضافہ۔ سپریم لیڈر کو ہٹانے کا مطالبہ

 


        بے شک اسلام میں لڑکیوں اور خواتین کیلئے حجاب ضروری ہے اور اس سے انکی عصمتوں کی حفاظت ہوتی ہے اور معاشرے میں پردہ نشین خواتین کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ برائیوں اور بے حیائیوں کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔ جمہوریہ اسلامی ایران میں لڑکیوں اور خواتین کو مکمل حجاب میں رہنے پر زور دیاجاتا ہے، خواتین کے سر پر اوڑھنی لازمی ہے، سر کے بال دکھائی دینے کی صورت میں گرفتاری عمل میں لائی جاتی ہے۔ اسلامی قوانین کی عمل آوری کیلئے مذہبی پولیس گردیش کرتی رہتی ہے۔ 13/ ستمبر کو ایسا ہی ایک معاملہ پیش آیا یعنی ایک 22سالہ خاتون مہسا امینی کو درست طور پر حجاب نہ اوڑھنے کی وجہ سے گرفتار کرلیا گیا جس کی تین دن بعد پولیس حراست میں ہی موت واقع ہوگئی۔ مہسا امینی کے افراد خاندان کاکہنا ہے کہ پولیس نے انکی بیٹی کو گرفتار کرکے شدید زدوکوب کیا جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوگئی۔مہسا امینی کی ہلاک کے بعد 17/ ستمبر سے ایران کے تقریباً تمام شہروں میں شدید احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا۔ حکومتِ ایران نے ان مظاہرین سے سختی سے نمٹنے کیلئے سیکیوریٹی فورسز کو ہدایت دی جس کی وجہ سے احتجاج میں شدت پیدا ہوگئی اور کئی بچے،نوجوان مرد و خواتین ہلاک یا زخمی ہوگئے اور سینکڑوں احتجاجی مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔  ان پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے سلسلہ میں انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہیکہ اب تک کم از کم دو سو افراد بشمول 19بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ ایران میں سکیورٹی فورسز نے اسکول میں گھس کر طلبہ کو گرفتار کیا ہے۔ احتجاج کی یہ لہر حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج ثابت ہورہی ہے جس میں ایران کے مذہبی رہنما و سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو ہٹانے کے مطالبات بھی ہورہے ہیں۔ ہفتہ 9/ اکٹوبر کو تہران کی الزہرا یونیورسٹی میں اس وقت صورتحال مزید خراب ہوگئی تھی جب ایرانی صدر  ابراہیم ریئسی وہاں ایک تقریب میں شرکت کیلئے پہنچے تھے۔ انکے خطاب کے دوران ہی طالبات نے احتجاج شروع کردیا اور انہیں وہاں سے ”چلے جاؤ“ کے نعرے لگائے۰۰۰حکومت جس طرح احتجاجیوں نمٹ رہی ہے،اسے وہ حق بجانب گردانتی ہے کیونکہ پردہ خواتین کیلئے ضروری ہے۔جبکہ بعض احتجاجی خواتین و نوجوان لڑکیاں جس طرح بے پردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف آواز اٹھارہی ہیں اس سے حالات مزید بگڑتے دکھائی دے رہے ہیں اور ایسی خواتین کو سیکیوریٹی فورسز نشانہ بنانے کی خبریں ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق 12/ اکٹوبر کو ایران کے سکیورٹی حکام نے کردستان کے علاقے سنندج میں ٹینک اور جنگی جہاز پہنچا دیے ہیں، جہاں تقریباً چار ہفتے سے مسلسل احتجاج جاری ہے جبکہ خصوصی فوجی دستوں کی بسیں بھی روانہ کر دی گئی ہیں۔ عرب نیوز کے مطابق حجاب درست طور پر نہ اوڑھنے پر گرفتاری کے  بعد پولیس حراست میں ہلاک ہونے والی مہسا امینی کا تعلق اسی صوبے سے تھا۔فی الحال احتجاج کی سب سے زیادہ شدت سنندج میں بتائی جارہی ہے۔سینٹر فار ہیومن رائٹس کے مطابق ایسی ہی صورتحال سیستان بلوچستان میں بھی ہے وہاں 30/ ستمبر سے اب تک 90سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ڈائرکٹر ہادی غائمی کے مطابق’’کردستان میں فوجی دستوں کے ہاتھوں سفاکانہ ہلاکتیں اور سیستان بلوچستان میں قتل عام سے عیاں ہے کہ ریاستی تشدد میں مزید اضافہ ہو گا۔“انسانی حقوق کے ادرے ایمنسٹی انٹرنینشل نے بتایا ہے کہ اسے سخت تشویش ہے کیونکہ فوجی دستے مظاہرین کے خلاف آتشیں اسلحہ اور آنسو گیس استعمال کر رہے ہیں جبکہ لوگوں کو ان کے گھروں میں بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عرب نیوز نے میٹرو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ 16 سالہ یوٹیوبر سارینہ اسماعیل زادہ کو پچھلے ماہ کراج میں احتجاج کے دوران سکیورٹی اہلکاروں نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس سے وہ دم توڑ گئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق گھر والے کئی روز تک سارینہ کو ڈھونڈتے رہے اور 10ویں روز حکام نے لاش ان کے حوالے کی۔ سارینہ کی مسخ شدہ لاش دیکھنے کے بعد اس کی والدہ شدید صدمے سے دوچار ہوگئی اور پھرگھر پہنچ کر پھانسی لے کر خودکشی کرلی۔اس سے قبل بھی ایک اورنوجوان لڑکی نیکاشاکرمی کی مظاہروں کے دوران ہلاکت ہو گئی تھی۔ ایسی اور کتنی خواتین و لڑکیاں ہونگی جو پرتشدد مظاہروں کے دوران ہلاک ہوچکی ہیں ۰۰۰حکومتِ ایران خواتین و لڑکیوں کو اسلامی تعلیمات کے ذریعہ پردہ کے احکامات سے واقف کروائیں اور انہیں سختی سے نہیں بلکہ نرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پردہ سے متعلق بتائیں کہ یہ انکے تشخص کا ضامن ہے۔اور اسی کے ذریعہ انہیں عزت و وقار حاصل ہوتا ہے۔کاش بے پردہ خواتین اسلامی احکامات کو سمجھ پاتیں۔

اردنی خاتون انجینئر ملک کی پہلی”کوسٹر“ ڈرائیور 


            تعلیم ’انسان کو معاشرہ میں مہذب، قابل فہمِ و فراست شخصیت کاحامل بناتی ہے اور ان ہی تعلیم یافتہ افراد کو انکی قابلیت اوراعلیٰ صلاحیتوں اور محنت کی بنیاد پربہتر سے بہتر روزگار فراہم ہوتاہے۔چاہے وہ سرکاری سطح پر ہو یاخانگی یا خودکا اپنا کاروبار۰۰۰یہ ضروری نہیں کہ تعلیم کا حصول سرکاری نوکری ہی ہو۰۰۰تعلیم یافتہ، محنتی اور ذمہ داری کا احساس رکھنے والے افراد کسی بھی پیشہ سے وابستہ ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسی ہی ایک اردنی اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون رشان النابلسی ہیں جنہوں نے فوڈ انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی ہے تاہم انہیں ملازمت نہ ملنے کی صورت میں پبلک ٹرانسپورٹ”کوسٹر“چلانے پر مجبور ہونا پڑا اس طرح وہ ملک (اُردن) کی تاریخ کی پہلی خاتون ڈرائیور بن گئیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق رشان النابلسی شمالی اُردن کے شہر اربد میں کوسٹر ڈرائیور کے طور پر کام کر رہی ہیں۔اسکائی نیوز کے مطابق رشان النابلسی نے بتایا کہ ’کوسٹر کے مسافر مجھے ڈرائیور کی سیٹ پر بیٹھا دیکھ کر حیرت کا اظہار کرتے ہیں۔ پہلی اردنی خاتون ہوں جو پبلک ٹرانسپورٹ کی ڈرائیور بنی ہوں۔‘

اردنی خاتون کا کہنا ہے کہ ’فوڈ انجینیئرنگ میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد سرتوڑ کوششوں کے باوجود ملازمت نہیں ملی تو پبلک بس ڈرائیور کے طور پر کام کرنے کے سوا کوئی اور آپشن نہیں تھا۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’ڈرائیورکی ڈیوٹی مشکل ہے۔ روزانہ صبح  5 بجے شروع ہوتی ہے اور سورج غروب ہونے تک جاری رہتی ہے۔ یہ محنت مشقت کا کام ہے۔‘ رشان النابلسی کا کہنا ہے کہ ’معاشرے کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خاص طور پردوسرے ڈرائیور اور مسافر اس پر فقرے کستے رہتے ہیں۔‘ سوشل میڈیا پربھی تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ بیشتر صارفین نے رشان النابلسی کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’رزق حلال نعمت ہے۔ ڈرائیونگ کوئی بری بات نہیں۔‘ بعض افراد کا اعتراض ہے کہ ’پبلک ٹرانسپورٹ ڈرائیور کا کام مردوں کا ہے، عورتوں کا نہیں۔ اس کیلئے جسمانی مشقت درکار ہوتی ہے۔‘ان سب کے باوجود رشان النابلسی فی الحال کوسٹر ڈرائیور کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں، ہوسکتا ہیکہ بہت جلد انہیں انکی تعلیم کے اعتبار سے بہتر سے بہتر نوکری مل جائے۔