MY COLUMN

پاکستانی حکومت اور پولیس کے آگے عمران خان کے کارکن سینہ سپر

عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

پاکستانی حکومت اور پولیس کے آگے عمران خان کے کارکن سینہ سپر

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

 


                 پاکستانی وفاقی حکومت اورپولیس آخر کارعمران خان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۰۰۰ عدلیہ بھی عمران خان کی مقبولیت اور انکے جانبازکاکنوں کی جانب سے ملک کے کونے کونے سے عمران خان کیلئے نکل پڑنے کو دیکھتے ہوئے سابق وزیر اعظم و چیئرمین پی ٹی آئی کو  گرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہیکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین و سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو کسی بھی صورت میں گرفتار کرنے کیلئے وفاقی حکومت ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کارکنوں نے زمان پارک میں عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں گرفتار ہونے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی پولیس اور کارکنوں کے درمیان جوتصادم ہوا ہے اسے دنیا نے دیکھا ہے۔عمران خان کو انکی رہائش گاہ زمان پارک میں محفوظ رکھنے کیلئے پی ٹی آئی کارکنوں نے اپنی جانوں کی پرواہ تک نہیں کی۔ آنسو گیس، ربڑ کی گولیوں اور پولیس کی لاٹھی چارج بے سود ثابت ہوئی۔ عمران خان نے عدالت سے وعدہ کیا تھا کہ وہ سیشن کورٹ میں توشہ خانہ کیس کے سلسلہ میں حاضر عدالت ہونگے، اسکے باوجود عمران خان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی جس کے جواب میں پی ٹی آئی کارکنوں نے منگل کے روز اور چہارشنبہ کو پولیس اور پھر رینجرس کا سخت مقابلہ کیا جس میں درجنوں پی ٹی آئی کارکن اور پولیس اہلکار زخمی بتائے گئے۔ آخر کار لاہور ہائیکورٹ نے پولیس اور رینجرس کو زمان پارک سے ہٹنے کیلئے کہا اور پھر مجبور اً پولیس اور رینجرس عمران خان کے گھر زمان پارک سے چہارشنبہ کی رات چلتے بنے ۰۰۰ لیکن جب عمران خان اسلام آباد کی عدالت میں پیش ہونے کیلئے نکلے تو حالات نے نئی کروٹ لی۰۰۰ عمران خان کی آمد سے قبل ہی تحریک انصاف کے کارکن 10بجے سے ہی جوڈیشل کمپلیکس کے سامنے جمع ہونے شروع ہوگئے، بتایا جاتا ہیکہ ان کارکنوں میں ضعیف، نوجوان، بچے مردو خواتین سب ہی شامل ہوتے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ٹولیوں کی شکل میں آنے والوں تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہوا اوریہ لوگ نعرے لگاتے ہوئے اپنے قائد عمران خان کے لئے جان قربان کرنے کیلئے بھی  تیار دکھائی دے رہے تھے۔ اسلام آباد کی عدالت میں عمران خان کی آمد سے قبل کئی کارکنوں کو دفعہ 144کے نفاذ کے تحت گرفتار کیا گیا۔ عمران خان کا قافلہ جب اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں داخل ہوا تو لاہور میں ہونے والے سلوک کا بدلہ لینے کیلئے  پولیس تیار کھڑی تھی۔ بتایا جاتا ہیکہ پولیس اہلکار بار بار شیل پھینکنے والی بندوقیں ٹیسٹ کررہے تھے اور شیل کھول کھول کر جیبیں اور تھیلے بھر رہے تھے۔ اس کے علاوہ ربڑ کی گولیاں بھی پولیس اہلکاروں میں تقسیم کی جارہی تھیں۔ ذرائع کے مطابق ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جونہی عمران خان جوڈیشل کمپلیکس میں داخل ہونگے تو پولیس اہلکار پی ٹی آئی کارکنوں کو منتشر کرنے کے بہانے اپنا بدلہ لینے کیلئے انہیں آنسو گیس کے شیل اور ربڑ کی گولیاں برسائینگے۔ اس دوران یہ دیکھا گیا کہ پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار نوجوان کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پرعزم تھے۔جونہی عمران خان کا قافلہ جوڈیشل کمپلیکس کے قریب پہنچا تو آخر کار پولیس اور کارکنوں کے درمیان جنگ کا ساماحول پیدا ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پولیس اور کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی شروع ہوگئی۔ اس دوران پولیس نے اچانک شیلنگ شروع کردی اور کارکنان جو پہلے ایک جگہ پر جمع تھے اب دور دور تک سری نگر ہائی وے پر جمع ہوگئے۔ جس طرف کارکنان جاتے آنسو گیس کے شیل انکے پیچھے پیچھے گرتے جاتے۔ لیکن یہ کیا ۰۰۰ بتایا جاتا ہیکہ ہوا کا رخ پولیس کی جانب ہونے کی وجہ سے آنسو گیس کی زد میں کارکن کم جبکہ پولیس اور میڈیا ورکرز زیادہ تعداد میں آئے۰۰۰ اس دوران پی ٹی آئی ورکرز کو سنبھلنے کا موقع بھی مل گیا اور وہ شیل اٹھااٹھا کر واپس پولیس اہلکاروں کی طرف پھینکتے رہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ انہوں نے سڑک کے اطراف سے پتھر اٹھاکر پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ اس وجہ سے پولیس اہلکار سی نگر ہائی وے سے جوڈیشل کمپلکس کے سامنے سروس روڈ پر جانے پر مجبور ہوئے۔ پولیس کی جانب سے اچانک شیلنگ سے غصے میں آنے والے پی ٹی آئی کارکنوں کا غصہ ٹھنڈا نہ ہواتو انہوں نے پولیس کی گاڑیوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ بپھرے ہوئے کارکنوں نے پولیس وین کو ڈنڈے مار مار کر توڑا تو پھر ایک بس اور ڈپل کیبن گاڑی پر پتھراؤکیا۔ پولیس اور کارکنوں کے درمیان یہ سلسلہ ابھی تھما ہی نہیں بلکہ اس میں مزید اضافہ ہوگیا اور تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اپنے کارکنوں کو دوبارہ جمع کیا۔ اب کی بار کارکنوں نے پوری قوت سے پولیس پر حملہ کیا اور انہیں پیچھے دھکیلتے ہوئے جوڈیشل کمپلیکس کے دروازے تک پہنچ گئے۔ کارکنوں نے جوڈیشل کمپلیکس کے احاطے میں موجود پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں جوڈیشل کمپلیکس کے تین اطراف میں موجود کارکنوں پر شیلنگ کی گئی جس کے اثرات بتایا جاتا ہیکہ کمرہ عدالت تک محسوس کئے گئے۔پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں کے درمیان شیلنگ، اور ہنگامہ آرائی کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا۔ آخرکار بتایا جاتا ہیکہ عمران خان کو اسکا یہ فائدہ ہوا کہ ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ۰۰۰یہ تو اسلام آباد جوڈیشل کامپلیکس میں عمران خان کی حاضری کے وقت ہوا لیکن ادھر لاہور میں حالات ابتر ہوگئے۔ جب عمران خان اپنی رہائش گاہ زمان پارک سے نکلے تھے تو بظاہر سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا۔ بتایا جاتا ہیکہ صبح آٹھ بجے عمران خان کی گاڑی زمان پارک سے نکلی تو انکے ساتھ گاڑیوں کا ایک کاروان تھاجیسے ہی پی ٹی آئی چیئرمین کا قافلہ موٹر وے پر لاہور کی حدود سے نکلا تو اچانک زمان پارک کے حالات بدلنا شروع ہوگئے۔ پولیس نے کنٹینر لگاکر تمام راستوں کی ناکہ بندی کردی۔ بتایا جاتا ہیکہ یہ ناکہ بندی عام نہیں تھی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بتایا جاتا ہیکہ زمان پارک کے اطراف کے تقریباً تمام راستوں کو پولیس نے بند کردیا تھا اور پولیس کی بھاری نفری نے صف بندی میں زمان پارک کی طرف پیدل مارچ شروع کردیا۔ عمران خان کے گھر کے باہر کھڑے کارکنوں کو اس وقت پتا چلا جب پولیس قریب پہنچ چکی تھی۔ کارکنوں نے نعرے بازی شروع کی تو پولیس نے دھاوا بول دیا۔  چند ایک کارکنوں نے پتھر اور ڈنڈے چلانے کی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق چند ایک پٹرول بم بھی پھینکے گئے۔ پولیس نے البتہ دیکھتے ہی دیکھتے کارکنو ں کو قابو میں کرلیا۔ اس سے پہلے آنسو گیس کے شیل بھی پھینکے گئے۔ پولیس کا یہ آپرریشن اس لئے بھی پہلے سے مختلف تھا کہ اس بار ضلعی حکومت کا اینٹی انکروچمنٹ سیل اپنے بلڈوزرز کے ساتھ پولیس کے ہمراہ تھا۔ کارکنوں کو حراست میں لینے کے بعد اینٹی انکروچمنٹ سیل نے زمان پارک کے باہر لگی تمام رکاوٹوں بشمول کیمپس، مورچے، اور حفاظتی دیواریں سب کچھ مسمار کرنا شروع کردیا۔بتایا جاتا ہے کہ صرف وہی کارکن بچے تھے جو عمران خان کے گھر کے اندر تھے۔ پولیس جب عمران خان کے گھر کے دروازے پر پہنچی تو ان کارکنوں نے گیٹ بند کردیئے۔ پولیس نے کرین کی مدد سے گیٹ توڑا اور اندر داخل ہوکر عمران خان کے گھر کے مختلف حصوں کی تلاشی لی اور دعویٰ کیا کہ اندر سے بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ پولیس نے کافی تعداد میں اشیاء قبضے میں لے لئے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان نے زمان پارک میں کی گئی اس کارروائی کے خلاف عدالتی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ انکی شریک حیات بشریٰ بی بی زمان پارک میں تھیں اور اس دوران انکے غیاب میں پولیس کی یہ کارروائی قانوناً خلاف ہے۔ 

                    10/ اپریل 2022کو عمران خان کے دعوے کے مطابق انہیں امریکی سازش کے تحت حکومت سے مستعفی ہونا پڑا۔ اور موجودہ حالات لندن میں بنے پلان کا حصہ بتائے جارہے ہیں۔ عمران خان کی ایک آواز پر پاکستانی عوام کئی مرتبہ ملک کے کونے کونے سے نکل چکے ہیں اور اب تو گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران دنیا نے دیکھا کہ عمران خان کیلئے جان دینے والوں کی ایک فوج ہے۔ انہیں توشہ خانہ کیس میں گرفتار کرنے کی کوشش اصل میں انپر قاتلانہ حملہ کرنے کا ایک پلان تھا۔ 

                    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے چہارشنبہ 22/ مارچ کو اپنے ویڈیو لنگ کے ذریعہ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”حکومت خوف کا شکار ہے اور ہمیں ہر صورت راستے سے ہٹانا چاہتی ہے، حکومت اس مقصد کے حصول کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے“انہوں نے کہا کہ اس ساری صورتحال پر ہیومن رائٹس کمیشن اور عالمی اداروں کو خط لکھیں گے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے اور یہ لوگ انہیں مقدمات میں الجھانا چاہتے ہیں تاکہ وہ (عمران خان) الیکشن مہم نہ چلاسکیں۔ انہو ں نے کہا کہ ہمارے کارکنوں کے خلاف تاریخ کا بدترین کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ان تمام تر مظالم کے باوجود عوامی تعاون میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے کیونکہ اب حالات بدل چکے ہیں، آج قوم ماضی کی نسبت زیادہ سمجھ دار ہے۔عمران خان نے اپنے خطاب کے دوران کہاہے کہ اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں حاضری کے وقت’انہوں نے مجھے مرتضیٰ بھٹو کی طرح قتل کرنا تھا اور کہنا تھا کہ تصادم میں مارا گیا۔ ان کا یہ پلان تھا“۔ عمران خان اس خدشے کا اظہارکرتے ہوئے بتایا کہ انہیں پتا چلا ہے کہ شاید آج شام یعنی چہارشنبہ کو یہ آپریشن کریں۔ آئی جی پنجاب، آئی جی اسلام آباد، اور پیچھے انکے ہینڈلرز زمان پارک میں آپریشن کا پلان بنایا ہے؟؟۔ انکاکہنا ہیکہ آج کل میں اس پلان پر عمل کیا جاسکتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ ”مجھے پتا چلا ہے کہ مجھ پر جوڈیشل کمپلیکس میں عدالت میں نہ پہنچنے پر توہین عدالت کا کیس ہورہا ہے۔ مجھے راستے میں جگہ جگہ روکا گیا اور یہ چاہتے تھے میں اکیلا عدالت پہنچوں۔ لوگ خود نکل کر آگئے۔ پولیس کی نفری بڑھتی گئی۔ ہمیں اشتعال دلانے کے لئے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی“۔ 22/ مارچ کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا اب دیکھنا ہیکہ حکومتی اتحاد عمران خان کے خلاف کس قسم کی کارروائی کرنے کیلئے کوشش کرتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکمراں اتحاد، پولیس اور عدلیہ سب ہی عمران خان کی عوامی مقبولیت سے خوف کھائے ہوئے ہیں اور نہیں معلوم عمران خان کو واقعی راستے سے ہٹانے کے لئے ان پر قاتلانہ حملہ بھی کرایا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ عمران خان کا خود اس سلسلہ میں کہنا ہے۰۰۰ 10/ اپریل 2022کے بعد سے عمران خان نے جو عوامی مقبولیت حاصل کی ہے او رملک میں ایک سال کے دوران شہباز شریف کی حکومت نے معاشی طور پر جو انحطاط پر پہنچ چکی ہے، اشیاء ضروریہ ہوکہ خوردونوش و پٹرولیم ہر چیز کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ،پاکستانی عوام کو زندگی گزارنا دوبھر ہوگیا ہے۔ عمران خان ملک کے عوام کو خوشحال زندگی فراہم کرنے کیلئے ریاست مدینہ کے نہج پر لیجانا چاہتے تھے۔ پاکستانی عوام کو عالمی سطح پر ایک بہترین اور مضبوط قوم کی حیثیت دینا چاہتے تھے لیکن وہ سازش کا شکار ہوگئے اور اب جبکہ وہ پاکستان میں ایک ہیرو کی حیثیت حاصل کرچکے ہیں انہیں بچے، نوجوان، ضعیف مرد و خواتین سب ہی چاہتے ہیں اور حکومتی اتحاد اسی بات سے خوفزدہ ہیکہ انکی یہ مقبولیت عمران خان کی کامیابی اور حکومتی اتحاد کی ناکامی کا سبب بنے گی۔ اسی لئے انہیں اتنے کیسوں میں الجھادیا جارہا ہے کہ وہ عدالتی کارروائیوں میں ہی مصروف و پریشان ہوجائیں۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے عدالیہ کے سامنے کہہ دیا ہیکہ انہیں مختلف الزامات کے تحت کیسوں میں الجھانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ وہ انتخابی عمل دخل سے دور رہ سکیں ۰۰۰ 

                    25/ مارچ کو پاکستان تحریک انصاف کا مینار پاکستان میں جلسہ عام تھا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے انکے 1600کارکن پکڑئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جتنا ظلم کررہی ہے اتنا لوگ باہر نکلیں گے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا ہے کہ حکومت نے پورے ملک کو کنیٹنرز لگاکر راستے جام کردیئے ہیں،لیکن قوم تمام رکاوٹیں توڑ کر جلسے میں پہنچے گی۔ ادھر وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی صدر عارف علوی کے وزیر اعظم شہباز شریف کے نام لکھے گئے خط کے جواب میں کہا ہے کہ ”صدر اپنے آئینی دائرے اور اوقات میں رہیں“۔ جمعہ کو وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق رانا ثناء اللہ نے کہا کہ صدر عمران خان سے دہشت گردی کرنے کا جواب لیں اور ان کے حکم پر ’کٹھ پتلی‘ نہ بنیں۔واضح رہے کہ ایوان صدر کی جانب سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق صدر عارف علوی نے وزیر اعظم شہباز شریف کو خط میں لکھا ہیکہ ’توہین عدالت سمیت مزید پیچیدگیوں سے بچنے کیلئے وزیر اعظم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے متعلقہ حکام کو پنجاب اور خیبرپختونخوا میں مقرر وقت میں عام انتخابات کرانے کیلئے الیکشن کمیشن کی معاونت کی ہدایت کریں‘۔ اب دیکھنا ہیکہ وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے صدر ِمملکت عارف علوی کو اوقات میں رہنے کی بات پر عوام اور اپوزیشن کس قسم کے ردّعمل کا اظہار کرتے ہیں ۰۰۰

ایران کے اسکولوں میں طلبہ کو زہر دیئے جانے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ

 عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

ایران کے اسکولوں میں طلبہ کو زہر دیئے جانے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ 

 



                   ایران میں معصوم بچوں کو زہر دینے کا معاملہ طول پکڑتا جارہا ہے، زہر دینے کے واقعات عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہے ہیں اور مغربی ممالک میں آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پارلیمانی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے رکن محمد حسن اسفاری نے پیر6/ مارچ کو آئی ایس این اے نیوز ایجنسی کو بتایاکہ ملک کے 25صوبوں کے تقریباً 230اسکول بچوں کو زہر دیئے جانے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اسکول کی 5000سے زائد لڑکیاں اور لڑکوں کو زہر دیا گیا۔ زہر کی قسم اور وجہ جاننے کے لے مختلف ٹیسٹ کئے جارہے ہیں، ابھی تک استعمال کئے جانے والے زہر کی قسم کے حوالے سے کوئی خاص معلومات نہیں مل سکی ہیں۔ مقدمات کی تحقیقات کرنے والے ایک قانون ساز کے مطابق نومبر کے آخر سے  اب تک ایرانی ا سکولوں کے ان پانچ ہزار سے زائد بچوں میں زیادہ تر طالبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پراسرار زہر خورانی کے واقعات نے ایران کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس سے غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور حکام سے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بتایا جارہا ہے کہ درست حجاب نہ کرنے کی وجہ سے 22 سالہ ایرانی کرد مہسا امینی کی گرفتاری اور حراست میں ہلاکت کے بعد ملک گیر مظاہروں کے آغاز کے فوراً بعد بچوں کو زہر دینے کا پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا۔اس کے بعد سے زہر دیئے جانے کے واقعات میں اضافہ ہوتا گیا اور ایران کے درجنوں اسکولوں کو نشانہ بنایا گیا۔ زہر کی نوعیت کس طرح کی ہے اس سلسلہ میں تفصیلات کا انکشاف تو نہیں ہوا البتہ ا سکولوں کے احاطے میں 'ناخوشگوار' بدبو پھیلتی ہے جس کے بعد طلباء میں سانس کی قلت سے متلی اور چکر آنے کی علامات ظاہر ہوتی ہیں، کچھ طلبہ کے ہسپتال میں علاج کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔

                    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے زہر دیئے جانے والے واقعات پر کہا کہ ’ایران میں اسکولوں کی طالبات کو زہر دینا ناقابل معافی جرم ہے۔‘آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایران کے سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’حکام طلبہ کے اس (زہر والے) مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دیں۔ یہ ناقابلِ معافی جرم ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’اس جرم کی پشت پناہی کرنے والے افراد کو سخت سزا دی جانی چاہیے۔‘ اس حوالے سے بعض سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ یہ حملے لڑکیوں کی تعلیم کے مخالف مذہبی گروپس کی جانب سے ہو سکتے ہیں۔طالبات کو زہر دینے کے واقعات کا آغاز گزشتہ برس نومبر میں ایران کے وسطی شہر قْم سے ہوا اور پھر یہ ملک کے 31 میں سے 25 صوبوں میں پھیل گیا۔اس کے بعد کچھ والدین نے اپنی بچیوں کو اسکولوں سے نکال دیا اور انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے۔اب دیکھنا ہیکہ حکومتِ ایران ان زہر دینے والے مجرموں کو کس طرح پکڑنے کامیاب ہوتی ہے اور انہیں کس طرح کی سزا دی جاتی ہے۔اگر ان تشویشناک واقعات کے خاطیوں کوجلد از جلد گرفتارنا کرنے کی صورت میں ایرانی حکومت کے خلاف ملک و بیرون ملک انتشاری کیفیت میں مزید اضافہ ہوگا۰۰۰

کیا واقعی ایران اتنا طاقتور ترین ملک ہے جو روس کو ہتھیار پہنچا رہا ہے

                    روس اور ایران کے درمیان تعلقات نے پھر عالمی سطح پر موضوعِ بحث بنادیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف کسی نہ کسی طرح کا دباؤ برقرار رکھا جائے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسکائی نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے خفیہ طور پر روس کو یوکرین جنگ کیلئے کروڑوں گولیاں اور لاکھوں گولے فراہم کیے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع نے چینل کو بتایا کہ جنوری میں روسی پرچم والے دو جہاز بحیرہ کیسپین کے پار ایران سے روس گئے جن میں تقریباً 100 ملین گولیاں اور توپ خانے کے تین لاکھ گولے، راکٹ، مارٹر گولہ بارود، کیولر جیکٹ اور ہیلمٹ تھے۔ روس نے اس سارے اسلحے کی ادائیگی رقمکی صورت میں کی ہے۔ یہ خبر ان الزامات کے بعد سامنے آئی ہے کہ گزشتہ سال تہران نے ماسکو کو ہزاروں مسلح ڈرون فراہم کیے تھے، جو یوکرین میں استعمال ہو چکے ہیں۔اسکائی نیوز کے ذرائع کے مطابق دو جہازوں کے مالکان کی شناخت موسیٰ جلیل اور بیگی کے نام سے ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہیکہ چینل کی طرف سے تبصرہ کیلئے رابطہ کیا گیا تھا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے دو مال بردار بحری جہاز یوکرین کے جنگی زون میں بھیجے، جن میں تقریباً 200 نئے شپنگ کنٹینرز تھے جن میں یوکرین میں روسی لڑائی کیلئے گولہ بارود تھا۔ان خبروں میں کتنی سچائی ہے یہ تو آنے والا وقت بتائے گا لیکن اتنا ضرور ہے کہ ایران دشمن ممالک کے لئے پاور فل اور خطرناک ہے۔اسی کے پیشِ نظر ایران کو جتنا ممکن ہوسکتا ہے معاشی اعتبار سے کمزور کرنے کی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے۰۰۰

سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان مضبوط تعلقات کے لئے وزرائے خارجہ کی ملاقات

                     سعودی عرب کی شاہی حکومت جس طرح مملکت کو عالمی سطح پر سب سے نمایاں کرنے کیلئے کوشاں نظر آتی ہے۔ ویژن 2030کے تحت ولیعہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان مملکتِ سعودی عرب میں جہاں اپنی عوام (مرد و خواتین) کو روزگار سے مربوط کرنے کیلئے مختلف ترقیاتی منصوبوں کو عملی شکل دے رہے ہیں، وہیں مملکت کے ساتھ دنیا کو معاشی اعتبار سے جوڑنے اور مضبوط بنانے کیلئے سرمایہ کاری کے وسیع تر ذرائع پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی طرح سعودی شہریوں کو دوسرے ممالک میں سرمایہ کاری کے مواقع بھی فراہم کررہے ہیں۔ عالمی سطح پر کسی بھی ملک سے دشمنی کو بڑھاوا دینے کے بجائے دوستی کو ترجیح دیتے ہوئے انکے ساتھ تعلقات بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔اسی سلسلے میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے پیر6/ مارچ کو لندن میں اپنے برطانوی ہم منصب جیمز کلیورلی سے ملاقات کی ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ اس ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان تاریخی شراکت داری کے پہلووں اور تمام شعبوں میں انہیں مضبوط بنانے اور ترقی دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے اثرات علاقائی اور بین الاقوامی پر ہونے والے اثرات اور اس سلسلے میں کی جانے والی پیشرفت اورکوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیاگیا۔انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے، موجودہ رابطہ کاری اور مشاورت کی سطح کو بڑھانے کے مواقع پر بھی بات چیت کی گئی۔اس ملاقات کے دوران برطانیہ میں متعین سعودی سفیر شہزادہ خالد بن بندر نے بھی شرکت کی۔ 

امیر ممالک کی جانب سے غریب ممالک کا بلند شرح سود کے ذریعہ شکار


                     غریب ممالک کو امیر ملکوں کا بلند شرح سود کے ذریعہ شکار بنانے کا مسئلہ اب عالمی شکل اختیار کرگیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیوگتریس نے دنیا کے امیر ملکوں کو غریب ممالک کے شہریوں کی مشکل ہوتی زندگی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امیر ممالک اور توانائی کی بڑی کمپنیاں غریب ملکوں کا شرح سود بڑھاکر ”شکار“ کررہی ہیں۔ہفتہ کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل گوتریس نے کہا کہ دنیا میں 40سے زائد ایسے ممالک ہیں جو انتہائی غربت کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امیر ملکوں کو سالانہ 500ارب ڈالر کے ساتھ دوسروں کی مدد کرنا چاہیے کیونکہ یہ ملک کیپٹل مارکیٹ سے بلند شرح سود کے باعث باہر رکھے جارہے ہیں اور توانائی کی بڑی کمپنیاں ریکارڈ منافع کمارہی ہیں۔ انتونیو گتریس نے اسے ”شیطانی چکر“ قرار دیا جس میں غریب ملکوں کی معیشت پھنس چکی ہے اور اس کے باعث ان ممالک میں صحت اور تعلیم کو بہتر بنانے کی کوشش میں رکاوٹ آتی ہے۔سربراہی اجلاس کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر انتونیو گوتریس نے کہا کہ غریب ملکوں کی ’معاشی ترقی ایک مشکل مرحلہ ہے ایسے وقت میں جب وسائل کی کمی ہے، قرضے بڑھ رہے ہیں اور عالمی وباکورونا سے نمٹنے میں ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے غیرمنصفانہ ردعمل کا سامنا ہے۔‘ غریب ترین ممالک نے طویل عرصے تک شکایت کی کہ انہیں کووِڈ ویکسین میں اْن کا مناسب حصہ نہیں ملا۔ امیر ملکوں کی توجہ یورپ اور شمالی امریکہ پر مرکوز تھی۔ دنیا کے 46 سب سے کم ترقی یافتہ ممالک کا سربراہی اجلاس عام طور پر ہر 10 سال بعد ہوتا ہے لیکن 2021 کے بعد سے کورونا وائرس ووبائی امراض کی وجہ سے اس کے انعقاد میں دو بار تاخیر ہوئی ہے۔دوحہ میں منعقدہ اجلاس میں دو غریب ترین ممالک افغانستان اور میانمار شریک نہیں ہوئے کیونکہ ان ممالک کی حکومتوں کو اقوام متحدہ کے ارکان تسلیم نہیں کرتے۔واضح رہے کہ اس جلاس میں دنیا کی کسی بھی بڑی معیشت کے رہنما نے شرکت نہیں کی۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث تباہی کے شکار ممالک کے لیے کچھ نہیں کیا گیا اور جو امداد دی گئی وہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔’ایندھن سے منسلک کمپنیاں بہت زیادہ منافع کما رہی ہیں جبکہ دنیا میں لاکھوں افراد دو وقت کے کھانے کے لیے بھی کچھ نہیں۔‘گتریس نے کہا کہ غریب ترین قوموں کو ’ڈیجیٹل انقلاب‘ میں پیچھے چھوڑا جا رہا ہے اور یوکرین کی جنگ نے خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔اب دیکھنا ہے کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی جانب سے کئے جانے والی تقریر کا امیر ممالک کے رہنماؤں پر کیا اثر پڑتا ہے اور ان میں سے ایسے کتنے امیر ممالک ہونگے جو اپنے ان غریب ممالک کی بہتری کیلئے کچھ کرنے کا جذبہ بیدار ہوگا۰۰۰

  ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف سعودی عرب اور عرب ممالک کا کلیدی رول 

ماحولیاتی تبدیلیوں نے عالمی سطح پر تشویشناک حالات پیدا کردیئے ہیں۔ ان حالات کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو اسکے ذمہ دار ترقی یافتہ او رخطرناک ہتھیاروں کا استعمال کرنے والے ممالک ہی ہوسکتے ہیں۔ موجودہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور تشویشناک حالات کو دیکھتے ہوئے دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک کی نیندیں اڑگئیں ہیں۔ زمینی اور آسمانی آفات کو جانچنے اور اس پرقابو پانے کی کوششیں ہورہی ہیں لیکن کیا اس میں انہیں کامیابی ہوسکتی ہے؟ خیر۔ امریکی نمائندہ خصوصی برائے ماحولیات جان کیری نے کہا ہے کہ موسمیاتی اور سمندری تبدیلیوں کے باعث ماحول کے لئے خطرات برقرار ہیں تاہم اس حوالے سے انہوں نے اقوام متحدہ کی کاوشوں اور عرب ممالک کی مدد کو سراہا۔عرب نیوز کے مطابق 1995 سے اقوام متحدہ کے تحت ہر سال ماحولیاتی کانفرنس ’کوپ‘ کا انعقادعمل میں لایا جاتا ہے جس میں سے چار کانفرنسز عرب ممالک میں منعقد ہو چکی ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ اس سال کوپ 28 دبئی میں منعقد ہوگی۔جان کیری نے اقوام متحدہ کے علاوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی خطے کے دیگر ممالک کی جانب سے ملنے والی حمایت کو سراہا۔’گزشتہ سال متحدہ عرب امارات میں ماحول اور حیاتیاتی ایندھن کے مسائل پر پہلی علاقائی کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس میں 11 علاقائی ممالک نے شرکت کی تھی۔‘جان کیری نے کہا کہ کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ بھی جاری ہوا تھا جس میں عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری کی سطح پر رکھنے، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی اور 2030 تک کرنے والے اقدامات پر زور دیا گیا۔’عرب امارات خود بھی اپنی موجودہ کوششوں کا ایک بہت بڑا حصہ قابل تجدید ذرائع کی تحقیق اور ترقی پر خرچ کر رہا ہے۔‘جان کیری نے کہا ’میں جانتا ہوں کہ سعودی عرب ایک بہت بڑا سولر فیلڈ تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو گرین ہائیڈروجن پیدا کرے گا۔ جبکہ بحرین، کویت اور دیگر ممالک بھی اس حوالے سے سوچ رہے ہیں۔‘امریکی نمائندہ خصوصی نے ماحولیاتی خطرات کا ذکر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مزید کرنے کی ضرورت ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں کی حقیقت ماضی کی تہذیبوں کے مٹنے کا بھی سبب بنی۔انہوں نے کہا کہ ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں دنیا نے اہم موقعے کھوئے۔’درجہ حرارت بڑھنے کے باعث سمندی برف غائب ہو رہی ہے، آلودگی اور درجہ حرارت میں اضافے کے باعث حالات تشویشناک رخ اختیار کرتے جارہے ہیں۔‘جان کیری نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے معاملے پر عرب ممالک کی دلچسپی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے ممالک کی شمولیت انتہائی اہم ہے جو تیل اور گیس سے واقف ہیں اور اپنی کمیونٹی میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔

ٌٌٌٌ****



ہندوستان کوG-20 کی صدارت۔نئی دہلی میں وزرائے خارجہ میٹنگ سے وزیر اعظم کا خطاب



عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

ہندوستان کوG-20 کی صدارت۔نئی دہلی میں وزرائے خارجہ میٹنگ سے وزیر اعظم کا خطاب


                    ہندوستان کو G-20ممالک کی صدارت ہم ہندوستانیوں کے لئے مسرت کا باعث ہے کیونکہ دنیا کے یہ اہم ترین ممالک ہیں جن کی ساکھ بین الاقوامی سطح پر نمایاں نظر آتی ہے۔ ان ممالک کا ہندوستان میں جمع ہونا اور پھر یہاں سے کسی بھی مسئلہ کے حل کیلئے لائحہ عمل پر بات چیت کرنا اور اُسے حتمی شکل دینا یا پھر دنیا بھر میں ہونے والے حالات پر غور و خوص کرنا اور اس پر کوئی فیصلہ کرنا تاریخی حیثیت رکھتا ہے اور یہ سب ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں اس سال منعقد ہونے جارہا ہے تو یہ ہم ہندوستانیوں کیلئے ایک اعزاز ہی ہوگا۔ اس سال کے اختتام تک G-20سمّت ہونے جارہی ہے اس سے قبل یکم/ اور 2/ مارچ کو  G-20وزرائے خارجہ میٹنگ ہندوستان کی صدارت میں راشٹرپتی بھون کلچرل سنٹر میں منعقد ہوئی۔وزرائے خارجہ کے اس اجلاس سے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستان کی G-20صدارت عالمی برادری کو امن و امان اور تعمیر اور ترقی کی آواز دینے کی طرف ایک پہل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی گروپ اپنے فیصلوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں کو سنے بغیر عالمی قیادت کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مالیاتی بحران، موسمیاتی تبدیلی، وبائی بیماری، دہشت گردی اور جنگیں واضح طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ عالمی گورننس عالمی جنگ کے بعد کے عالمی طرز حکمرانی کے مقاصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ترقی پذیر ممالک اپنے شہریوں کیلئے خوارک اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کے دنیا کے کئی ترقی پذیر ممالک اور غریب ممالک، امیر ممالک کی وجہ سے گلوبل وارمنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ہمیں یہ بھی تسلیم کرناچاہیے کہ ان ناکامیوں کے المناک نتائج سب سے زیادہ ترقی پذیر ممالک کو بھگتنا پڑرہے ہیں۔ برسوں کی ترقی کے بعد ہم آج پائیدار ترقی کے اہداف پر پیچھے ہٹنے کے خطرے میں ہیں۔ وزیر اعظم نے مندوبین سے کہا کہ ”ہندوستان گاندھی جی اور بدھ کی سرزمین ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ آپ ہندوستان کی تہذیبی اقدار سے تحریک حاصل کرینگے۔ آپ اس بات پر توجہ مرکوز کریں کہ ہمیں کس چیز نے تقیسم نہیں کیا بلکہ اس بات پر توجہ مرکوز کریں کہ جو ہمیں متحد کرتا ہے، وہ ہم سب کو مزید متحد اور مضبوط کرے۔ G-20یا گروپ آف 20دنیا کی بڑی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر معیشتوں کا ایک بین الاقوامی فورم ہے۔ اس کے اراکینعالمی جی ڈی پی کا تقریباً 85فیصد، عالمی تجارت کا 75فیصد اور دنیا کی تقریباً دو تہائی آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔وزرائے خارجہ میٹنگ میں شرکت کیلئے آنے والوں میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، چین کے وزیر خارجہ کن گینگ، انڈونیشیا کے وزیر خارجہ ریٹنومارسودی، ہسپانوی وزیر خارجہ جوزمینوئل الباریس بیونو، کروشین کے وزیر خارجہ گورڈن گرلک ریڈ مین، متحدہ عرب امارات کے امور خارجہ اور بین الاقوامی تعاون کے وزیر شیخ عبداللہ بن زاید النہیان، مصر کے وزیر خارجہ سامح شکری، امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن، ورلڈ ٹریڈ آگنائزیشن (WTO)کے ڈائرکٹر جنرل نوکوزی اوکونجولیویلا وغیرہ شامل ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ وزرائے خارجہ کی اس میٹنگ میں کم و بیش 40وفود نے شرکت کی۔ G-20گروپ ممالک میں ارجنٹائن، آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، چین، فرانس، جرمنی، ہندوستان، انڈونیشا، اٹلی، جاپان، جمہوریہ کوریا، میکسیکو، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، ترکیہ، برطانیہ، امریکہ اور یورپی ممالک شامل ہیں۔G-20وزرائے خارجہ کے افتتاحی اجلاس کے شرکاء سے ہندوستانی وزیر خارجہ مسٹر جے شنکر نے خطاب کیا۔ اجلاس کے آغاز پر 6/ فبروری کو ترکیہ اور شام میں آنے والے تباہ کن زلزلے میں جاں بحق ہونے والوں کیلئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ ترک وزیر خارجہ نے ترکیہ اور شام میں آنے والے  زلزلے کے بعدمختلف ممالک سے بروقت امداد ترکیہ بھیجنے پر تمام وزرائے خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ اس موقع پر چین اور روس کی جانب سے مسودے میں یوکرین کی جنگ کے حوالے سے مخالفت کی گئی۔


سعودی عرب میں ویژن 2030کے تحت یوگا کو خصوصی اہمیت ۰۰۰ 

                    مملکت ِ سعودی عرب کی شاہی حکومت ویژن 2030کے تحت معیشت کو مضبوط و مستحکم کرنے کے لئے صرف تیل کی دولت پر انحصار کرنے کے بجائے سیر و سیاحت اور دیگر کئی ایک شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پر عملی اقدامات کرتے ہوئے عوام کو روزگار سے مربوط کرنے کی سعی میں مصروفِ عمل ہے۔بین الاقوامی سطح پر دشمنی کے بجائے ہر ایک ملک کے ساتھ خوشگوار تعلقات بنائے رکھنے کیلئے تجارتی سرگرمیوں پر خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں، اسی طرح ملک میں سرمایہ کاری کیلئے بھی بیرونی ممالک کی کمپنیوں کو بہتر سے بہتر مواقع فراہم کئے جارہے ہیں۔ جس طرح شاہی حکومت معیشت کے استحکام کے لئے مصروفِ عمل ہے اسی طرح صحتِ جسمانی کیلئے کوشاں دکھائی دیتی ہے۔ سعودی حکومت اسپورٹس کے فروغ کیلئے بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے کیونکہ اس سے جہاں جسمانی نشوو نما اور صحت و تندرستی کے ساتھ عوام خوشحال زندگی بسر کرینگے،وہیں دیگر ممالک کے ساتھ عالمی سطح پر کھیل کود کے مواقع فراہم کئے جائیں تو اس سے بھی ملک کی معیشت پر مثبت اثر پڑے گا اور دوستانہ تعلقات میں مزید مضبوطی ہوسکتی ہے۔ گذشتہ چند ماہ سے سعودی عرب میں یوگا پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے اسی سلسلہ میں ذرائع ابلاغ کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ سعودی یوگا کمیٹی کی صدر نوف المروعی نے کہا ہے کہ یوگا کے سپورٹ اورفروغ کیلئے آئندہ چند مہینوں میں سعودی عرب کی بڑی یونیورسٹیوں کے ساتھ کئی معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔عرب نیوز کے مطابق یہ اعلان ریاض میں وزارتِ تعلیم کے تعاون سے سعودی یونیورسٹیزا سپورٹس فیڈریشن کے زیراہتمام ’اسپورٹس میں مملکت کے ویژن کی سپورٹ میں یونیورسٹی اسپورٹس کا کردار‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک فورم کے دوران کیا گیا۔انٹرنیشنل یونیورسٹیز اسپورٹس فیڈریشن کے صدر لیونز ایڈر اور انٹرنیشنل یونیورسٹی اسپورٹس فیڈریشن کے ڈائریکٹر جنرل پاؤلو فریرا کی قیادت میں یونیورسٹی اسپورٹس کے متعدد ماہرین اور بین الاقوامی رہنماؤں نے اس فورم میں شرکت کی۔سعودی یوگا کمیٹی کی صدر نوف المروعی نے یونیورسٹیز میں ا سپورٹس کی ترقی اور فروغ کے عنوان سے منعقدہ چوتھے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’کمیٹی یونیورسٹیز میں یوگا کو متعارف کرانے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’یوگا اپنے پریکٹیشنرز کو جسمانی اور ذہنی تندرستی کیلئے بہت سے فوائد فراہم کرتا ہے۔ ویژن 2030 کے اہم ستونوں میں سے ایک اسپورٹس کی سرگرمیوں میں شرکت کو بڑھانا ہے۔‘ نوف المروعی نے وضاحت کی کہ ’یوگا صرف مراقبہ اور آرام نہیں ہے جیسا کہ کچھ لوگ مان سکتے ہیں، اس میں آسانا پوسچر کی مشق، پرانیاما سانس لینے کی تکنیک، بندھاس کے پٹھوں پر کنٹرول (اور) پھر دھیان اور یوگا نیدرا مراقبہ اور آرام شامل ہے۔‘

                    سعودی یوگا کمیٹی کی صدر نے مزید کہا کہ ’کمیٹی کا مقصد یوگا کی تمام اقسام میں عام طور پر یا یوگاسنا اسپورٹس میں ممتاز یوگا پریکٹیشنرز کی صلاحیتوں کو دریافت کرنا، ان کی صلاحیتوں کو نکھارنا، مقامی اور بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں مملکت کی نمائندگی اور شرکت کیلئے ان کی مدد کرنا ہے۔‘اب دیکھنا ہے کہ یوگا کو مملکتِ سعودی عرب میں عوام کتنا پسند کرتے ہیں کیونکہ مذہبِ اسلام میں اللہ کی عبادت کے لئے سب سے پہلے جو حکم دیا گیا ہے وہ نماز کا ہے اور نماز کے ذریعہ جہاں خالقِ حقیقی کی عبادت ہوتی ہے وہیں پرنماز انسانی صحت کیلئے سب سے بہترین ذریعہ ہے۔ یعنی نماز میں انسان کے اندرونی و بیرونی اعضاء کی ایسی ورزش ہوتی ہے جو کسی اور عبادت یا ورزش میں ممکن نہیں۔ سانس کی بھی بیماری ہوکہ بینائی کا مسئلہ،غرض کہ ہر ایک عضوکی سلامتی کیلئے نماز سب سے بہترین ورزش ہے۔جو شخص پورے خشوع و خضوع اور اطمینان کے ساتھ پاکی و صفائی کا مکمل خیال رکھتے ہوئے پنچ وقتہ نمازکااہتمام کرتاہے اور نماز میں تمام سنتو ں،فرائض، واجبات، نوافل کے مطابق تکبیر،قیام، رکوع، سجوداور قاعدے ادا کئے جاتے ہیں، ایسے لوگ ہی صحتمند زندگی گزارتے ہوئے خالق حقیقی سے جاملتے ہیں۔ آج جس طرح کا ماحول مساجد اور گھروں میں دکھائی دے رہا ہے اکثر و بیشتر ضعیف حضرات اور بعض ادھڑ عمر کے افراد کرسیوں پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی کوشش کررہے ہیں ایسے لوگمزید جسمانی بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔ کاش کے سعودی حکومت نماز کی اہمیت کو اجاگرکرنے کیلئے عالمی سطح پر عملی اقدامات کرتی ۰۰۰!

حرمین شریفین میں زائرین کو سال کے بارہ مہینے 50زبانوں میں رہنمائی کی سہولت

                    شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولیعہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے حرمین شریفین میں دنیا بھر سے آنے والے مسلمانوں کے لئے خصوصی انتظامات قابلِ تحسین ہیں۔ صفائی ستھرائی کا نظم ہوکہ نظم و ضبط کا مسئلہ۰۰۰ جو خوبیاں اور بہترین انتظامات حرمین شریفین میں دیکھائی دیتے ہیں وہ شاہد ہی دنیا بھر میں اتنے بڑے پیمانے پر 24گھنٹے،سال کے بارہ مہینے ممکن نہیں۔ ماہِ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ۰۰۰ اور پھر اسکے فوراً بعد حج سیزن کا آغاز ہوا جاتا ہے ۰۰۰ مملکتِ سعودی عرب کی انتظامیہ دنیا بھر سے آنے والے عمرہ و مناسک حج کی ادائیگی کیلئے آنے والے زائرین کیلئے جس طرح سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے اسے عالمی سطح پر سراہا جاناچاہیے۔ ماہِ صیام اور حج کے ایام میں جس طرح حرمین شریفین اور مساجد و دیگر عام اورمقامات مقدسات پر مہمانِ نوازی کی جاتی ہے ایسا شاہد ہی کسی اور ملک میں دیکھنے کو ملتا ہے۔دنیا بھر سے آنے والے زائرین کو انکی اپنی مادری زبانوں میں سمجھنے اور سمجھانے کیلئے شاہی حکومت وسیع تر خدمات انجام دے رہی ہے۔ عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی عرب میں حرمین شریفین انتظامیہ 50 زبانوں میں زائرین کی رہنمائی کر رہی ہے۔ مسجد الحرام کے مختلف حصوں میں ترجمان زائرین کی خدمت پر 24 گھنٹے مامور کیے گئے ہیں۔سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق حرمین شریفین انتظامیہ کے سیکریٹری ادارہ ترجمان نے کہا ہے کہ ’مسجد الحرام میں دو طرح سے ترجمے کا کام انجام دیا جا رہا ہے۔ زائرین کو مسجد الحرام کے اندر اور باہر براہ راست رہنمائی خود ان کی اپنی زبان میں دی جا رہی ہے۔ترجمان کے مطابق ’مسجد الحرام میں وعظ کی مجلسوں اور خطابات نیز علمی لیکچرز کے ترجمے بھی مہیا کیے جا رہے ہیں۔‘ترجمان کا کہنا ہیکہ ’منارت الحرمین پلیٹ فارم اور ایف ایم کے ذریعے بھی ترجمہ شدہ خطباتِ ہدایات اور لیکچرز کے ترجمے پیش کیے جا رہے ہیں۔‘بتا یا گیا ہے کہ ’نئے ہجری سال کے پانچ ماہ کے دوران ان تراجم سے 10 ملین افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں۔‘حرمین شریفین انتظامیہ کی ہر ممکن کوشش ہے  کہ زائرین کو مسجد الحرام کے اندر اور باہر استقبالیہ مراکز پر بھی ان کی اپنی زبان میں رہنمائی مل سکے۔سکیورٹی اداروں، وزارت حج وعمرہ اور سعودی ہلال احمر کے ساتھ رابطے زائرین کی اپنی زبان میں فراہم ہوں۔عربی زبان سمجھنے سے قاصر افراد  کو مقدس و تاریخی مقامات کے بارے میں معتبر معلومات زائرین کی اپنی زبان میں مہیا کئے جارہے ہیں اور یہ سہولت سال کے بارہ مہینے 24 گھنٹے مہیاکی جارہی ہے۔ اسکے علاوہ مملکت میں راستوں کی نشاندہی اور دیگر اہم معلومات کیلئے کئی زبانوں کے ذریعہ رہنمائی کی جاتی ہے۔ 

سعودی عرب کی جانب سے یوکرین کو 400ملین ڈالر کی اضافی امداد

                    روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ابھی جاری ہے۔ حالات دن بہ دن بگڑتے جارہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہیکہ یہ لڑائی روس اور یوکرین کے درمیان نہیں بلکہ امریکہ اور روس کے درمیان ہے کیونکہ روس یوکرین پر بہت جلد قبضہ حاصل کرلینے کے خواب دیکھ رہا لیکن امریکہ کی جانب سے یوکرین کو زبردست امداد نے یوکرین کو روس کے آگے سرنگوں ہونے سے فی الحال بچا لیا ہے۔ امریکہ کی وجہ سے یوکرین کو اسکے تائیدی ممالک کی امداد بڑے پیمانے پر پہنچ رہی ہے۔ اسی سلسلہ میں سعودی شاہی حکومت کی جانب سے بھی یوکرین کے مظلوم عوام کیلئے امدادی سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ اس سلسلہ میں  سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کیئف میں گذشتہ دنوں اپنے ہم منصب اورپھر یوکرینی صدر ر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان امدادی معاہدوں پر دستخط کئے گئے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ سعودی عرب اور یوکرین نے 400 ملین ڈالر کی اضافی امداد کے حوالے سے مفاہمتی یادداست اور معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔سعودی وزیر خارجہ اور یوکرین کے صدر کے دفتر کے ڈائریکٹر کی موجود گی میں دستخط معاہدے پر دستخط کیے گئے۔واضح رہے کہ یہ معاہدہ ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانبسے اکتوبر 2022 میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کے دوران یوکرین کو ایک اضافی انسانی امدادی پیکیج کی فراہمی کے وعدے پر عملدرآمد ہے۔معاہدے پر شاہ سلمان مرکز برائے امداد اور انسانی خدمات ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ اور یوکرین کے نائب وزیراعظم نے دستخط کیے۔سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق معاہدے کے تحت یوکرین کے لیے 100 ملین ڈالر کی انسانی امداد کی فراہمی کے لیے مشترکہ تعاون کا پروگرام چلایا جائے گا۔علاوہ ازیں سعودی ترقیاتی فنڈ یوکرین کو 300 ملین ڈالر کی گرانٹ فراہم کرے گا۔معاہدے اور مفاہمتی یادداشت پر دستخط اس بات کی علامت ہے کہ سعودی حکومت، سماجی و اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے اور انسانی مسائل کا بوجھ کم کرنے کے سلسلے میں یوکرین کے دوست عوام کی مدد کے حوالے سے پرعزم ہے۔اس موقع پر شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ’سعودی عرب بحران کے سیاسی حل کے لیے تمام بین الاقوامی کوششوں کا پر زور حامی ہے۔ مذاکرات کے ذریعے بحران کے حل کی سنجیدہ کوششوں، شہریو ں کے تحفظ اور بحران کی شدت کو کم کرنے میں معاون ہر اقدام کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

ترکیہ میں تباہ کن زلزلہ متاثرین کیلئے گھروں کی تعمیر کا آغاز۰۰۰ 

                     ترکیہ کے صدر رجب طیب اردغان نے گذشتہ ماہ آئے شدید زلزلے کے متاثرین کو ہمت و حوصلہ دیتے ہوئے وعدہ کیا ہے کہ ایک سال کے اندر متاثرین کیلئے گھروں کی تعمیر نوہوجائے گی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر رجب طیب اردغان کے وعدے کے مطابق  تباہ کن زلزلے کے بعد گھروں کی تعمیر نو کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ 6/ فروری کو آنے والے زلزلے سے ترکیہ میں ایک لاکھ 60 ہزار عمارتیں بری طرح متاثر ہوئیں جن میں پانچ لاکھ 20 ہزار اپارٹمنٹس کے رہائشی اب عارضی پناہ گاہوں میں ہیں۔ترکیہ حکومت کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’کئی پراجیکٹس کے لیے ٹینڈرز اور کنٹریکٹ کیے گئے ہیں۔ یہ عمل بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور حفاظتی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔‘حکام کا کہنا ہے کہ بے گھر افراد کیلئے اضافی خیمے بھیجے گئے ہیں، لیکن متاثرین نے شکایت کی ہے کہ اْن کو ٹینٹس کی کمی کا سامنا ہے۔زلزلے سے 
بڑے پیمانے پر عمارتوں کے گرنے کے بعد حکام کی جانب سے تعمیراتی معیار کو نظرانداز کرنے پر صدر اردغان کی حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔حکومت کی جانب سے کئی بلڈرس کو ناقص معیارِ تعمیر کے سلسلہ میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ترکیہ حکومت کے ابتدائی منصوبے کے مطابق دو لاکھ اپارٹمنٹس اور دیہاتوں میں 70 ہزار مکانات تعمیر کیے جانے ہیں جن پر 15 ارب ڈالر کی لاگت بتائی گئی ہے۔امریکہ کے جے پی مورگن بینک کے تخمینے کے مطابق ترکیہ میں زلزلہ متاثرین کی رہائش گاہوں اور انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو کے لیے 25 ارب ڈالر درکار ہونگے۔

زلزلے کے بعد شامی صدربشارالاسد سے عرب پارلیمنٹرینز وفد کی ملاقات

دنیا کے حالات ہرروز بدل رہے ہیں آفات الٰہی کے بعد دشمنی دوستی میں تبدیل ہورہی ہے۔ ایسا ہی کچھ ملک شام کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ سینئر عرب پارلیمنٹرینز کا ایک وفد اتوار کو شام کے صدر بشارالاسد سے دمشق میں ملاقات کی۔ واضح رہے کہ اس ملاقات کو شام میں تنازعے پر ایک دہائی سے زیادہ سردمہری کے بعد تعلقات میں مثبت پیشرفت کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔عرب نیوز کے مطابق عراق، اردن، فلسطین، لیبیا، مصر اور متحدہ عرب امارات کے ایوانِ نمائندگان کے ساتھ ساتھ عمان اور لبنان کے نمائندوں نے عرب بین الپارلیمانی یونین کے وفد کے طور پر شام کا سفر کیا۔عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد حلبوسی نے بتایا کہ ’ہم شام کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے اور شام اپنے عرب ماحول کے بغیر نہیں رہ سکتا جس کے بارے میں ہمیں امید ہے کہ وہ اس (عرب ماحول) میں واپس آ جائے گا۔‘یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ 2011 میں حکومت کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں کے خلاف بشار الاسد کے مہلک کریک ڈاؤن کے بعد شام بڑی حد تک باقی عرب دنیا سے الگ ہو گیا تھا۔عرب لیگ نے 2011 میں شام کی رکنیت معطل کر دی تھی اور کئی عرب ممالک نے اپنے سفیروں کو دمشق سے واپس بلا لیا تھا۔6/ فبروری کو آنے والے زلزلے کے بعد بشار الاسد کو عرب ریاستوں کی حمایت سے فائدہ ہوا۔ اس زلزلے میں اقوام متحدہ اور شامی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں پانچ ہزار 900 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔شام کی امداد کرنے والے ممالک میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔متحدہ عرب امارات نے روس اور ایران سمیت کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ امداد سے لدے طیارے بھیجے۔مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے پہلی بار7/ فروری کو بشار الاسد سے فون پر بات کی اور اردن کے وزیر خارجہ نے 15/ فروری کو دمشق کا پہلا دورہ کیا۔اس کے بعد بشار الاسد نے 20 فروری کو عمان کا سفر کیا۔ ان کا 2022 کا یو اے ای کا دورہ 2011 کی جنگ شروع ہونے کے بعد کسی عرب ریاست کا پہلا دورہ بتایا جاتا ہے۔مصر کی پارلیمنٹ کے اسپیکر حنفی الجبالی نے دمشق میں کہا کہ زلزلے کے بعد عرب وفد ’شامی عوام کی مدد کیلئے برادر ملک شام کا دورہ کر رہا ہے۔‘اب دیکھنا ہیکہ شامی صدر بشارالاسد سے عرب پارلیمنٹرینز کے وفد کی ملاقات کے بعد ملک میں کس قسم کا ماحول بنتا ہے۔ عوام اور شامی صدر بشارالاسد کے درمیان ماحول بہتر ہوتا ہے تو ملک میں امن وآمان اور سلامتی کی فضائیں بحال ہوسکتی ہے۔ کاش ایسا ہی ہو۰۰۰


***