![]() |
| مولانا حافظ پیر شبیر احمدصدر جمیعۃ علماء تلنگانہ و آندھراپردیش |
مولاناحافظ پیر شبیر احمد صدر جمیعۃ علماء تلنگانہ و آندھراپردیش و چیئرمین رحمن ایجوکیشنل سوسائٹی محتاج تعارف نہیں۔معاشرے کی فلاح و بہبوداور معاشی استحکام کے لئے انکی دینی، ملی،فلاحی و سماجی خدمات مسلمہ رہی ہیں۔ آپ متحدہ آندھراپردیش، حج کمیٹی کے 2006سے 2008تک چیئرمین رہے اورآنجہانی چیف منسٹر راج شیکھر ریڈی و چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کے دورِ حکومت میں 2007سے 2008اور پھر 2008سے 2014تک لئے ایم ایل سی رہ چکے ہیں۔ گذشتہ پندرہ سال سے جمیعۃ علماء ہند کی ورکنگ کمیٹی کے رکن اور 2002سے صدرجمیعۃ علماء متحدہ آندھراپردیش و تلنگانہ ہیں۔مولانا پیر شبیر احمد جناب پیر عبدالوہاب صاحب مرحوم کے فرزند ہیں۔ 23/ اکٹوبر1945ء کو میر مشارم، ٹاملناڈو میں پیدا ہوئے۔ ابھی آپ 4سال کے تھے کہ والد ماجد کا سایہ سرسے اُٹھ گیا۔ ساتویں جماعت تک مدراس میں تعلیم حاصل کی اور پھر1955ء میں نانا جناب عبدالعظیم صاحب کے پاس حیدرآباد منتقل ہوگئے۔ مدرسہ فیض العلوم موضع سلاخ پور اور مشتعال میں حفظ قرآن مجید کی 1961ء میں تکمیل کی۔ مدرسہ فیض العلوم جو موضع سلاخ پورمیں قائم ہوا تھا یہاں سے مشتعال اور جنگاؤں منتقل ہوا اور آج یہ مدرسہ فیض العلوم اکبر باغ، سعیدآباد، حیدرآباد میں قائم ہیں اس کے اولین طلبا میں انکا شمار ہوتا ہے۔دیگرساتھیوں میں مولانا اکبر الدین قاسمیؒ، مولانا عبدالثناء اللہ اور مولانا حافظ زعیم الدین وغیرہ شامل ہیں۔ پیر شبیر احمدتکمیلِ حفظ قرآن مجید کے بعد عالم کورس کیلئے نانڈیر کا رخ کیا اور دو سال تک مولانا شاہ عبدالغفور صاحب کی شاگردی میں رہے، یہاں سے مزید حصولِ تعلیم کیلئے کامٹی، ناگپور گئے اور 1964ء میں عالم کے کورس سے فراغت حاصل کرنے کے بعد پیشہئ تجارت سے منسلک ہوگئے۔ حیدرآباد کی عالیشان بڑی بڑی عمارتوں کی تعمیر کیلئے کئی نامور اور تجربہ کار آرکٹکٹس کے ساتھ کام کرنے کا انہیں موقع فراہم ہوا اور وہ بھی ایک تجربہ کار اور نامور اے ون کنٹراکٹر کی حیثیت سے ممتاز مقام حاصل کئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دینی و ملی خدمات کا جذبہ کم عمری سے ہی عطا فرمایا۔ پیر شبیر احمد اپنے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران بتاتے ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے بچپن سے ہی دینی خدمات انجام دینے کا موقع عنایت فرمایا۔انہوں نے بتایا کہ پیشہئ تجارت کے ساتھ ساتھ خلوص نیت سے اللہ رب العزت کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے دینی و ملی جماعتوں کے ساتھ منسلک رہے۔ 1985ء میں شہر حیدرآباد کی ممتاز شخصیات نے ’اشاعت اسلام کمیٹی‘ کا قیام عمل میں لایا اس کمیٹی کے گیارہ بورڈ آف ڈائرکٹرس میں انکے علاوہ قابلِ ذکر جناب ابراہیم بن عبداللہ مسقطی صاحب مرحوم، جناب محبوب عالم صاحب اور دیگر ممتاز تاجرین تھے۔ اس کمیٹی نے اردوروزنامہ نوید دکن کی اشاعت عمل میں لائی اور چند سال تک یہ روزنامہ پابندی سے شائع ہوتا رہا۔ مولانا رضوان القاسمی مرحوم اس روزنامہ میں ”ندائے حجاز“کے نام سے کالم تحریر فرماتے تھے جو عوام الناس میں کافی شہرت پایا۔ حافظ پیر شبیر احمد نے بتایا کہ جناب عبداللہ بن مسقطی اس کمیٹی کے صدر اور جناب نعمت اللہ جنرل سکریٹری اوروہ خازن تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کمیٹی کی جانب سے قادیانیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کام کیا گیا، مولاناحافظ تقی الدین صاحب مرحوم، مولانا عبداللہ صدیقی اور دیگر ممتاز شخصیات نے بھی متحدہ آندھراپردیش کے اضلاع میں قادیانیوں کے خلاف کام کرنے والوں میں شامل تھے۔ پیرشبیر احمد پیشہئ تجارت کے ساتھ ساتھ مختلف دینی و ملی تنظیموں سے وابستہ رہے انکی دینی و ملی خدمات کے پیشِ نظر 1998ء میں انہیں نائب صدر جمیعۃ علماء ہند آندھراپردیش کا نائب صدر منتخب کیا گیا۔ اس وقت مولانا محمود پاشاہ قادری تخت نشین صدر جمیعۃ علماء آندھراپردیش تھے۔2000ء میں انہوں نے اپنی تجارتی سرگرمیوں کو خیر آباد کہہ کر ملتِ اسلامیہ کی خدمت کیلئے اپنے آپ کو وقف کردیا۔ 2001ء میں انہیں جمیعۃ علماء آندھراپردیش کاکارگزار صدر بنایا گیا اور پھر 2002ء میں صدر جمیعۃ علماء ہند آندھراپردیش منتخب کیا گیا۔
شادی بیاہ اور اولاد
حافظ پیر شبیر احمد نے 1968ء میں جناب امیرالدین صاحب کی دختر سے پہلی شادی کی جن سے ایک لڑکی اورپانچ لڑکے تولد ہوئے۔ ایک لڑکی اور دو لڑکوں کا بچپن میں ہی انتقال ہوگیا۔ اس زوجہ صاحبہ کا کسی عارضہ کی وجہ سے 1976ء میں انتقال ہوگیا جس کے بعد انہوں نے دوسری شادی مرحومہ کی ہمشیرہ صاحبہ سے کی ان سے چار بچے تولد ہوئے جن میں ایک لڑکی کا انتقال ہوگیا۔ یہ شریک حیات بھی شادی کے 9سال بعد دارفانی کو رخصت ہوئیں۔ انکے بعد اکابرین کرام کے کہنے پر تیسرا نکاح جناب عبدالجبار صاحب کی دختر سے کیا جن سے چار بچے تولد ہوئے لیکن تینوں بچوں کا بچپن میں ہی انتقال ہوگیا۔ الحمد للہ اس وقت انہیں ایک لڑکی اور چھ فرزند ہیں جو سب کے سب شادی بیاہ کے بعد خوشحال زندگی بسر کررہے ہیں۔ جناب پیر شبیر احمد کہتے ہیں کہ ان تمام بھائیوں اور بہن میں اسی طرح پیار و محبت پائی جاتی ہے جس طرح ایک والدہ کے بچوں میں ہوتی ہے اور سب مل جل کر رہتے ہیں۔ فرزندوں میں بڑے پیر حسین احمد بابا ہیں انکے بعد پیر منظور احمدذاکر، پیر خلیق احمد صابر جنرل سکریٹری جمیعۃ علماء آندھراپردیش و تلنگانہ، پیر ارشاد احمد ناصرالیکشن کمشنر آل انڈیا یوتھ کانگریس، پیر مشتاق احمد عامرانچارج رحمن ایجوکیشنل سوسائٹی، پیر منیر احمد جابر صدر یوتھ کانگریس عنبر پیٹ ہیں جو اس سال حج کی سعادت سے مشرف ہوئے ہیں۔جبکہ ایک داماد جناب حافظ ایاز صاحب ہیں۔
پیر شبیر احمد کی مصروفیات اور جمیعۃ علماء
حافظ پیر شبیر احمدملتِ اسلامیہ کے ایک محنتی خادم کی حیثیت سے جس طرح جمیعۃ صدرعلماء تلنگانہ و آندھراپردیش اورچیرمین رحمن ایجوکیشنل سوسائٹی کے تحت خدمات انجام دے رہے ہیں قابلِ ستائش ہیں۔ وہ ہر ماہ کم از کم پندرہ دن دونوں ریاستوں تلنگانہ و آندھراپردیش کے اضلاع کے دورے پر رہتے ہیں جہاں دینی، ملی، سیاسی و سماجی خدمات کے ذریعہ مسلمانوں اور دیگر ابنائے وطن کے درمیان آپسی بھائی چارگی کو پروان چڑھانے، مسلمانوں میں دینی و ملی اور سیاسی و سماجی شعور بیدار کرنے، نماز و دیگر شرعی احکام و سنن کی پابندی کرنے کی ترغیب دینے،پسماندہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود و معاشی استحکام اور خوشحال زندگی بسر کرنے کے لئے مختلف انتظامات کی نگرانی کرتے ہیں۔ پیر شبیر احمد نے بتایا کہ جمیعۃ علماء ہند ایک ملی جماعت ہے جس کے بینر تلے ہر مکتب فکر کے علماء و مشائخ اور دانشور وعام مسلمان جڑتے ہیں۔ اس جماعت نے ملک کی آزادی کے لئے جس طرح کی قربانی دی ہے وہ اپنی جگہ ایک عظیم تاریخ رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 1947ء میں نظام اسٹیٹ (صوبے حیدرآباد) میں جمیعۃ علماء ہند کا قیام عمل میں آیا۔1947ء میں مولانا عبدالحمید قمر فاروقی صدر اور مولانا عبدالسبحان جنرل سکریٹری تھے۔ 1950ء میں مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن صاحب حیدرآباد تشریف لائے اور انہوں نے مولانا نور اللہ افتخاری کو صوبے حیدرآباد کا صدر بنایا۔ابتداء ہی سے جمیعہ علماء ہند کو حیدرآباد کے مشائخین عظام اور علمائے کرام نے بھر پور ساتھ دیا اور آج بھی تمام مسالک کے ذمہ داروں کا تعاون جمیعۃ علماء ہندکو حاصل ہے۔مولانا نے بتایا کہ جمیعۃ علماء تلنگانہ و آندھراپردیش کی جانب سے ہر مہینے میں ایک مرتبہ امن و سلامتی، دیگر ابنائے وطن کے ساتھ آپسی بھائی چارگی کو عام کرنے اور انکے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے، مسلمانوں کوشریعت مطہرہ کے مطابق زندگی گزارنے اور اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کرنے کیلئے پیغام دیا جاتا ہے جو دونوں ریاستوں کے تمام اضلاع کے مسلمانوں تک پہنچانے کی سعی کی جاتی ہے۔جمیعۃ علماء تلنگانہ و آندھراپردیش کا دینی، علمی، ادبی اور ثقافتی ترجمان ”پاسبانِ جمیعۃ“ کے نام سے ہر ماہ شائع ہوتا ہے اس کے سرپرست مولانا سید محمد اکبر صاحب مفتاحی ہیں اور نگران حافظ پیر شبیر احمد ہیں مدیر مسؤل حافظ پیر خلیق احمد صابر ہیں۔پیر شبیر احمد نے بتایا کہ 2003سے اضلاع متحدہ آندھراپردیش و تلنگانہ میں راشن، کپڑے وغیرہ دینے کا آغاز کیا گیا۔ 2005ء میں آنے والی سونامی کی وجہ سے کوسٹل آندھرا کے کئی مقامات ایسے تھے جہاں جمیعۃ علماء آندھراپردیش نے امدادی خدمات انجام دیں انہوں نے بتایا کہ سونامی کے بعد ایک ایسا علاقہ بھی ملا جہاں 72 ملاح مسلم خاندان رہتے ہیں اور یہ تمام کے تمام تہجد گزار، پابندشریعت اور انکی کم عمر لڑکیاں پابند حجاب رہتی ہیں یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس قہر خداوندی سے بچائے رکھا۔ ان 72خاندانوں کے 40بچے حافظِ قرآن اور دس علماء ہیں۔ ان تمام کو رہنے کے لئے جمیعۃ علماء کی جانب سے آر سی سی مکان بناکر دیئے گئے اور الحمد للہ وہ تمام خوشحال زندگی بسر کررہے ہیں۔ جمعےۃ علماء تلنگانہ و آندھراپردیش سے متعلق بتایا کہ تلنگانہ میں جمیعۃ علماء کے 9,86,000اور آندھراو رائلسیماء میں 4,62,000ممبرس ہیں۔انہوں نے کہا کہ جمیعۃ علماء ہند تلنگانہ و آندھرا پردیش ملی جذبہ کے تحت مسلمانوں اور دیگر ابنائے وطن کیلئے خدمات انجام دے رہی ہے۔
رحمن ایجوکیشنل سوسائٹی
رحمان ایجوکیشنل سوسائٹی عنبر پیٹ کا قیام1983ء میں عمل میں آیا۔ چیرمین مولانا حافظ پیر شبیر احمد ہیں اس سوسائٹی کے تحت شہرحیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ اضلاع تلنگانہ و آندھراپردیش میں ٹیلرنگ سنٹرس، کاروچوپ، مہندی ڈیزائنگ، ایمبرائیڈری اور کمپیوٹر سنٹرس قائم ہیں۔ ان تمام ٹریننگ حاصل کرنے والے طلباو طالبات کو کورسس کی تکمیل کے بعد سرٹیفکٹس دیئے جاتے ہیں اور مستحق طالبات کو نئی سلائی مشینیں مفت دی جاتی ہیں تاکہ روزگار سے وابستہ ہوکر خودکفیل بن سکیں، یہ ساری خدمات سوسائٹی کی جانب سے مفت فراہم کی جاتی ہیں جو بلالحاظ مذہب و ملت دی جاتی ہے۔سوسائٹی کی جانب سے اب تک 75ہزار لڑکیوں نے ٹریننگ حاصل کرچکی ہیں۔ یہ ٹریننگ چار ماہ کی ہوتی ہے۔ رحمن ایجوکیشنل سوسائٹی پسماندہ علاقوں کو زیادہ توجہ دیتی ہے تاکہ ناخواندگی دور ہو اور انکی معاشی حالت بہتر سے بہتر ہو۔ اس کے علاوہ رحمن ایجوکیشنل سوسائٹی کی جانب سے مکمل تحقیق کے بعدغریب طلبا و طالبات میں اسکالرشپس دیئے جاتے۔ اور ان غریب مستحق بچوں کی فیس کے علاوہ انہیں کتابیں، یونیفارم اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کی جاتی ہیں ۔ اس کے علاوہ رمضان المبارک کے مہینے میں ٹیلرنگ و کمپیوٹر سنٹرس میں تعلیم حاصل کرنے والی غریب طالبات اور ان سلم علاقوں کے روزے داروں میں راشن پیکج کی تقسیم عمل میں لائی جاتی رہی ہے۔ مولانا حافظ پیر شبیر احمد نے بتایا کہ الحمد للہ وہ گذشتہ 42سال سے یعنی 1976ء سے مسجد زمزم، عنبرپیٹ کے صدر ہیں۔انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے بتایا انہیں 1972ء میں پہلی مرتبہ حج کی سعادت حاصل ہوئی۔ اسکے بعد 2005ء میں حکومت ہند کی جانب سے اس وقت کے مرکزی وزیر جناب غلام نبی آزاد کے ساتھ حج مشن کے ذریعہ دوسری مرتبہ حج کرنے کا موقع نصیب ہوا اس کے بعد اس سال یعنی 2018ء میں سعودی عرب کی شاہی حکومت کی دعوت پر تیسری مرتبہ حج کی سعادت سے مشرف ہونے کا موقع فراہم ہوا۔مولانا حافظ پیر شبیر احمد کا 2006ء کی اوپن ہارٹ سرجری ہوئی اسکے باوجود الحمد للہ وہ ایک مستعد جواں مرد قائد کی طرح ملک و ملت کی خدمات مذہبی، ملی، معاشی، سماجی، سیاسی حیثیت سے کررہے ہیں۔ تقریباً پندرہ روز وہ دونوں ریاستوں کے دورے پر رہتے ہیں، مسلسل سفر کے ساتھ ساتھ جمیعۃ علماء تلنگانہ و آندھراپردیش اور رحمن ایجوکیشنل سوسائٹی کے تمام امور کی نگرانی کرتے ہیں تھکادینے والی مصروفیات کے ساتھ ان دنوں وہ ایک کتاب صوبے حیدرآباد کی تاریخ پر جمیعۃ علماء کا قیام اور کارکردگی کے حوالے سے تحریر کررہے ہیں جسکی عنقریب اشاعت عمل میں آئے گی۔ اللہ تعالیٰ انکی دینی، ملی، فلاحی، سیاسی و سماجی خدمات کو قبول فرمائے اور دین و دنیا میں سرخروئی عطا فرمائے۔

No comments:
Post a Comment