| عمدۃ المحدثین حضرت مولانا محمد خواجہ شریف شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ |
ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید
جوائنٹ ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی، حیدرآباد
عمدۃ المحدثین، اشرف العلماء، محدث ِ ملت حضرت العلامہ مولانا محمد خواجہ شریف رحمۃ اللہ علیہ حضرت مولانا محمد شہاب الدین علیہ الرحمہ کے فرزند ہیں۔ آپ 15/ شوال المکرم 1359ہجری م 4/ جنوری 1940ء کو قصبہ اکرہار پوٹلا پلی، ضلع شادنگر، تلنگانہ اسٹیٹ میں پیدا ہوئے اور 14/ ڈسمبر2018ء بروز جمعہ اپنے خالق و مالک رب کائنات سے جاملے۔آپ کی نماز جنازہ بعد نماز عشاء جامعہ نظامیہ میں حضرت العلامہ مولانا مفتی عظیم الدین صاحبؒ صدر مفتی جامعہ نظامیہ کی امامت میں ادا کی گئی اور تدفین آبائی وطن پوٹلہ پلی، ضلع محبوب نگر میں عمل میں آئی۔ آپ کا انتقال ملت اسلامیہ خصوصاً طالبانِ علم دین کیلئے نقصانِ عظیم ہے۔ انتقال سے ایک ماہ قبل سخت علالت میں آپ علیہ الرحمہ نے عمرہ کی سعادت سے سرفراز ہوئے اور پیارے حبیب رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ و سلم کے دربار اقدس میں بھی حاضرہونے کا شرف حاصل فرمایا۔آپ کا علمی فیض علماء و شاگردوں اور تشنگانِ علوم اسلامیہ کیلئے تاقیام قیامت انشاء اللہ العزیز جاری و ساری رہے گا۔ آپ انتہائی سادہ لوح، منکسرِ المزاج، ادب و اخلاق کے پیکر، ولی کامل، طلبہ سے حسنِ سلوک اور نرم گفتگو فرمانے والے نہایت مشفق استاذ کی حیثیت سے ممتاز و معروف رہے ہیں۔اپنی زندگی کے آخری ایام و لمحات تک بھی خالق و مالک کی حمد و ثناء کرتے رہے اور پیارے حبیب ﷺ پر درود و سلام کے نذرانہ پیش کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ عمدۃ المحدثین علیہ الرحمہ کے درجات عالیہ میں بے انتہاء بلندی و وسعت عطا فرمائے۔ آمین۔
عمدۃ المحدثین حضرت العلامہ مولانا محمد خواجہ شریف علیہ الرحمہ کا سلسلہ نسب والدماجد کی طرف سے حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے جا ملتا ہے۔ اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضرت سیدنا حسین ابن علی ؓ یعنی ہاشمی سید گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے نام کے ساتھ شریف اس لئے رکھا گیا کیونکہ دکن کی روایت تھی کہ اگروالدہ کا سلسلہ نسب ہاشمی سید اور والد شیخ گھرانے سے تعلق رکھتے ہوں تو شریف کا لفظ احترام کے طور پر رکھا جاتا۔مولانا محمد خواجہ شریف پولیس ایکشن کی وجہ سے اپنے والد حضرت محمد شہاب الدین ؒ کے ساتھ آٹھ سال کی عمرمیں حیدرآباد منتقل ہوگئے۔ حیدرآباد کے محلہ گوشہ محل میں پرائمری سکشن میں داخلہ لیا۔ دس سال کی عمرمیں یعنی 1950ء میں آپ کے بڑے بھائی حضرت مولانا محمد شریف صاحب نے آپ کا داخلہ جامعہ نظامیہ حیدرآباد کی جماعت چہارم میں کروایا۔ طالبِ علمی کے زمانے میں آپ اساتذہ کے نورِ نظر رہے اور جامعہ میں ممتاز طالب علم کی حیثیت پائی۔ آپ ہر جماعت میں درجہ اول سے کامیابی حاصل کرتے رہے۔ جامعہ نظامیہ میں آپ جماعت چہارم سے فاضل، کامل تک تعلیم حاصل کئے۔ 1963ء میں رشتہ ازدواج سے بندھ گئے یعنی آپ کی شادی چچا زاد بہن سے ہوئی۔ 1966ء میں آپ نے حضرت مولانا مفتی محمد عبدالحمیدؒ شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ کے حکم پر درس و تدریس کے لئے درخواست دی اور آپ کااستاذ کی حیثیت سے تقرر عمل میں آیا۔ آپ جامعہ نظامیہ میں مختلف عہدوں بشمول مؤدب، مہتمم کتب خانہ، نائب شیخ الادب، نائب شیخ الحدیث، پھر 13/ فبروری 1993ء میں شیخ الحدیث کے باوقار عہدہ پر فائز ہوئے اور الحمد للہ آپ اس عہدہ پر آج بھی فائز رہ کر امت محمدیہ ﷺ کے فرزندوں اور دختران کو زیورِ احادیث سے فیضیاب کررہے ہیں۔ درمیان میں یعنی 1971ء میں آپ نے جامعہ امنیہ، دہلی میں حدیث نبوی ﷺ میں مکمل مہارت حاصل کرنے کی غرض سے داخلہ لیا، صحاح ستہ و دیگر کتب احادیث کا درس حاصل کرکے سند حاصل کی اور واپس آکر آپ دوبارہ جامعہ نظامیہ میں طلباءِ جامعہ کو علم دین کی دولت سے بہرور فرمارہے ہیں۔ اس طرح آپ کا درس و تدریس کا سلسلہ الحمد للہ جاری ہے۔
عمدۃ المحدثین مولانا محمد خواجہ شریف صاحب تقریباً تین دہائیوں سے مجلس اشاعت العلوم جامعہ نظامیہ کے معتمد ہیں اور آپ کی نگرانی میں کئی کتب کی طباعت عمل میں آچکی ہے۔ مختلف علوم و فنون بالخصوص علم حدیث شریف کی خدمت میں آپ نے جو نقوش ثبت کئے ہیں وہ جامعہ نظامیہ کی طویل تاریخ کا ایک زرین باب ہے۔ آپ کو علم حدیث شریف کے علاوہ عربی ادب نثر و نظم پر یکساں عبور و دسترس حاصل ہے۔ کئی کتابوں کے مصنف و مترجم ہیں۔ ”امام اعظم امام المحدثین“ یہ کتاب حضرت مولانا محمد خواجہ شریف مدظلہ العالی کے رشحات قلم پر مشتمل اپنی نوعیت کی اہم ترین تصنیف ہے۔ اس کتاب میں غیر مقلد حضرات کے اعتراضات کا علمی و تحقیقی جواب دیا گیا ہے اور امام اعظم حضرت سیدنا نعمان بن ثابت ابو حنیفہ ؒ کا امام المحدثین ہونا ثابت کیا گیا ہے۔ جامعہ میں تقرر سے قبل آپ دارالعلوم موستمر العلماء مغل گدہ میں بحیثیت مہتمم خدمات انجام دے رہے تھے۔ آپ نے حضرت مفتی محمد عبدالحمید ؒ کے کہنے پر اس عہدہ کوخیرباد کرکے جامعہ نظامیہ میں خدمات انجام دینے کو ترجیح دی۔ یہاں ایک بات کا ذکر اس لئے ضروری ہے کہ اللہ کے نیک بندے جو دنیاکی طلب سے دور اپنے خالق و مالک اور پیارے حبیب ﷺکو راضی کرنے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں آپ نے بھی شیخ الجامعہ کے حکم پر عمل کرکے اس کا ثبوت دیا۔ حضرت مولانا خواجہ شریف نے مہتمم کے عہدہ کو خیرباد کہہ دیا جہاں پر آپ کی ماہانہ تنخواہ اس وقت کے 150روپیے تھی جبکہ جامعہ نظامیہ میں آپ کی تنخواہ صرف75/-روپیے تھی۔آپ اپنے استاد گرامی رئیس المفسرین حضرت العلامہ مولانا سید شاہ طاہر رضوی القادریؒ صدر الشیوخ جامعہ نظامیہ سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں صاحب اجازت ہیں بے شمار افراد آپ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے ہیں۔ علوم شریعت و طریقت کے ذریعہ عوام الناس اور خواص کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ علم حدیث شریف سے خاص والہانہ شغف ہے۔ جامعہ نظامیہ میں عرصہئ دراز سے امہات الکتب بخاری شریف، مسلم شریف، ترمذی شریف، ابن ماجہ، ابو داؤد، نسائی شریف،مؤطا و دیگر کتب کا درس انتہائی فصاحت و بلاغت اور عمدہ اسلوب میں دیتے ہیں۔”درس ختم بخاری شریف“ آپکی پہچان بن گیا ہے۔ آپ کے دروس کا انداز مختصر، جامع و دل نشین، اخلاقی مسائل میں نہایت معتدل و محقق و غیر جارحانہ تشفی بخش و دل پذیر ہوتا ہے۔ انداز کلام کی حلاوت و شیرینی دلوں کو موہ لیتی ہے، عام جلسوں میں بھی آپ کا انداز بیان اسی طرح ہوتا ہے۔ آپ نے مختلف مساجد میں حدیث و فقہ کے دروس کے ذریعہ بھی عامۃ المسلمین کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے رب العالمین جل جلالہ و رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ و سلم کی خوشنودی حاصل کرتے رہے ہیں۔ مسجد سنگ پتلی باؤلی، جامع مسجد قادریہ فرسٹ لانسر، مسجد جعفری صنعت نگراور مسجد چیونٹی شاہ میں آپ کے دروس حدیث و فقہ چالیس سال کے طویل عرصہ تک جاری رہے۔ مسجد چیونٹی شاہ میں ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے جبکہ مسجد جعفری صنعت نگر اور مسجد چمکورہ میں شب معراج، شب برأت اور شب قدرمیں بھی آپ خطاب فرماتے ہیں۔ عالم اسلام میں عرب حضرات و علماء آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ عرب ممالک میں آپ کی آمد پر عرب حضرات ملاقات کا شرف حاصل کرنے بے چین رہتے ہیں۔حضرت شیخ الحدیث نے مدارس کے احیاء و قیام کے سلسلہ میں بھی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ دارالعلوم دینیہ بارگاہ بندہ نواز علیہ الرحمہ کا احیاء آپ کا کارنامہ ہے کہ آپ نے شہر گلبرگہ میں چھ ماہ قیام فرماکر اس قدیم اور تاریخی ادارہ کا احیاء عمل میں لایا جس کا فیضان آج بھی جاری ہے۔ دارالعلوم مؤتمر العلماء اننت پور کے آپ بانی ہیں۔ حضرت شیخ الاسلام حافظ محمد انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ بانی جامعہ نظامیہ کے وطن قندھار میں مدرسہ قائم کیا اور اس کے علاوہ نندیال، کرنول اور مختلف مقامات پر مکاتب اسلامیہ کا قیام عمل میں لایا۔ اس کے علاوہ حیدرآباد میں طالبات کے لئے دو مدارس”معہد البنات نفیس النساء“ چمکورہ خلوت اور معہد البنات رفیق النساء آدتیہ نگر ٹولی چوکی میں قائم فرمایا۔
No comments:
Post a Comment