MY COLUMN

مولانا غیاث احمد رشادی صدر صفا بیت المال انڈیا

 


ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

جوائنٹ ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی 

        ہندوستان کی گیارہ ریاستوں میں دینی، فلاحی، معاشی و معاشرتی خدمات انجام دینے والے مولانا غیاث احمد رشادی کوئی تعارف کے محتاج نہیں ر ہے۔ 30/ مئی 1963ء کو گلن پیٹ،ضلع چکمگلور، ریاست کرناٹک میں پیدا ہوئے۔ مولانا رشادی جناب پی عبدالقدوس صاحب کافی پلانٹر کے فرزند ہیں۔غیاث احمد رشادی نے 1976ء میں ساتویں جماعت تک عصری تعلیم گورنمنٹ اردومیڈیم اسکول، گلن پیٹ، ضلع چکمگلور سے حاصل کی۔ 1977ء میں مولانا ریاض الرحمن رشادی امام و خطیب جامع مسجد بنگلور کی سرپرستی میں دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور میں داخلہ لیا اور 1984ء میں یہیں سے عالمیت کی تکمیل کی تب سے رشادی بن گئے۔ برصغیر کے ممتاز عالم دین حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھوں سندِ فراغت حاصل کرنے کی سعادت حاصل کی۔مولانا رشادی فراغت علمِ دین کے بعد 1985ء میں مدرسہ دارلعلوم رشدیہ گدوال میں درس و تدریس کا آغاز کیا اور ایک سال تک خدمات انجام دیتے رہے۔ 1986ء میں شہر گلبرگہ، کرناٹک منتقل ہوئے اور مدرسہ مصباح العلوم میں بحیثیت صدر مدرس آٹھ سال یعنی1994ء تک خدمات انجام دیتے رہے اس دوران آپ مسجد محمدیہ جیلان آباد میں امامت و خطابت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔ 1988ء میں جناب سید علیم الدین ہاشمی صاحب خلیفہ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی صاحبزادی سے نکاح کیا۔ آپ کو دو لڑکے مولانا مفتی حافظ عبدالمہیمن اظہر القاسمی نائب صدر صفا بیت المال انڈیااور دوسرے فرزند ڈاکٹر محمد مزمل انظر بی ای ایم ایس، ایم ڈی ڈائرکٹر ہیومن کیئر، مہدی پٹنم، حیدرآباد اور دو صاحبزادیاں ہیں۔ 1994ء میں مولانا رشادی نے تصنیف و تالیف اور دیگر خدمات میں وسعت کی غرض سے حیدرآباد منتقل ہوئے ابتداء میں مسجد شاہ معظم شہید، سعیدآباد میں امامت و خطابت کا آغاز کیا اور بارہ سال تک مستقل امامت و خطابت اور روزانہ قرآن پاک کی تفسیر کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس دوران وہ جامعہ عائشہ نسواں حیدرآباد میں بھی جزوقتی تدریسی خدمات انجام دیتے رہے، نیز 1996ء تا 2002شہر حیدرآباد سے شائع ہونے والا اردو روزنامہ’سیاست‘ کا خصوصی ایڈیشن ”بچوں کا صفحہ“ میں بحیثیت مرتب خدمات انجام دیں۔ 2003تا 2005ء مدرسہ تجوید القرآن عنبر پیٹ کے نسواں کے شعبہ عالمیت میں پیشہ تدریس سے وابستہ رہے۔اس دوران تصنیف و تالیف کے کام کو مزید منظم و باقاعدہ بنانے کی غرض سے ”مکتبہ سبیل الفلاح“ کا قیام عمل میں لایا۔


        مولانا غیاث احمد رشادی بتاتے ہیں کہ طالب علمی کے زمانے سے ہی ان کارجحان تصنیف و تالیف کی جانب رہا۔ 1980ء میں مدرسہ میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے ”الاظہر“ کے نام سے قلمی پرچہ تحریر کرنے لگے۔ فراغت کے بعد سے تالیف و تصنیف کے سلسلہ میں وسعت پیدا ہوئی اور آج الحمدللہ ایک سو سے زائد کتابوں کے مؤلف و مصنف ہیں۔مولانا رشادی کی کتابیں زیادہ تر قرآنیات پر مشتمل ہیں، آپ کی معرکۃ آراء کتاب ”روحِ قرآن“ ہے۔ جو 1993ء میں زیورِ طباعت سے آراستہ ہوکر منظر عام پر آئی جس کی رسم اجرائی جنوبی ہند کے ممتاز عالم دین حضرت مولانا ابو السعود نور اللہ مرقدہ بانی دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور نے انجام دی۔”روحِ قرآن“جو 1300سے زائد صفحات پر مشتمل ہے اس کی دوبارہ اشاعت عمل میں لائی جارہی ہے جو آئندہ چند دنوں میں منظر عام پر آجائے گی۔اس کے علاوہ قرآن کوئز، قرانی فامولے، سیرت کوئز، سیرت طیبہ قرآن حکیم کی روشنی میں، حقوق العباد اور خدمتِ خلق آیات قرآنی کی روشنی میں، امام اور خطیب منصب،ذمہ داریاں اور تقاضے، آپسی تعلقات میں بگاڑ کیوں؟، روزآنہ ہزاروں سنتوں کا ثواب حاصل کیجئے، عورت بے پردہ کیوں ہوگئی؟، ہم اپنے محلہ میں کیسے رہیں؟، قرآن مجید میں خواتین کے واقعات وغیرہ شامل ہیں۔ آپ کی پانچ کتابوں کے عربی زبان میں ترجمے ہوچکے ہیں جسمیں معروف کتاب ”السیرۃ النبوےۃ فی ضوءِ القرآن الکریم“ ہے اس کتاب پر دبئی اوقاف کے مفتی کبیر فضیلت الشیخ احمد عبدالعزیز الحداد نے تقریظ لکھی اور مسجد نبوی ﷺ کے امام فضیلت الشیخ عبدالرحمن الحذیفی نے اس کتاب پرمؤلف کی پذیرائی کی اور اپنی زبان سے کہا ”انت رجل نشیط“(آپ چست آدمی ہیں)۔مولانا رشادی بتاتے ہیں کہ انکاتصنیف و تالیف کا سلسلہ درمیان میں دیگر مصروفیات کی وجہ سے چند سالوں کیلئے منقطع ہوگیا تھا لیکن الحمد للہ اب وہ اس سلسلہ کو دوبارہ شروع کئے ہیں۔ ان کی سو سے زائد کتابیں جو بیس سال کے عرصہ میں شائع ہوئیں ہیں انکی تعدادِ اشاعت 15لاکھ ہوگئی ہیں۔ آپ گذشتہ دو ماہ سے روزانہ یوٹیوب پر درس قرآن کا سلسلہ شروع کئے ہیں جسے یو ٹیوب پر  daily dares e Quranکے نام سے دیکھا جاسکتا ہے۔ مولانا کی چند کتابیں ملک کے کئی مدارس میں نصاب کے طور پر پڑھائی جارہی ہیں جن میں دینی گرمائی کورس، چراغِ دینیات، سیرت کوئیز، بچوں کی اسمبلی وغیرہ شامل ہیں۔مولانا غیاث احمد رشادی نے 23/ اکٹوبر2017کو ”منبر و محراب فاؤنڈیشن“ کا قیام عمل میں لایا جس کے وہ بانی و محرک اور مولانا شاہ جمال الرحمن مفتاحی صاحب اس کے سرپرست ہیں۔ مولانا نے بتایا کہ اس فاؤنڈیشن کی جانب سے ہندوستان کے تقریباً دس ہزار ائمہ و خطباء کیلئے ملک کے حالات کے تناظر میں جمعہ کے خطبات ارسال کئے جارہے ہیں جو مختلف موضوعات پر مشتمل ہوتے ہیں یہ سلسلہ پابندی سے جاری ہے۔ مولانا رشادی ایک بہترین صاحب بصیرت قلمکار ہی نہیں بلکہ اچھے مقرر بھی ہیں آپ ملک کے کئی مقامات پر اصلاحِ معاشرہ، خدمتِ خلق کے جلسوں سے خطاب فرماتے ہیں۔مولانا غیاث احمد رشادی تصنیف و تالیف اور خطابات سے معاشرے کی اصلاح فرمانے کے ساتھ ساتھ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت کا ایک ایسا عملی کام شروع کیا جس سے ہر روزہزاروں افراد مستفید ہورہے ہیں۔ 


        صفا بیت المال کا قیام: مولانا رشادی نے بتایا کہ علماء نبیوں کے وارث ہوتے ہیں اصل وراثت حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ساتھ سیرت طیبہ کی وراثت ہے۔اگر ہم علماء خدمت خلق کا کام جو مدینہ منورہ میں آپ ﷺ نے کیا وہی کام اگر علماء کرام اپنے اپنے ماحول میں مسجد کو مرکز بناکر کرینگے تو اسلام کی صحیح تصویر برادران وطن تک پہنچے گی، صفا بیت المال کے مقاصد میں مسجد کے اماموں کو لوگوں کا امام بنانا ہے۔ اگر ہر امام اپنے اپنے علاقے میں خدمت خلق کا فریضہ انجام دے گا تو غربت کی سطح ختم نہ ہو سہی کم تو ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 26/ نومبر 2006ء کو پہلا اجلاس منعقد ہوا جسکا مقصد علماء کی نگرانی میں انسانیت کی بنیاد پر خدمت خلق کی انجام دہی ہے۔مولانا نے 2007ء میں ایک نیا فارمولہ”اسکراپ کا نظام“ قوم کو دیا، اس اسکراپ نظام کے ذریعہ بے ضرورت سامان سے ضرورت مندوں کی امداد کی جائے۔ الحمد للہ یہ انقلابی آواز آج ایک مشن کے طور پر کام کررہی ہے۔ اسکراپ وصولی کے اس شعبے میں اس وقت 60افراد با تنخواہ خدمات انجام دے رہے ہیں اس مہم کی کامیابی کی یہی دلیل ہے کہ اس سے 60خاندان پل رہے ہیں۔ اسکے علاوہ ہندوستان بھر میں قائم گیارہ ریاستوں کی شاخوں میں بھی اسکراپ وصولی کا یہ نظام قائم ہے اس اسکراپ وصولی سے ہزاروں بیماروں کا علاج اور سینکڑوں معذوروں و بیواؤں کو وظائف دیئے جارہے ہیں۔ اس نظام کے علاوہ ڈبہ وصولی مہم بھی چل رہی ہے 3000سے زائد گھروں میں عطایات کے ڈبے رکھے گئے ہیں جس میں لوگ وقتاً فوقتاً اپنے صدقے کی رقم ڈالتے ہیں۔ ماہانہ ممبر شپ جس میں 2500تا 3000ممبرس ہیں جو ہر ماہ عطیہ کی رقم دیتے ہیں جس میں گیارہ نمائندے زون وائز رکھے ہوئے ہیں۔ صفا بیت المال کے ذریعہ واٹر پلانٹ ”سل سبیل الصفاء‘قائم ہے، موسم گرما میں عثمانیہ ہاسپٹل حیدرآباد اور پیٹلہ برج میٹرنٹی ہاسپٹل حیدرآباد میں روزانہ چار تا پانچ ہزار مریضوں اور تیمارداروں کیلئے پینے کے پانی کا انتظام کیا جاتا ہے۔سلم علاقوں میں غریب و مستحق اور معذورافراد و مریضوں کا پتہ لگانے کیلئے گھر گھر جاکر سروے کیا جاتا ہے اس طرح مستحق افرادکا پتہ لگاکرانہیں سفید کارڈ دیا جاتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ مفت میڈیکل سہولت، مفت ادویات اورمفت میڈیکل ٹیسٹس کرائے جاسکیں۔صفا ہیلت کیئر کے تحت تین کلنک سنگارینی کالونی، حافظ بابا نگر اور کشن باغ میں کام کررہے ہیں جہاں ڈاکٹرس، نرسس اور میڈیکل عملے کی خدمات حاصل ہیں۔ حافظ بابا نگر میں ڈائگناسٹک سنٹر موجود ہے جس میں تمام میڈیکل کیمپوں اور ہیلت کیئر کے بیمار مریضوں کے ٹیسٹ فری میں کئے جاتے ہیں اسکے علاوہ ہر ماہ تین تا چار میگا میڈیکل کیمپس بھی منعقد ہوتے ہیں۔مولانا نے بتایا کہ ملک بھر کی گیارہ ریاستوں یعنی تلنگانہ، آندھراپردیش، کرناٹک، مہاراشٹرا، اُڑیسہ، جھارکھنڈ، آسام، بہار، مغربی بنگال، اترپردیش اور مدھیہ پردیش میں صفا بیت المال انڈیا کی 70سے زائد شاخیں ہیں جو مرکزی صفا بیت المال انڈیا کے زیر انتظام ہیں۔ صفا بیت المال کی جانب سے رمضان المبارک میں حیدرآباد اور ملک کی ان گیارہ ریاستوں کے دس ہزار سے زائد خاندانوں تک 2کروڑ روپیے مالیتی ”رمضان راشن“ تقسیم کیا جاتا ہے۔ صفا بیت المال کے زیر اہتمام منظم انداز میں مشترکہ قربانی اور دیہاتوں میں گوشت کی تقسیم عمل میں لائی جاتی ہے۔ ”قربانی آپ کی، خدمت ہماری، فائدہ غریبوں کا“ کے تحت ملک کی گیارہ ریاستوں کے متعدد اضلاع کے 600سے زائد دیہاتوں میں گوشت کی تقسیم کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ 


        تعمیر مساجد و تنصیب بورویلس: صفا بیت المال کی جانب سے ان دیہاتوں میں جہاں مسلمانوں کو اجتماعی عبادتوں کیلئے کوئی ایسا مقام نہیں تھا جہاں سب مسلمان مل کر عبادت کرسکیں اور فریضہ نماز ادا کرسکے۔ اسی مقصد کے تحت جملہ 190مساجد تلنگانہ، آندھراپردیش، آسام، جھارکھنڈ، بہار، کشمیر وغیرہ میں تعمیر کی گئیں اور یہ سلسلہ الحمد للہ جاری ہے۔ اسی طرح جہاں پانی کی سہولت نہیں ہے ان ریاستوں کی مساجد اور دیگر علاقوں میں 600سے زائد بورویلس ڈالے گئے جس سے اہل وطن استفادہ کررہے ہیں۔ کمیونٹی ٹریننگ اینڈ پروڈکشن سنٹر کا قیام گذشتہ ماہ عمل میں لایا گیا جس میں 60خواتین کو معیاری ملبوسات کی سلائی کی تربیت دی جارہی ہے اس میں مہارت حاصل کرلینے کے بعد انہیں باضابطہ روزگار فراہم کیا جائے گا۔ دفتر صفا پر جملہ 45سلائی مشینیں موجود ہیں جس پر دو میقاتوں میں علیحدہ خواتین تربیت حاصل کررہی ہیں۔ حیدرآباد کے 8مقامات بنڈلہ گوڑہ، بابانگر، راجندرنگر، کالا پتھر، ملک پیٹ، ملّے پلی، وٹے پلی میں صفا ٹیلرنگ سنٹر س قائم ہیں جس میں ٹیلرنگ کورس کروایا جاتاہے اب تک یہاں سے 12بیاچس مکمل ہوچکے ہیں۔ صفا بیت المال کے کے تحت 150یتیم بچوں کی کفالت کی جاتی ہے ان بچوں کو عصری اسکولوں میں داخلہ، ٹیوشن فیس، ڈریس، کتابوں وغیرہ کیلئے ماہانہ فی طالب علم 2ہزار روپیے اسکولی فیس اور خوراکی وظائف جاری کئے جاتے ہیں۔اسکے علاوہ ہر سال ماہ جون میں سروے کے بعد 1000غریب بچوں کو تعلیمی کیٹس دیئے جاتے ہیں۔ صفا مائیکرو فینانس کے تحت کشن باغ، حیدرآباد میں چھوٹے کاروبار کرنے والوں کیلئے بلاسودی قرضہ حسنہ دیا جاتا ہے۔ بے سہارا بیواؤں اور مستحق معذورین و غرباء کو جزوی امداد دی جاتی ہے۔150سے زائد بیواؤں کو ہر ماہ فی کس 1000روپیے دیئے جاتے ہیں اور 35سے زائد ایسے گھرانوں کی کفالت لئے ہوئے ہیں جن گھروں میں دو یا دو سے زائد معذور ہیں۔ اسی طرح نادار غریب اور لاوارث میتوں کی تجہیز و تکفین و تدفین کا انتظام کیا جاتا ہے۔ آئی ٹی کمپنیوں کی جانب سے بچے ہوئے کھانے کی تقسیم کی ذمہ داری بھی صفا بیت المال، گلوٹائیڈ سوسائٹی کے اشتراک سے بخوبی انجام دے رہا ہے۔ روزآنہ مختلف آئی ٹی کمپنیوں سے بچا ہوا کھانا لاکر کشن باغ، حیدرآباد کے 500غریب افراد میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ مولانا رشادی نے بتایا کہ کشن باغ کو ایک ماڈل علاقہ بنایا گیا جہاں پر صفا بیت المال کی جانب سے گذشتہ آٹھ سال سے مختلف خدمات جاری ہیں مثلاً مائیکرو فینانس، رمضان راشن تقسیم، صفا شریعت ہیلپ لائن، صفا ہیلت کیئر جسمیں روزانہ 50مریضوں کی تشخیص کی جاتی ہے اور انہیں مفت ادویات فراہم کئے جاتے ہیں۔ ان تمام خدمات کے ساتھ ساتھ صفا بیت المال کی جانب سے روزانہ تین اسکولوں میں تربیتی بیانات کا سلسلہ جاری ہے جس میں ایک خاتون اوردو مردعلماء کی خدمات بطور تنخواہ حاصل ہے۔موسم گرما میں دینی گرمائی کورس چلائے جاتے ہیں جس میں شہر حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں 25سے زائد سنٹرس قائم کئے جاتے ہیں جس میں 2000سے زائد طلباو طالبات دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ آسام میں فسادات کے بعد دو مدرسوں کا قیام عمل میں لایا گیا ان مدارس میں 200طلبہ قیام و طعام کے ساتھ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اسی طرح مظفر نگر فسادات کے بعد کیرانہ میں صفا کالونی قائم کی گئی جہاں 100خاندان زندگی بسر کررہے ہیں، یہاں پر مسجد صفا تعمیر کی گئی اور دینی مدرسہ بھی چل رہا ہے۔ مولانا رشادی نے بتایا کہ حیدرآباد میں صفا بیت المال کا اسٹاف 160افراد پرمشتمل ماہانہ تنخواہ کے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک بھر کی 70شاخوں میں 300سے زائد افراد باتنخواہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ صفا بیت المال کی جانب سے ماہانہ ”سلسال صفا“اردو اور انگریزی میں مولانا غیاث احمد رشادی کی زیر ادارت میگزین شائع ہوتا ہے جس میں صفا بیت المال کے تمام شعبہ جات اور تمام شاخوں کی ماہانہ کارگزاری کی رپورٹس شائع ہوتی ہیں۔ یہ میگزین تمام ممبرس تک پہنچائی جاتی ہے اس کی اشاعت 3000ہے۔ صفا بیت المال کی جانب سے تمام انتظامات کمپیوٹررائزڈ ہیں۔ آمدنی اور اخراجات کا نظام بھی مؤثر انداز میں کمپیوٹررائزڈ ہے اسی طرح یوٹیوب پر درس قرآن کا جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے اس کے لئے باقاعدہ ریکارڈنگ سسٹم قائم ہے۔ مطالعہ اور ریسرچ کیلئے صفا بیت المال کی لائبریری اور اسٹاف کیلئے مکمل دفتری نظام اعلیٰ پیمانے پرعصری تقاضوں سے لیس کارکرد ہے۔ اپنی گوناگوں مصروفیات کے ساتھ ساتھ ان دنوں مولانا رشادی مساجد میں یومیہ درس قرآن کے نام سے عام فہم انداز میں دروس قرآن لکھنے کا سلسلہ شروع کئے ہوئے ہیں۔صدر صفابیت المال ملک بھر کی شاخوں کا دورہ کرتے ہوئے ان تمام مقامات پر پہنچ کر یہاں کی خدمات اور دیگرامور کا جائزہ لیتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ آپ اصلاح معاشرہ کی محافل سے بھی خطاب فرماتے ہیں۔ مولانا رشادی صفا بیت المال کی ایک خصوصیت بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہاں پر تقریباً تمام شاخوں کے ذمہ دار وہ علماء ہیں جن پر قوم کی قیادت و خدمت کی ذمہ داری ہے۔ اگر اس ملک کے مساجد کے آئمہ انسانیت کی بناد پر ملک کے دیگر اقوام کے افراد سے ہمدردی اور غمخواری عملاً کرینگے تو نفرت کی یہ دیوار گر سکتی ہے۔ صدرو بانی صفا بیت المال انڈیا مولانا غیاث احمد رشادی کی تصنیف و تالیف، خطابات اور عملی طور پر بیت المال کی خدمات کا احاطہ کرنا مشکل ہے اللہ تعالیٰ انکی شبانہ روز انتھک محنت اور دیگر ٹرسٹیوں کی خدمات کو قبول فرمائے۔ صفا بیت المال کے ٹرسٹیوں میں مولانا غیاث احمد رشادی صدر ٹرسٹی، مفتی عبدالمہیمن اظہر القاسمی نائب صدر ٹرسٹی، مولانا فصیح الدین ندوی جنرل سکریٹری ٹرسٹی، مولانا مصدق القاسمی سکریٹری ٹرسٹی اور مولانا وسیم الحق ندوی خازن ہیں۔مولانا رشادی اپنی سونچ بتاتے ہیں کہتے ہیں کہ امت محمدیہ ﷺ کے درمیان ربط ملت مقصد ہے یعنی جزوی اختلافات کے باوجود ہم ایک موڑ تک ایک جگہ ہوسکتے ہیں۔ ملت میں اتحاد و اتفاق مسالک کے تشدد سے اجتناب کرتے ہوئے اور محبت و پیار انسانیت کی بنیاد پر ہو۔ ہم وہ کام کریں جس سے پیسہ ہمارے پیچھے آئے اور ایسے کام سے گریز کریں جس سے ہم کو پیسے کے پیچھے بھاگنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ میری زندگی کا اثاثہ مال و دولت اور جائیداد نہیں بلکہ میری وہ اولاد جو میرے اس کاذ اور تحریک کو آگے بڑھائے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد ہر متحرک اور فعال شخص کیلئے سیع میدان ہے یہاں ہر شخص اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرکے کامیابی سے ہمکنار ہوسکتا ہے۔


No comments:

Post a Comment