| مولانا حافظ محمد خواجہ نذیر الدین سبیلیؔ ناظم جامعہ عائشہ نسواں |
ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید
جوائنٹ ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی، حیدرآباد
حافظ محمد خواجہ نذیر الدین صاحب پندرہ سال کی
عمر سے نمازِ تراویح میں روزانہ پانچ پارے قرآن مجید سنانے کی سعادت حاصل کررہے ہیں
اور الحمد للہ یہ سلسلہ گذشتہ 42سال سے جاری ہے۔ تکمیل حفظ قرآن مجید کے بعدسے
مسجد نور مادنا پیٹ میں بچوں کوناظرہ قرآن مجید اور حفظ قرآن مجید کرانے کا آغاز کیا
اوریہ سلسلہ بھی پندرہ سال تک یعنی قیام”عائشہ نسوان“تک جاری رہا،آپ کے پاس کئی
طلباء نے حفظ قرآن مجید کی تکمیل کی۔1975ء یعنی پندرہ سال کی عمر سے مولانا حافظ
خواجہ نذیر الدین مسجد نور مادنا پیٹ میں خطیب و امام کی حیثیت سے فائز ہیں۔ گذشتہ
سال طبیعت کی سخت ناسازی کے بعد سے اب صرف جمعہ کی خطابت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
1985ء میں انہیں مسابقۃ القرآن الکریم میں شرکت کیلئے مکہ مکرمہ جانے کا موقع نصیب
ہوا اور آپ کو کعبۃ اللہ شریف کے اندر نماز پڑھنے کا موقع ملا۔ اس مسابقہ میں بین
الاقوامی سطح سے تقریباً 350قرأ، حفاظ اور علماء تشریف لائے تھے۔ مولانا نے بتایا
کہ دینی اور عصری علوم کی تکمیل کے بعد ابتداء میں مادنا پیٹ میں ”الفلاح پرنٹنگ
پریس“ کا قیام عمل میں لایا پھراسے یہاں سے
چھتہ بازار منتقل کیاگیا، لیکن جامعہ عائشہ نسوان کے قیام کے بعد مصروفیات
کی وجہ سے پرنٹنگ پریس کو بند کردیا گیا۔
جامعہ عائشہ نسوان کا قیام:۔ مولانا حافظ محمد
خواجہ نذیر الدین سبیلی نے جامعہ عائشہ نسوان کے قیام کے سلسلہ میں بتایا کہ جامعہ
کے قیام سے قبل چند افراد کے درمیان خواتین کے چند ضروری مسائل کے سلسلہ میں کسی
مسئلہ پر بات چیت ہورہی تھی اس موقع پر انہیں خیال پیدا ہوا کہ کیوں نہ لڑکیوں کیلئے مدرسہ کا قیام عمل میں
لایا جائے۔ اس خیال کو عملی جامہ پہنایا گیا اور پھر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
کی سرپرستی میں 20/ اگسٹ 1986ء میں جامعہ عائشہ نسوان کا قیام عمل میں لایا گیا۔آغاز
کے وقت ہی ایک کمیٹی بنائی گئی جس کے بانی سرپرست مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور
بانی ناظم مولانا محمد خواجہ نذیر الدین سبیلی ہیں۔ کمیٹی کے دیگر عہدیداروں میں
حکیم میر مقبول علی ہاشمی نگران عمومی اور جناب محمد بشیر الدین خازن ہیں۔عائشہ
نسوان کا آغاز صرف سات لڑکیوں کی تعلیم سے ہوا اور الحمد للہ ترقی کرتا ہوا یہ
جامعہ آج ریاست تلنگانہ، آندھراپردیش اور دیگر ریاستوں کے 1600طالبات کو زیور تعلیم
سے آراستہ کررہا ہے۔ جامعہ میں اس وقت 900طالبات اقامتی حیثیت سے تعلیم حاصل کررہی
ہیں۔ جامعہ میں شعبہ حفظ قرآن مجید کے تحت مکمل تجوید کی رعایت کے ساتھ قرآن مجید
کے حفظ کا انتظام ہے۔ اس شعبہ میں صرف ان ہی طالبات کو داخلہ دیا جاتا ہے جو سن
بلوغ کو پہنچنے سے پہلے حفظ مکمل کرسکتی ہیں۔ حفظ شروع کرنے سے قبل تجوید کی مشق کیلئے
قاعدہ و ناظرہ کا درس دیا جاتا ہے۔ شعبہ عالمیت میں قرآن و حدیث، فقہ و عربی ادب کی
اعلیٰ تعلیم کا نظم ہے یہ شعبہ پانچ سالہ نصاب پر مشتمل ہے اس نصاب کی تکمیل پر فضیلت
کی سند دی جاتی ہے۔ شعبہ تخصص فی الفقہ کے تحت فقہی مسائل میں مہارت اور روزمرہ پیش
آنے والے مسائل کی جانکاری اور ان کے اسلامی حل کے طریقوں سے واقفیت کو مدنظر
رکھتے ہوئے فضیلت حاصل کرنے والی طالبات کیلئے شعبہ تخصص فی الفقہ عمل میں لایا گیا۔
اس شعبہ میں ملک کے دیگر جامعات کی فاضلات بھی شریک ہوتی ہیں۔ شعبہ تخصص فی الادب
میں عربی زبان وادب کی اہمیت کے پیش نظر
اس میں جامعہ سے فارغ ہونے والی طالبات کیلئے یہ شعبہ قائم کیا گیا۔ شعبہ
عصری علوم میں شعبہ عالمیت کے ساتھ عصری علوم کا بھی نظم ہے اور اس میں ایسا نصاب
مرتب کیا گیا ہے کہ عالمہ بننے والی طالبہ اپنے عالم کورس کے ساتھ ساتھ میٹرک تک
عصری تعلیم حاصل کرسکتی ہیں۔ نیز انگریزی و تلگو زبان میں دین کی اشاعت کیلئے
اسپوکن انگلش و تلگو کی خصوصی مشق کرائی جاتی ہے۔ شعبہ صنعت و حرفت کے تحت کمپیوٹرس
کے مختلف کورسس، ٹیلرنگ، کشیدہ کاری کی ٹریننگ دی جاتی ہے تاکہ طالبات گھر بیٹھے
اپنے روزگار کا انتظام کرسکیں۔ اس شعبہ میں مزید ہنر بشمول موم بتی و چاک سازی کی
تربیت بھی زیر غور ہے۔ طالبات کی تقریری و تحریری صلاحیتوں کوپروان چڑھانے کیلئے
تربیتی پروگرام کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جامعہ میں فقہی مذاکرہ پروگرام کے تحت
طالبات کو مسائل سے واقف کروانا اور ان میں مسائل بیان کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا
ہے۔ اسی طرح بزم عائشہ کے ذریعہ ہر پندرہ دن میں ایک مرتبہ اس کا انعقاد عمل میں
لایا جاتا ہے اس میں طالبات عربی، اردو، انگریزی اور تلگو زبانوں میں تقریریں کرتی
ہیں اور حمد و نعت و نظمیں سناتی ہیں اس پروگرام سے طالبات میں تقریری صلاحیت پیدا
ہوتی ہے۔
جامعہ عائشہ نسوان میں دارالافتاء: پیش آنے
والے مسائل میں شرعی رہنمائی کیلئے جامعہ میں دارالافتاء بھی قائم ہے۔ دارالافتاء
سے کثیر تعداد میں اب تک مختلف اہم اور غور طلب مسائل پر مشتمل فتاوی جاری ہوچکے ہیں
نیز مردو خواتین حسب سہولت مدرسہ حاضر ہوکر یا فون پر اپنے مسائل کا شرعی حل معلوم
کرسکتے ہیں۔
لائبریری:۔جامعہ میں اس وقت تفسیر، حدیث، فقہ،
کلام، لغت اور دیگر اسلامی علوم کی اہم اور مستند کتابیں موجود ہے مزید اسکی افادیت
کو عام کرنے کیلئے ایک مستقل لائبریری کا قیام بھی شامل ہے۔
جامعہ کا ماہانہ علمی و اصلاحی ترجمان ”حضرت
عائشہ ؓ “ کے نام سے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی سرپرستی اور حافظ محمد خواجہ
نذیر الدین سبیلیؔ کی ادارت میں شائع ہوتا ہے جس میں حالات حاضرہ سے متعلق شرعی
نصوص کی روشنی میں لکھے گئے مدلل و مفصل مضامین شائع ہوتے ہیں۔ اس ترجمان کی ایک
خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں صحابیات کی حالات زندگی، اسلام میں عورتوں کا مقام اور
خواتین کے مسائل وغیرہ مفصل اور تحقیقی انداز میں شائع کئے جاتے ہیں۔ اس ماہنامہ
کے نائب مدیر محمد عارف باللہ القاسمیؔ ہیں۔
جامعہ عائشہ نسوان کی طالبات کیلئے تلنگانہ و
آندھراپردیش اور دیگر ریاستوں میں 40شاخیں قائم ہیں جن میں سے 15اقامتی ہیں۔ ان
تمام شاخوں کے مولانا حافظ محمد خواجہ نذیر الدین ناظم تعلیمات ہیں۔ ان شاخوں کے
علاوہ لڑکوں کے 8مدارس کے بھی مولانا ناظم تعلیمات ہیں۔ مولانا نے بتایا کہ جامعہ
میں مقیم 30فیصد طالبات سے مکمل فیس لی جاتی ہے جبکہ 40فیصد طالبات سے جزوی فیس لی
جاتی ہے اور مکمل امدادی طالبات 30فیصد ہیں۔جامعہ کی تمام شاخوں میں 3500ہزار
طالبات دینی علوم حاصل کررہی ہیں۔ حیدرآباد میں تین شاخیں جھرا، بورہ بنڈہ اور کرما
گوڑہ میں قائم ہیں۔مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے جامعہ کو مسلمہ قرار دیا
ہے۔ جامعہ سے فضلیت کی سند حاصل کرنے والی طالبات مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی
سے بی اے میں داخلہ لے سکتی ہیں جبکہ تخصص کرنے والی طالبات ایم اے میں داخلہ لے
سکتی ہیں۔ مولانا محمد خواجہ نذیر الدین سبیلی طبیعت کی ناسازی کے باوجود پابندی
سے جامعہ میں طالبا ت کو درس قرآن، درس حدیث اور درس فقہ کی کلاسس لیتے ہیں۔ اس کے
علاوہ مختلف مقامات پر بھی حافظ صاحب کے درس قرآن،درس حدیث اور درس فقہ کے پروگرام
ہوتے ہیں۔مولانا محمد خواجہ نذیر الدین صاحب نے بتایا کہ وہ ان دنوں ترمذی شریف کی
شرح ”معارف الترمذی“ کے نام سے لکھ رہے ہیں جو انشاء اللہ دس جلدوں پر مشتمل ہونگی
جس سے عوام اور علماء دونوں استفادہ کرسکتے ہیں۔ مولانا کئی حج کرچکے ہیں اور کئی
مرتبہ حجاج کرام کی رہنمائی کیلئے حرمین شریفین جانے کا انہیں شرف حاصل ہوچکا ہے۔
طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے دو سال سے یہ سلسلہ رکا ہوا ہے۔جامعہ عائشہ نسوان کے ذریعہ
آپ نے حیدرآباد اور دیگر ریاستوں کی لڑکیوں کی دینی تعلیم و تربیت اور انہیں
روزگار کے مواقع کے ذریعہ،خصوصی طور پر اتنی بڑی تعداد میں لڑکیوں کو اقامتی
سہولتوں کے ساتھ جو خدمات انجام دے رہے ہیں قابلِ تحسین اور لائق ستائش ہیں۔ اللہ
تعالیٰ انہیں کو صحت و عافیت اور سلامتی کے ساتھ درازی عمر عطا فرمائے اور ان کی
سعی کو دین و دنیا میں سرخروئی عطا فرمائے۔آمین
فون: 040-24533792,24530013
جامعہ عائشہ نسوان، داراب جنگ کالونی، نزد عیدگاہ
قدیم مادنا پیٹ، حیدرآباد