عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ
عرب لیگ سربراہ کانفرنس کا جدہ میں آغاز۔ بشارالاسدسمیت دیگر رہنماؤں کی شرکت
ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید
الحمد للہ! عالمِ اسلام کے قائدین کا آپسی اختلافات اور دوریوں کو فراموش کرتے ہوئے متحدہونا اقوامِ عالم کیلئے خوش آئند اقدام ہے۔ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ سعودی عرب کی میزبانی میں عرب لیگ کانفرنس کا 32واں سربراہی اجلاس شہرحجاز جدہ میں ہورہا ہے۔عرب ممالک کے درمیان یہ کانفرنس ایک ایسے وقت ہورہی ہے جب کہ خطہ کے ممالک اپنی دوریوں کو خیرباد کہہ کرآپسی اختلافات کو فراموش کرتے ہوئے متحد ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ سعودی عرب اور شام کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہورہے ہیں۔ شام کے صدر بشارالاسدشاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر عرب لیگ کانفرنس میں شرکت کے لئے جمعرات کو جدہ پہنچے۔ان کا استقبال نائب گورنر مکرمہ شہزادہ بدر بن سلطان بن عبدالعزیز، عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل ابو الغیط، میئر جدہ صالح بن علی الترکی، ڈائرکٹر پولیس مکہ مکرمہ میجر جنرل صالح الجابری اور شاہی پروٹوکول کے سیکریٹری فہد الصہیل نے جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بشارالاسد 12سال بعد پہلی بار عرب سربراہ کانفرنس میں شرکت کررہے ہیں۔ سعودی عرب نے دس سال کے انقطاع کے بعد شام کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرتے ہوئے دمشق میں سفارتخانہ دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ شامی بحران کے تناظر میں 2011کے دوران عرب لیگ میں شام کی رکنیت معطل کردی گئی تھی۔ اس سربراہ کانفرنس میں فلسطینی صدر محمود عباس، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، بحرینی فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ، ماریطانیہ کے صدر محمد بن الشیخ احمد الغزوانی، لبنانی وزیر اعظم اسعد بن طارق آل سعید، یمنی صدر ڈاکٹر رشاد محمد العلیمی، تیونس کے صدر قیس بن سعید، لیبیا کے صدر محمد یونس المنفی اور صومالیہ کے صدر ڈاکٹر حسمن شیخ محمود کانفرنس میں شرکت کے لئے جدہ پہنچے۔ بتایا جاتا ہیکہ سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لئے آئے ہوئے قائدین دوطرفہ ملاقاتیں کرینگے۔ سعودی کابینہ نے عرب لیگ میں شام کی واپسی پر خیر مقدم کیا ہے۔ سعودی عرب ویژن 2030کے تحت علاقائی مسائل کو بہتر انداز میں حل کرنے اور آپسی اختلافات کو ختم کرتے ہوئے ترقیاتی پروگراموں کو روبہ عمل لانے اور امن و سلامتی کی فضاء کو بحال کرنے کیلئے عالمی سطح پر اہم رول ادا کررہا ہے۔ سوڈان کی صورتحال کو مدّنظر رکھتے ہوئے فریقین کے درمیان کامیاب مساعی ضروری ہے اسی طرح اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تازہ کشیدگی کو بھی بات چیت میں نمایاں طور پر سامنے رکھنے کی توقع ہے۔یمن میں جنگ کے حل کے حوالے سے پیشرفت سمیت کچھ مثبت تبدیلیاں آئی ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں کی طرح یہ محض ایک ’رسمی‘ اجلاس یا ’ملاقات برائے ملاقات‘ نہیں ہو گی بلکہ ایک عملی اور فعال اجتماع ہو گا جس میں ایک سے زیادہ علاقائی مسائل پر قیادتوں کے درمیان بات چیت ہو گی۔اردنی قانون ساز و سیاسی تجزیہ کار عمر ایاسرہ نے عرب نیوز کو بتایا ’سنہ 1945 میں اپنے قیام کے بعد سے تمام پچھلی عرب لیگ کے سربراہی اجلاس علاقائی بحرانوں اور اتحاد کے اندر بہت زیادہ اختلاف رائے کی وجہ سے اس حد تک متاثر ہوئے کہ ان میں سے بہت سے اجلاس یا تو منسوخ کر دیے گئے تھے یا ان کے کوئی ٹھوس نتائج برآمد نہیں ہوئے تھے۔‘ان کا کہنا ہے کہ’جدہ میں ہونے والی سربراہی کانفرنس کچھ مختلف معلوم ہوتی ہے۔ اس سے پہلے سعودی قیادت میں متعدد عملی اقدامات کیے گئے جن کا مقصد سب سے پہلے اجلاس کیلئے مثبت بنیادیں استوار کرنا اور اس کے نتیجے میں علاقائی بحرانوں پر ایک متفقہ عرب پوزیشن اور ان سے نمٹنے کیلئے ضروری اجتماعی فریم ورک بنانا ہے۔‘عمر ایاسرہ کے مطابق یہ سعودی عرب کی علاقائی اتھارٹی کی طرف بڑھنا، عرب ریاستوں کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کی خواہش ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر ایک متحدہ عرب محاذ کو مضبوط بنانا ہے جس نے اس سربراہی اجلاس کو پچھلے اجلاسوں سے مختلف کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’علاقائی بحرانوں کے حل کے لیے سعودی قیادت میں ایک منصوبہ جدہ میں ہونے والی سربراہی کانفرنس کا موضوع ہو گا۔‘جیو پولیٹیکل تجزیہ کار عامر سبیلہ نے بھی عمر ایاسرہ کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ جدہ میں سربراہی اجلاس کے انعقاد کے سادہ عمل نے اس موقعے کو ’اہم، دلکش اور فائدہ مند‘ بنا دیا ہے۔اْن کا کہنا تھا کہ ’سعودی عرب اس وقت تمام مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے۔‘عامر سبیلہ کے مطابق سعودی مملکت اس وقت علاقائی مسائل کے حل کے لیے ’زبردست‘ سفارتی کوششیں کر رہی ہے اور عرب لیگ کے سربراہی اجلاس سے قبل عربوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششوں نے کانفرنس کا ایجنڈا پہلے ہی طے کر دیا تھا۔امید ہیکہ یہ اجلاس عالمِ اسلام و بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کے لئے خوش آئند ثابت ہوگا۔
پاکستانی پارلیمنٹ نے توہین پارلیمان بل منظور کرلیا۰۰۰ باوقار ادارے اور ججز نشانہ پر؟
عدلیہ کے وقار اور مرتبہ کی نسبت توہین عدالت سمجھ میں آتا ہے لیکن پاکستانی قومی اسمبلی نے متفقہ رائے سے توہین پارلیمنٹ بل منظور کرلیا ہے جس کے تحت کسی رکن، ایوان یا کمیٹی کا استحقاق مجروح کرنے والا شخص سزا کا مرتکب ہوگا۔ بتایا جاتا ہیکہ منگل کواسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط و استحقاق رانا محمد قاسم نو ن نے توہین پارلیمنٹ بل 2023پیش کیا۔ توہین پارلیمنٹ پر چھ ماہ تک کی قید یا ایک کروڑ روپیے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پارلیمنٹ کو کوئی ریکارڈ یا ثبوت دینے سے انکار کرنے، غلط بیانی کرنے یا بیان دینے سے روکنے کیلئے اثر و رسوخ یا طاقت کا استعمال کرنے والے پر بھی توہین پارلیمنٹ عائد ہوگی۔بل کے متن کے مطابق کمیٹی یا ایوان کے سامنے جعلی دستاویزات جمع کرانے والا بھی توہین پارلیمنٹ کا مرتکب ہوگا۔توہین پارلیمنٹ ایکٹ منظور ہونے کے30 دن کے اندرا سپیکر توہین پارلیمنٹ کمیٹی تشکیل دینگے جو 24 ارکان پر مشتمل ہوگی جس میں سینیٹ اور قومی اسمبلی سے برابر ارکان لیے جائیں گے۔
کمیٹی میں چودہ ارکان کا تعلق حکومت اور دس کا تعلق اپوزیشن سے ہوگا۔ سیکریٹری قومی اسمبلی توہین پارلیمنٹ کمیٹی کے سیکرٹری ہونگے اور کمیٹی کثرت رائے سے فیصلے کرے گی۔کمیٹی کی سفارش پر ایوان کو توہین پارلیمنٹ کے مرتکب فرد کو سزا سنانے کا اختیار ہوگا۔آئین کے مطابق کمیٹی ہر ایک کو صفائی کا پورا موقع دینے کی پابند ہوگی جبکہ کارروائی ان کیمرا کرنے کا اختیار بھی کمیٹی کو حاصل ہوگا۔کمیٹی کو کسی بھی شخص کی حاضری یقینی بنانے کیلئے سمن جاری کرنے کا اختیار ہوگا۔اگر کسی شخص کو براہِ راست سمن موصول نہ کروائے جا سکے تو اس کیلئے متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔جو شخص کمیٹی کے بلانے پر بھی پیش نہیں ہوگا چیئرمین کمیٹی اس کے وارنٹ جاری کر کے پولیس کے ذریعے حاضری یقینی بنانے میں با اختیار ہونگے۔وارنٹ جاری کرنے سے پہلے اسپیکر یا چیئرمین سینیٹ سے منظوری لینا ضروری ہوگی۔اگر کوئی ادارہ دستاویزات فراہم نہیں کر سکتا تو اس کے سربراہ کو کمیٹی کو مطمئن کرنا ہوگا کہ ایسا کرنے سے ملکی دفاع و سلامتی بیرونی تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ توہین پارلیمنٹ کے مرتکب شخص کے خلاف تحریک سینیٹ یا قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی، چیئرمین سینیٹ یا اسپیکر معاملہ توہین پارلیمنٹ کمیٹی کو بھجوائیں گے۔ایوان کی جانب سے سنائی گئی سزا پر متعلقہ علاقے کا جوڈیشل مجسٹریٹ عمل درآمد کا پابند ہوگا۔سوال پیدا ہوتا ہیکہ توہین پارلیمنٹ بل منظور کرنے کی نوبت کیوں پیش آئی۔ سابق وزیر اعظم پاکستان وچیئرمین پاکستان تحریک انصاف کو چیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ عمرعطا بندیال کی جانب سے سہولت کاری فراہم کرنے کی جو باتیں حکمراں پارٹی کی قیادت کررہی ہے اور چیف جسٹس اور بعض ججز پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ وہ عمران خان کو چھوٹ دے رہے ہیں۔ موجودہ پاکستانی حکومتی قائدین چاہتے ہیں کہ عدلیہ سے زیادہ عزت و احترام پارلیمان اور پارلیمنٹرینز کا ہونا چاہیے کیونکہ آئین عدلیہ میں نہیں بلکہ پارلیمنٹ میں بنایا جاتا ہے جبکہ عدلیہ اس پر عمل کرانے کی پابند ہوتی ہے۔ یہی نظریہ موجودہ پاکستان حکمراں قائدین کے ذہنوں میں گردش کررہا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ انکے سامنے عدلیہ بھی جھک جائے اور ججز بھی پارلیمنٹ کیلئے جوابدہ بنے۔ انصاف کے تقاضے کون پورے کررہے ہیں اور کون نہیں کررہے ہیں یہ ججز خود جانتے ہیں اگر وہ اس منصب انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر غلط فیصلے کررہے ہیں تو اسکا خمیازہ انہیں دنیا اور آخرت میں بھگتنا پڑے گا لیکن بعض ججز کے فیصلوں کی وجہ سے ایک معتبر،باوقار ادارہ کو پارلیمنٹ کا جوابدہ بنایا جائے تو یہ اصل توہین عدالت ہوگی۔ حکمراں جماعت کے قائدین ہوں یا پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء ہرایک کو چاہیے کہ وہ اپنے ان اہم اداروں کی قدرو منزلت کو پامال کرنے سے گریز کریں۔ عدلیہ کا وقار ہر ملک اور ہر مذہب میں اونچا رہا ہے اس کے وقار کو گھٹانے کی کوشش نہ کی جائے۔ کیونکہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ملک کہلاتا ہے لیکن موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو شرم سی محسوس ہوتی ہے کہ تعلیم یافتہ اسلامی معاشرے کا دم بھرنے والے خوداسلام کے تشخص کو ملیامیٹ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اقتدار کی ہوس کہئیے یا بدلے کی آگ ۰۰۰ ایک سچے مسلمان کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اسلام نے تلقین کی ہے۔ گذشتہ دنوں پاکستان میں جو حالات دیکھنے میں آئے ہیں اس سے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ شدید متاثر ہوئی ہے۔ اب دیکھنا ہیکہ توہین پارلیمنٹ ایکٹ منظور ہوتا ہے کہ اس کے ذریعہ کن کن شخصیتوں اور اداروں کے خلاف توہین پارلیمنٹ کیتحت سمن جاری ہوتے ہیں ۰۰۰
چیف جسٹس عمر عطابندیال کے خلاف ریفرنس لانے کیلئے تحریک منظور
چیف جسٹس پاکستان سپریم کورٹ عمر عطابندیال اور دیگر ججز کے خلاف ریفرنس لانے کیلئے قومی اسمبلی پاکستان میں تحریک منظور کر لی گئی ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ا سپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس15/ کو منعقد ہوا جس میں شازیہ سومرو نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور دیگر ججز کے خلاف ریفرنس لانے کی تحریک پیش کی جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ تحریک منظور ہونے کے بعد ریفرنس کی تیاری کیلئے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں جناح ہاؤس پر حملے، شہداء کی یادگاروں کی بے حرمتی کے خلاف مذمتی قرا ر داد بھی منظور کی گئی ہے۔
صدررجب طیب اردغان صدارتی دوڑ میں آگے۔ 28/ مئی کو حتمی فیصلہ
ترکیہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر رجب طیب اردغان کو اپنے حریف کمال قلیچ داراوغلو پر برتری حاصل ہے تاہم اگلے صدر کا حتمی فیصلہ 28/ مئی کو ہوگا کیونکہ طیب اردغان 50فیصد ووٹ نہ لے سکے۔ ذرائع ابلاغ عرب نیوز کے مطابق نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ انتخابات سے قبل پولز میں سامنے آنے والی عوامی رائے کے برعکس اور ترکیہ میں بدترین معاشی بحران کے باوجود صدر اردغان کے حق میں 49.5 فیصد ووٹ پڑے ہیں جبکہ ان کے حریف کمال قلیچ داراوغلو کو 44.9 فیصد اور قوم پرست امیدوار سینان اوغان کو 5.2 فیصد ووٹ پڑے۔رجب طیب اردغان کی اس ’زبردست جیت‘ پر معاشی امور کے ماہر ٹموتھی ایش نے کہا کہ صدر ایسی مہارت رکھتے ہیں کہ ترک عوام خواہ وہ قوم پرست ہوں یا قدامت پسند سب انہی کے حامی ہیں۔امریکی کنسلٹنگ فرم ٹینیو کے ڈائریکٹر والفنگ پیکولی کا کہنا ہے کہ ’اردغان اپنے حریفوں پر واضح نفسیاتی برتری حاصل کر چکے ہیں۔ آئندہ دو ہفتوں میں وہ اپنے قومی سلامتی کے بیانیے کو مزید پروان چڑھائیں گے۔‘اکثر تجزیہ کاروں کے خیال میں کمال قلیچ داراوغلو اور ان کی چھ جماعتوں پر مشتمل اپوزیشن اتحاد کو 28/ مئی کو ہونے والے دوسرے مرحلے میں اردغان کو شکست دینا مشکل ہو جائے گا۔ریسرچ فرم یوریشیاگروپ سے وابستہ ایمر پیکر کے اندازے کے مطابق رن آف یعنی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اردغان کے کامیاب ہونے کا 80 فیصد امکان ہے۔ایمر پیکر کے مطابق غیرحتمی نتائج سے یہ واضح ہے کہ اردغان اور ان کے اتحادیوں نے دہشت گردی، سیکیورٹی اور خاندانی اقدار کے موضوعات پر انتہائی کامیابی کے ساتھ اپنا پیغام پہنچا کر عوام کی حمایت حاصل کی، اس سے قطع نظر کہ ووٹرز کا سب سے بڑا مسئلہ معیشت ہی ہے۔صدررجب طیب اردغان کے حامی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ وہی حقیقی لیڈر ہیں۔ ترک عوام کو ان پر بھروسہ ہے۔ اور وہ ترکیہ کے لیے ویژن رکھتے ہیں۔‘اردغان کے ووٹرزکا کہنا ہیکہ یقیناً معیشت، تعلیم اور پناہ گزینوں سے متعلق پالیسیوں کے حوالے سے بہتری کی ضرورت ہے لیکن ہمیں یہ معلوم ہے کہ وہی تمام مسائل کا حل نکال سکتے ہیں۔رائے شماری میں اردغان کے حریف کمال قلیچ داراوغلو کی جیت کی پیشگوئی کی گئی تھی تاہم کنسلٹنٹ انتھونی سکنر کا کہنا ہے کہ سروے کے نتائج نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ انتہائی منقسم معاشرے میں عوامی رائے کو جاننا مشکل ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انتخابات سے ہونے والے بیشتر عوامی سرویز کے نتائج اردغان کو حاصل اس قدر حمایت کی عکاسی نہیں کرتے اور اس سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ انتخابات سے قبل سامنے آنے والی عوامی رائے پر انتہائی احتیاط برتنی چاہیے۔49.5ووٹ حاصل کرنے والے رجب طیب اردغان 28/ مئی کو دوسرے مرحلے میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے پھر ایک مرتبہ ترکیہ کی صدارت پر فائز ہوجائینگے۔رجب طیب اردغان کو ترکیہ کے عوام ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر مسلمان چاہتے ہیں اور انکی کامیابی کیلئے عالمی سطح پر نیک خواہشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔
No comments:
Post a Comment