MY COLUMN

عرب لیگ سربراہ کانفرنس کا جدہ میں آغاز۔ بشارالاسدسمیت دیگر رہنماؤں کی شرکت

عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

عرب لیگ سربراہ کانفرنس کا جدہ میں آغاز۔ بشارالاسدسمیت دیگر رہنماؤں کی شرکت

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

                    الحمد للہ! عالمِ اسلام کے قائدین کا آپسی اختلافات اور دوریوں کو فراموش کرتے ہوئے متحدہونا اقوامِ عالم کیلئے خوش آئند اقدام ہے۔ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ سعودی عرب کی میزبانی میں عرب لیگ کانفرنس کا 32واں سربراہی اجلاس شہرحجاز جدہ میں ہورہا ہے۔عرب ممالک کے درمیان یہ کانفرنس ایک ایسے وقت ہورہی ہے جب کہ خطہ کے ممالک اپنی دوریوں کو خیرباد کہہ کرآپسی اختلافات کو فراموش کرتے ہوئے متحد ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ سعودی عرب اور شام کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہورہے ہیں۔ شام کے صدر بشارالاسدشاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر عرب لیگ کانفرنس میں شرکت کے لئے جمعرات کو جدہ پہنچے۔ان کا استقبال نائب گورنر مکرمہ شہزادہ بدر بن سلطان بن عبدالعزیز، عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل ابو الغیط، میئر جدہ صالح بن علی الترکی، ڈائرکٹر پولیس مکہ مکرمہ میجر جنرل صالح الجابری اور شاہی پروٹوکول کے سیکریٹری فہد الصہیل نے جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بشارالاسد 12سال بعد پہلی بار عرب سربراہ کانفرنس میں شرکت کررہے ہیں۔ سعودی عرب نے دس سال کے انقطاع کے بعد شام کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرتے ہوئے دمشق میں سفارتخانہ دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ شامی بحران کے تناظر میں 2011کے دوران عرب لیگ میں شام کی رکنیت معطل کردی گئی تھی۔ اس سربراہ کانفرنس میں فلسطینی صدر محمود عباس، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، بحرینی فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ، ماریطانیہ کے صدر محمد بن الشیخ احمد الغزوانی، لبنانی وزیر اعظم اسعد بن طارق آل سعید، یمنی صدر ڈاکٹر رشاد محمد العلیمی، تیونس کے صدر قیس بن سعید، لیبیا کے صدر محمد یونس المنفی اور صومالیہ کے صدر ڈاکٹر حسمن شیخ محمود کانفرنس میں شرکت کے لئے جدہ پہنچے۔ بتایا جاتا ہیکہ سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لئے آئے ہوئے قائدین دوطرفہ ملاقاتیں کرینگے۔ سعودی کابینہ نے عرب لیگ میں شام کی واپسی پر خیر مقدم کیا ہے۔ سعودی عرب ویژن 2030کے تحت علاقائی مسائل کو بہتر انداز میں حل کرنے اور آپسی اختلافات کو ختم کرتے ہوئے ترقیاتی پروگراموں کو روبہ عمل لانے اور امن و سلامتی کی فضاء کو بحال کرنے کیلئے عالمی سطح پر اہم رول ادا کررہا ہے۔ سوڈان کی صورتحال کو مدّنظر رکھتے ہوئے فریقین کے درمیان کامیاب مساعی ضروری ہے اسی طرح اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تازہ کشیدگی کو بھی بات چیت میں نمایاں طور پر سامنے رکھنے کی توقع ہے۔یمن میں جنگ کے حل کے حوالے سے پیشرفت سمیت کچھ مثبت تبدیلیاں آئی ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں کی طرح یہ محض ایک ’رسمی‘ اجلاس یا ’ملاقات برائے ملاقات‘ نہیں ہو گی بلکہ ایک عملی اور فعال اجتماع ہو گا جس میں ایک سے زیادہ علاقائی مسائل پر قیادتوں کے درمیان بات چیت ہو گی۔اردنی قانون ساز و سیاسی تجزیہ کار عمر ایاسرہ نے عرب نیوز کو بتایا ’سنہ 1945 میں اپنے قیام کے بعد سے تمام پچھلی عرب لیگ کے سربراہی اجلاس علاقائی بحرانوں اور اتحاد کے اندر بہت زیادہ اختلاف رائے کی وجہ سے اس حد تک متاثر ہوئے کہ ان میں سے بہت سے اجلاس یا تو منسوخ کر دیے گئے تھے یا ان کے کوئی ٹھوس نتائج برآمد نہیں ہوئے تھے۔‘ان کا کہنا ہے کہ’جدہ میں ہونے والی سربراہی کانفرنس کچھ مختلف معلوم ہوتی ہے۔ اس سے پہلے سعودی قیادت میں متعدد عملی اقدامات کیے گئے جن کا مقصد سب سے پہلے اجلاس کیلئے مثبت بنیادیں استوار کرنا اور اس کے نتیجے میں علاقائی بحرانوں پر ایک متفقہ عرب پوزیشن اور ان سے نمٹنے کیلئے ضروری اجتماعی فریم ورک بنانا ہے۔‘عمر ایاسرہ کے مطابق یہ سعودی عرب کی علاقائی اتھارٹی کی طرف بڑھنا، عرب ریاستوں کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کی خواہش ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر ایک متحدہ عرب محاذ کو مضبوط بنانا ہے جس نے اس سربراہی اجلاس کو پچھلے اجلاسوں سے مختلف کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’علاقائی بحرانوں کے حل کے لیے سعودی قیادت میں ایک منصوبہ جدہ میں ہونے والی سربراہی کانفرنس کا موضوع ہو گا۔‘جیو پولیٹیکل تجزیہ کار عامر سبیلہ نے بھی عمر ایاسرہ کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ جدہ میں سربراہی اجلاس کے انعقاد کے سادہ عمل نے اس موقعے کو ’اہم، دلکش اور فائدہ مند‘ بنا دیا ہے۔اْن کا کہنا تھا کہ ’سعودی عرب اس وقت تمام مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے۔‘عامر سبیلہ کے مطابق سعودی مملکت اس وقت علاقائی مسائل کے حل کے لیے ’زبردست‘ سفارتی کوششیں کر رہی ہے اور عرب لیگ کے سربراہی اجلاس سے قبل عربوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششوں نے کانفرنس کا ایجنڈا پہلے ہی طے کر دیا تھا۔امید ہیکہ یہ اجلاس عالمِ اسلام و بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کے لئے خوش آئند ثابت ہوگا۔ 

پاکستانی پارلیمنٹ نے توہین پارلیمان بل منظور کرلیا۰۰۰ باوقار ادارے اور ججز نشانہ پر؟

                    عدلیہ کے وقار اور مرتبہ کی نسبت توہین عدالت سمجھ میں آتا ہے لیکن پاکستانی قومی اسمبلی نے متفقہ رائے سے توہین پارلیمنٹ بل منظور کرلیا ہے جس کے تحت کسی رکن، ایوان یا کمیٹی کا استحقاق مجروح کرنے والا شخص سزا کا مرتکب ہوگا۔ بتایا جاتا ہیکہ منگل کواسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط و استحقاق رانا محمد قاسم نو ن نے توہین پارلیمنٹ بل 2023پیش کیا۔ توہین پارلیمنٹ پر چھ ماہ تک کی قید یا ایک کروڑ روپیے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پارلیمنٹ کو کوئی ریکارڈ یا ثبوت دینے سے انکار کرنے، غلط بیانی کرنے یا بیان دینے سے روکنے کیلئے اثر و رسوخ یا طاقت کا استعمال کرنے والے پر بھی توہین پارلیمنٹ عائد ہوگی۔بل کے متن کے مطابق کمیٹی یا ایوان کے سامنے جعلی دستاویزات جمع کرانے والا بھی توہین پارلیمنٹ کا مرتکب ہوگا۔توہین پارلیمنٹ ایکٹ منظور ہونے کے30 دن کے اندرا سپیکر توہین پارلیمنٹ کمیٹی تشکیل دینگے جو 24 ارکان پر مشتمل ہوگی جس میں سینیٹ اور قومی اسمبلی سے برابر ارکان لیے جائیں گے۔

                    کمیٹی میں چودہ ارکان کا تعلق حکومت اور دس کا تعلق اپوزیشن سے ہوگا۔ سیکریٹری قومی اسمبلی توہین پارلیمنٹ کمیٹی کے سیکرٹری ہونگے اور کمیٹی کثرت رائے سے فیصلے کرے گی۔کمیٹی کی سفارش پر ایوان کو توہین پارلیمنٹ کے مرتکب فرد کو سزا سنانے کا اختیار ہوگا۔آئین کے مطابق کمیٹی ہر ایک کو صفائی کا پورا موقع دینے کی پابند ہوگی جبکہ کارروائی ان کیمرا کرنے کا اختیار بھی کمیٹی کو حاصل ہوگا۔کمیٹی کو کسی بھی شخص کی حاضری یقینی بنانے کیلئے سمن جاری کرنے کا اختیار ہوگا۔اگر کسی شخص کو براہِ راست سمن موصول نہ کروائے جا سکے تو اس کیلئے متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔جو شخص کمیٹی کے بلانے پر بھی پیش نہیں ہوگا چیئرمین کمیٹی اس کے وارنٹ جاری کر کے پولیس کے ذریعے حاضری یقینی بنانے میں با اختیار ہونگے۔وارنٹ جاری کرنے سے پہلے اسپیکر یا چیئرمین سینیٹ سے منظوری لینا ضروری ہوگی۔اگر کوئی ادارہ دستاویزات فراہم نہیں کر سکتا تو اس کے سربراہ کو کمیٹی کو مطمئن کرنا ہوگا کہ ایسا کرنے سے ملکی دفاع و سلامتی بیرونی تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ توہین پارلیمنٹ کے مرتکب شخص کے خلاف تحریک سینیٹ یا قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی، چیئرمین سینیٹ یا اسپیکر معاملہ توہین پارلیمنٹ کمیٹی کو بھجوائیں گے۔ایوان کی جانب سے سنائی گئی سزا پر متعلقہ علاقے کا جوڈیشل مجسٹریٹ عمل درآمد کا پابند ہوگا۔سوال پیدا ہوتا ہیکہ توہین پارلیمنٹ بل منظور کرنے کی نوبت کیوں پیش آئی۔ سابق وزیر اعظم پاکستان وچیئرمین پاکستان تحریک انصاف کو چیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ عمرعطا بندیال کی جانب سے سہولت کاری فراہم کرنے کی جو باتیں حکمراں پارٹی کی قیادت کررہی ہے اور چیف جسٹس اور بعض ججز پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ وہ عمران خان کو چھوٹ دے رہے ہیں۔ موجودہ پاکستانی حکومتی قائدین چاہتے ہیں کہ عدلیہ سے زیادہ عزت و احترام پارلیمان اور پارلیمنٹرینز کا ہونا چاہیے کیونکہ آئین عدلیہ میں نہیں بلکہ پارلیمنٹ میں بنایا جاتا ہے جبکہ عدلیہ اس پر عمل کرانے کی پابند ہوتی ہے۔ یہی نظریہ موجودہ پاکستان حکمراں قائدین کے ذہنوں میں گردش کررہا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ انکے سامنے عدلیہ بھی جھک جائے اور ججز بھی پارلیمنٹ کیلئے جوابدہ بنے۔ انصاف کے تقاضے کون پورے کررہے ہیں اور کون نہیں کررہے ہیں یہ ججز خود جانتے ہیں اگر وہ اس منصب انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر غلط فیصلے کررہے ہیں تو اسکا خمیازہ انہیں دنیا اور آخرت میں بھگتنا پڑے گا لیکن بعض ججز کے فیصلوں کی وجہ سے ایک معتبر،باوقار ادارہ کو پارلیمنٹ کا جوابدہ بنایا جائے تو یہ اصل توہین عدالت ہوگی۔ حکمراں جماعت کے قائدین ہوں یا پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء ہرایک کو چاہیے کہ وہ اپنے ان اہم اداروں کی قدرو منزلت کو پامال کرنے سے گریز کریں۔ عدلیہ کا وقار ہر ملک اور ہر مذہب میں اونچا رہا ہے اس کے وقار کو گھٹانے کی کوشش نہ کی جائے۔ کیونکہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ملک کہلاتا ہے لیکن موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو شرم سی محسوس ہوتی ہے کہ تعلیم یافتہ اسلامی معاشرے کا دم بھرنے والے خوداسلام کے تشخص کو ملیامیٹ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اقتدار کی ہوس کہئیے یا بدلے کی آگ ۰۰۰ ایک سچے مسلمان کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اسلام نے تلقین کی ہے۔ گذشتہ دنوں پاکستان میں جو حالات دیکھنے میں آئے ہیں اس سے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ شدید متاثر ہوئی ہے۔ اب دیکھنا ہیکہ توہین پارلیمنٹ ایکٹ منظور ہوتا ہے کہ اس کے ذریعہ کن کن شخصیتوں اور اداروں کے خلاف توہین پارلیمنٹ کیتحت سمن جاری ہوتے ہیں ۰۰۰

 چیف جسٹس عمر عطابندیال کے خلاف ریفرنس لانے کیلئے تحریک منظور

                    چیف جسٹس پاکستان سپریم کورٹ عمر عطابندیال اور دیگر ججز کے خلاف ریفرنس لانے کیلئے قومی اسمبلی پاکستان میں تحریک منظور کر لی گئی ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ا سپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس15/ کو منعقد ہوا جس میں شازیہ سومرو نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور دیگر ججز کے خلاف ریفرنس لانے کی تحریک پیش کی جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ تحریک منظور ہونے کے بعد ریفرنس کی تیاری کیلئے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں جناح ہاؤس پر حملے، شہداء کی یادگاروں کی بے حرمتی کے خلاف مذمتی قرا ر داد بھی منظور کی گئی ہے۔

صدررجب طیب اردغان صدارتی دوڑ میں آگے۔ 28/ مئی کو حتمی فیصلہ

                    ترکیہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر رجب طیب اردغان کو اپنے حریف کمال قلیچ داراوغلو پر برتری حاصل ہے تاہم اگلے صدر کا حتمی فیصلہ 28/ مئی کو ہوگا کیونکہ طیب اردغان 50فیصد ووٹ نہ لے سکے۔ ذرائع ابلاغ عرب نیوز کے مطابق نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ انتخابات سے قبل پولز میں سامنے آنے والی عوامی رائے کے برعکس اور ترکیہ میں بدترین معاشی بحران کے باوجود صدر اردغان کے حق میں 49.5 فیصد ووٹ پڑے ہیں جبکہ ان کے حریف کمال قلیچ داراوغلو کو 44.9 فیصد اور قوم پرست امیدوار سینان اوغان کو 5.2 فیصد ووٹ پڑے۔رجب طیب اردغان کی اس ’زبردست جیت‘ پر معاشی امور کے ماہر ٹموتھی ایش نے کہا کہ صدر ایسی مہارت رکھتے ہیں کہ ترک عوام خواہ وہ قوم پرست ہوں یا قدامت پسند سب انہی کے حامی ہیں۔امریکی کنسلٹنگ فرم ٹینیو کے ڈائریکٹر والفنگ پیکولی کا کہنا ہے کہ ’اردغان اپنے حریفوں پر واضح نفسیاتی برتری حاصل کر چکے ہیں۔ آئندہ دو ہفتوں میں وہ اپنے قومی سلامتی کے بیانیے کو مزید پروان چڑھائیں گے۔‘اکثر تجزیہ کاروں کے خیال میں کمال قلیچ داراوغلو اور ان کی چھ جماعتوں پر مشتمل اپوزیشن اتحاد کو 28/ مئی کو ہونے والے دوسرے مرحلے میں اردغان کو شکست دینا مشکل ہو جائے گا۔ریسرچ فرم یوریشیاگروپ سے وابستہ ایمر پیکر کے اندازے کے مطابق رن آف یعنی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اردغان کے کامیاب ہونے کا 80 فیصد امکان ہے۔ایمر پیکر کے مطابق غیرحتمی نتائج سے یہ واضح ہے کہ اردغان اور ان کے اتحادیوں نے دہشت گردی، سیکیورٹی اور خاندانی اقدار کے موضوعات پر انتہائی کامیابی کے ساتھ اپنا پیغام پہنچا کر عوام کی حمایت حاصل کی، اس سے قطع نظر کہ ووٹرز کا سب سے بڑا مسئلہ معیشت ہی ہے۔صدررجب طیب اردغان کے حامی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ وہی حقیقی لیڈر ہیں۔ ترک عوام کو ان پر بھروسہ ہے۔ اور وہ ترکیہ کے لیے ویژن رکھتے ہیں۔‘اردغان کے ووٹرزکا کہنا ہیکہ یقیناً معیشت، تعلیم اور پناہ گزینوں سے متعلق پالیسیوں کے حوالے سے بہتری کی ضرورت ہے لیکن ہمیں یہ معلوم ہے کہ وہی تمام مسائل کا حل نکال سکتے ہیں۔رائے شماری میں اردغان کے حریف کمال قلیچ داراوغلو کی جیت کی پیشگوئی کی گئی تھی تاہم کنسلٹنٹ انتھونی سکنر کا کہنا ہے کہ سروے کے نتائج نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ انتہائی منقسم معاشرے میں عوامی رائے کو جاننا مشکل ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انتخابات سے ہونے والے بیشتر عوامی سرویز کے نتائج اردغان کو حاصل اس قدر حمایت کی عکاسی نہیں کرتے اور اس سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ انتخابات سے قبل سامنے آنے والی عوامی رائے پر انتہائی احتیاط برتنی چاہیے۔49.5ووٹ حاصل کرنے والے رجب طیب اردغان 28/ مئی کو دوسرے مرحلے میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے پھر ایک مرتبہ ترکیہ کی صدارت پر فائز ہوجائینگے۔رجب طیب اردغان کو ترکیہ کے عوام ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر مسلمان چاہتے ہیں اور انکی کامیابی کیلئے عالمی سطح پر نیک خواہشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔




ہندوستانی مسلمانوں اور انکی املاک پر حملے۔ اسلامی تعاون کونسل کی مذمت

 ہندوستانی مسلمانوں اور انکی املاک پر حملے۔ اسلامی تعاون کونسل کی مذمت

 


                   ہمارا ملک ہندوستان جو گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار رہا ہے۔ ملک میں مختلف مذاہب اورکئی زبانوں کے بولنے والے آج بھی ملک میں امن و سلامتی چاہتے ہیں۔ آپس میں بھائی چارگی کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اسی لئے ملک میں فرقہ پرست طاقتوں کو خاموشی سے برداشت کرتے رہے ہیں ورنہ ملک میں فرقہ پرست طاقتوں کا جواب دینے کیلئے مظلوم بھی اٹھ کھڑے ہوں تو پھر ملک میں دنگا فساد برپا ہونے میں دیر نہیں لگے لگی۔ملک کی اقلیتیں ہی نہیں بلکہ اکثریتی عوام کا ایک بڑا طبقہ بھی نہیں چاہتا کہ ملک میں دنگا و فساد کا ماحول پروان چڑھے۔گذشہ دنوں ملک کے بعض حصوں میں ہندوتہوار رام نومی کے موقع پرفرقہ پرست ہندوتوا دہشت گردوں نے مسلم اقلیتوں کو نشانہ بنایا، انکی املاک کو لوٹا اوربرباد کیا گیا، مدارس و مساجد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ان سب کے باوجود مسلمانوں نے صبر و ضبط کا مظاہرہ کیا۔ ہندوؤں کا ایک بڑا طبقہ بھی اس گھناؤنے مظالم کے خلاف ہے لیکن حکومت اور پولیس کی لاپرواہی یا نظر انداز کیا جانا یا پھر بعض مقامات پر انہیں حکمراں طبقہ کی جانب سے کھلی ڈھیل دینا ہی فسادات کا باعث بنتا ہے۔ ملک میں امن وسلامتی کا ماحول بگاڑنے والوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے موجودہ مرکزی حکومت اور ان مقامات کی ریاستی حکومتیں پوری ذمہ داری سے ظالم فرقہ پرستوں کو گرفتار کرکے انکے خلاف کارروائی کریں۔ ورنہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک کا نام عالمی سطح پراقلیتوں پر مظالم ڈھانے والے ممالک کی فہرست میں شامل رہے گا۔ گذشتہ دنوں یعنی 31/ مارچ کو بہارمیں مدرسہ عزیزیہ اور اسکی لائبریری کو انتہاء پسندہندوؤں کی جانب سے جلائے جانے کے واقعہ پراور دیگر مقامات پر پرُتشدد منظم حملوں اور آگ زنی کے خلاف اقوام متحدہ اورپھر مسلم ممالک کی سب سے بڑی اسلامی تعاون کونسل (آرگنائزیشن آف اسلاملک کونسل) نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ ”انڈیا کے مختلف صوبوں میں تشدد، تخریب کاری اور اشتعال انگیز سرگرمیاں اسلاموفوبیا کا بڑھتا ہوا ثبوت ہیں“۔ بیان میں کہا گیا کہ ’ان کا مقصد انڈین مسلمانوں کو منصوبہ بند طریقے سے تشدد کا ہدف بنانا ہے‘۔ او آئی سی نے انڈیا کے حکام سے مطالبہ کیا کہ ’وہ اس قسم کی اشتعال انگیزی کرنے والوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کریں اور انڈیا مسلمانوں کے حقوق،امن و سلامتی اور وقار کو یقینی بنانے کیلئے ضروری اقدامات کئے جائیں‘۔ اب دیکھنا ہیکہ ہندوستانی حکومت او آئی سی کی جانب سے مذمت کیے جانے والے بیان کے بعد کس قسم کے ردّعمل کا اظہار کرتی ہے اور ملک میں مسلمانوں پر حملے کرنے والے ظالموں کے خلاف کیا کارروائی کرتی ہے یا انہیں کس قسم کا تیقن دیتی ہے۰۰۰

رمضان میں بھی اسرائیلی پولیس و فوج کی ظلم و بربریت۔ مسجدِ اقصیٰ میں نمازیوں پر حملہ

اسرائیلی پولیس اور سیکیوریٹی ایجنسیوں کی جانب سے فلسطینیوں پر ظلم و بربریت کا ناختم ہونے والا سلسلہ رمضان المبارک میں بھی جاری ہے۔ اسرائیلی پولیس نے 5/ اپریل چہارشنبہ کو علی الصبح مسجد اقصیٰ کے احاطے میں نمازیوں پر حملہ کردیا۔اور پھرذرائع ابلاغ روئٹرز کے مطابق اسرائیلی پولیس نے کہا ہیکہ یہ کارروائی ہنگامہ آرائی کے جواب میں کی گئی ہے، جبکہ مسجد اقصیٰ میں کسی فلسطینی کی جانب سے ایسی کوئی ہنگامہ آرائی کی خبریں دکھائی نہیں دی گئی کیونکہ اگر واقعی کوئی ہنگامہ آرائی کرتا تو اسکی فوٹو یا ویڈیو اسرائیلی پولیس یا فوج ضرور عوام کے سامنے لاتی۔اس واقعہ کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں احتجاج شروع ہوگیا ہے۔  اسرائیلی فوج نے کہا ہیکہ غزہ کی جانب سے اسرائیل پر نوراکٹس داغے گئے ہیں۔اسرائیل نے جوابی کارروائی میں فضائی حملے کرتے ہوئے حماس کے ہتھیاربنانے والے مقامات کو نشانہ بنایاہے۔حماس ترجمان حازم قاسم کا کہنا ہیکہ پولیس حملے کے جواب میں حماس نے راکٹ فائر کئے تھے۔سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے یروشلم میں مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی فوج کے حملے کی مذمت کی ہے۔ سعودی عرب کا کہنا ہیکہ ان اقدامات سے امن کیلئے کوششوں کو نقصان پہنچتا ہے، قبضے کو ختم کرنے اور فلسطینی کاز کے منصفانہ اور جامع حل تک پہنچنے کیلئے تمام کوششوں کی حمایت میں اپنے مضبوط موقف کی تصدیق کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہیکہ یہ حملہ ماہ رمضان کے دوران ہوا، یہ اسلام میں روحانیت اور دعاؤں کا وقت ہوتا ہے۔ ’مذہبی تقدس کے احترام کے لحاظ سے اس قسم اقدامات بین الاقوامی اصولوں اور اقدار کی خلاف ورزی ہے‘۔ 

صدر ترکی رجب طیب اردغان نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی۔ انہو ں نے کہا کہ اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی پر ترکیہ خاموش تماشائی نہیں بنے گا۔ صدر اردغان کا کہنا تھا کہ ترکیہ ان ظالمانہ حملوں کے سامنے خاموش نہیں بیٹھے گا۔ مسجد اقصیٰ تک پہنچ کر حرم شریف کے تقدس کو پامال کرنے کا مطلب ہمارے ریڈ لائن کو عبور کرنا ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصیٰ پر اسٹن گرینیڈ کے ساتھ حملہ کرکے 400سے زائد بے قصور نمازیوں کو گرفتار کیا اور مسجد اقصیٰ کی عمارت کو نقصان بھی پہنچایا۔ واضح رہے کہ گذشہ ایک برس کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے اور یروشلم میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور خدشہ ہیکہ رواں ماہ کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ رمضان میں یہودیوں کا پاس اوور اور مسیحیوں کا ایسٹر بھی آنے والا ہے۔ فلسطین میں ہلالِ احمر نے کہا ہیکہ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں اسرائیلی پولیس کے ساتھ جھڑپ میں ربڑ کی گولیوں اور مارپیٹ سے سات فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ہلالِ احمر کے مطابق اسرائیلی فوج نے اس کے طبی عملے کو مسجد میں داخل ہونے سے روکا۔ بتایا جاتا ہیکہ مسجد کے باہر ایک بزرگ خاتون جن کو سانس لینے میں دشواری ہورہی تھی، نے روئٹرز کو بتایا کہ ’میں ایک کرسی پر بیٹھی قرآن کی تلاوت کررہی تھی‘ انہوں نے گرینیڈ پھینکے او ران میں سے ایک میرے سینے پر لگا‘۔اس طرح ظالم اسرائیلی پولیس اور فوج کی ظالمانہ کارروائیاں ضعیف عبادت کرنے والوں پر کی جاتی ہیں۔ فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل رودینہ نے کہا ہیکہ ہم قابضین کو مقدس مقامات پر سرخ لکیر عبور کرنے سے متعلق خبردار کرتے ہیں۔ فلسطینی اداروں نے نمازیوں پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس حملے کو جرم قرار دیا ہے۔ اردن اور مصر جو اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کیلئے حالیہ امریکی حمایت یافتہ کوششوں میں شامل ہیں نے بھی اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔اسرائیلی پولیس او رفوج کی ان ہی کارروائیوں کی وجہ سے فلسطینی عوام جوابی کاررائی انجام دیتے ہیں او رپھر اس جوابی کارروائی کے نتیجے میں مزید معصوم و بے قصور فلسطینیوں کی گرفتاری عمل میں لائی جاتی ہے اورانہیں حراست میں لے کرشدید زدوکوب کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیلی صحافی، سابق سفارتکار اور حکومتی وزراء نے گذشتہ دنوں اس بات پر اتفاق کیا ہیکہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت میں فلسطینیوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے پرُتشدد واقعات نے اسرائیل کے ہمسایہ عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے، بالخصوص وہ ممالک جن کے ساتھ معاہدہ ابراہیمی طے پایا تھا۔ عرب نیوز کے مطابق مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے تحت منعقدہ ایک مباحثے میں شرکاء نے کہا کہ نیتن یاہو کی دائیں بازو کی جماعت کے پہلے تین ماہ ’افراتفری‘ کا شکار رہے اور اس کی پالیسیاں ’نسل پرستانہ‘ اور ’حقیقت سے جدا‘ ہیں۔اردو نیوز کے مطابق دسمبر میں نیتن یاہو کے اقتدار میں آنے کے بعد سے فلسطینی مظاہروں کو پرتشدد حربوں کے ذریعہ دبایا جارہا ہے۔ جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں زیادہ سے زیادہ سماجی کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں تقریباً ایک سو فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔بتایا جاتا ہیکہ اسرائیل کی تاریخ میں یہ سب سے زیادہ قدامت پسند حکومت ہے جس میں نسل پرستانہ اور یہودی بالادستی والے عناصر موجود ہیں جو اہم عہدوں پر فائز ہیں اور جن کا خارجہ تعلقات اور قومی سلامتی کے امور پر بہت زیادہ اثر و رسوخ ہے‘۔مباحثے کے شرکاء نے اتفاق کیا ہیکہ مغربی کنارے میں ہونے والے پرُتشدد واقعات سے فلسطینیوں او راسرائیلیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی ملک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی غرض سے مزید معاہدے کرنے کو تیار نہیں جیسا کہ مراکش، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ ابراہیمی معاہدہ طے پایا تھا۔ اب پھر مسجد اقصیٰ میں پولیس اور فوج کے مزید مظالم سے صاف ظاہرہوتا ہیکہ اسرائیل حکومت نہیں چاہتی کہ مسلمان رمضان المبارک میں چین و سکون کے ساتھ عبادات الہٰی انجام دیں۔ 

شاہ سلمان کی دعوت پر ایرانیصدرئیسی کی عنقریب سعودی عرب آمد 

ایران اور سعودی عرب کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات میں مزید پیشرفت ہوئی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران کے نائب صدر محمد مخبر نے کہا ہیکہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر سعودی عرب کا دورہ کرینگے۔ ذرائع ابلاغ ’مہر‘ کے مطابق ایرانی نائب صدر نے کہا ہے کہ صدر منتخب ہونے کے پہلے دن سے ہی رئیسی کی حکمت عملی خطے کے ملکوں کے ساتھ تعلقات کو نرم کرنا اور انہیں فروغ دینا ہے۔نائب صدر محمد مخبر نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی میں تیزرفتار پیشرفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہیکہ یہ پیشرفت محض اتفاق نہیں ہے بلکہ اس مرحلے تک پہنچنے کیلئے پہلے سے منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمسایہ ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات کا قیام ایک اہم اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایرانی حکومت کی بنیادی پالیسی بھی ہے اور ایران اس پر ہی کاربند ہے۔ مخبر نے کہا کہ شاہ سلمان جمہوریہ ایران کے صدر کو سعودی عرب کے دورے کی دعوت دی اور ہم نے دعوت قبول کرلی۔ ان شاء اللہ اس حوالے سے اچھی پیشرفت سامنے آئے گی۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ ماہ رمضان المبارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور انکے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبدالہیان نے ملاقات پر اتفاق کیا ہے۔ ہوسکتا ہیکہ ان دونوں کی ملاقات کے فوراً بعد ایرانی صدر مملکتِ سعودی عرب کا دورہ کرینگے۔سعودی عرب اور ایران کے درمیان 10/ مارچ کو سفارتی تعلقات کی بحالی کا معاہدہ ہوا تھا اور برسوں کی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک نے دوماہ کے اندر اپنے سفارت خانے دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا ہے۔ اب دیکھنا ہیکہ مزید پیشرفت کے تحت دونوں وزرائے خارجہ کی ملاقات کتنی جلد ہوگی۰۰۰

متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، ابوظہبی کے ولیعہد اور نائب حکمراں کا تقرر   

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے اعلی وفاقی کونسل کی منظوری سے شیخ منصور بن زاید آل نہیان کو امارات کا نائب صدر مقرر کیا ہے۔ شیخ محمد بن راشد بھی امارات کے نائب صدر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔ امارات کے سرکاری خبررساں ادارے وام کے مطابق شیخ منصور نائب وزیراعظم اور وزیرایوان صدارت کی حیثیت سے پہلے ہی سے کام کررہے ہیں۔امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے شیخ ھزاع بن زاید آل نہیان کو ابوظبی کا نائب حکمراں مقررکیا ہے۔شیخ محمد بن زاید نے یہ فیصلہ ابوظبی کے حاکم کی حیثیت سے جاری کیا ہے۔ وام کے مطابق شیخ محمد بن زایدآل نہیان نے شیخ طحنون بن زاید آل نہیان کو بھی ابوظبی کا نائب حاکم تعینات کیے جانے کا فرمان جاری کیا ہے۔اماراتی صدر نے ریاست ابوظہبی کے حکمراں کی حیثیت سے شیخ خالد بن محمد بن زاید آل نہیان کو ابوظہبی کا ولی عہد مقرر کیا۔

حجاب نہ کرنے پر ’بے رحمانہ‘ کارروائی کا انتباہ

ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے عوامی مقامات پر حجاب نہ کرنے والی خواتین کے خلاف’بے رحمانہ‘ قانونی کارروائی کرنے کی دھمکی دی ہے۔ چیف جسٹس نے ایک ایسے وقت میں دھمکی آمیز بیان دیا ہے جبکہ وزارت داخلہ بھی لازمی حجاب پہننے کی تائید کرچکی ہے۔ ایرانی میڈیا پر چلنے والے بیان کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ ’حجاب نہ کرنا ہماری اقدار سے دشمنی کے برابر ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو اس قسم کے غیر معمولی اقدامات کرتے ہیں انہیں سزا دی جائے گی اور انکے خلاف بغیر رحم قانونی کارروائی کریں گے‘۔ اب ایران میں خواتین کو چاہیے کہ وہ اسلامی قوانین جو ایران نے متعین کئے ہیں اسکا لحاظ کرتے ہوئے حجاب کریں ورنہ اسکی خلاف ورزی کی ذمہ دار وہ خود ہونگی۔کسی بھی ملک میں وہاں کے قوانین کا احترام کرنا اور اس پر عمل کرنا ہر شہری کیلئے لازمی ہے.

۰۰۰

***

پاکستانی حکومت اور پولیس کے آگے عمران خان کے کارکن سینہ سپر

عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

پاکستانی حکومت اور پولیس کے آگے عمران خان کے کارکن سینہ سپر

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

 


                 پاکستانی وفاقی حکومت اورپولیس آخر کارعمران خان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۰۰۰ عدلیہ بھی عمران خان کی مقبولیت اور انکے جانبازکاکنوں کی جانب سے ملک کے کونے کونے سے عمران خان کیلئے نکل پڑنے کو دیکھتے ہوئے سابق وزیر اعظم و چیئرمین پی ٹی آئی کو  گرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہیکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین و سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو کسی بھی صورت میں گرفتار کرنے کیلئے وفاقی حکومت ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کارکنوں نے زمان پارک میں عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں گرفتار ہونے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی پولیس اور کارکنوں کے درمیان جوتصادم ہوا ہے اسے دنیا نے دیکھا ہے۔عمران خان کو انکی رہائش گاہ زمان پارک میں محفوظ رکھنے کیلئے پی ٹی آئی کارکنوں نے اپنی جانوں کی پرواہ تک نہیں کی۔ آنسو گیس، ربڑ کی گولیوں اور پولیس کی لاٹھی چارج بے سود ثابت ہوئی۔ عمران خان نے عدالت سے وعدہ کیا تھا کہ وہ سیشن کورٹ میں توشہ خانہ کیس کے سلسلہ میں حاضر عدالت ہونگے، اسکے باوجود عمران خان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی جس کے جواب میں پی ٹی آئی کارکنوں نے منگل کے روز اور چہارشنبہ کو پولیس اور پھر رینجرس کا سخت مقابلہ کیا جس میں درجنوں پی ٹی آئی کارکن اور پولیس اہلکار زخمی بتائے گئے۔ آخر کار لاہور ہائیکورٹ نے پولیس اور رینجرس کو زمان پارک سے ہٹنے کیلئے کہا اور پھر مجبور اً پولیس اور رینجرس عمران خان کے گھر زمان پارک سے چہارشنبہ کی رات چلتے بنے ۰۰۰ لیکن جب عمران خان اسلام آباد کی عدالت میں پیش ہونے کیلئے نکلے تو حالات نے نئی کروٹ لی۰۰۰ عمران خان کی آمد سے قبل ہی تحریک انصاف کے کارکن 10بجے سے ہی جوڈیشل کمپلیکس کے سامنے جمع ہونے شروع ہوگئے، بتایا جاتا ہیکہ ان کارکنوں میں ضعیف، نوجوان، بچے مردو خواتین سب ہی شامل ہوتے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ٹولیوں کی شکل میں آنے والوں تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہوا اوریہ لوگ نعرے لگاتے ہوئے اپنے قائد عمران خان کے لئے جان قربان کرنے کیلئے بھی  تیار دکھائی دے رہے تھے۔ اسلام آباد کی عدالت میں عمران خان کی آمد سے قبل کئی کارکنوں کو دفعہ 144کے نفاذ کے تحت گرفتار کیا گیا۔ عمران خان کا قافلہ جب اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں داخل ہوا تو لاہور میں ہونے والے سلوک کا بدلہ لینے کیلئے  پولیس تیار کھڑی تھی۔ بتایا جاتا ہیکہ پولیس اہلکار بار بار شیل پھینکنے والی بندوقیں ٹیسٹ کررہے تھے اور شیل کھول کھول کر جیبیں اور تھیلے بھر رہے تھے۔ اس کے علاوہ ربڑ کی گولیاں بھی پولیس اہلکاروں میں تقسیم کی جارہی تھیں۔ ذرائع کے مطابق ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جونہی عمران خان جوڈیشل کمپلیکس میں داخل ہونگے تو پولیس اہلکار پی ٹی آئی کارکنوں کو منتشر کرنے کے بہانے اپنا بدلہ لینے کیلئے انہیں آنسو گیس کے شیل اور ربڑ کی گولیاں برسائینگے۔ اس دوران یہ دیکھا گیا کہ پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار نوجوان کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پرعزم تھے۔جونہی عمران خان کا قافلہ جوڈیشل کمپلیکس کے قریب پہنچا تو آخر کار پولیس اور کارکنوں کے درمیان جنگ کا ساماحول پیدا ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پولیس اور کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی شروع ہوگئی۔ اس دوران پولیس نے اچانک شیلنگ شروع کردی اور کارکنان جو پہلے ایک جگہ پر جمع تھے اب دور دور تک سری نگر ہائی وے پر جمع ہوگئے۔ جس طرف کارکنان جاتے آنسو گیس کے شیل انکے پیچھے پیچھے گرتے جاتے۔ لیکن یہ کیا ۰۰۰ بتایا جاتا ہیکہ ہوا کا رخ پولیس کی جانب ہونے کی وجہ سے آنسو گیس کی زد میں کارکن کم جبکہ پولیس اور میڈیا ورکرز زیادہ تعداد میں آئے۰۰۰ اس دوران پی ٹی آئی ورکرز کو سنبھلنے کا موقع بھی مل گیا اور وہ شیل اٹھااٹھا کر واپس پولیس اہلکاروں کی طرف پھینکتے رہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ انہوں نے سڑک کے اطراف سے پتھر اٹھاکر پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ اس وجہ سے پولیس اہلکار سی نگر ہائی وے سے جوڈیشل کمپلکس کے سامنے سروس روڈ پر جانے پر مجبور ہوئے۔ پولیس کی جانب سے اچانک شیلنگ سے غصے میں آنے والے پی ٹی آئی کارکنوں کا غصہ ٹھنڈا نہ ہواتو انہوں نے پولیس کی گاڑیوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ بپھرے ہوئے کارکنوں نے پولیس وین کو ڈنڈے مار مار کر توڑا تو پھر ایک بس اور ڈپل کیبن گاڑی پر پتھراؤکیا۔ پولیس اور کارکنوں کے درمیان یہ سلسلہ ابھی تھما ہی نہیں بلکہ اس میں مزید اضافہ ہوگیا اور تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اپنے کارکنوں کو دوبارہ جمع کیا۔ اب کی بار کارکنوں نے پوری قوت سے پولیس پر حملہ کیا اور انہیں پیچھے دھکیلتے ہوئے جوڈیشل کمپلیکس کے دروازے تک پہنچ گئے۔ کارکنوں نے جوڈیشل کمپلیکس کے احاطے میں موجود پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں جوڈیشل کمپلیکس کے تین اطراف میں موجود کارکنوں پر شیلنگ کی گئی جس کے اثرات بتایا جاتا ہیکہ کمرہ عدالت تک محسوس کئے گئے۔پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں کے درمیان شیلنگ، اور ہنگامہ آرائی کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا۔ آخرکار بتایا جاتا ہیکہ عمران خان کو اسکا یہ فائدہ ہوا کہ ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ۰۰۰یہ تو اسلام آباد جوڈیشل کامپلیکس میں عمران خان کی حاضری کے وقت ہوا لیکن ادھر لاہور میں حالات ابتر ہوگئے۔ جب عمران خان اپنی رہائش گاہ زمان پارک سے نکلے تھے تو بظاہر سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا۔ بتایا جاتا ہیکہ صبح آٹھ بجے عمران خان کی گاڑی زمان پارک سے نکلی تو انکے ساتھ گاڑیوں کا ایک کاروان تھاجیسے ہی پی ٹی آئی چیئرمین کا قافلہ موٹر وے پر لاہور کی حدود سے نکلا تو اچانک زمان پارک کے حالات بدلنا شروع ہوگئے۔ پولیس نے کنٹینر لگاکر تمام راستوں کی ناکہ بندی کردی۔ بتایا جاتا ہیکہ یہ ناکہ بندی عام نہیں تھی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بتایا جاتا ہیکہ زمان پارک کے اطراف کے تقریباً تمام راستوں کو پولیس نے بند کردیا تھا اور پولیس کی بھاری نفری نے صف بندی میں زمان پارک کی طرف پیدل مارچ شروع کردیا۔ عمران خان کے گھر کے باہر کھڑے کارکنوں کو اس وقت پتا چلا جب پولیس قریب پہنچ چکی تھی۔ کارکنوں نے نعرے بازی شروع کی تو پولیس نے دھاوا بول دیا۔  چند ایک کارکنوں نے پتھر اور ڈنڈے چلانے کی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق چند ایک پٹرول بم بھی پھینکے گئے۔ پولیس نے البتہ دیکھتے ہی دیکھتے کارکنو ں کو قابو میں کرلیا۔ اس سے پہلے آنسو گیس کے شیل بھی پھینکے گئے۔ پولیس کا یہ آپرریشن اس لئے بھی پہلے سے مختلف تھا کہ اس بار ضلعی حکومت کا اینٹی انکروچمنٹ سیل اپنے بلڈوزرز کے ساتھ پولیس کے ہمراہ تھا۔ کارکنوں کو حراست میں لینے کے بعد اینٹی انکروچمنٹ سیل نے زمان پارک کے باہر لگی تمام رکاوٹوں بشمول کیمپس، مورچے، اور حفاظتی دیواریں سب کچھ مسمار کرنا شروع کردیا۔بتایا جاتا ہے کہ صرف وہی کارکن بچے تھے جو عمران خان کے گھر کے اندر تھے۔ پولیس جب عمران خان کے گھر کے دروازے پر پہنچی تو ان کارکنوں نے گیٹ بند کردیئے۔ پولیس نے کرین کی مدد سے گیٹ توڑا اور اندر داخل ہوکر عمران خان کے گھر کے مختلف حصوں کی تلاشی لی اور دعویٰ کیا کہ اندر سے بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ پولیس نے کافی تعداد میں اشیاء قبضے میں لے لئے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان نے زمان پارک میں کی گئی اس کارروائی کے خلاف عدالتی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ انکی شریک حیات بشریٰ بی بی زمان پارک میں تھیں اور اس دوران انکے غیاب میں پولیس کی یہ کارروائی قانوناً خلاف ہے۔ 

                    10/ اپریل 2022کو عمران خان کے دعوے کے مطابق انہیں امریکی سازش کے تحت حکومت سے مستعفی ہونا پڑا۔ اور موجودہ حالات لندن میں بنے پلان کا حصہ بتائے جارہے ہیں۔ عمران خان کی ایک آواز پر پاکستانی عوام کئی مرتبہ ملک کے کونے کونے سے نکل چکے ہیں اور اب تو گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران دنیا نے دیکھا کہ عمران خان کیلئے جان دینے والوں کی ایک فوج ہے۔ انہیں توشہ خانہ کیس میں گرفتار کرنے کی کوشش اصل میں انپر قاتلانہ حملہ کرنے کا ایک پلان تھا۔ 

                    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے چہارشنبہ 22/ مارچ کو اپنے ویڈیو لنگ کے ذریعہ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”حکومت خوف کا شکار ہے اور ہمیں ہر صورت راستے سے ہٹانا چاہتی ہے، حکومت اس مقصد کے حصول کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے“انہوں نے کہا کہ اس ساری صورتحال پر ہیومن رائٹس کمیشن اور عالمی اداروں کو خط لکھیں گے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے اور یہ لوگ انہیں مقدمات میں الجھانا چاہتے ہیں تاکہ وہ (عمران خان) الیکشن مہم نہ چلاسکیں۔ انہو ں نے کہا کہ ہمارے کارکنوں کے خلاف تاریخ کا بدترین کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ان تمام تر مظالم کے باوجود عوامی تعاون میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے کیونکہ اب حالات بدل چکے ہیں، آج قوم ماضی کی نسبت زیادہ سمجھ دار ہے۔عمران خان نے اپنے خطاب کے دوران کہاہے کہ اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں حاضری کے وقت’انہوں نے مجھے مرتضیٰ بھٹو کی طرح قتل کرنا تھا اور کہنا تھا کہ تصادم میں مارا گیا۔ ان کا یہ پلان تھا“۔ عمران خان اس خدشے کا اظہارکرتے ہوئے بتایا کہ انہیں پتا چلا ہے کہ شاید آج شام یعنی چہارشنبہ کو یہ آپریشن کریں۔ آئی جی پنجاب، آئی جی اسلام آباد، اور پیچھے انکے ہینڈلرز زمان پارک میں آپریشن کا پلان بنایا ہے؟؟۔ انکاکہنا ہیکہ آج کل میں اس پلان پر عمل کیا جاسکتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ ”مجھے پتا چلا ہے کہ مجھ پر جوڈیشل کمپلیکس میں عدالت میں نہ پہنچنے پر توہین عدالت کا کیس ہورہا ہے۔ مجھے راستے میں جگہ جگہ روکا گیا اور یہ چاہتے تھے میں اکیلا عدالت پہنچوں۔ لوگ خود نکل کر آگئے۔ پولیس کی نفری بڑھتی گئی۔ ہمیں اشتعال دلانے کے لئے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی“۔ 22/ مارچ کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا اب دیکھنا ہیکہ حکومتی اتحاد عمران خان کے خلاف کس قسم کی کارروائی کرنے کیلئے کوشش کرتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکمراں اتحاد، پولیس اور عدلیہ سب ہی عمران خان کی عوامی مقبولیت سے خوف کھائے ہوئے ہیں اور نہیں معلوم عمران خان کو واقعی راستے سے ہٹانے کے لئے ان پر قاتلانہ حملہ بھی کرایا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ عمران خان کا خود اس سلسلہ میں کہنا ہے۰۰۰ 10/ اپریل 2022کے بعد سے عمران خان نے جو عوامی مقبولیت حاصل کی ہے او رملک میں ایک سال کے دوران شہباز شریف کی حکومت نے معاشی طور پر جو انحطاط پر پہنچ چکی ہے، اشیاء ضروریہ ہوکہ خوردونوش و پٹرولیم ہر چیز کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ،پاکستانی عوام کو زندگی گزارنا دوبھر ہوگیا ہے۔ عمران خان ملک کے عوام کو خوشحال زندگی فراہم کرنے کیلئے ریاست مدینہ کے نہج پر لیجانا چاہتے تھے۔ پاکستانی عوام کو عالمی سطح پر ایک بہترین اور مضبوط قوم کی حیثیت دینا چاہتے تھے لیکن وہ سازش کا شکار ہوگئے اور اب جبکہ وہ پاکستان میں ایک ہیرو کی حیثیت حاصل کرچکے ہیں انہیں بچے، نوجوان، ضعیف مرد و خواتین سب ہی چاہتے ہیں اور حکومتی اتحاد اسی بات سے خوفزدہ ہیکہ انکی یہ مقبولیت عمران خان کی کامیابی اور حکومتی اتحاد کی ناکامی کا سبب بنے گی۔ اسی لئے انہیں اتنے کیسوں میں الجھادیا جارہا ہے کہ وہ عدالتی کارروائیوں میں ہی مصروف و پریشان ہوجائیں۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے عدالیہ کے سامنے کہہ دیا ہیکہ انہیں مختلف الزامات کے تحت کیسوں میں الجھانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ وہ انتخابی عمل دخل سے دور رہ سکیں ۰۰۰ 

                    25/ مارچ کو پاکستان تحریک انصاف کا مینار پاکستان میں جلسہ عام تھا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے انکے 1600کارکن پکڑئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جتنا ظلم کررہی ہے اتنا لوگ باہر نکلیں گے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا ہے کہ حکومت نے پورے ملک کو کنیٹنرز لگاکر راستے جام کردیئے ہیں،لیکن قوم تمام رکاوٹیں توڑ کر جلسے میں پہنچے گی۔ ادھر وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی صدر عارف علوی کے وزیر اعظم شہباز شریف کے نام لکھے گئے خط کے جواب میں کہا ہے کہ ”صدر اپنے آئینی دائرے اور اوقات میں رہیں“۔ جمعہ کو وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق رانا ثناء اللہ نے کہا کہ صدر عمران خان سے دہشت گردی کرنے کا جواب لیں اور ان کے حکم پر ’کٹھ پتلی‘ نہ بنیں۔واضح رہے کہ ایوان صدر کی جانب سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق صدر عارف علوی نے وزیر اعظم شہباز شریف کو خط میں لکھا ہیکہ ’توہین عدالت سمیت مزید پیچیدگیوں سے بچنے کیلئے وزیر اعظم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے متعلقہ حکام کو پنجاب اور خیبرپختونخوا میں مقرر وقت میں عام انتخابات کرانے کیلئے الیکشن کمیشن کی معاونت کی ہدایت کریں‘۔ اب دیکھنا ہیکہ وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے صدر ِمملکت عارف علوی کو اوقات میں رہنے کی بات پر عوام اور اپوزیشن کس قسم کے ردّعمل کا اظہار کرتے ہیں ۰۰۰

ایران کے اسکولوں میں طلبہ کو زہر دیئے جانے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ

 عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

ایران کے اسکولوں میں طلبہ کو زہر دیئے جانے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ 

 



                   ایران میں معصوم بچوں کو زہر دینے کا معاملہ طول پکڑتا جارہا ہے، زہر دینے کے واقعات عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہے ہیں اور مغربی ممالک میں آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پارلیمانی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے رکن محمد حسن اسفاری نے پیر6/ مارچ کو آئی ایس این اے نیوز ایجنسی کو بتایاکہ ملک کے 25صوبوں کے تقریباً 230اسکول بچوں کو زہر دیئے جانے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اسکول کی 5000سے زائد لڑکیاں اور لڑکوں کو زہر دیا گیا۔ زہر کی قسم اور وجہ جاننے کے لے مختلف ٹیسٹ کئے جارہے ہیں، ابھی تک استعمال کئے جانے والے زہر کی قسم کے حوالے سے کوئی خاص معلومات نہیں مل سکی ہیں۔ مقدمات کی تحقیقات کرنے والے ایک قانون ساز کے مطابق نومبر کے آخر سے  اب تک ایرانی ا سکولوں کے ان پانچ ہزار سے زائد بچوں میں زیادہ تر طالبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پراسرار زہر خورانی کے واقعات نے ایران کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس سے غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور حکام سے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بتایا جارہا ہے کہ درست حجاب نہ کرنے کی وجہ سے 22 سالہ ایرانی کرد مہسا امینی کی گرفتاری اور حراست میں ہلاکت کے بعد ملک گیر مظاہروں کے آغاز کے فوراً بعد بچوں کو زہر دینے کا پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا۔اس کے بعد سے زہر دیئے جانے کے واقعات میں اضافہ ہوتا گیا اور ایران کے درجنوں اسکولوں کو نشانہ بنایا گیا۔ زہر کی نوعیت کس طرح کی ہے اس سلسلہ میں تفصیلات کا انکشاف تو نہیں ہوا البتہ ا سکولوں کے احاطے میں 'ناخوشگوار' بدبو پھیلتی ہے جس کے بعد طلباء میں سانس کی قلت سے متلی اور چکر آنے کی علامات ظاہر ہوتی ہیں، کچھ طلبہ کے ہسپتال میں علاج کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔

                    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے زہر دیئے جانے والے واقعات پر کہا کہ ’ایران میں اسکولوں کی طالبات کو زہر دینا ناقابل معافی جرم ہے۔‘آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایران کے سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’حکام طلبہ کے اس (زہر والے) مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دیں۔ یہ ناقابلِ معافی جرم ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’اس جرم کی پشت پناہی کرنے والے افراد کو سخت سزا دی جانی چاہیے۔‘ اس حوالے سے بعض سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ یہ حملے لڑکیوں کی تعلیم کے مخالف مذہبی گروپس کی جانب سے ہو سکتے ہیں۔طالبات کو زہر دینے کے واقعات کا آغاز گزشتہ برس نومبر میں ایران کے وسطی شہر قْم سے ہوا اور پھر یہ ملک کے 31 میں سے 25 صوبوں میں پھیل گیا۔اس کے بعد کچھ والدین نے اپنی بچیوں کو اسکولوں سے نکال دیا اور انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے۔اب دیکھنا ہیکہ حکومتِ ایران ان زہر دینے والے مجرموں کو کس طرح پکڑنے کامیاب ہوتی ہے اور انہیں کس طرح کی سزا دی جاتی ہے۔اگر ان تشویشناک واقعات کے خاطیوں کوجلد از جلد گرفتارنا کرنے کی صورت میں ایرانی حکومت کے خلاف ملک و بیرون ملک انتشاری کیفیت میں مزید اضافہ ہوگا۰۰۰

کیا واقعی ایران اتنا طاقتور ترین ملک ہے جو روس کو ہتھیار پہنچا رہا ہے

                    روس اور ایران کے درمیان تعلقات نے پھر عالمی سطح پر موضوعِ بحث بنادیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف کسی نہ کسی طرح کا دباؤ برقرار رکھا جائے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسکائی نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے خفیہ طور پر روس کو یوکرین جنگ کیلئے کروڑوں گولیاں اور لاکھوں گولے فراہم کیے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع نے چینل کو بتایا کہ جنوری میں روسی پرچم والے دو جہاز بحیرہ کیسپین کے پار ایران سے روس گئے جن میں تقریباً 100 ملین گولیاں اور توپ خانے کے تین لاکھ گولے، راکٹ، مارٹر گولہ بارود، کیولر جیکٹ اور ہیلمٹ تھے۔ روس نے اس سارے اسلحے کی ادائیگی رقمکی صورت میں کی ہے۔ یہ خبر ان الزامات کے بعد سامنے آئی ہے کہ گزشتہ سال تہران نے ماسکو کو ہزاروں مسلح ڈرون فراہم کیے تھے، جو یوکرین میں استعمال ہو چکے ہیں۔اسکائی نیوز کے ذرائع کے مطابق دو جہازوں کے مالکان کی شناخت موسیٰ جلیل اور بیگی کے نام سے ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہیکہ چینل کی طرف سے تبصرہ کیلئے رابطہ کیا گیا تھا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے دو مال بردار بحری جہاز یوکرین کے جنگی زون میں بھیجے، جن میں تقریباً 200 نئے شپنگ کنٹینرز تھے جن میں یوکرین میں روسی لڑائی کیلئے گولہ بارود تھا۔ان خبروں میں کتنی سچائی ہے یہ تو آنے والا وقت بتائے گا لیکن اتنا ضرور ہے کہ ایران دشمن ممالک کے لئے پاور فل اور خطرناک ہے۔اسی کے پیشِ نظر ایران کو جتنا ممکن ہوسکتا ہے معاشی اعتبار سے کمزور کرنے کی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے۰۰۰

سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان مضبوط تعلقات کے لئے وزرائے خارجہ کی ملاقات

                     سعودی عرب کی شاہی حکومت جس طرح مملکت کو عالمی سطح پر سب سے نمایاں کرنے کیلئے کوشاں نظر آتی ہے۔ ویژن 2030کے تحت ولیعہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان مملکتِ سعودی عرب میں جہاں اپنی عوام (مرد و خواتین) کو روزگار سے مربوط کرنے کیلئے مختلف ترقیاتی منصوبوں کو عملی شکل دے رہے ہیں، وہیں مملکت کے ساتھ دنیا کو معاشی اعتبار سے جوڑنے اور مضبوط بنانے کیلئے سرمایہ کاری کے وسیع تر ذرائع پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی طرح سعودی شہریوں کو دوسرے ممالک میں سرمایہ کاری کے مواقع بھی فراہم کررہے ہیں۔ عالمی سطح پر کسی بھی ملک سے دشمنی کو بڑھاوا دینے کے بجائے دوستی کو ترجیح دیتے ہوئے انکے ساتھ تعلقات بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔اسی سلسلے میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے پیر6/ مارچ کو لندن میں اپنے برطانوی ہم منصب جیمز کلیورلی سے ملاقات کی ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ اس ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان تاریخی شراکت داری کے پہلووں اور تمام شعبوں میں انہیں مضبوط بنانے اور ترقی دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے اثرات علاقائی اور بین الاقوامی پر ہونے والے اثرات اور اس سلسلے میں کی جانے والی پیشرفت اورکوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیاگیا۔انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے، موجودہ رابطہ کاری اور مشاورت کی سطح کو بڑھانے کے مواقع پر بھی بات چیت کی گئی۔اس ملاقات کے دوران برطانیہ میں متعین سعودی سفیر شہزادہ خالد بن بندر نے بھی شرکت کی۔ 

امیر ممالک کی جانب سے غریب ممالک کا بلند شرح سود کے ذریعہ شکار


                     غریب ممالک کو امیر ملکوں کا بلند شرح سود کے ذریعہ شکار بنانے کا مسئلہ اب عالمی شکل اختیار کرگیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیوگتریس نے دنیا کے امیر ملکوں کو غریب ممالک کے شہریوں کی مشکل ہوتی زندگی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امیر ممالک اور توانائی کی بڑی کمپنیاں غریب ملکوں کا شرح سود بڑھاکر ”شکار“ کررہی ہیں۔ہفتہ کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل گوتریس نے کہا کہ دنیا میں 40سے زائد ایسے ممالک ہیں جو انتہائی غربت کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امیر ملکوں کو سالانہ 500ارب ڈالر کے ساتھ دوسروں کی مدد کرنا چاہیے کیونکہ یہ ملک کیپٹل مارکیٹ سے بلند شرح سود کے باعث باہر رکھے جارہے ہیں اور توانائی کی بڑی کمپنیاں ریکارڈ منافع کمارہی ہیں۔ انتونیو گتریس نے اسے ”شیطانی چکر“ قرار دیا جس میں غریب ملکوں کی معیشت پھنس چکی ہے اور اس کے باعث ان ممالک میں صحت اور تعلیم کو بہتر بنانے کی کوشش میں رکاوٹ آتی ہے۔سربراہی اجلاس کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر انتونیو گوتریس نے کہا کہ غریب ملکوں کی ’معاشی ترقی ایک مشکل مرحلہ ہے ایسے وقت میں جب وسائل کی کمی ہے، قرضے بڑھ رہے ہیں اور عالمی وباکورونا سے نمٹنے میں ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے غیرمنصفانہ ردعمل کا سامنا ہے۔‘ غریب ترین ممالک نے طویل عرصے تک شکایت کی کہ انہیں کووِڈ ویکسین میں اْن کا مناسب حصہ نہیں ملا۔ امیر ملکوں کی توجہ یورپ اور شمالی امریکہ پر مرکوز تھی۔ دنیا کے 46 سب سے کم ترقی یافتہ ممالک کا سربراہی اجلاس عام طور پر ہر 10 سال بعد ہوتا ہے لیکن 2021 کے بعد سے کورونا وائرس ووبائی امراض کی وجہ سے اس کے انعقاد میں دو بار تاخیر ہوئی ہے۔دوحہ میں منعقدہ اجلاس میں دو غریب ترین ممالک افغانستان اور میانمار شریک نہیں ہوئے کیونکہ ان ممالک کی حکومتوں کو اقوام متحدہ کے ارکان تسلیم نہیں کرتے۔واضح رہے کہ اس جلاس میں دنیا کی کسی بھی بڑی معیشت کے رہنما نے شرکت نہیں کی۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث تباہی کے شکار ممالک کے لیے کچھ نہیں کیا گیا اور جو امداد دی گئی وہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔’ایندھن سے منسلک کمپنیاں بہت زیادہ منافع کما رہی ہیں جبکہ دنیا میں لاکھوں افراد دو وقت کے کھانے کے لیے بھی کچھ نہیں۔‘گتریس نے کہا کہ غریب ترین قوموں کو ’ڈیجیٹل انقلاب‘ میں پیچھے چھوڑا جا رہا ہے اور یوکرین کی جنگ نے خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔اب دیکھنا ہے کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی جانب سے کئے جانے والی تقریر کا امیر ممالک کے رہنماؤں پر کیا اثر پڑتا ہے اور ان میں سے ایسے کتنے امیر ممالک ہونگے جو اپنے ان غریب ممالک کی بہتری کیلئے کچھ کرنے کا جذبہ بیدار ہوگا۰۰۰

  ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف سعودی عرب اور عرب ممالک کا کلیدی رول 

ماحولیاتی تبدیلیوں نے عالمی سطح پر تشویشناک حالات پیدا کردیئے ہیں۔ ان حالات کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو اسکے ذمہ دار ترقی یافتہ او رخطرناک ہتھیاروں کا استعمال کرنے والے ممالک ہی ہوسکتے ہیں۔ موجودہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور تشویشناک حالات کو دیکھتے ہوئے دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک کی نیندیں اڑگئیں ہیں۔ زمینی اور آسمانی آفات کو جانچنے اور اس پرقابو پانے کی کوششیں ہورہی ہیں لیکن کیا اس میں انہیں کامیابی ہوسکتی ہے؟ خیر۔ امریکی نمائندہ خصوصی برائے ماحولیات جان کیری نے کہا ہے کہ موسمیاتی اور سمندری تبدیلیوں کے باعث ماحول کے لئے خطرات برقرار ہیں تاہم اس حوالے سے انہوں نے اقوام متحدہ کی کاوشوں اور عرب ممالک کی مدد کو سراہا۔عرب نیوز کے مطابق 1995 سے اقوام متحدہ کے تحت ہر سال ماحولیاتی کانفرنس ’کوپ‘ کا انعقادعمل میں لایا جاتا ہے جس میں سے چار کانفرنسز عرب ممالک میں منعقد ہو چکی ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ اس سال کوپ 28 دبئی میں منعقد ہوگی۔جان کیری نے اقوام متحدہ کے علاوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی خطے کے دیگر ممالک کی جانب سے ملنے والی حمایت کو سراہا۔’گزشتہ سال متحدہ عرب امارات میں ماحول اور حیاتیاتی ایندھن کے مسائل پر پہلی علاقائی کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس میں 11 علاقائی ممالک نے شرکت کی تھی۔‘جان کیری نے کہا کہ کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ بھی جاری ہوا تھا جس میں عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری کی سطح پر رکھنے، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی اور 2030 تک کرنے والے اقدامات پر زور دیا گیا۔’عرب امارات خود بھی اپنی موجودہ کوششوں کا ایک بہت بڑا حصہ قابل تجدید ذرائع کی تحقیق اور ترقی پر خرچ کر رہا ہے۔‘جان کیری نے کہا ’میں جانتا ہوں کہ سعودی عرب ایک بہت بڑا سولر فیلڈ تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو گرین ہائیڈروجن پیدا کرے گا۔ جبکہ بحرین، کویت اور دیگر ممالک بھی اس حوالے سے سوچ رہے ہیں۔‘امریکی نمائندہ خصوصی نے ماحولیاتی خطرات کا ذکر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مزید کرنے کی ضرورت ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں کی حقیقت ماضی کی تہذیبوں کے مٹنے کا بھی سبب بنی۔انہوں نے کہا کہ ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں دنیا نے اہم موقعے کھوئے۔’درجہ حرارت بڑھنے کے باعث سمندی برف غائب ہو رہی ہے، آلودگی اور درجہ حرارت میں اضافے کے باعث حالات تشویشناک رخ اختیار کرتے جارہے ہیں۔‘جان کیری نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے معاملے پر عرب ممالک کی دلچسپی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے ممالک کی شمولیت انتہائی اہم ہے جو تیل اور گیس سے واقف ہیں اور اپنی کمیونٹی میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔

ٌٌٌٌ****



ہندوستان کوG-20 کی صدارت۔نئی دہلی میں وزرائے خارجہ میٹنگ سے وزیر اعظم کا خطاب



عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

ہندوستان کوG-20 کی صدارت۔نئی دہلی میں وزرائے خارجہ میٹنگ سے وزیر اعظم کا خطاب


                    ہندوستان کو G-20ممالک کی صدارت ہم ہندوستانیوں کے لئے مسرت کا باعث ہے کیونکہ دنیا کے یہ اہم ترین ممالک ہیں جن کی ساکھ بین الاقوامی سطح پر نمایاں نظر آتی ہے۔ ان ممالک کا ہندوستان میں جمع ہونا اور پھر یہاں سے کسی بھی مسئلہ کے حل کیلئے لائحہ عمل پر بات چیت کرنا اور اُسے حتمی شکل دینا یا پھر دنیا بھر میں ہونے والے حالات پر غور و خوص کرنا اور اس پر کوئی فیصلہ کرنا تاریخی حیثیت رکھتا ہے اور یہ سب ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں اس سال منعقد ہونے جارہا ہے تو یہ ہم ہندوستانیوں کیلئے ایک اعزاز ہی ہوگا۔ اس سال کے اختتام تک G-20سمّت ہونے جارہی ہے اس سے قبل یکم/ اور 2/ مارچ کو  G-20وزرائے خارجہ میٹنگ ہندوستان کی صدارت میں راشٹرپتی بھون کلچرل سنٹر میں منعقد ہوئی۔وزرائے خارجہ کے اس اجلاس سے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستان کی G-20صدارت عالمی برادری کو امن و امان اور تعمیر اور ترقی کی آواز دینے کی طرف ایک پہل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی گروپ اپنے فیصلوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں کو سنے بغیر عالمی قیادت کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مالیاتی بحران، موسمیاتی تبدیلی، وبائی بیماری، دہشت گردی اور جنگیں واضح طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ عالمی گورننس عالمی جنگ کے بعد کے عالمی طرز حکمرانی کے مقاصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ترقی پذیر ممالک اپنے شہریوں کیلئے خوارک اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کے دنیا کے کئی ترقی پذیر ممالک اور غریب ممالک، امیر ممالک کی وجہ سے گلوبل وارمنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ہمیں یہ بھی تسلیم کرناچاہیے کہ ان ناکامیوں کے المناک نتائج سب سے زیادہ ترقی پذیر ممالک کو بھگتنا پڑرہے ہیں۔ برسوں کی ترقی کے بعد ہم آج پائیدار ترقی کے اہداف پر پیچھے ہٹنے کے خطرے میں ہیں۔ وزیر اعظم نے مندوبین سے کہا کہ ”ہندوستان گاندھی جی اور بدھ کی سرزمین ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ آپ ہندوستان کی تہذیبی اقدار سے تحریک حاصل کرینگے۔ آپ اس بات پر توجہ مرکوز کریں کہ ہمیں کس چیز نے تقیسم نہیں کیا بلکہ اس بات پر توجہ مرکوز کریں کہ جو ہمیں متحد کرتا ہے، وہ ہم سب کو مزید متحد اور مضبوط کرے۔ G-20یا گروپ آف 20دنیا کی بڑی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر معیشتوں کا ایک بین الاقوامی فورم ہے۔ اس کے اراکینعالمی جی ڈی پی کا تقریباً 85فیصد، عالمی تجارت کا 75فیصد اور دنیا کی تقریباً دو تہائی آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔وزرائے خارجہ میٹنگ میں شرکت کیلئے آنے والوں میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، چین کے وزیر خارجہ کن گینگ، انڈونیشیا کے وزیر خارجہ ریٹنومارسودی، ہسپانوی وزیر خارجہ جوزمینوئل الباریس بیونو، کروشین کے وزیر خارجہ گورڈن گرلک ریڈ مین، متحدہ عرب امارات کے امور خارجہ اور بین الاقوامی تعاون کے وزیر شیخ عبداللہ بن زاید النہیان، مصر کے وزیر خارجہ سامح شکری، امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن، ورلڈ ٹریڈ آگنائزیشن (WTO)کے ڈائرکٹر جنرل نوکوزی اوکونجولیویلا وغیرہ شامل ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ وزرائے خارجہ کی اس میٹنگ میں کم و بیش 40وفود نے شرکت کی۔ G-20گروپ ممالک میں ارجنٹائن، آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، چین، فرانس، جرمنی، ہندوستان، انڈونیشا، اٹلی، جاپان، جمہوریہ کوریا، میکسیکو، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، ترکیہ، برطانیہ، امریکہ اور یورپی ممالک شامل ہیں۔G-20وزرائے خارجہ کے افتتاحی اجلاس کے شرکاء سے ہندوستانی وزیر خارجہ مسٹر جے شنکر نے خطاب کیا۔ اجلاس کے آغاز پر 6/ فبروری کو ترکیہ اور شام میں آنے والے تباہ کن زلزلے میں جاں بحق ہونے والوں کیلئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ ترک وزیر خارجہ نے ترکیہ اور شام میں آنے والے  زلزلے کے بعدمختلف ممالک سے بروقت امداد ترکیہ بھیجنے پر تمام وزرائے خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ اس موقع پر چین اور روس کی جانب سے مسودے میں یوکرین کی جنگ کے حوالے سے مخالفت کی گئی۔


سعودی عرب میں ویژن 2030کے تحت یوگا کو خصوصی اہمیت ۰۰۰ 

                    مملکت ِ سعودی عرب کی شاہی حکومت ویژن 2030کے تحت معیشت کو مضبوط و مستحکم کرنے کے لئے صرف تیل کی دولت پر انحصار کرنے کے بجائے سیر و سیاحت اور دیگر کئی ایک شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پر عملی اقدامات کرتے ہوئے عوام کو روزگار سے مربوط کرنے کی سعی میں مصروفِ عمل ہے۔بین الاقوامی سطح پر دشمنی کے بجائے ہر ایک ملک کے ساتھ خوشگوار تعلقات بنائے رکھنے کیلئے تجارتی سرگرمیوں پر خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں، اسی طرح ملک میں سرمایہ کاری کیلئے بھی بیرونی ممالک کی کمپنیوں کو بہتر سے بہتر مواقع فراہم کئے جارہے ہیں۔ جس طرح شاہی حکومت معیشت کے استحکام کے لئے مصروفِ عمل ہے اسی طرح صحتِ جسمانی کیلئے کوشاں دکھائی دیتی ہے۔ سعودی حکومت اسپورٹس کے فروغ کیلئے بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے کیونکہ اس سے جہاں جسمانی نشوو نما اور صحت و تندرستی کے ساتھ عوام خوشحال زندگی بسر کرینگے،وہیں دیگر ممالک کے ساتھ عالمی سطح پر کھیل کود کے مواقع فراہم کئے جائیں تو اس سے بھی ملک کی معیشت پر مثبت اثر پڑے گا اور دوستانہ تعلقات میں مزید مضبوطی ہوسکتی ہے۔ گذشتہ چند ماہ سے سعودی عرب میں یوگا پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے اسی سلسلہ میں ذرائع ابلاغ کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ سعودی یوگا کمیٹی کی صدر نوف المروعی نے کہا ہے کہ یوگا کے سپورٹ اورفروغ کیلئے آئندہ چند مہینوں میں سعودی عرب کی بڑی یونیورسٹیوں کے ساتھ کئی معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔عرب نیوز کے مطابق یہ اعلان ریاض میں وزارتِ تعلیم کے تعاون سے سعودی یونیورسٹیزا سپورٹس فیڈریشن کے زیراہتمام ’اسپورٹس میں مملکت کے ویژن کی سپورٹ میں یونیورسٹی اسپورٹس کا کردار‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک فورم کے دوران کیا گیا۔انٹرنیشنل یونیورسٹیز اسپورٹس فیڈریشن کے صدر لیونز ایڈر اور انٹرنیشنل یونیورسٹی اسپورٹس فیڈریشن کے ڈائریکٹر جنرل پاؤلو فریرا کی قیادت میں یونیورسٹی اسپورٹس کے متعدد ماہرین اور بین الاقوامی رہنماؤں نے اس فورم میں شرکت کی۔سعودی یوگا کمیٹی کی صدر نوف المروعی نے یونیورسٹیز میں ا سپورٹس کی ترقی اور فروغ کے عنوان سے منعقدہ چوتھے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’کمیٹی یونیورسٹیز میں یوگا کو متعارف کرانے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’یوگا اپنے پریکٹیشنرز کو جسمانی اور ذہنی تندرستی کیلئے بہت سے فوائد فراہم کرتا ہے۔ ویژن 2030 کے اہم ستونوں میں سے ایک اسپورٹس کی سرگرمیوں میں شرکت کو بڑھانا ہے۔‘ نوف المروعی نے وضاحت کی کہ ’یوگا صرف مراقبہ اور آرام نہیں ہے جیسا کہ کچھ لوگ مان سکتے ہیں، اس میں آسانا پوسچر کی مشق، پرانیاما سانس لینے کی تکنیک، بندھاس کے پٹھوں پر کنٹرول (اور) پھر دھیان اور یوگا نیدرا مراقبہ اور آرام شامل ہے۔‘

                    سعودی یوگا کمیٹی کی صدر نے مزید کہا کہ ’کمیٹی کا مقصد یوگا کی تمام اقسام میں عام طور پر یا یوگاسنا اسپورٹس میں ممتاز یوگا پریکٹیشنرز کی صلاحیتوں کو دریافت کرنا، ان کی صلاحیتوں کو نکھارنا، مقامی اور بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں مملکت کی نمائندگی اور شرکت کیلئے ان کی مدد کرنا ہے۔‘اب دیکھنا ہے کہ یوگا کو مملکتِ سعودی عرب میں عوام کتنا پسند کرتے ہیں کیونکہ مذہبِ اسلام میں اللہ کی عبادت کے لئے سب سے پہلے جو حکم دیا گیا ہے وہ نماز کا ہے اور نماز کے ذریعہ جہاں خالقِ حقیقی کی عبادت ہوتی ہے وہیں پرنماز انسانی صحت کیلئے سب سے بہترین ذریعہ ہے۔ یعنی نماز میں انسان کے اندرونی و بیرونی اعضاء کی ایسی ورزش ہوتی ہے جو کسی اور عبادت یا ورزش میں ممکن نہیں۔ سانس کی بھی بیماری ہوکہ بینائی کا مسئلہ،غرض کہ ہر ایک عضوکی سلامتی کیلئے نماز سب سے بہترین ورزش ہے۔جو شخص پورے خشوع و خضوع اور اطمینان کے ساتھ پاکی و صفائی کا مکمل خیال رکھتے ہوئے پنچ وقتہ نمازکااہتمام کرتاہے اور نماز میں تمام سنتو ں،فرائض، واجبات، نوافل کے مطابق تکبیر،قیام، رکوع، سجوداور قاعدے ادا کئے جاتے ہیں، ایسے لوگ ہی صحتمند زندگی گزارتے ہوئے خالق حقیقی سے جاملتے ہیں۔ آج جس طرح کا ماحول مساجد اور گھروں میں دکھائی دے رہا ہے اکثر و بیشتر ضعیف حضرات اور بعض ادھڑ عمر کے افراد کرسیوں پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی کوشش کررہے ہیں ایسے لوگمزید جسمانی بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔ کاش کے سعودی حکومت نماز کی اہمیت کو اجاگرکرنے کیلئے عالمی سطح پر عملی اقدامات کرتی ۰۰۰!

حرمین شریفین میں زائرین کو سال کے بارہ مہینے 50زبانوں میں رہنمائی کی سہولت

                    شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولیعہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے حرمین شریفین میں دنیا بھر سے آنے والے مسلمانوں کے لئے خصوصی انتظامات قابلِ تحسین ہیں۔ صفائی ستھرائی کا نظم ہوکہ نظم و ضبط کا مسئلہ۰۰۰ جو خوبیاں اور بہترین انتظامات حرمین شریفین میں دیکھائی دیتے ہیں وہ شاہد ہی دنیا بھر میں اتنے بڑے پیمانے پر 24گھنٹے،سال کے بارہ مہینے ممکن نہیں۔ ماہِ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ۰۰۰ اور پھر اسکے فوراً بعد حج سیزن کا آغاز ہوا جاتا ہے ۰۰۰ مملکتِ سعودی عرب کی انتظامیہ دنیا بھر سے آنے والے عمرہ و مناسک حج کی ادائیگی کیلئے آنے والے زائرین کیلئے جس طرح سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے اسے عالمی سطح پر سراہا جاناچاہیے۔ ماہِ صیام اور حج کے ایام میں جس طرح حرمین شریفین اور مساجد و دیگر عام اورمقامات مقدسات پر مہمانِ نوازی کی جاتی ہے ایسا شاہد ہی کسی اور ملک میں دیکھنے کو ملتا ہے۔دنیا بھر سے آنے والے زائرین کو انکی اپنی مادری زبانوں میں سمجھنے اور سمجھانے کیلئے شاہی حکومت وسیع تر خدمات انجام دے رہی ہے۔ عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی عرب میں حرمین شریفین انتظامیہ 50 زبانوں میں زائرین کی رہنمائی کر رہی ہے۔ مسجد الحرام کے مختلف حصوں میں ترجمان زائرین کی خدمت پر 24 گھنٹے مامور کیے گئے ہیں۔سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق حرمین شریفین انتظامیہ کے سیکریٹری ادارہ ترجمان نے کہا ہے کہ ’مسجد الحرام میں دو طرح سے ترجمے کا کام انجام دیا جا رہا ہے۔ زائرین کو مسجد الحرام کے اندر اور باہر براہ راست رہنمائی خود ان کی اپنی زبان میں دی جا رہی ہے۔ترجمان کے مطابق ’مسجد الحرام میں وعظ کی مجلسوں اور خطابات نیز علمی لیکچرز کے ترجمے بھی مہیا کیے جا رہے ہیں۔‘ترجمان کا کہنا ہیکہ ’منارت الحرمین پلیٹ فارم اور ایف ایم کے ذریعے بھی ترجمہ شدہ خطباتِ ہدایات اور لیکچرز کے ترجمے پیش کیے جا رہے ہیں۔‘بتا یا گیا ہے کہ ’نئے ہجری سال کے پانچ ماہ کے دوران ان تراجم سے 10 ملین افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں۔‘حرمین شریفین انتظامیہ کی ہر ممکن کوشش ہے  کہ زائرین کو مسجد الحرام کے اندر اور باہر استقبالیہ مراکز پر بھی ان کی اپنی زبان میں رہنمائی مل سکے۔سکیورٹی اداروں، وزارت حج وعمرہ اور سعودی ہلال احمر کے ساتھ رابطے زائرین کی اپنی زبان میں فراہم ہوں۔عربی زبان سمجھنے سے قاصر افراد  کو مقدس و تاریخی مقامات کے بارے میں معتبر معلومات زائرین کی اپنی زبان میں مہیا کئے جارہے ہیں اور یہ سہولت سال کے بارہ مہینے 24 گھنٹے مہیاکی جارہی ہے۔ اسکے علاوہ مملکت میں راستوں کی نشاندہی اور دیگر اہم معلومات کیلئے کئی زبانوں کے ذریعہ رہنمائی کی جاتی ہے۔ 

سعودی عرب کی جانب سے یوکرین کو 400ملین ڈالر کی اضافی امداد

                    روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ابھی جاری ہے۔ حالات دن بہ دن بگڑتے جارہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہیکہ یہ لڑائی روس اور یوکرین کے درمیان نہیں بلکہ امریکہ اور روس کے درمیان ہے کیونکہ روس یوکرین پر بہت جلد قبضہ حاصل کرلینے کے خواب دیکھ رہا لیکن امریکہ کی جانب سے یوکرین کو زبردست امداد نے یوکرین کو روس کے آگے سرنگوں ہونے سے فی الحال بچا لیا ہے۔ امریکہ کی وجہ سے یوکرین کو اسکے تائیدی ممالک کی امداد بڑے پیمانے پر پہنچ رہی ہے۔ اسی سلسلہ میں سعودی شاہی حکومت کی جانب سے بھی یوکرین کے مظلوم عوام کیلئے امدادی سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ اس سلسلہ میں  سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کیئف میں گذشتہ دنوں اپنے ہم منصب اورپھر یوکرینی صدر ر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان امدادی معاہدوں پر دستخط کئے گئے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ سعودی عرب اور یوکرین نے 400 ملین ڈالر کی اضافی امداد کے حوالے سے مفاہمتی یادداست اور معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔سعودی وزیر خارجہ اور یوکرین کے صدر کے دفتر کے ڈائریکٹر کی موجود گی میں دستخط معاہدے پر دستخط کیے گئے۔واضح رہے کہ یہ معاہدہ ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانبسے اکتوبر 2022 میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کے دوران یوکرین کو ایک اضافی انسانی امدادی پیکیج کی فراہمی کے وعدے پر عملدرآمد ہے۔معاہدے پر شاہ سلمان مرکز برائے امداد اور انسانی خدمات ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ اور یوکرین کے نائب وزیراعظم نے دستخط کیے۔سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق معاہدے کے تحت یوکرین کے لیے 100 ملین ڈالر کی انسانی امداد کی فراہمی کے لیے مشترکہ تعاون کا پروگرام چلایا جائے گا۔علاوہ ازیں سعودی ترقیاتی فنڈ یوکرین کو 300 ملین ڈالر کی گرانٹ فراہم کرے گا۔معاہدے اور مفاہمتی یادداشت پر دستخط اس بات کی علامت ہے کہ سعودی حکومت، سماجی و اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے اور انسانی مسائل کا بوجھ کم کرنے کے سلسلے میں یوکرین کے دوست عوام کی مدد کے حوالے سے پرعزم ہے۔اس موقع پر شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ’سعودی عرب بحران کے سیاسی حل کے لیے تمام بین الاقوامی کوششوں کا پر زور حامی ہے۔ مذاکرات کے ذریعے بحران کے حل کی سنجیدہ کوششوں، شہریو ں کے تحفظ اور بحران کی شدت کو کم کرنے میں معاون ہر اقدام کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

ترکیہ میں تباہ کن زلزلہ متاثرین کیلئے گھروں کی تعمیر کا آغاز۰۰۰ 

                     ترکیہ کے صدر رجب طیب اردغان نے گذشتہ ماہ آئے شدید زلزلے کے متاثرین کو ہمت و حوصلہ دیتے ہوئے وعدہ کیا ہے کہ ایک سال کے اندر متاثرین کیلئے گھروں کی تعمیر نوہوجائے گی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر رجب طیب اردغان کے وعدے کے مطابق  تباہ کن زلزلے کے بعد گھروں کی تعمیر نو کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ 6/ فروری کو آنے والے زلزلے سے ترکیہ میں ایک لاکھ 60 ہزار عمارتیں بری طرح متاثر ہوئیں جن میں پانچ لاکھ 20 ہزار اپارٹمنٹس کے رہائشی اب عارضی پناہ گاہوں میں ہیں۔ترکیہ حکومت کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’کئی پراجیکٹس کے لیے ٹینڈرز اور کنٹریکٹ کیے گئے ہیں۔ یہ عمل بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور حفاظتی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔‘حکام کا کہنا ہے کہ بے گھر افراد کیلئے اضافی خیمے بھیجے گئے ہیں، لیکن متاثرین نے شکایت کی ہے کہ اْن کو ٹینٹس کی کمی کا سامنا ہے۔زلزلے سے 
بڑے پیمانے پر عمارتوں کے گرنے کے بعد حکام کی جانب سے تعمیراتی معیار کو نظرانداز کرنے پر صدر اردغان کی حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔حکومت کی جانب سے کئی بلڈرس کو ناقص معیارِ تعمیر کے سلسلہ میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ترکیہ حکومت کے ابتدائی منصوبے کے مطابق دو لاکھ اپارٹمنٹس اور دیہاتوں میں 70 ہزار مکانات تعمیر کیے جانے ہیں جن پر 15 ارب ڈالر کی لاگت بتائی گئی ہے۔امریکہ کے جے پی مورگن بینک کے تخمینے کے مطابق ترکیہ میں زلزلہ متاثرین کی رہائش گاہوں اور انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو کے لیے 25 ارب ڈالر درکار ہونگے۔

زلزلے کے بعد شامی صدربشارالاسد سے عرب پارلیمنٹرینز وفد کی ملاقات

دنیا کے حالات ہرروز بدل رہے ہیں آفات الٰہی کے بعد دشمنی دوستی میں تبدیل ہورہی ہے۔ ایسا ہی کچھ ملک شام کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ سینئر عرب پارلیمنٹرینز کا ایک وفد اتوار کو شام کے صدر بشارالاسد سے دمشق میں ملاقات کی۔ واضح رہے کہ اس ملاقات کو شام میں تنازعے پر ایک دہائی سے زیادہ سردمہری کے بعد تعلقات میں مثبت پیشرفت کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔عرب نیوز کے مطابق عراق، اردن، فلسطین، لیبیا، مصر اور متحدہ عرب امارات کے ایوانِ نمائندگان کے ساتھ ساتھ عمان اور لبنان کے نمائندوں نے عرب بین الپارلیمانی یونین کے وفد کے طور پر شام کا سفر کیا۔عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد حلبوسی نے بتایا کہ ’ہم شام کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے اور شام اپنے عرب ماحول کے بغیر نہیں رہ سکتا جس کے بارے میں ہمیں امید ہے کہ وہ اس (عرب ماحول) میں واپس آ جائے گا۔‘یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ 2011 میں حکومت کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں کے خلاف بشار الاسد کے مہلک کریک ڈاؤن کے بعد شام بڑی حد تک باقی عرب دنیا سے الگ ہو گیا تھا۔عرب لیگ نے 2011 میں شام کی رکنیت معطل کر دی تھی اور کئی عرب ممالک نے اپنے سفیروں کو دمشق سے واپس بلا لیا تھا۔6/ فبروری کو آنے والے زلزلے کے بعد بشار الاسد کو عرب ریاستوں کی حمایت سے فائدہ ہوا۔ اس زلزلے میں اقوام متحدہ اور شامی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں پانچ ہزار 900 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔شام کی امداد کرنے والے ممالک میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔متحدہ عرب امارات نے روس اور ایران سمیت کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ امداد سے لدے طیارے بھیجے۔مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے پہلی بار7/ فروری کو بشار الاسد سے فون پر بات کی اور اردن کے وزیر خارجہ نے 15/ فروری کو دمشق کا پہلا دورہ کیا۔اس کے بعد بشار الاسد نے 20 فروری کو عمان کا سفر کیا۔ ان کا 2022 کا یو اے ای کا دورہ 2011 کی جنگ شروع ہونے کے بعد کسی عرب ریاست کا پہلا دورہ بتایا جاتا ہے۔مصر کی پارلیمنٹ کے اسپیکر حنفی الجبالی نے دمشق میں کہا کہ زلزلے کے بعد عرب وفد ’شامی عوام کی مدد کیلئے برادر ملک شام کا دورہ کر رہا ہے۔‘اب دیکھنا ہیکہ شامی صدر بشارالاسد سے عرب پارلیمنٹرینز کے وفد کی ملاقات کے بعد ملک میں کس قسم کا ماحول بنتا ہے۔ عوام اور شامی صدر بشارالاسد کے درمیان ماحول بہتر ہوتا ہے تو ملک میں امن وآمان اور سلامتی کی فضائیں بحال ہوسکتی ہے۔ کاش ایسا ہی ہو۰۰۰


***


 

ترکیہ کوبہت جلد پہلے سے مضبوط ریاست کے طور پر سامنے لے آئینگے۔صدر اردغان

 عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

ترکیہ کوبہت جلد پہلے سے مضبوط ریاست کے طور پر سامنے لے آئینگے۔صدر اردغان

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید


  

                بے شک عزم مصمم اور ارادے نیک ہوں تو دنیا کو فتح کرنا آسان ہوجاتا ہے ورنہ آسانیاں بھی کھٹن راہوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردغان نے زلزلہ سے متاثرہ اپنے عوام کو ناصرف دلاسہ دے رہیں بلکہ انہیں عزم و حوصلے کے ساتھ جینے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ صدر اردغان نے جس طرح ماضیمیں ترکی کی معیشت کو استحکام بخشا اور ترکی کو عالمی سطح پر نمایاں حیثیت عطا کی۔6/ فبروری کو آئے شدید زلزلے سے ہونے والی تباہی کے بعد پھر سے ایک نئے عزم اور حوصلہ کے ساتھ ترکیہ کو مضبوط ریاست کے طور پر لے آنے کا ارادہ کئے ہوئے ہیں۔ صدر ترکیہ زلزلہ سے متاثرہ عوام کو دلاسہ دیتے ان سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ صدر اردغان قہرامانماراش میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے متاثرین سے ملاقات کی۔اس موقع پر صدر رجب طیب اردغان نے ترک ڈیزاسٹر اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے رابطہ مرکز میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ 6 /فروری کو آنے والے زلزلے نے ترکیہ کی ساخت کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ ہماری عوام نے اپنے پیارے کھو دیے ہیں اور اپنے گھروں کو اپنے سامنے تباہ ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ اگرچہ ہم ملک میں ہونے والے نقصانات کو کسی صورت واپس نہیں لا سکتے۔ لیکن ہماری ریاست تباہ ہونے کے بجائے کچھ بہتر، زیادہ خوبصورت اور زیادہ پائیدار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ترک حکومت اپنی عوام سے یہ وعدہ کرتی ہے کہ وہ ایک سال کے اندر اندر تمام بے گھر افراد کو ان کا گھر دوبارہ بنا کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم اگلے ماہ سے گھروں کی تعمیر کا عمل شروع کرینگے، جس میں 70 ہزار گھر دیہات میں تعمیر کئے جائیں گے  جبکہ 2 لاکھ سے زائد گھر شہروں میں تعمیر کیے جائینگے۔صدر نے کہا کہ ترک حکومت نے ہمیشہ اپنی عوام کی خدمت کی ہے اور اس بار بھی ہم اپنی عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور جب تک ہم اس آفت کا نام و نشان نہیں مٹا لیتے ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ 1797مکانات کی تعمیر کا فوری طور پر کام شروع کرنے کا انہوں نے اعلان کیا ہے۔ اور آئندہ ماہ مارچ میں تمام زلزلہ زدہ علاقوں میں تعمیراتی اور بحالی کی سرگرمیاں شروع کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردغان ان لوگوں کو متنبہ کیاکہ جو اس قدرتی آفت کومحرا بناکر ترکیہ کو کمزور سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔کرنے کی کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم کسی صورت ان کی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دینگے اور ہم بہت جلد ترکیہ کو پہلے سے مضبوط ریاست کے طور پر سامنے لے کر آئینگے۔

عوام میں ہم آہنگی اورچیلنجوں سے نمٹنے کیلئے ثابت قدمی کے مظاہرے پر فخر کا اظہار۔شاہ سلمان 


                    سعودی عرب کے فرمانروا و خادمین حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ’سعودی عرب نے یوم تاسیس فخر کے ساتھ منایا ہے‘۔شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے یوم تاسیس (فاؤنڈیشن ڈے) پر اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا کہ ’ہم پورے فخر کے ساتھ فاؤنڈیشن ڈے کی یاد منا رہے ہیں۔ یہ 1727ء مطابق 1139ھ کے دوران سعودی ریاست کے قیام کی 300 سالہ تاریخ کا اظہار ہے‘۔انہوں نے کہا کہ’اس دوران ہم نے مختلف چیلنجوں کا سامنا کیا اور تمام بحرانوں پر قابو پایا‘۔ امن و استحکام اور عوام و قیادت کے درمیان ہم آہنگی مملکت کی سرزمین اور یہاں کے باشندوں کا امتیاز رہا ہے‘۔منگل کو ریاض کے قصرعرقہ میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں 14 فیصلے کیے گئے۔بتایا جاتا ہے کہ کابینہ نے سعودی عرب میں عالمی مالیاتی فنڈ کے ریجنل آفس کے قیام کی منظوری دی ہے۔ کابینہ نے اجلاس کے آغاز میں تین صدیوں پر محیط سعودی ریاست کی گہری جڑوں،مملکت میں قائم استحکام۔ عدل و انصاف، عوام میں ہم آہنگی اور چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے ثابت قدمی کے مظاہرے پر فخر کا اظہاراور تعمیر و ترقی پر مبنی روشن مستقبل کی خواہش ظاہر کی۔ کابینہ نے انسداد منشیا ت کی قومی کمیٹی کے نظام کی دفعہ 5 میں ترمیم،اہم اشیا اور خدمات کو قومیانے کی ترغیبات کے لائحہ عمل کی بھی منظوری دی ہے۔  جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں 22/ فبروری چہارشنبہ کویوم  تاسیس منایا گیا۔ گزشتہ سال جنوری میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے ایک شاہی فرمان کے ذریعے ہر سال 22 فروری کو یوم تاسیس منانے کا حکم جاری کیا تھا۔تاریخی حوالوں سے بتایا جاتا ہے کہ امام محمد بن سعود نے 22/ فروری 1727ء کو پہلی سعودی ریاست قائم کی تھی۔مملکت سعودی عرب میں 22/ فبروری کو شاہی فرمان کے مطابق یوم تاسیس منائے جانے پر  شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولیعہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کو عرب اور دیگردوست ممالک کے فرمانرواؤں،ِصدور، وزرائے اعظم اور قائدین نے یوم تاسیس (فاؤنڈیشن ڈے) کی مبارکباد دی ہے۔

                    تہنیتی پیغامات ارسال کرنے والے حکمرانوں میں امیر کویت شیخ نواف الاحمد الجابر الصباح نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے نام تہنیتی پیغام ارسال کیا ہے۔اپنے پیغام میں انہوں نے زندگی کے مختلف شعبوں میں شاندار تمدنی و ترقیاتی کارناموں کی ستائش کی اور کہا کہ ’مملکت نے اپنی ان ہی کامیابیوں کی بدولت عالمی برادری میں غیر معمولی مقام بنالیا ہے‘۔امیر کویت نے دونوں ملکوں کے حکمراں خاندانوں کے برادرانہ تعلقات اور برسہا برس سے جاری پائیدار رشتوں پر فخر کا اظہار کیا۔کویتی ولی عہد شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح نے بھی مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ’مملکت اعلی قیادت کے سائے میں ترقی و خوشحالی کا سفر منطقی انجام تک پہنچے گا‘۔ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان اور نائب صدر شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور سعودی ولیعہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے نام تہنیتی پیغامات ارسال کیے ہیں۔فرمانروا بحرین شاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ نے اپنے پیغام میں مملکت کی ترقی پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے بڑھتے تعلقات کو سراہا ہے اور مستقبل کے حوالے سے اس امید کا اظہار کیا کہ ’دوطرفہ تعلقات عروج کی نئی منزلوں تک پہنچیں‘۔ بحرینی ولیعہد شہزادہ سلمان بن حمد آل خلیفہ نے بھی تہنیتی پیغام ارسال کیا۔امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، نائب امیر قطر شیخ عبداللہ بن حمد آل ثانی اور قطری وزیراعظم شیخ خالد بن خلیفہ بن عبدالعزیز آل ثانی نے بھی تہنیتی پیغامات روانہ کئے ہیں۔ سلطنت عمان کے فرمانروا سلطان ھیثم بن طارق نے یوم تاسیس کی مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ’سعودی عرب مزید ترقی و خوشحالی کا سفر طے کرتا رہے‘۔اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ الثانی نے تہنیتی پیغام میں کہا کہ’وہ اپنی اور اردنی عوام و حکومت کی جانب سے یوم تاسیس پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ہمارے برادرانہ جذبات اور نیک خواہشات آپ کے لیے ہیں‘۔ مراکش کے فرمانروا شاہ محمد السادس نے شاہ سلمان بن عبد العزیز،ولیعہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کو یوم تاسیس کی مبارکباد پیش کی۔ تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے تہنیتی پیغام میں زندگی کے تمام شعبوں میں ہونے والی ترقی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’سعودی عرب نے اپنے قیام کے روز اول سے آج تک شاندار کارکردگی کی بدولت عالمی سطح پر بلند مقام حاصل کررکھا ہے‘۔  انہوں نے کہاکہ’تاجکستان دو طرفہ تعلقات مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ سعودی عرب ہمارا اہم شریک اور معتبر دوست ہے‘۔ جی سی سی کے سیکریٹری جنرل جاسم البدیوی نے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ دن سعودی عرب کے کارناموں سے جڑا ہے اور اپنے اندر مختلف قسم کے تاریخی پیغامات رکھتا ہے‘۔عرب پارلیمنٹ کے سربراہ عادل العسومی نے بھی شاہ سلمان اور ولیعہد کو یوم تاسیس کی مبارکباد دی۔مملکت میں متعین فرانسیسی سفیر نے الدرعیہ سٹی سے ٹوئٹر کے اکاؤنٹ پر وڈیو کلپ شیئر کیا جس میں انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ فرانس کے دوستانہ تعلقات کے استحکام پر خوشی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ یوم تاسیس کے موقع پر سعودی بھائیوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ’فرانسیسی سعودی دوستی زندہ باد‘۔ اس طرح دنیا کے کئی ممالک کے حکمراں اور قائدین نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولیعہد و وزیر شہزادہ محمد بن سلمان کو مبارکبادی پیغامات روانہ کیئے ہیں۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سعودی عرب نے گذشتہ چند برسوں کے دوران ویژن 2030کے تحت معاشی استحکام کیلئے جو حکمتِ عملی اختیار کی ہے اس سلسلہ میں سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح کا کہنا ہے کہ’سعودی معیشت کا حجم 2016 میں 600 ارب ڈالر تھا جو 2022 کے آخر میں ٹریلین ڈالر کی حد سے تجاوز کرگیا‘۔سبق ویب سائٹ کے مطابق وزیر سرمایہ کاری نے سعودی میڈیا فورم کے دوران بین الاقوامی معیشت کو درپیش چیلنجوں، وزارت سرمایہ کاری، اس کی کارکردگی کے حوالے سے ایک مباحثے میں شرکت کی ہے۔خالد الفالح نے کہا کہ ’بین الاقوامی بحرانوں کے ماحول میں معیشت کو کورونا وبا سمیت متعدد چیلنج درپیش رہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’مملکت نے ویژن 2030 کے واضح پلان کے تناظر میں بحرانوں سے نمٹنے اور معیشت کو سہارا دینے کیلئے غیر متزلزل سیاسی و اقتصادی موقف اختیار کیا‘۔خالد الفالح نے کہا کہ’ماضی میں آمدنی کے ذرائع محدود تھے۔ تمام دارومدار خام تیل اور پٹروکیمیکل صنعتوں پرتھا۔ مملکت نے اب نئے اقتصادی شعبے متعارف کرائے ہیں‘۔ خالد الفالح نے کہاکہ ’عام طور پر سرمایہ کار سیاسی و معاشی استحکام، انتظامی و قانونی استحکام پر نظر رکھتے ہیں۔ انہیں کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری کے ایسے مواقع کی تلاش رہتی ہے جن میں رکاوٹیں نہ ہوں‘۔ وزارت سرمایہ کاری نے پرائیویٹ سیکٹر اور مختلف سرکاری اداروں کی شراکت سے سرمایہ کاری کی قومی حکمت عملی تیار کی۔ انہوں نے کہا کہ ’سعودی عرب کی حقیقی شکل اوراس کے کارناموں کو اجاگر کرنے میں صحافت کا اہم رول رہا ہے‘۔ ’میڈیا سعودی معیشت کی حقیقی تصویر اجاگر کرے اورمملکت میں سرمایہ کاری کے امکانات کو اجاگرکرے‘۔ اسی طرح سعودی عرب کی جانب سے مختلف ممالک کو معاشی بحرانوں، آفات ارضی و سماوی اور مصائب و مسائل کے مواقع پر بڑے پیمانے پر امداد بہم پہنچانے کے لئے پیش پیش دیکھا گیاہے، سعودی عرب کی گذشتہ 70برس کے دوران امداد کے سلسلہ اپنی ایک تاریخ رہی ہے۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے پیر کو ریاض انٹرنیشنل فورم کے تیسرے سیشن میں ’نئی انسانی ضروریات اور ان کی تکمیل‘ کے عنوان سے مباحثے میں شرکت کی۔اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ  سرکاری خبررساں ادارے ایس پی اے کے مطابق وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں برادر و دوست ممالک کے وزرا اورعالمی تنظیموں کے عہدیداروں کی شرکت کے حوالے سے کہا کہ’یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بحرانوں کے ماحول میں درپیش چیلنجوں اور اہم ضروریات کی تکمیل کیلئے مل کر جدوجہد بڑی اہمیت رکھتی ہے‘۔شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ’سعودی عرب نے گزشتہ 70 برس کے دوران 95 ارب ڈالر انسانی مسائل کے حل کے لیے فراہم کیے ہیں۔ 160 ملکوں کے باشندوں کو سعودی امداد سے فائدہ پہنچا ہے‘۔ ’سعودی عرب بین الاقوامی اقتصادی و سیاسی و جغرافیائی چیلنجوں اور بحرانوں کے طوفان میں انسانی و ترقیاتی امداد پیش کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا‘۔انہوں نے کہا کہ ’سعودی عرب اپنی اسی پالیسی کے باعث کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کو انسانی و ترقیاتی امداد دینے والے ملکوں میں سرفہرست ہے۔ انہیں 7 ارب ڈالر سے زیادہ کی مدد کرچکا ہے‘۔ سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ’سعودی قیادت نے شام اور ترکیہ کے بھائیوں کو زلزلے کے تباہ کن مسائل سے نکالنے کیلئے امدادی سامان کی فراہمی کیلیے فضائی پل قائم کیا اور دوسری جانب عطیات کی عوامی مہم بھی چلائے ہوئے ہے‘۔سعودی عرب ویژن 2030کے تحت جس طرح نئے نئے منصوبوں کو روبہ عمل لاتے ہوئے مملکت میں مرد و خواتین کو روزگار کے مواقع فراہم کررہا ہے اور مضبوط معیشت اور عوام کو خوشحال زندگی فراہم کرنے کیلئے ولیعہد و وزیر اعظم شہزادہ محمدبن سلمان عالمی سطح پر تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے استحکام کیلئے عملی طو رپر نمایاں نظر آتے ہیں۔ دنیا بھر سے مملکت آنے والے سیاحوں کیلئے بڑے پیمانے پر تاریخی شواہد اور عرب تہذیب و تمدن کو منظر عام پر لانے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔مملکت میں سرمایہ کاری کیلئے بیرون ممالک کے بڑے بڑے سرمایہ کاروں کی توجہ مبذول کرانے کی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مضبوط اور دوستانہ تعلقات کیلئے جس طرح عالمی سطح پر پیشقدمی دیکھی جارہی ہے اس سے  سعودی عرب ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے دیگر ممالک کی معیشت پر بھی اچھا اثر پڑے گا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا پاکستانی معیشت کے استحکام کیلئے ایک نئی پیشقدمی

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک کی خطرناک اقتصادی صورتحال کے پیشِ نظر معیشت کو سنبھالا دینے ایک اہم پیشقدمی کی ہے۔  وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کفایت شعاری پالیسی کا اعلان کردیاہے اس موقع پر وزیر اعظم کہنا تھا کہ وفاقی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو سرکاری رہائشگاہوں کی فروخت کے حوالے سے اقدامات کرے گی، انہوں نے کہاکہ کفایت شعاری پالیسی کے تحت سرکاری تقریبات میں ون ڈش کی پابندی کی جائے گی تاہم غیر ملکی مہانوں کو دیئے جانے والے ظہرانے اور عشائیے پابندی سے مستثنیٰ ہونگے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وفاقی وزرا ء کی تنخواہیں اور الاؤنسز ختم کردیئے گئے ہیں، وزراء بجلی، پانی اور گیس سمیت یوٹیلٹی بلز جیب سے ادا کریں گے، اندرون و بیرون ملک سفر کے دوران اکانومی کلاس میں سفر اور فائیو اسٹار ہوٹلز میں رہنے پر پابندی ہو گی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزرا ء سے تمام لگژری گاڑیاں واپس لی جائیں گی۔ ہر وزیر کو سیکیورٹی کیلئے صرف ایک گاڑی دی جائے گی۔ کابینہ اراکین بیرون ملک سفر کے دوران سپورٹنگ اسٹاف نہیں لے جا سکیں گے، جون 2024 تک سرکاری استعمال کیلئے ہر قسم کی گاڑی کی خریداری پر پابندی ہو گی، سرکاری افسران بیرون ممالک دوروں پر نہیں جا سکیں گے، ناگزیر دوروں پر اکانومی کلاس میں سفر کرینگے۔ سرکاری افسران کو صرف ایک گاڑی دی جائے گی، گاڑیوں کے غلط استعمال پر ایکشن ہو گا، اخراجات بچانے کیلئے ٹیلی کانفرنسنگ کو فروغ دیا جائے گا۔ملک میں آئندہ 2 برس تک نئے ڈویڑنز، اضلاع اور تحصیلیں بنانے پر پابندی ہو گی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بیوروکریٹس کو الاٹ کیے گئے وسیع و عریض گھروں کو فروخت کیا جائیں گے جبکہ افسران کی رہائش کیلئے متبادل بندوبست کیا جائے گا۔یکم /مارچ سے کسی بھی افسر کو ایک سے زیادہ پلاٹ الاٹ نہیں ہونگے۔ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے عدلیہ سے بھی درخواست کی کہ وہ بھی اپنے اداروں میں اسی طرح کی اصلاحات نافذ کریں۔وفاقی وزارء کی تنخواہیں اور الاؤنسز ختم کردیئے جانے کے بعد دیکھنا ہے کہ وزراء اس سلسلہ میں کس قسم کے ردّعمل کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ وزیر اعظم نے جو فیصلہ کیا ہے وہ متفقہ طور پر کیا گیا ہے یا پھر وزیر اعظم کا مسلط کردہ ہے اور اگر کسی وفاقی وزیر اس فیصلہ کے خلاف کہینگے تو انہیں اپنی وزارت سے ہاتھ دھونا پڑے گا۰۰۰

ترکیہ اورشام میں زلزلے کے بعد۰۰۰ اللہ رب العزت کے کرشمات۔ دنیا حیران

 عالمِ اسلام راؤنڈاَپ

ترکیہ اورشام میں زلزلے کے بعد۰۰۰ اللہ رب العزت کے کرشمات۔ دنیا حیران

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید

  


                 ترکیہ اور شام میں 6/ فبروری کو دو طاقتور زلزلوں نے ہزاروں بلند و بالا عمارتوں کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا، 41ہزار700 سے زائد افراد ہلاک اورکم و بیش دیڑھ لاکھ زخمی ہیں۔ دونوں ممالک میں متعدد شہروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ترک صدر رجب طیب اردغان نے کابینہ اجلاس کے بعد کہا کہ قہر مانمراش اور دس دیگر صوبوں میں آنے والے یہ ہولناک زلزلے  عصرحاضر کی تباہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ زلزلہ ایک تباہ کن قدرتی آفت ہو تی ہے، اب تک ترکیہ میں زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد 38 ہزار4 4 جبکہ 1 لاکھ 5 ہزارسے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں جن میں سے 13 ہزار 2 سو8 زیر علاج ہیں۔صدر نے بتایا کہ 19 ہزار تباہ کن عمارتوں میں سے 15 ہزار کا ملبہ ہٹا دیا گیا ہے، متاثرہ علاقوں میں تقریباً ڈھائی لاکھ سرکاری رضا کار واہلکارامدادی کاروائیوں میں مشغول ہیں جو کہ ملبے سے آخری شہری کو نکلانے تک اسے جاری رکھیں گے۔صدر رجب طیب اردغان نے فون کال کے ذریعہ نشر ہونے والی ملک گیر "Turkiye Unitedas One"امدادی مہم ٹی وی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ کوئی بھی تکلیف میں نہ رہے ہم اپنی قوم سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم امدادی کاررائیاں جلد از جلد مکمل کرکے اپنے لوگوں کو رہائش اور بہتر طرز زندگی فراہم کرینگے۔ انہوں نے کہا ملک گیر مہم میں جمع ہونے والی ہر ایک پائی زلزلہ متاثرین کیلئے استعمال کی جائے گی۔بتایا جاتا ہے کہ یہ مہم 213قومی اور بین الاقوامی ٹیلی ویژن چینلز کے ساتھ ساتھ 562ریڈیو چینلزپر بھی نشر کی جارہی ہے۔ اس موقع پر صدر اردغان نے زلزلہ کے ابتدائی دنوں میں ہونے والی کوتائیوں کو دور کئے جانے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے 25لاکھ اہلکاروں کی کوششوں سے ریسکیو کا کام بہت تیزی سے جاری ہے، ہم عوامی سول سوسائٹی کے اراکین اور رضا کاروں سمیت سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ ترکیہ صدر نے اپنے تمام دوست ممالک اور انکے اہلکاروں کا تہہ دل سے شکریہ اداکیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ زلزلے سے متاثرہ عمارتوں کو ایک سال کے اندر دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ ترکیہ اور شام میں آنے والے شدید زلزلوں میں جہاں ہزاروں انسان ہلاک و شدید زخمی ہوچکے ہیں وہیں چند لوگ دس دن کے دوران زندہ نکالے گئے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ترک وزیر صحت فرحتین کوکا نے اپنے ٹوئٹر پر بتایا کہ زلزلے کے گیارہ روز گزرنے کے بعد یعنی 260گھنٹوں بعد ترک ریسکیو اہلکاروں نے ایک 14سالہ لڑکے عثمان اور دو مردوں 26اور 28سالہ کو ریسکیو کیا ہے اور انطاکیہ کے ہاسپتل میں لیجایا گیا ہے۔ ترکی کے صوبہ قہر مانمراش کے ایک ضلع سے 248گھنٹے گزرنے کے بعد منہدم ہونے والی عمارت کے ملبے سے 17سالہ لڑکی الینا اولماز کو زندہ نکال لیا گیا۔ زلزلے کے بعد اللہ رب العزت کی اپنے بندوں سے محبت و کبریائی کی ایسی ایسی خبریں موصول ہورہی ہیں جنہیں سننے کے بعد رب ذوالجلال و اکرام کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے اور عذاب الٰہی سے بچنے کیلئے بارگاہِ الٰہی میں جبینیں سجدہ ریز ہوجاتی ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے زلزلہ متاثرین کی امداد کیلئے ایک ارب ڈالر امداد کی اپیل کی گئی ہے۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونوتریس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ فنڈز 52لاکھ افراد کو تین ماہ کیلئے مدد فراہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اس رقم سے امدادی تنظیموں کو خوراک، تحفظ، تعلیم، پانی اور پناہ گاہ کے شعبوں میں اپنے کام کو تیزی سے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ سکریٹری جنرل گوتریس کا کہنا ہیکہ ضرورتیں بہت زیادہ ہیں، لوگ تکلیف میں ہیں اور وقت ضائع نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے بین الاقوامی کمیونٹی پر زور دیا کہ وہ آگے آئے اور اس دور کی سب سے بڑی قدرتی آفات میں سے ایک لئے فنڈ فراہم کرے۔ دنیا کے کئی ممالک کی جانب سے ترکیہ اور شام کو امداد پہنچنا شروع ہوگئی ہے۔

سعودی عرب کا 11واں امدادی طیارہ زلزلہ زدگان کیلئے امدادی مہم کے تحت غازی عنتاب ایئرپورٹ پر پہنچ گیا ہے۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق طیارے میں 88 ٹن مختلف قسم کا امدادی سامان موجود ہے۔

                    خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایت پر ترکیہ اور شام میں زلزلہ زدگان کی مدد کیلئے فضائی پل قائم کیا گیا ہے۔کنگ سلمان سینٹر برائے انسانی امداد کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ’طیارے میں غذائی اور طبی اشیا کے علاوہ خیمے اور گرم کپڑے بھی موجود ہیں۔‘اس سے قبل سعودی عرب نے زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے دنیا کا سب سے بڑا کارگو طیارہ ’انٹونوف 124‘ روانہ کیا ہے۔اس طیارے کے ذریعے کھانے پینے کی اشیا، خیمے، کمبل، دریاں، چادریں اور فولڈنگ بیڈ بھیجے گئے ہیں۔عکاظ اخبار کے مطابق انٹونوف 124 اسٹراٹیجک کارگو طیارہ ہے۔ یہ یوکرین میں گزشتہ صدی کے 8 ویں عشرے میں اس وقت ڈیزائن کیا گیا تھا جب یوکرین سابق سوویت یونین کے ماتحت تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ انٹونوف 69 میٹر طویل ہے۔ اس کی رفتار 865 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔ اس میں 88 افراد سفر کرسکتے ہیں۔چار انجنوں کے اس طیارے کے ذریعے ڈیڑھ لاکھ کلو گرام وزن بیک وقت بھیجا جاسکتا ہے۔ اس کے ونگز 628 میٹر طویل اور پھیلے ہوئے  ہیں۔سعودی عرب میں شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی خدمات کے سربراہ ڈاکٹرعبداللہ الربیعہ نے کہا ہے کہ ’شام اور ترکیہ زلزلے کا المیہ بہت بڑا ہے۔ پہلی ترجیح ملبے تلے افراد کی جان بچانا ہے‘۔الاخباریہ چینل کے پروگرام ’نشرٖۃ النھار‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ترکیہ اورشام کے زلزلہ زدگان کی مدد کا کام ہفتوں نہیں مہینوں چلے گا‘۔انہوں نے کہاکہ’سعودی امدادی مشن ترکیہ اورشمالی شام میں سرگرم ہے۔ اب حلب کا رخ کیا گیا ہے۔ رضاکاروں کے لیے خدمت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ متاثرین کی مدد کے سلسلے میں زندگی کے مختلف شعبوں کے ماہرین کی اشد ضرورت ہے‘۔ ڈاکٹرعبداللہ الربیعہ نے کہا کہ شاہ سلمان مرکز نے زلزلہ زدگان کیلئے عارضی خیموں کا انتظام کیا ہے۔ زلزلہ زدگان کے لیے تین ہزار عارضی عمارتیں تعمیر کی جائیں گی۔ 

                    قطر نے 10ہزار موبائل گھر

                     ترکیہ کو عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ذرائع ابلاغ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بتایا جاتا ہیکہ قطر نے فٹبال ورلڈ کپ کے لئے بنائے گئے دس ہزار موبائل گھر ترکیہ کے زلزلہ متاثرین کو عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ قطر فنڈ فارڈیولپمنٹ نے پہلی کھیپ 350گھروں کو اتوار کے روز روانہ کردیا تھا۔ واضح رہے کہ فٹبال ورلڈکپ کے موقع پر قطر نے 14لاکھ افراد کو رہائش دینے کی ضرورت کے تحت موبائل گھروں کو بنوایا تھا۔ اور اس کا پہلے ہی سے منصوبہ تھا کہ وہ یہ گھر کسی کو عطیہ کردے گا۔اس طرح قطر کا منصوبہ ترکیہ کے ان بے گھر افراد کیلئے نعمت ثابت ہوگا کیونکہ ان دنوں ترکیہ میں موسم شدیدسرد بتایا جارہا ہے۔سعودی عرب، قطر اور دیگر خلیجی ممالک نے زلزلہ متاثرین کی امداد کیلئے کی جانے والی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات  نے 10کروڑ ڈالر کی امداد دی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے ترکیہ کے زلزلے سے متاثرہ غازی عنتاب علاقے میں سب سے بڑے فیلڈ ہسپتال کا آغاز کیا ہے۔ امارات کی سرکاری خبررساں ایجنسی’وام‘ کے مطابق 50 بستروں پر مشتمل ہسپتال چالیس ہزار مربع میٹر کے رقبے پر قائم کیا گیا ہے۔فیلڈ ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے چار بستر شامل ہیں۔ یہ ترکیہ میں انسانی امداد مشن کے حوالے سے قائم کیا جانے والا پہلا اور سب سے بڑا فیلڈ ہسپتال ہے۔ اس میں پیچیدہ اور بڑے آپریشن بھی کیے جاسکیں گے۔ترکیہ میں متعین اماراتی سفیر سعید الظاہری اور ترک عہدیدار ہسپتال کی افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے۔سعید الظاہری نے کہا کہ زلزلہ متاثرین کی فوری ضروریات کی نشاندہی کے لیے ترکیہ کے سرکاری اداروں سے رابطہ ہے۔فیلڈ ہسپتال کے کمانڈر بریگیڈیئرعبدللہ الغیثی کے مطابق ہاسپتل میں تمام ضروری سیکشن قائم کیے گئے ہیں۔ ہسپتال میں مختلف امراض کے ماہر پندرہ ڈاکٹرس، 60 نرسیں اور تکنیکی کارکن تعینات ہیں۔متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے شامی زلزلہ زدگان کی مدد کیلئے مزید پچاس ملین ڈالر کا حکم جاری کیا ہے۔ذرائع ابلاغ وام کے مطابق امدادی رقم میں سے 20ملین ڈالر انسانیت نواز اسکیموں پر خرچ کئے جائینگے۔ یہ امدادی رقم اقوام متحدہ کی اپیل پر دی جارہی ہے۔متحدہ عر ب امارات نے 70طیارں کے ذریعہ ترکیہ اور شام امدادی سامان بھیجا ہے ان میں سے 38طیارے شام کیلئے اور32طیارے ترکیہ کیلئے بھیجے گئے ہیں۔ترکیہ کیلئے بھیجے گئے سامان میں کھانے پینے کی اشیاء، طبی آلات کے علاوہ پانچ ہزار افراد کی رہائش کے لئے 927خیمے شامل ہے۔جبکہ شام کیلئے 1.243ٹن سامان لدا ہوا تھا، کھانے پینے کی اشیاء، ادویہ، طبی سامان اور تقریباً 20ہزار افراد کی رہائش کیلئے 2893خیمے بھیجے گئے۔ 42افراد پر مشتمل امدادی ٹیم بھی بھیجی گئی ہے۔ اس طرح متاثرین کی امداد کیلئے بڑے پیمانے مشرقِ وسطی اور دیگر ممالک کی جانب سے امداد پہنچائی جارہی ہے۔ اس کے باوجود ہزاروں افرادجو سنگین حالات سے گزر رہے ہیں جن کے عزیز و اقارب، ماں باپ، بھائی بہن یا کوئی اور عزیز ملبوں تلے دب کر ہلاک یا زخمی ہوچکے ہیں ۰۰۰ یہ غم ایسا شدید اور زندگی بھر رہے گا جسے شاید بھولنے کیلئے زندگی کی آخری سانس ہی لینی ہوگی۰۰۰

ترکیہ اور شام کے70لاکھ سے زائد بچے متاثر، ہلاکتوں کی اصل تعداد خوفناک ہوگی۔اقوام متحدہ

                     6/ فبروری کو آنے والے شدید زلزلوں نے جہاں ہزاروں عمارتوں کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا ہے، تاریخی عمارتیں زمین بوس ہوگئیں۔ ہزاروں انسانوں کی ہلاکت ہوچکی ہے اور نہیں معلوم کتنے ابھی ملبے تلے زندہ یا مردہ ہیں۔ موسم انتہائی سرد ہوچکا ہے۔ زلزلے کے بعد انسانوں کی نگہداشت اور صحت و توانائی پر خصوصی توجہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ اور بچوں کے زیادہ متاثر ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی کے تحت اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے ترکیہ اور شام میں آنے والے تباہ کن زلزلے سے 70 لاکھ بچے متاثر ہوئے ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے ترجمان جمیز ایلڈر نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ ترکیہ کے زلزلے سے متاثر ہونے والے 10 صوبوں میں بچوں کی کل تعداد 46 لاکھ ہیں جب کہ شام میں 25 لاکھ بچے متاثر ہوئے ہیں۔ترکیہ اور شام میں ریسکیو ٹیمیں دس دن کا عرصہ گزرجانے  کی وجہ سے اپنی تلاشی مہم کو اختتامی شکل دے رہے ہیں۔جیمزایلڈر کا کہنا ہے کہ ’یونیسف کو خدشہ ہے کہ کئی ہزار بچے ہلاک ہوچکے ہونگے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ گو کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد معلوم نہیں ہوئی ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ تعداد میں اضافہ ہوگا۔جمیز ایلڈر کا کہنا ہے کہ تباہی اور لمحہ بہ لمحہ  ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے تناظر میں یہ واضح ہے کہ ہزاروں بچے اس ہلاکت خیز زلزلے میں اپنے والدین سے محروم ہوچکے ہیں۔ ’ہلاکتوں کی اصل تعداد خوفناک ہوگی‘۔کئی ممالک کی جانب سے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور ترکیہ حکومت بھی متاثرین کی امداد کیلئے سرگرم عمل ہے۔ان بچوں نے جو آفات الٰہی دیکھی ہے شاید اسے بھولنے کیلئے کافی عرصہ لگے یا پھر بھلا ہی نہ پائینگے۔ اس کے باوجود انہیں صحت مند زندگی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انکی تعلیم و تربیت کے انتظامات کئے جانے چاہیے۔ 

***


 عالمِ اسلام راؤنڈ اَپ

کلام پاک کی بے حرمتی۰۰۰

 عالمی برادری اس قسم کے ناقابلِ قبول اقدامات کو روکنے کیلئے اپنا فرض ادا کرے۔ڈاکٹر نایف


 

                  دشمنانِ اسلام کلامِ مقدس کی بے حرمتی کرکے اپنی دنیا بھی برباد کر لے رہے ہیں کیونکہ انکی آخرت تو بربادہو ہی چکی ہوتی ہے۰۰۰ ماضی کی کئی مثالیں ملتی ہیں جن کے ذریعہ پتہ چلتا ہے کہ قرآن کریم کی جنہوں نے بھی بے حرمتی کی ہیں انہیں کس طرح رب ذوالجلال نے عبرتناک انجام تک پہنچایا۔ 21/ جنوری کو سویڈن کے دارالحکومت اسٹا ک ہوم میں دائیں بازو کا سیاست داں راسموس پالوڈن نے اسٹاک ہوم میں واقع ترک سفارت خانے کے سامنے مظاہرے کے دوران کلام پاک کو نذر آتش کیا تھا۔اس واقعہ نے ساری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کردیا تھا اور عالمی سطح پر مسلمانوں نے سویڈن حکومت کے خلاف اس دشمنان ِاسلام کو سزا دینے کی مانگ کرتے ہوئے احتجاج کررہے ہیں، ابھی مسلمانوں کے جذبات ٹھنڈے بھی نہ ہوپائے تھے کہ پھر ایک معلون نے ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران قرآن کریم کے اوراق بھاڑکر اسلام کے تشخص اور مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ ان ظالم تعصب پرست دشمنان ا سلام کو ان کے کئے کی سزا تو مل کر ہی رہے گی۔ اگر دنیا کی عدلیہ انکے خلاف خاموشی اختیار کرتی ہے اور سزا نہیں دیتی ہے تو اللہ کے قہار سے یہ ملعون اشخاص بچ نہ پائیں گے۔ عالمی برادری اور سوپر پاور کہے جانے والے ممالک کے حکمرانوں کو چاہیے تھا کہ وہ فوراً اس جانب توجہ دیتے ہوئے کلام پاک کی بے حرمتی کرنے والے ان دونوں معلونین کو کفیرکردار تک پہنچانے کا انکی حکومتوں سے اپیل کرتے۔ سعودی عرب کی وزارت خارجہ سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے اشتعال انگیز قدم قرار دیا۔وزارتِ خارجہ نے منگل کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’سعودی عرب انتہا پسندی اور نفرت کے محرکات کو ترک کرنے اور پرامن بقائے باہم، روا داری اور مکالمے کے اصولوں کے فروغ کی پالیسی پر گامزن تھا، ہے اور رہے گا۔ اس حوالے سے ہمارا موقف غیر متزلزل ہے‘۔اسی دوران خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر نایف الحجرف نے ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں ایک انتہا پسند کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی کے اقدام کی سخت مذمت کی ہے۔ڈاکٹر نایف الحجرف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’اس قسم کی حرکتوں سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور یہ اشتعال انگیز عمل ہے‘۔انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ ’وہ اس قسم کے ناقابل قبول اقدامات کو روکنے کیلئے اپنا فرض ادا کرے‘۔ پاکستان،عرب لیگ، مصر اور جامعہ الازہر نے سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں انتہا پسند سیاست داں کی جانب سے قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔

                    ترک صدر رجب طیب اردغان نے کلامِ پاک کی بے حرمتی کے واقعہ کے خلاف کہاک ”اسلام کیلئے احترام کا مظاہرہ کرنے اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے طریقہ کار کو تبدیل کئے بغیر،سویڈن کو نیٹو کی بولی پر ترکیہ سے کسی بھی اچھی خبر کی توقع نہیں رکھتی چاہیے۔ انہو ں نے دارالحکومت انقرہ میں کابینہ کے اجلاس کے بعد کہا کہ جن لوگوں نے ہمارے سفارت خانے کے سامنے اس طرح کی حرکت کی ہے، انہیں اپنی نیٹو کی رکنیت کی درخواستوں پر ہم سے کسی قسم کے احسان کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔اردغان نے اس بات پر زور دیکر کہا کہ کسی بھی فرد کو مسلمانوں یا دیگر مذاہب اور عقائد کی توہین کرنے کی آزادی نہیں ہے“۔ انہوں نے مزید کہا کہ سویڈن میں گھناؤنا اقدام ہر اس شخص کی توہین ہے جو لوگوں کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کا احترام کرتا ہے، خاص طور پر مسلمانوں کا۔ سویڈن حکومت سے رجب طیب اردغان یہ بھی کہا کہ اگر وہ دہشت گرد تنظیم کے ارکان اور اسلام کے دشمنوں سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں تو ہم انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنے کا دفاع ان کے سپرد کریں۔

                    عرب نیوز کے مطابق مصر کی قدیم علمی درسگاہ الازہر الشریف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ قرآن تمام انسانیت کیلئے ایک رہنما کتاب کے طور پر اپنی شان میں قائم رہے گا۔یہ مبارک کتاب بنی نوع انسان کیلئے نیکی، سچائی اور خوبصورتی کی اقدار کی رہنمائی کرتی ہے۔الازہر کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ جان بوجھ کر اور بار بار مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کوشش انتہائی دائیں بازو کی شخصیات کے ساتھ سویڈش حکام کی ملی بھگت ہے۔الازہر نے احتجاجی رپورٹ میں کہا ہے کہ کسی قسم کی وحشیانہ یا مجرمانہ حرکات سے مسلمانوں کے دل میں قرآن پاک کی حرمت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔گمراہی کی جانب دھکیلنے اور جنونیت کو فروغ دینے والوں کی بیمار سوچ اور نفرت انگیز اقدامات مذہبی کشیدگی میں سیاہ ریکارڈ رکھتے ہیں اس سب کے باوجود بھی وہ سب قرآن پاک کی حرمت کم نہیں ہو گی۔الازہر نے اس واقعے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے کہا ہے کہ مذہبی عقائد کو مجروح کرنے کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے اٹھ کھڑے ہوں۔قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دینا مشرق اور مغرب کے ساتھ ساتھ اسلامی دنیا اور مغرب کے درمیان امن، بین المذاہب مکالمے اور روابط کو فروغ دینے کی کوششوں میں رکاوٹ ہے۔ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط اور مصر کی حکومت نے بھی اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

                    سعودی عرب کے مفتی اعلیٰ اور ممتازعلما بورڈ کے سربراہ شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے اتوار کو ایک بیان میں سویڈن میں انتہائی دائیں بازو کے مظاہرین کی طرف سے قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعے کی مذمت کی ہے۔انہوں نے اسے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز اقدام قرار دیا اور کہا کہ’اس اقدام سے انتہا پسندی اور فتنہ انگیزی کی آگ بھڑکے گی‘۔انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قسم کی حرکتوں کی کسی بھی نام یا عنوان سے مدد کرنے والوں کے خلاف ٹھوس اور فیصلہ کن موقف اختیار کرے۔اسی طرح ممتاز علماء بورڈ جنرل سیکریٹریٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعہ سے مسلمانوں کے جذبات متاثر ہوئے ہیں۔ یہ حرکت تعصب اور نفرت کی علامت ہے۔ اس سے پرامن بقائے باہم اور روا داری کے اس اصول کو کسی طرح کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا جس کا مطالبہ کیا جا رہا ہے‘۔سعودی علما نے دنیا سے اپیل کی کہ ’وہ قرآن پاک کی بے حرمتی کے اقدام کی مذمت کریں۔ نفرت بھڑکانے اور انتہا پسندی کو ہوا دینے والے ایسے واقعات کو روکنے کیلئے قانون سازی کی جائے‘۔ 

ہندوستان کے جشن جمہوریہ میں مصری صدر کی شرکت۔ باہمی تعاون کے معاہدات

                    بی بی سی ڈاکومنٹری اپنی جگہ نریندر مودی کی پالیسی اپنی جگہ۔ 74ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کو مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعو کرکے مسٹر مودی نے عرب ممالک سے اپنے تعلقات کی اہمیت جتائی ہے۔ مصر کے صدر کے علاوہ مصری مسلح فوج کا ایک دستے نے بھی جو 144سپاہیوں پر مشتمل تھا یوم جمہوریہ پریڈ میں شامل تھا اور توجہ کا مرکز تھا۔ السیسی کا مسٹر مودی نے پُرتپاک استقبال کیا اور دہلی کے حیدرآباد ہاؤز میں ان سے باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر مصری صدر نے وزیر اعظم مودی کو دورہئ مصر کی دعوت دی اور دہلی اور قاہرہ کے درمیان مزید فضائی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا۔ مسٹر مودی نے اس بات سے اتفاق کیا کہ انتہا پسند طاقتوں کی جانب سے سائبر اسپیس کا غلط استعمال دونوں ممالک کے لئے خطرہ ہے اور دونوں کو متحدہ طور پر اس کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ دونوں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ دہشت گردی انسانیت کو درپیش سب سے بڑا خطرہ ہے۔ سرحد پار سے دہشت گردی کو نمٹنے کیلئے سخت اقدامات کئے جانے چاہئیے۔ ہندوستان نے G20 سربراہ کانفرنس میں مصر کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان قدیم تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی۔ دونوں ممالک نے باہمی طور پر فوجی تعلقات اور سیاسی سلامتی، اقتصادی اور سائنٹیفک علاقوں میں طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ السیسی نے کہا کہ مصر کی خواہش ہے کہ زیادہ سے زیادہ ہندوستانی سیاح مصر کا دورہ کریں۔ دونوں ممالک نے ثقافت، نوجوانوں کے امور، سائبر سیکیوریٹی، انفارمیشن ٹکنالوجی اور پبلک براڈ کاسٹنگ اس طرح پانچ معاہدوں پر دستخط کئے۔ السیسی نے بتایا کہ انہوں نے وزیر اعظم مودی سے درخواست کی ہے کہ وہ چھوٹے اور متوسط پیمانے کی صنعتوں کے درمیان ڈیجیٹل کنکشن میں اضافہ کے لئے مستقل چیانلس تشکیل دیں جس سے عام آدمی کا معیار زندگی بہتر ہوسکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون بات چیت کا اصل موضوع تھا۔ مشترکہ فوجی مشقیں اس کی ایک مثال ہے۔ مصری صدر نے مسٹر مودی سے مصر میں سرمایہ کاری کے امکانات پر بھی بات چیت کی۔ گرین ہائیڈروجن اور قابل تجدید توانائی Cop27 پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ السیسی کا یہ تیسرا دورہئ ہند ہے۔ مشرق وسطیٰ میں مصر کی بڑی اہمیت رہی ہے۔ اور یہ ہندوستان سے ہمیشہ دوستانہ تعلقات کا حامل رہا ہے۔ واضح رہے کہ مصر کو ہمیشہ عالم عرب میں ایک لیڈر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ 50کی دہائی میں جمال عبدالناصر نے عرب قوم پرستی کی بنیاد ڈالی تھی اور انور سادات نے اسرائیل کے ساتھ امن کی راہ تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔ عبدالفتاح السیسی اور نریندر مودی 2014ء میں اپنے اپنے ملک کے سربراہ بنے۔ وہ ایسے وقت ہندوستان آئے ہیں جب مصر میں اقتصادی بحران ہے۔ 2021-22 ء میں ہندوستان اور مصر کے درمیان 7.26 ارب ڈالر کی تجارت ہوئی  تھی اور پچاس سے زائد ہندوستانی کمپنیوں نے مصر میں تین ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی تھی۔ ہندوستان اور مصر میں اُس وقت تعلقات بہت اچھے تھے جب جواہر لعل نہرو ہندوستان کے وزیر اعظم اور جمال عبدالناصر مصر کے صدر تھے۔ 1956ء میں جب نہر سوئز کا بحران پیدا ہوا تب ہندوستان نے خفیہ طور پر مصر کو اپنی فوج بھی بھیجی اور فوجی سامان بھی۔ ہندوستان اور مصر کے درمیان 2013ء میں السیسی کے دورہ کے بعد سے تبدیلی آئی تھی۔ 2021ء میں کووڈ بحران کے دوران مصر نے ہندوستان کو آکسیجن سیلنڈر کنسنریٹر اور ریمڈسویر دوائیں روانہ کی تھیں اور ہندوستان نے مصر کو 61ہزار 500 ٹن گیہوں بھیجا تھا۔ 

 بلاول بھٹو کو دورہئ ہند کی دعوت

شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن SCO کا مئی 2023ء میں ہندوستان میں انعقاد عمل میں آرہا ہے جس میں ہندوستان نے پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹوزرداری کو شرکت کی دعوت دی ہے۔ حالانکہ پاکستانی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی پر نازیبا ریمارکس کئے تھے۔ ہندوستانی وزیر خارجہ مسٹر جے شنکر کی جانب سے یہ دعوت نامہ مسٹر بلاول بھٹو کو بھیجا گیا ہے۔ اگر اسے قبول کرلیا جاتا ہے تو بھٹو 12سال کے وقفہ کے بعد ہندوستان کا دورہ کرنے والے پہلے پاکستانی وزیر خارجہ ہونگے۔ یوں تو ہند وپاک کے درمیان تقسیم کے بعد سے ہی کشیدگی رہی ہے‘ تاہم 2019ء میں کشمیر کے خود مختار موقف کی برخواستگی کے بعد سے اس میں اضافہ ہوگیا ہے۔ یو اے ای نے 2021ء میں دونوں ممالک کے درمیان مصالحت کی کوشش کی تھی۔ ابھی حال ہی میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے معاشی بحران سے نکلنے کے لئے ہندوستان سے مدد مانگی تھی۔ اس وقت پاکستان تاریخ کے بدترین دور سے گزررہا ہے۔ اس وقت پاکستان غذائی اشیاء کی قلت سے بُری طرح پریشان کن ہے۔دیکھنا ہیکہ اگر بلاول بھٹو زردری شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن اجلاس میں شرکت کرتے ہیں تو حکمراں بی جے پی اراکین انکے خلاف خاموشی اختیار کرتی ہے یا پھر وزیر اعظم کے خلاف کہے جانے والے انکے بیان پر احتجاج کرتی ہے۰۰۰

لبنان فوج اور پولیس کو تنخواہوں کی شکل میں امریکی امداد

امریکہ نے چہارشنبہ کو لبنان کی سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے سات کروڑ 20 لاکھ ڈالر امداد کا اعلان کیا ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق مذکورہ امداد اقوام متحدہ کے ساتھ مشترکہ پروگرام کے تحت دی جائے گی۔واضح رہے کہ لبنان کی معیشت گذشتہ تین سال مسلسل بحران اور گراوٹ کا شکار ہے جس کے سبب فوجی بجٹ میں کمی کی گئی ہے۔امریکہ لبنان کی فوج کا کافی عرصے سے سب سے بڑا ڈونر ہے۔ اس نے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی کے ساتھ اپنی نوعیت کی پہلی امریکی امداد کی ڈیلیوری کے لیے اشتراک کیا ہے۔یو این ڈی پی اور بیروت میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق پروگرام کے تحت سات کروڑ 20 لاکھ ڈالر لبنان کی سکیورٹی فورسز اور انٹرنیشنل سکیورٹی فورسز کے اہلکارں کی تنخواہوں کے لیے دی جائے گی۔لبنان کی معیشت کا بُرا حال ہونے کی وجہ سے ہر فوجی اور پولیس آفیسر کو امریکی قانون کے مطابق 100ڈالر ماہانہ چھ ماہ تک ادا کئے جائینگے۔ اس وقت لبنان میں کم رینک کے فوجی اہلکار کی تنخواہ 50امریکی ڈالڈر کے برابر ہے جو کہ 2019سے جاری مالی بحران سے قبل 800امریکی ڈالر کے برابر تھی۔ قطر نے گذشتہ برس بحران کی شکار لبنانی فوج کیلئے چھ کروڑ ڈالر امداد کا اعلان کیا تھا۔2019 کے بعد سے اب تک لبنان کی کرنسی کی قدر 95 فیصد تک گر گئی ہے جس کے سبب کئی لبنانی فوجی نوکری چھوڑ چکے ہیں یا پارٹ ٹائم ملازمت کر رہے ہیں۔
***